یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏9 ص.‏ 8-‏11
  • اپنے وعدوں کو کیوں پورا کریں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اپنے وعدوں کو کیوں پورا کریں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے
  • یہوواہ کے وعدے اور ہمارا مستقبل
  • خدا کے حضور اپنے وعدے پورے کرنا
  • اپنے وعدوں پر قائم رہنا اعتماد کو بڑھاتا ہے
  • اپنے وعدے پورے کرنے کے دیگر طریقے
  • خدا سے بکثرت برکات
  • آپ کس کے وعدوں پر بھروسا کر سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • وعدے جن پر بھروسا کِیا جا سکتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • کیا آپ بات کے پکے ہیں؟‏
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2017ء)‏
  • یہوواہ ہمیشہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2020ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏9 ص.‏ 8-‏11

اپنے وعدوں کو کیوں پورا کریں؟‏

‏”‏اُس آدمی کو ووٹ دیں جو کم وعدے کرتا ہے کیونکہ وہ سب سے کم مایوس کرے گا،“‏ مرحوم صدارتی مشیر برنارڈ باروک نے بیان کِیا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آجکل کی دُنیا میں وعدے اکثر توڑنے کیلئے ہی کئے جاتے ہیں۔ ان میں شادی کے عہدوپیمان، کاروباری معاہدے یا بچوں کیساتھ زیادہ وقت گزارنے کے قول‌وقرار ہو سکتے ہیں۔ اس عام مقولے کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ ”‏آدمی کی پہچان اُسکی وعدہ‌وفائی سے ہوتی ہے۔“‏

بِلاشُبہ، بہتیرے لوگ کبھی بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ بہتیرے جلدبازی میں ایسے وعدے کر لیتے ہیں جنہیں وہ پورا نہیں کر سکتے یا اپنی سہولت کی خاطر اپنے قول سے پھر جاتے ہیں۔‏

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ناگہانی صورتحال کے پیشِ‌نظر وعدہ نبھانا مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم کیا وعدہ‌شکنی سے واقعی بہت نقصان ہوتا ہے؟ کیا آپ کو اپنے وعدوں کو سنجیدہ خیال کرنا چاہئے؟ یہوواہ خدا کے نمونے کا مختصراً جائزہ یہ دیکھنے میں ہماری مدد کریگا کہ ہمیں اس معاملے کو کیوں سنجیدہ خیال کرنا چاہئے۔‏

یہوواہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے

ہم ایسے خدا کی پرستش کرتے ہیں جسکا نام ہی اُسکے وعدوں کی تکمیل کی دلالت کرتا ہے۔ بائبل وقتوں میں نام کسی کی شخصیت کا آئینہ‌دار ہوتا تھا۔ یہ بات نام یہوواہ کے سلسلے میں سچ ہے جسکا مطلب ہے ”‏وہ جو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔“‏ لہٰذا، الہٰی نام یہ خیال پیش کرتا ہے کہ خدا اپنے وعدوں اور مقاصد کو پورا کریگا۔‏

یہوواہ نے اپنے نام کی حقیقت کے پیشِ‌نظر قدیم اسرائیلی اُمت کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کِیا۔ ان وعدوں کے متعلق، بادشاہ سلیمان تسلیم کرتا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ جس نے اپنے سب وعدوں کے موافق اپنی قوم اؔسرائیل کو آرام بخشا مبارک ہو کیونکہ جو سارا اچھا وعدہ اس نے اپنے بندہ موسیٰؔ کی معرفت کِیا اس میں سے ایک بات بھی خالی نہ گئی۔“‏—‏۱-‏سلاطین ۸:‏۵۶‏۔‏

یہوواہ اتنا قابلِ‌بھروسہ ہے کہ پولس رسول نے یہ استدلال کِیا:‏ ”‏جب خدا نے اؔبرہام سے وعدہ کرتے وقت قسم کھانے کے واسطے کسی کو اپنے سے بڑا نہ پایا تو [‏اُس نے]‏ اپنی ہی قسم [‏کھائی]‏۔“‏ (‏عبرانیوں ۶:‏۱۳‏)‏ جی‌ہاں، یہوواہ کا نام اور شخصیت اس بات کی ضمانت ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ (‏رومیوں ۸:‏۳۲‏)‏ یہوواہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے، یہ حقیقت ہمیں ایسی اُمید فراہم کرتی ہے جو ہماری جان یا زندگی کا لنگر ہے۔—‏عبرانیوں ۶:‏۱۹‏۔‏

یہوواہ کے وعدے اور ہمارا مستقبل

ہماری اُمید، ہمارے ایمان اور ہماری زندگی کا دارومدار بھی یہوواہ کے وعدوں کی تکمیل پر ہی ہے۔ ہم کیا اُمید رکھتے ہیں؟ ”‏[‏خدا]‏ کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ صحائف ہمیں ایمان کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں کہ ”‏راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“‏ (‏اعمال ۲۴:‏۱۵‏)‏ نیز ہم یہ یقین بھی رکھ سکتے ہیں کہ اس موجودہ زندگی سے زیادہ کچھ بھی ہے۔ واقعی، یوحنا رسول کے مطابق جس چیز کا ”‏ہم سے وعدہ کِیا“‏ گیا ہے ”‏وہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۲۵‏)‏ تاہم، یہوواہ کے کلام میں درج اُس کے وعدے مستقبل تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اب بھی ہماری روزمرّہ زندگی کو پُرمقصد بناتے ہیں۔‏

زبورنویس نے مدح‌سرائی کی:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ اُن سب کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ وہ اُنکی فریاد سنے گا۔“‏ (‏زبور ۱۴۵:‏۱۸، ۱۹‏)‏ خدا ہمیں یہ بھی یقین دلاتا ہے کہ ”‏وہ تھکے ہوئے کو زور بخشتا ہے اور ناتواں کی توانائی کو زیادہ کرتا ہے۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۰:‏۲۹‏)‏ نیز اس بات سے واقف ہونا بھی تسلی‌بخش ہے کہ ’‏خدا ہمیں کسی ایسی آزمایش میں نہیں پڑنے دیگا جو ہماری برداشت سے باہر ہو بلکہ وہ آزمایش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دیگا۔‘‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۳‏)‏ اگر ہمیں ان وعدوں کی تکمیل کا واقعی کوئی تجربہ ہوا ہے تو ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ پر قطعی بھروسہ کِیا جا سکتا ہے۔ اُن فوائد کے پیشِ‌نظر جو ہم خدا کے وعدوں کی تکمیل سے حاصل کرتے ہیں، ہمیں اُس سے کئے گئے وعدوں کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

خدا کے حضور اپنے وعدے پورے کرنا

خدا کیلئے ہماری مخصوصیت بِلاشُبہ سب سے بڑا وعدہ ہے۔ یہ قدم اُٹھانے سے ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ہمیشہ یہوواہ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ خدا کے حکم سخت نہیں توبھی اس بدکار نظام‌العمل میں رہتے ہوئے ہمیشہ اُسکی مرضی بجا لانا شاید آسان نہ ہوگا۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۲؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏)‏ تاہم، جب ہم ایک مرتبہ ’‏ہل پر اپنا ہاتھ رکھ لیتے ہیں‘‏ اور یہوواہ کے مخصوص خادم اور اُس کے بیٹے، یسوع مسیح کے شاگرد بن جاتے ہیں توپھر ہمیں اُن دُنیاوی چیزوں کی حسرت کبھی نہیں کرنی چاہئے جو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔—‏لوقا ۹:‏۶۲‏۔‏

جب ہم یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں تو ہم اُس سے یہ عہد کرنے کی تحریک پاتے ہیں کہ ہم کمزوری پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کرینگے، مسیحی صفت یا اپنی تھیوکریٹک کارگزاری کے کسی بھی پہلو میں بہتری پیدا کرینگے۔ کیا چیز ان وعدوں کو پورا کرنے میں ہماری مدد کریگی؟—‏مقابلہ کریں واعظ ۵:‏۲-‏۵‏۔‏

مخلصانہ وعدے دل‌ودماغ سے کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں دُعا میں اپنے دل انڈیل دینے اور نیک‌نیتی سے اپنے خدشات، خواہشات اور کمزوریوں کا اظہار کرنے سے یہوواہ سے کئے گئے وعدوں کی توثیق کرنی چاہئے۔ کسی وعدے کی بابت دُعا کرنا اسے پورا کرنے کیلئے ہمارے عزم کو مضبوط کریگا۔ ہم خدا سے کئے گئے وعدوں کو قرض سمجھ سکتے ہیں۔ جب قرض بڑا ہو تو اسکی ادائیگی آہستہ‌آہستہ کی جاتی ہے۔ اسی طرح، یہوواہ سے کئے گئے بیشتر وعدوں کو پورا کرنے میں وقت لگے گا۔ تاہم، جوکچھ ہمارے پاس ہے اگر ہم باقاعدگی سے وہی اُس کی نذر کرتے رہتے ہیں تو ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں اور وہ اسی مناسبت سے ہمیں برکت بخشے گا۔‏

ہم اکثروبیشتر یا شاید ہر روز اپنے وعدوں کی بابت دُعا کرنے سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم انہیں سنجیدہ خیال کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے آسمانی باپ پر ظاہر ہوگا کہ ہم اس سلسلے میں مخلص ہیں۔ یہ باقاعدہ یاددہانی کا کام بھی دیگا۔ داؤد نے اس معاملے میں ہمارے لئے ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا ہے۔ اپنے گیت میں اُس نے یہوواہ سے التجا کی:‏ ”‏اَے خدا میری فریاد سن!‏ میری دُعا پر توجہ کر۔ .‏ .‏ .‏ مَیں ہمیشہ تیری مدح‌سرائی کرونگا تاکہ روزانہ اپنی منتیں پوری کروں۔“‏—‏زبور ۶۱:‏۱،‏ ۸‏۔‏

اپنے وعدوں پر قائم رہنا اعتماد کو بڑھاتا ہے

اگر خدا سے کئے گئے وعدوں کو معمولی خیال نہیں کِیا جانا چاہئے توپھر ساتھی مسیحیوں سے کئے گئے وعدوں کی بابت بھی ایسا ہی محسوس کرنا چاہئے۔ یہوواہ کیلئے اور اپنے بھائیوں کیلئے ہمارے معیاروں میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏یوحنا ۴:‏۲۰‏۔)‏ اپنے پہاڑی وعظ میں یسوع نے فرمایا:‏ ”‏تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو۔“‏ (‏متی ۵:‏۳۷‏)‏ ’‏اہلِ‌ایمان کے ساتھ نیکی‘‏ کرنے کا ایک طریقہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارا کلام ہمیشہ قابلِ‌اعتماد ہو۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱۰‏)‏ ہمارا ہر وعدہ اعتماد کو بڑھاتا ہے۔‏

پیسے کے معاملے میں وعدہ‌خلافی سے ہونے والے نقصان پر زیادہ واویلا کِیا جاتا ہے۔ قرض چکانے، کوئی خدمت انجام دینے یا کوئی تجارتی معاہدہ پورا کرنے کے سلسلے میں ایک مسیحی کو اپنے قول کا پاس رکھنا چاہئے۔ اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور باہمی اعتماد کو بھی تقویت ملتی ہے جو بھائیوں کے ”‏باہم ملکر“‏ رہنے کیلئے بہت لازمی ہے۔—‏زبور ۱۳۳:‏۱‏۔‏

تاہم، وعدہ وفا کرنے میں ناکامی کلیسیا اور متعلقہ اشخاص کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایک سفری نگہبان بیان کرتا ہے:‏ ”‏کاروباری جھگڑوں کی خبر اکثر پھیل جاتی ہے جنکی وجہ عموماً یہی ہوتی ہے کہ فریقین میں سے ایک، معاہدے کی شرائط کو پورا نہیں کرتا۔ نتیجتاً، بھائی طرفداری کرنا شروع کر دیتے ہیں اور کنگڈم ہال کی فضا میں کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔“‏ لہٰذا، معاہدے کی شرائط پر احتیاط سے غور کرنا اور اسے تحریر کر لینا کتنا اہم ہے!‏a

قیمتی اشیاء فروخت کرتے یا سرمایہ‌کاری کی سفارش کرتے وقت بڑی احتیاط سے کام لیا جانا چاہئے بالخصوص اُس وقت جب ایسے لین‌دین سے ہماری ذات کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح، بعض اشیاء یا صحت کو بہتر بنانے والی چیزوں کے فوائد کی بابت مبالغہ‌آرائی کرنے یا سرمایہ‌کاری پر غیرحقیقت‌پسندانہ منافع کا وعدہ کرنے کے سلسلے میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ محبت سے تحریک پا کر مسیحیوں کو تمام ممکنہ خدشات کی وضاحت کر دینی چاہئے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۰‏)‏ بعض بھائی کاروبار کا محدود تجربہ رکھتے ہیں اسلئے وہ شاید ہم‌ایمان ہونے کی وجہ سے ہماری رائے پر بھروسہ کر لیں۔ اگر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے تو کتنی افسوسناک بات ہوگی!‏

مسیحیوں کے طور پر ہم ایسے کاروباری کام نہیں کر سکتے جن میں بددیانتی کا عنصر شامل ہو یا جس میں دوسروں کے جائز مفادات کو نظرانداز کِیا جائے۔ (‏افسیوں ۲:‏۲، ۳؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۱۸‏)‏ ’‏یہوواہ کے خیمہ میں مہمان‘‏ کی حیثیت سے رہنے کا شرف حاصل کرنے کیلئے ہمیں قابلِ‌اعتماد ہونا چاہئے۔ ’‏ہم قسم کھا کر بدلتے نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائیں۔‘‏—‏زبور ۱۵:‏۱،‏ ۴‏۔‏

اسرائیل کے قاضی افتاح نے عہد کِیا کہ اگر خدا اُسے عمونیوں پر فتح بخشے گا تو جنگ سے واپسی پر جو بھی پہلے اُسکے استقبال کو نکلے گا وہ اُسے سوختنی قربانی کے طور پر یہوواہ کی نذر کر دیگا۔ اُسکے استقبال کو آنے والی افتاح کی اکلوتی بیٹی ہی تھی مگر وہ اپنے قول سے نہ پھرا۔ اپنی بیٹی کی دلی رضامندی سے اُس نے اُسے خدا کے مقدِس میں مستقل خدمت انجام دینے کیلئے پیش کر دیا—‏ایک ایسی قربانی جو کئی لحاظ سے تکلیف‌دہ اور بیش‌قیمت تھی۔—‏قضاۃ ۱۱:‏۳۰-‏۴۰۔‏

کلیسیائی نگہبانوں کی خاص ذمہ‌داری ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پابندی کریں۔ ایک نگہبان کو ۱-‏تیمتھیس ۳:‏۲ کے مطابق ”‏بے‌الزام“‏ ہونا چاہئے۔ یہ ایک یونانی اصطلا‌ح کا ترجمہ ہے جسکا مطلب ہے ”‏الزام سے پاک، ناقابلِ‌ملامت، بعیدازملامت ہونا۔“‏ یہ ”‏اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص نہ صرف نیکنام ہے بلکہ نیکنامی کا مستحق بھی ہے۔“‏ (‏اے لینگویسٹک کی ٹو دی گریک نیو ٹسٹامنٹ)‏ ایک نگہبان کیلئے بے‌الزام ہونے کی وجہ سے لازمی ہے کہ اُسکے وعدے بھی قابلِ‌اعتماد ہوں۔‏

اپنے وعدے پورے کرنے کے دیگر طریقے

جو لوگ ہمارے ہم‌ایمان نہیں ہیں اُن کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو ہمیں کیسا خیال کرنا چاہئے؟ یسوع نے کہا کہ ”‏تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھکر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔“‏ (‏متی ۵:‏۱۶‏)‏ یہ ثابت کرنے سے کہ ہم اپنے وعدے کا پاس رکھتے ہیں، ہم دوسروں کو اپنے مسیحی پیغام کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔ دیانتداری کے معیاروں میں عالمی پیمانے پر تنزلی واقع ہونے کے باوجود بیشتر لوگ ابھی بھی راستی کی قدر کرتے ہیں۔ اپنے وعدوں کو پورا کرنا خدا اور پڑوسی کے لئے محبت دکھانے اور راستبازی سے محبت رکھنے والوں کی دلچسپی بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔—‏متی ۲۲:‏۳۶-‏۳۹؛‏ رومیوں ۱۵:‏۲‏۔‏

یہوواہ کے گواہوں نے ۱۹۹۸ کے خدمتی سال کے دوران خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے میں ایک بلین سے زائد گھنٹے صرف کئے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ اگر ہم نے کاروبار یا دیگر معاملات میں اپنے قول کو برقرار نہ رکھا ہوتا تو ممکن ہے کہ اس منادی پر بھی کوئی دھیان نہ دیا جاتا۔ خدائے‌برحق کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے لوگ ہم سے دیانتداری کی جائز توقع کرتے ہیں۔ قابلِ‌اعتماد اور دیانتدار ہونے کی وجہ سے ہم ”‏ہر بات میں [‏اپنے]‏ مُنجی خدا کی تعلیم کو رونق“‏ بخشتے ہیں۔—‏ططس ۲:‏۱۰‏۔‏

اپنی خدمتگزاری میں، جب ہم بادشاہتی پیغام کے لئے دلچسپی دکھانے والوں سے دوبارہ ملنے جاتے ہیں تو ہمارے پاس اپنا وعدہ پورا کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم دوبارہ آئیں گے تو ہمیں ضرور جانا چاہئے۔ وعدے کے مطابق واپس جانا ’‏بھلائی کے حقدار سے اُسے دریغ نہ کرنے‘‏ کا ایک طریقہ ہے۔ (‏امثال ۳:‏۲۷‏)‏ ایک بہن اس معاملے کو یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏کئی مرتبہ میری ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایک گواہ نے دوبارہ آنے کا وعدہ کِیا تھا مگر وہ آیا نہیں۔ بِلاشُبہ، مَیں جانتی ہوں کہ شاید اصحابِ‌خانہ ہی گھر پر موجود نہ ہوں یا شاید حالات کے باعث واپس جانا ممکن نہ ہو۔ پھربھی مَیں کسی کے مُنہ سے اپنی بابت یہ سننا نہیں چاہونگی اسلئے مَیں اُس شخص سے دوبارہ اُسکے گھر ملنے کی حتی‌الوسع کوشش کرتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر مَیں کسی کو مایوس کرتی ہوں تو اسکا یہوواہ اور اجتماعی طور پر میرے بھائیوں پر بہت ہی بُرا اثر پڑیگا۔“‏

بعض معاملات میں، ہم شاید یہ سوچ کر دوبارہ جانے کی طرف مائل نہ ہوں کہ وہ شخص حقیقی دلچسپی نہیں رکھتا۔ وہی بہن بیان کرتی ہے:‏ ”‏مَیں دلچسپی کی حد جاننے کی کوشش نہیں کرتی۔ مَیں نے اپنے تجربے سے سیکھا ہے کہ پہلے تاثرات اکثر غلط ہوتے ہیں۔ لہٰذا، مَیں مثبت رہنے کی کوشش کرتی ہوں اور ہر شخص کو امکانی بھائی یا بہن خیال کرتی ہوں۔“‏

مسیحی خدمتگزاری اور دیگر متعدد حلقوں میں ہمیں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے وعدے پر بھروسہ کِیا جا سکتا ہے۔ سچ ہے کہ بعض باتیں کہنا تو آسان ہوتا ہے مگر اُنہیں کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دانشمند آدمی نے بیان کِیا:‏ ”‏اکثر لوگ اپنا اپنا احسان جتاتے ہیں لیکن وفادار آدمی کس کو ملیگا؟“‏ (‏امثال ۲۰:‏۶‏)‏ عزمِ‌مُصمم کرنے سے ہم وفادار اور اپنے قول کے پکے رہ سکتے ہیں۔‏

خدا سے بکثرت برکات

دانستہ طور پر جھوٹا وعدہ کرنا بددیانتی ہے اور بالکل ایسے ہی جیسے کہ بینک میں تو کچھ بھی نہ ہو لیکن چیک بھر دیا جائے۔ تاہم، اپنے وعدے وفا کرنے سے ہم کیسے اجر اور برکات حاصل کرتے ہیں!‏ قابلِ‌اعتماد ہونے کی ایک برکت تو نیک ضمیر ہے۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۲۴:‏۱۶‏۔)‏ پشیمانی کے تکلیف‌دہ احساسات کی بجائے ہم اطمینان اور تسکین محسوس کرتے ہیں۔ مزیدبرآں، اپنا وعدہ پورا کرنے سے ہم کلیسیا کے اتحاد کو فروغ دیتے ہیں جس کا دارومدار دراصل باہمی اعتماد پر ہوتا ہے۔ ہمارا ”‏کلامِ‌حق“‏ ہمیں خدائے‌برحق کے خادم ثابت کرتا ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۳، ۴،‏ ۷‏۔‏

یہوواہ اپنے قول کا پکا ہے اور اُسے ”‏جھوٹی زبان“‏ سے نفرت ہے۔ (‏امثال ۶:‏۱۶، ۱۷‏)‏ اپنے آسمانی باپ کی نقل کرنے سے، ہم اُسکی قربت میں آ جاتے ہیں۔ لہٰذا، ہمارے پاس اپنے وعدے پورے کرنے کی واقعی اچھی وجوہات ہیں۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a فروری ۸، ۱۹۸۳ کے جاگو!‏ کے صفحات ۱۳-‏۱۵ پر مضمون ”‏اِسے تحریر کر لیں!‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏[‏صفحہ 10 پر تصویریں]‏

افتاح نے اپنا وعدہ پورا کِیا اگرچہ یہ اُس کے لئے تکلیف‌دہ تھا

‏[‏صفحہ 11 پر تصویریں]‏

اگر آپ نے دوبارہ ملاقات کا وعدہ کِیا ہے توپھر اس پر جانے کی بھرپور کوشش کریں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں