یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏9 ص.‏ 12-‏15
  • حکمت حاصل کریں اور تربیت‌پذیر ہوں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • حکمت حاصل کریں اور تربیت‌پذیر ہوں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کامیابی اور اخلاقی پاکیزگی—‏کیسے؟‏
  • دانشمند کیلئے امثال
  • نصب‌العین تک پہنچانے والا آغاز
  • ‏”‏تیرے گلے کیلئے طوق“‏
  • ‏”‏ایسا نفع اُسکی جان لیکر ہی چھوڑتا ہے“‏
  • حکمت کی آواز کون سنے گا؟‏
  • ‏’‏حکمت سے ہمیں عمر کی درازی حاصل ہوگی‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ‏”‏مبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • امثال کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • سچی دانش‌مندی زور سے پکارتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏9 ص.‏ 12-‏15

حکمت حاصل کریں اور تربیت‌پذیر ہوں

اپنے لوگوں کے لئے یہوواہ خدا عظیم مُعلم ہے۔ وہ انہیں نہ صرف اپنے متعلق بلکہ زندگی کی بابت بھی تعلیم دیتا ہے۔ (‏یسعیاہ ۳۰:‏۲۰؛‏ ۵۴:‏۱۳؛‏ زبور ۲۷:‏۱۱‏)‏ مثال کے طور پر، یہوواہ نے اسرائیل کی اُمت کے لئے استادوں کے طور پر خدمت انجام دینے کے لئے نبی، لاوی—‏بالخصوص کاہن—‏اور دیگر دانشمند آدمی برپا کئے۔ (‏۲-‏تواریخ ۳۵:‏۳؛‏ یرمیاہ ۱۸:‏۱۸‏)‏ نبیوں نے خدا کے مقاصد اور اوصاف کی تعلیم دی اور درست روش اختیار کرنے کی خاکہ‌کشی کی۔ کاہن اور لاوی یہوواہ کی شریعت کی تعلیم دینے کی ذمہ‌داری رکھتے تھے۔ اسی طرح سے، دانشمند آدمیوں یا بزرگوں نے روزمرّہ زندگی بسر کرنے کے معاملات پر پُختہ مشورت فراہم کی۔‏

ابنِ‌داؤد، سلیمان اسرائیل کے دانشمند آدمیوں میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ (‏۱-‏سلاطین ۴:‏۳۰، ۳۱‏)‏ اس کی حشمت اور دولت کا مشاہدہ کرنے والے معزز مہمانوں میں سے، سبا کی ملکہ نے اقرار کِیا:‏ ”‏مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبالمندی اُس شہرت سے جو مَیں نے سنی بہت زیادہ ہے۔“‏ (‏۱-‏سلاطین ۱۰:‏۷‏)‏ سلیمان کی حکمت کا راز کیا تھا؟ جب وہ ۱۰۳۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں اسرائیل کا بادشاہ بنا تو سلیمان نے ”‏حکمت‌ومعرفت“‏ کے لئے دُعا کی تھی۔ اس کی درخواست سے خوش ہوتے ہوئے یہوواہ نے اسے حکمت، معرفت اور بصیر دل بھی عطا کیا۔ (‏۲-‏تواریخ ۱:‏۱۰-‏۱۲؛‏ ۱-‏سلاطین ۳:‏۱۲‏)‏ کچھ عجب نہیں کہ سلیمان نے ”‏تین ہزار مثلیں کہیں“‏!‏ (‏۱-‏سلاطین ۴:‏۳۲‏)‏ ”‏اجوؔر .‏ .‏ .‏ کی باتوں“‏ اور ”‏لموایلؔ بادشاہ“‏ کی باتوں کے علاوہ ان میں سے بعض بائبل میں امثال کی کتاب میں درج کی گئی ہیں۔ (‏امثال ۳۰:‏۱؛‏ ۳۱:‏۱‏)‏ ان مثلوں میں جن سچائیوں کا اظہار کِیا گیا ہے وہ خدا کی حکمت کی عکاسی کرتی ہیں اور یہ ابدی ہیں۔ (‏۱-‏سلاطین ۱۰:‏۲۳، ۲۴‏)‏ خوشحال اور کامیاب زندگی کے خواہشمند کسی بھی شخص کے لئے، یہ آجکل اسی طرح ضروری ہیں جیسے یہ پہلی مرتبہ بیان کئے جانے کے وقت تھیں۔‏

کامیابی اور اخلاقی پاکیزگی—‏کیسے؟‏

امثال کی کتاب کا مقصد اس کے تمہیدی الفاظ میں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏اؔسرائیل کے بادشاہ سلیماؔن بِن داؔؤد کی امثال۔ حکمت اور تربیت حاصل کرنے اور فہم کی باتوں کا امتیاز کرنے کے لئے عقلمندی اور صداقت اور عدل اور راستی میں تربیت حاصل کرنے کے لئے۔ سادہ دلوں کو ہوشیاری۔ جوان کو علم اور تمیز بخشنے کے لئے۔“‏—‏امثال ۱:‏۱-‏۴‏۔‏

‏”‏سلیماؔن .‏ .‏ .‏ کی امثال“‏ نے کیا ہی عظیم مقصد انجام دینا تھا!‏ یہ ”‏حکمت اور تربیت حاصل کرنے“‏ کے لئے تھیں۔ حکمت میں چیزوں کو اُسی طرح دیکھنا جیسے کہ وہ ہیں اور مسائل کو حل کرنے کے لئے اس علم کو استعمال کرنا، نصب‌العین حاصل کرنا، خطرات سے بچنا یا ان کا رخ موڑنا یا ایسا کرنے کے لئے دوسروں کی مدد کرنا شامل ہوتا ہے۔ ایک کتاب بیان کرتی ہے:‏ ”‏امثال کی کتاب ’‏حکمت‘‏ سلیقہ‌شعار طرززندگی—‏دانشمندانہ انتخابات کرنے کی صلاحیت اور کامیابی سے زندگی گزارنے—‏کی دلالت کرتی ہے۔“‏ حکمت حاصل کرنا کتنا اہم ہے!‏—‏امثال ۴:‏۷‏۔‏

سلیمان کی امثال تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ کیا ہمیں ایسی تربیت کی ضرورت ہے؟ صحائف میں تربیت اصلاح، سرزنش یا تادیب کا مفہوم پیش کرتی ہے۔ ایک بائبل عالم کے مطابق، یہ ”‏اخلاقی نوعیت کی تربیت کرنے کا اشارہ دیتی ہے جس میں حماقت کی طرف مائل سرکشی کی اصلاح کرنا شامل ہے۔“‏ تربیت چاہے ازخود نافذ کی گئی ہو یا دوسروں کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہو، ہمیں نہ صرف غلط‌کاری میں ملوث ہونے سے باز رکھتی ہے بلکہ بہتری کے لئے تبدیلی لانے کی بھی تحریک دیتی ہے۔ مزیدبرآں، اگر ہمیں اخلاقی طور پر پاک رہنا ہے تو ہمیں تربیت کی ضرورت ہے۔‏

لہٰذا امثال کا مقصد دوہرا ہے—‏حکمت اور تربیت فراہم کرنا۔ اخلاقی تربیت اور ذہنی صلاحیت کے متعدد پہلو ہیں۔ مثلاً، راستبازی اور انصاف، اخلاقی اوصاف ہیں اور یہ یہوواہ کے اعلیٰ معیاروں کے پابند رہنے کے لئے ہماری مدد کرتے ہیں۔‏

حکمت بہت سے عناصر کا امتزاج ہے، جس میں سمجھداری، بصیرت، ہوشیاری اور فہم‌وفراست شامل ہے۔ سمجھداری معاملے کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت ہے اور معاملے کے تمام حصوں اور پہلوؤں کے درمیان روابط کو سمجھنے سے اس کی اجزائے ترکیبی کو بھانپ کر اس کا مفہوم حاصل کرنا ہے۔ بصیرت دلائل کے علم اور اس سمجھ کا تقاضا کرتی ہے کہ کیوں ایک مخصوص روش درست یا غلط ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی غلط سمت کی طرف بڑھتا ہے تو ایک سمجھدار آدمی اسے بھانپ کر اسے فوراً خطرے سے آگاہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ معلوم کرنے کے لئے اس شخص سے بصیرت کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ شخص کیوں اس سمت بڑھ رہا ہے جو اسے بچانے کے لئے مؤثرترین طریقہ سامنے لاتی ہے۔‏

ہوشیار لوگ عاقبت‌اندیش ہوتے ہیں—‏سادہ‌لوح نہیں۔ (‏امثال ۱۴:‏۱۵‏)‏ وہ پیش‌ازوقت بُرائی کو دیکھنے اور اس کیلئے تیاری کرنے کے لائق ہوتے ہیں۔ پس حکمت ہمیں زندگی کو بامقصد بنانے کیلئے خوشگوار خیالات اور نظریات تشکیل دینے کے لائق بناتی ہے۔ بائبل میں امثال کی کتاب کا مطالعہ واقعی بااجر ہے کیونکہ انہیں ہم کو حکمت اور تربیت سے واقف کرنے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ امثال پر توجہ دینے والے ”‏نادان“‏ بھی ہوشیاری اور ”‏جوان آدمی“‏ علم اور فہم‌وفراست حاصل کرینگے۔‏

دانشمند کیلئے امثال

تاہم، بائبل میں امثال کی کتاب صرف ناتجربہ‌کاروں اور نوجوانوں کے لئے نہیں ہے۔ یہ ہر سننے والے دانشمند شخص کے لئے ہے۔ ”‏دانا آدمی سنکر علم میں ترقی کرے،“‏ بادشاہ سلیمان نے کہا، ”‏اور فہیم آدمی درست مشورت تک پہنچے۔ جس سے مثل اور تمثیل کو۔ داناؤں کی باتوں اور اُنکے مُعمّوں کو سمجھ سکے۔“‏ (‏امثال ۱:‏۵، ۶‏)‏ جس شخص نے پہلے ہی حکمت حاصل کر لی ہے وہ امثال پر توجہ دینے سے اپنے علم کو بڑھائے گا اور ایک فہیم آدمی اپنی زندگی کو صحیح راہ پر رکھنے کے لئے اپنی صلاحیت کو تیز کریگا۔‏

ایک مثل اکثر چند الفاظ میں گہری سچائی بیان کرتی ہے۔ ایک بائبل مثل ایک معمے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ (‏امثال ۱:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ بعض مثلیں پہیلیاں ہوتی ہیں—‏پیچیدہ اور مشکل بیانات جو حل چاہتے ہیں۔ مثل میں تشبیہات، استعارے اور دیگر مثالیں بھی ہو سکتی ہیں۔ انہیں سمجھنے کے لئے وقت اور غوروخوض درکار ہوتا ہے۔ بہت ساری مثلیں ترتیب دینے والا سلیمان یقیناً ایک مثل کے دقیق معنی سمجھا تھا۔ امثال کی کتاب میں وہ اپنے قارئین تک یہی صلاحیت پہنچانے کی ذمہ‌داری قبول کرتا ہے، یہ ایک ایسی بات ہے جس پر ایک دانشمند شخص توجہ دینا چاہے گا۔‏

نصب‌العین تک پہنچانے والا آغاز

کوئی شخص حکمت اور تربیت کی جستجو کا آغاز کہاں سے کرتا ہے؟ سلیمان جواب دیتا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا خوف علم کا شروع ہے لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔“‏ (‏امثال ۱:‏۷‏)‏ یہوواہ کا خوف علم کا شروع ہے۔ علم کے بغیر کوئی حکمت یا تربیت نہیں ہو سکتی۔ پس، یہوواہ کا خوف حکمت اور تربیت کا شروع ہے۔—‏امثال ۹:‏۱۰؛‏ ۱۵:‏۳۳‏۔‏

خدا کا خوف اس کا کوئی ناخوشگوار ڈر نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ گہری تعظیم اور مؤدبانہ احترام ہے۔ اس خوف کے بغیر کوئی حقیقی علم حاصل نہیں کر سکتا۔ زندگی یہوواہ خدا کی طرف سے ہے اور زندگی اور علم دونوں لازم‌وملزوم ہے۔ (‏زبور ۳۶:‏۹؛‏ اعمال ۱۷:‏۲۵،‏ ۲۸‏)‏ مزیدبرآں، خدا نے تمام چیزیں خلق کی ہیں؛ اس لئے تمام انسانی علم اس کی دستکاری کے مطالعے پر مبنی ہے۔ (‏زبور ۱۹:‏۱، ۲؛‏ مکاشفہ ۴:‏۱۱‏)‏ خدا نے اپنے تحریری کلام کا بھی الہام بخشا ہے جو ”‏تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ لہٰذا، تمام حقیقی علم کا مرکز یہوواہ ہے اور اس کے متلاشی ہر شخص کو اس کا مؤدبانہ ڈر رکھنا چاہئے۔‏

خدا کے خوف کے بغیر انسانی علم اور دنیاوی حکمت کی کیا وقعت ہے؟ پولس رسول نے تحریر کِیا:‏ ”‏کہاں کا حکیم؟ کہاں کا فقیہ؟ کہاں کا اِس جہان کا بحث کرنے والا؟ کیا خدا نے دنیا کی حکمت کو بیوقوفی نہیں ٹھہرایا؟“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۰‏)‏ خدائی خوف کی کمی کے باعث دنیاوی اعتبار سے ایک دانشمند شخص معروف حقائق سے غلط نتائج اخذ کرتا ہے اور یوں ’‏بیوقوف‘‏ ٹھہرتا ہے۔‏

‏”‏تیرے گلے کیلئے طوق“‏

اس کے بعد دانشمند بادشاہ نوجوان سے مخاطب ہوتا ہے:‏ ”‏اَے میرے بیٹے!‏ اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر۔ کیونکہ وہ تیرے سر کے لئے زینت کا سہرا اور تیرے گلے کے لئے طوق ہونگی۔“‏—‏امثال ۱:‏۸، ۹‏۔‏

قدیم اسرائیل میں، والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی خداداد ذمہ‌داری رکھتے تھے۔ موسیٰ نے والدوں کو نصیحت کی:‏ ”‏یہ باتیں جنکا حکم آج مَیں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تُو انکو اپنی اولاد کے ذہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت ان کا ذکر کِیا کرنا۔“‏ (‏استثنا ۶:‏۶، ۷)‏ ماؤں کا بھی خاطرخواہ عمل‌دخل تھا۔ ایک عبرانی بیوی اپنے شوہر کے اختیار کے تحت خاندانی شریعت نافذ کر سکتی تھی۔‏

درحقیقت، پوری بائبل میں، تعلیم دینے کے لئے خاندان ہی بنیادی اکائی ہے۔ (‏افسیوں ۶:‏۱-‏۳‏)‏ بچوں کو اپنے ایماندار والدین کی فرمانبرداری کرنے سے زینت کے سہرا اور عزت کے طوق کے ساتھ علامتی طور پر آراستہ ہونا چاہئے۔‏

‏”‏ایسا نفع اُسکی جان لیکر ہی چھوڑتا ہے“‏

اعلیٰ تعلیم کیلئے ریاستہائے متحدہ بھیجنے سے پہلے ایک ایشیائی والد نے اپنے ۱۶ سالہ بیٹے کو بُرے لوگوں سے دُور رہنے کی نصیحت کی۔ یہ مشورت سلیمان کی آگاہی کی صدائے بازگشت ہے:‏ ”‏اَے میرے بیٹے!‏ اگر گنہگار تجھے پھسلائیں تُو رضامند نہ ہونا۔“‏ (‏امثال ۱:‏۱۰‏)‏ تاہم، سلیمان اس ترغیب کی نشاندہی کرتا ہے جسے وہ استعمال کرتے ہیں:‏ ”‏اگر وہ کہیں ہمارے ساتھ چل۔ ہم خون کرنے کے لئے تاک میں بیٹھیں اور چھپ کر بیگناہ کے لئے ناحق گھات لگائیں۔ ہم اُنکو اِس طرح جیتا اور سموچا نگل جائیں جس طرح پاتال مُردوں کو نگل جاتا ہے۔ ہمکو ہر قسم کا نفیس مال ملیگا۔ ہم اپنے گھروں کو لُوٹ سے بھر لینگے۔ تُو ہمارے ساتھ مِل جا۔ ہم سب کی ایک ہی تھیلی ہوگی۔“‏—‏امثال ۱:‏۱۱-‏۱۴‏۔‏

یہ ترغیب واضح طور پر دولت ہے۔ فوری نفع کمانے کی بنیاد پر، ”‏گنہگار“‏ دوسروں کو اپنے متشدّد یا بے‌انصافی کے منصوبوں میں ملوث کرنے کے لئے ورغلاتے ہیں۔ مادی نفع کے لئے یہ شریر اشخاص خون بہانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ وہ ’‏اپنے شکار کو اس طرح جیتا اور سموچا نگل جاتے ہیں جس طرح کہ پاتال،‘‏ اور جس طرح قبر سارے جسم کو قبول کر لیتی ہے اسی طرح یہ اس کا سب کچھ چھین لیتے ہیں۔ ان کی ترغیب ایک جُرم والے پیشے کی ہے—‏وہ ’‏اپنے گھروں کو لُوٹ کے مال سے بھرنا‘‏ چاہتے ہیں اور وہ نادان کو ’‏اپنے ساتھ ملانا‘‏ چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے کیا ہی بروقت آگاہی ہے!‏ کیا نوجوانوں کے گینگ اور منشیات‌فروش اپنے ساتھ ملانے کے ایسے ہی طریقۂ‌کار کا استعمال نہیں کرتے؟ کیا فوری دولت کا وعدہ بہتیرے مشکوک کاروباری منصوبوں کی آزمائش نہیں ہے؟‏

‏”‏تُو اَے میرے بیٹے!‏“‏ دانشمند بادشاہ مشورہ دیتا ہے، ”‏تُو اُن کے ہمراہ نہ جانا۔ اُنکی راہ سے اپنا پاؤں روکنا۔ کیونکہ اُنکے پاؤں بدی کی طرف ڈورتے ہیں اور خون بہانے کے لئے جلدی کرتے ہیں۔“‏ اُنکے تباہ‌کُن انجام کی پیشگوئی کرتے ہوئے وہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏کیونکہ پرندہ کی آنکھوں کے سامنے جال بچھانا عبث ہے۔ اور یہ لوگ تو اپنا ہی خون کرنے کے لئے تاک میں بیٹھتے ہیں اور چھپ کر اپنی ہی جان کی گھات لگاتے ہیں۔ نفع کے لالچی کی راہیں ایسی ہی ہیں۔ ایسا نفع اُسکی جان لیکر ہی چھوڑتا ہے۔“‏—‏امثال ۱:‏۱۵-‏۱۹‏۔‏

‏”‏نفع کا لالچی“‏ اپنی ہی روش میں مریگا۔ شریر جو دوسروں کیلئے گھات لگاتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کیلئے پھندا بن جائے گی۔ کیا جان‌بوجھ کر بدی کرنے والے اپنی روش تبدیل کریں گے؟ جی‌نہیں۔ ایک جال بالکل واضح نظر آ سکتا ہے لیکن چڑیاں—‏”‏پرندے“‏—‏اس میں صریحاً پھنس جاتی ہیں۔ اسی طرح سے، شریر جنہیں ان کے لالچ نے اندھا کر دیا ہے اپنے مُجرمانہ کاموں میں بڑھتے جاتے ہیں تاہم، جلدیابدیر وہ پکڑے جائیں گے۔‏

حکمت کی آواز کون سنے گا؟‏

کیا گنہگار واقعی اس بات سے آگاہ ہیں کہ اُن کی روش تباہ‌کُن ہے؟ کیا انہیں ان کی راہوں کے نتیجے سے آگاہ کر دیا گیا ہے؟ لاعلمی کوئی عذر نہیں ہے کیونکہ اس واضح پیغام کا چرچا ہر جگہ کِیا جاتا ہے۔‏

سلیمان بیان کرتا ہے:‏ ”‏حکمت کُوچہ میں زور سے پکارتی ہے۔ وہ راستوں میں اپنی آواز بلند کرتی ہے۔ وہ پُرہجوم بازار میں چلّاتی ہے۔ وہ پھاٹکوں کے مدخل پر اور شہر میں یہ کہتی ہے۔“‏ (‏امثال ۱:‏۲۰، ۲۱‏)‏ اونچی اور صاف آواز میں حکمت ہر جگہ پکار رہی ہے تاکہ سب سنیں۔ قدیم اسرائیل میں بزرگ دانشمندانہ مشورت دیتے اور شہر کے پھاٹکوں پر بیٹھ کر عدالتی فیصلے کِیا کرتے تھے۔ ہمارے لئے، یہوواہ نے حقیقی حکمت اپنے کلام بائبل میں قلمبند کرائی ہے جو کہ وسیع پیمانہ پر دستیاب ہے۔ چنانچہ آجکل اس کے خادم ہر جگہ اس پیغام کا سرِعام اعلان کرنے میں مصروف ہیں۔ یقیناً، خدا نے حکمت کا اعلان سب کے سامنے کِیا ہے۔‏

سچی حکمت کیا کہتی ہے؟ ”‏اَے نادانو!‏ تم کب تک نادانی کو دوست رکھو گے؟ اور ٹھٹھاباز کب تک ٹھٹھابازی سے خوش رہینگے .‏ .‏ .‏ ؟ مَیں نے بلا‌یا اور تم نے انکار کِیا مَیں نے ہاتھ پھیلایا اور کسی نے خیال نہ کِیا۔“‏ بیوقوف حکمت کی آواز پر کان نہیں لگاتے۔ نتیجتاً، ”‏وہ اپنی ہی روش کا پھل کھائینگے۔“‏ کیونکہ ان کی اپنی ’‏برگشتگی اور فارغ‌اُلبالی اُنہیں ہلاک کریگی۔‘‏—‏امثال ۱:‏۲۲-‏۳۲‏۔‏

تاہم، اس شخص کی بابت کیا ہے جس نے حکمت کی آواز سننے کے لئے وقت نکالا ہے؟ ”‏وہ محفوظ ہوگا اور آفت سے نڈر ہو کر اطمینان سے رہیگا۔“‏ (‏امثال ۱:‏۳۳‏)‏ دُعا ہے کہ آپ بائبل کی امثال کی کتاب پر دھیان دینے سے حکمت حاصل کرنے اور تربیت‌پذیر ہونے والوں میں ہوں۔‏

‏[‏صفحہ 15 پر تصویر]‏

سچی حکمت وسیع پیمانہ پر دستیاب ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں