کوئی واقعی پرواہ کرتا ہے
ہزاروں لوگ دوسروں کیلئے اپنی فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بےلوچ، خودغرضانہ سوچ نہیں رکھتے کہ اُنکا دوسروں کے مسائل سے قطعاً کوئی سروکار نہیں ہے۔ اسکے برعکس، وہ تکلیف کو کم کرنے کی حتیالوسع کوشش کرتے ہیں اور بعضاوقات تو اس کیلئے اپنی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے جسے نہایت طاقتور عناصر مشکل بنا دیتے ہیں جو اُن کے قابو میں نہیں ہیں۔
ایک سماجی کارکن نے بیان کِیا کہ لالچ، سیاسی سازباز، جنگیں اور قدرتی آفات جیسے عناصر ”بھوک کو ختم کرنے کی نہایت مخلصانہ اور پُرعزم کاوشوں“ کو بھی ناکام بنا سکتے ہیں۔ بھوک کو ختم کرنا اُن مسائل میں سے ایک ہے جن کا دوسروں کی پرواہ کرنے والے لوگوں کو سامنا ہے۔ وہ بیماری، غربت، ناانصافی اور جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ناقابلِبرداشت تکلیف سے بھی نبردآزما ہیں۔ تاہم کیا وہ ان پر غلبہ پا رہے ہیں؟
ایک فلاحی ادارے کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ بھوک اور دُکھ کو کم کرنے کیلئے ایسی ”مخلصانہ اور پُرعزم کاوشیں“ کرنے والے لوگ یسوع مسیح کی تمثیل میں بیانکردہ رحمدل سامری کی مانند ہیں۔ (لوقا ۱۰:۲۹-۳۷) تاہم اُس نے کہا کہ وہ خواہ کچھ بھی کر لیں، متاثرین کی تعداد بڑھتی ہی جائے گی۔ لہٰذا، اُس نے کہا: ”اگر کئی سالوں تک ہر روز نیک سامری کا اُسی راہ سے گزر ہو اور اُسے ہر ہفتے راہ کے کنارے ڈاکوؤں کا مارا ہوا کوئی شخص ملے تو وہ کیا کریگا؟“
کسی کی دیکھبھال کرتے کرتے کسی کا اُکتا جانا اور مایوس ہو جانا بڑا آسان ہے۔ جو لوگ واقعی دوسروں کی پرواہ کرتے ہیں اُنکی قابلِتعریف صفت یہ ہے کہ وہ کبھیبھی اسے ترک نہیں کرتے۔ (گلتیوں ۶:۹، ۱۰) مثال کے طور پر، برطانیہ کے جیواِش ٹیلیگراف کے نام خط میں ایک شخص نے یہوواہ کے گواہوں کی تعریف کی کیونکہ اُنہوں نے نازی جرمنی کے دَور میں ”اوچوِتز کی سختیاں برداشت کرنے میں ہزاروں یہودیوں کی مدد کی تھی۔“ مصنف لکھتا ہے کہ ”جب غذا کی قلّت تھی تو اُنہوں نے ہمارے [یہودی] بہن بھائیوں کو اپنے حصے کی روٹی کھلائی!“ گواہ اپنے محدود وسائل کے پیشِنظر اپنی استطاعت کے مطابق سب کچھ کرتے رہے۔
تاہم، حقیقت تو یہ ہے کہ مل بانٹ کر روٹی کھانے سے بھی انسانی تکلیف کا مکمل خاتمہ تو نہیں ہوگا۔ اس بات سے شفیق لوگوں کے کاموں کی بےقدری کرنا مقصود نہیں ہے۔ تکلیف کو کم کرنے والا ہر فعل قابلِقدر ہوتا ہے۔ اُن گواہوں نے ساتھی قیدیوں کے دُکھ کو کسی حد تک کم کِیا تھا، تاہم نازیازم بالآخر ختم ہو گیا تھا۔ لیکن ایسے ظلم کو ہوا دینے والا دُنیاوی نظام ابھی تک قائم ہے اور لاپرواہ لوگوں میں دنبدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ واقعی، ”ایک پُشت ایسی ہے جسکے دانت تلواریں ہیں اور ڈاڑھیں چھریاں تاکہ زمین کے مسکینوں اور بنیآدم کے کنگالوں کو کھا جائیں۔“ (امثال ۳۰:۱۴) آپ غالباً سوچیں گے کہ اسکی وجہ کیا ہے۔
غربت اور ظلم کیوں؟
یسوع مسیح نے ایک مرتبہ کہا: ”غریبغربا تو ہمیشہ تمہارے پاس ہیں۔ جب چاہو اُن کے ساتھ نیکی کر سکتے ہو لیکن مَیں تمہارے پاس ہمیشہ نہ رہوں گا۔“ (مرقس ۱۴:۷) کیا یسوع کا مطلب یہ تھا کہ غربت اور ظلم کبھی ختم نہیں ہونگے؟ بعض لوگوں کی طرح کیا اُسکا بھی یہی خیال تھا کہ دُکھ تکلیف خدا کے مقصد کا حصہ ہے تاکہ مہربان لوگوں کو یہ ظاہر کرنے کا موقع مِل جائے کہ وہ دوسروں کی کتنی پرواہ کرتے ہیں؟ نہیں! یسوع کا یہ خیال نہیں تھا۔ وہ اس نقطے کو واضح کر رہا تھا کہ جب تک یہ نظامالعمل قائم ہے غربت زندگی کا حصہ رہیگی۔ تاہم یسوع اس حقیقت سے بھی واقف تھا کہ زمین پر ایسی حالتیں اُسکے آسمانی باپ کے ابتدائی مقصد کا حصہ نہیں تھیں۔
یہوواہ نے زمین کو ایک فردوس بنانے کے لئے خلق کِیا تھا، اُس نے اس لئے نہیں کیا تھا کہ وہ غربت، ناانصافی اور ظلم سے بھری جگہ بن جائے۔ زندگی کے لطف کو دوبالا کرنے والی شاندار چیزیں فراہم کرنے سے اُس نے ظاہر کر دیا کہ وہ انسانی خاندان کی کتنی فکر رکھتا ہے۔ ذرا اُس باغ کے نام پر ہی غور کیجئے جس میں ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوّا کو رکھا گیا تھا! اسے عدن کہا گیا تھا جس کا مطلب ہے ”خوشی۔“ (پیدایش ۲:۸، ۹) یہوواہ نے انسانوں کو کسی بےکیف، ظالمانہ ماحول میں محض ضروریاتِزندگی تک محدود نہیں رکھا تھا۔ اپنے تخلیقی کام کے اختتام پر، یہوواہ نے سب چیزوں کا جائزہ لیا اور کہا کہ ”بہت اچھا ہے۔“—پیدایش ۱:۳۱۔
توپھر آجکل پوری دُنیا میں غربت، ظلم اور تکلیف کے دیگر اسباب کا راج کیوں ہے؟ یہ بدکار نظامالعمل اس وجہ سے موجود ہے کہ ہمارے پہلے والدین نے خدا کے خلاف بغاوت کرنے کا انتخاب کِیا تھا۔ (پیدایش ۳:۱-۵) اس سے یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ آیا خدا کے لئے اپنی مخلوقات سے فرمانبرداری کا تقاضا کرنا واجب ہے۔ پس یہوواہ نے آدم کی اولاد کو محدود عرصے تک خودمختار رہنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے باوجود خدا نے انسانی خاندان کے لئے فکر ظاہر کی کہ اُس کے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے۔ اُس نے اپنے خلاف بغاوت کے تمام نقصان کی تلافی کرنے کا بندوبست کِیا۔ نیز جلد ہی، یہوواہ غربت اور ظلم—دراصل، تمام دُکھتکلیف—کو بھی ختم کر دے گا۔—افسیوں ۱:۸-۱۰۔
ایک مسئلہ جسکا حل انسان کے بس میں نہیں
انسانی تخلیق سے لیکر نوعِانسان یہوواہ کے معیاروں سے دُور ہوتا چلا گیا ہے۔ (استثنا ۳۲:۴، ۵) خدا کے قوانین اور اصولوں کے مسلسل استرداد کی وجہ سے انسانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی ہے اور ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر بلا“ لایا ہے۔ (واعظ ۸:۹) ایک حقیقی انصافپسند اور عوام کو تکلیف میں مبتلا کرنے والی حالتوں سے پاک معاشرہ قائم کرنے کی تمام کوششیں ایسے لوگوں کی خودغرضی کی وجہ سے ناکام ہو گئی ہیں جو خدا کی حاکمیت کی اطاعت کرنے کی بجائے سب کچھ اپنے طریقے سے کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اَور مسئلہ بھی ہے جسے بہتیرے لوگ توہمپرستانہ اور بیہودہ خیال سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ خدا کے خلاف بغاوت کی ترغیب دینے والا ابھی تک لوگوں کو بدکاری اور خودغرضی کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ شیطان ابلیس ہے جسے یسوع مسیح نے اس ”دُنیا کا سردار“ کہا تھا۔ (یوحنا ۱۲:۳۱؛ ۱۴:۳۰؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۴؛ ۱-یوحنا ۵:۱۹) یوحنا کو دئے گئے مکاشفہ میں، شیطان کی المناک حالتوں کے ماخذ کے طور پر شناخت کرائی گئی ہے جو ”سارے جہان کو گمراہ“ کرنے کا ذمہدار ہے۔—مکاشفہ ۱۲:۹-۱۲۔
اس سے قطعنظر کہ بعض لوگ اپنے ساتھی انسانوں کی کتنی پرواہ کرتے ہیں، وہ کبھی بھی شیطان ابلیس کو ختم نہیں کر پائینگے یا مصیبتزدہ لوگوں کی تعداد میں روزافزوں اضافہ کرنے والے نظام کو بدل نہیں پائینگے۔ لہٰذا، نوعِانسان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کس چیز کی ضرورت ہے؟ محض فکرمندی کا اظہار کرنے والا شخص حل پیش نہیں کر سکتا۔ ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو نہ صرف شیطان اور اُسکے تمام غیرمنصفانہ نظام کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہو بلکہ جس میں ایسا کرنے کی طاقت بھی ہو۔
تیری مرضی زمین پر پوری ہو
خدا اس بدکار نظامالعمل کو ختم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ ایسا کرنے کا ارادہ اور قوت بھی رکھتا ہے۔ (زبور ۱۴۷:۵، ۶؛ یسعیاہ ۴۰:۲۵-۳۱) بائبل میں دانیایل کی نبوّتی کتاب میں یہ پیشینگوئی کی گئی ہے: ”آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اُس کی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائے گی بلکہ وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑےٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی ابد تک قائم رہے گی۔“ (دانیایل ۲:۴۴) یسوع مسیح کے ذہن میں یہی دائمی اور فیضرساں آسمانی حکومت تھی جب اُس نے اپنے شاگردوں کو دُعا میں خدا سے یہ التجا کرنا سکھایا: ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“—متی ۶:۹، ۱۰۔
یہوواہ ایسی دُعاؤں کا جواب ضرور دے گا کیونکہ وہ انسانی خاندان کی واقعی پرواہ کرتا ہے۔ زبور ۷۲ کے نبوّتی الفاظ کے مطابق، خدا اپنے بیٹے یسوع مسیح کو اختیار دے گا کہ وہ اُس کی حکمرانی کی حمایت کرنے والے غریبوں، محتاجوں اور مظلوموں کیلئے دائمی مخلصی لائے۔ لہٰذا، مُلہَم زبورنویس نے اپنے گیت میں یوں تحریر کِیا: ”وہ [خدا کا مسیحائی بادشاہ] اِن لوگوں کے غریبوں کی عدالت کرے گا۔ وہ محتاجوں کی اولاد کو بچائے گا اور ظالم کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ . . . وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جس کا کوئی مددگار نہیں چھڑائے گا۔ وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائے گا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائے گا۔ وہ فدیہ دیکر اُن کی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائے گا اور اُن کا خون اُس کی نظر میں بیشقیمت ہوگا۔“—زبور ۷۲:۴، ۱۲-۱۴۔
ہمارے زمانے سے متعلق ایک رویا میں یوحنا رسول نے ”ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کو دیکھا“ جس سے مُراد خدا کا قائمکردہ بالکل نیا نظامالعمل ہے۔ مصیبتزدہ نوعِانسان کیلئے کتنی بڑی برکت! یہوواہ آئندہ کیا کریگا اُسکی بابت یوحنا نے تحریر کِیا: ”مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُنکے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُسکے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُنکے ساتھ رہیگا اور اُنکا خدا ہوگا۔ اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہؤا تھا اُس نے کہا دیکھ مَیں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اُس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۱-۵۔
ہم واقعی ان باتوں پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ سچ اور برحق ہیں۔ یہوواہ زمین کو غربت، بھوک، ظلم، بیماری اور ہر طرح کی ناانصافی سے پاک کرنے کیلئے جلد کارروائی کریگا۔ اس رسالے نے اکثر صحائف سے اس بات کا واضح ثبوت پیش کِیا ہے کہ ہم ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جب یہ وعدے پورے ہونگے۔ خدا کی موعودہ نئی دُنیا قریب ہے! (۲-پطرس ۳:۱۳) عنقریب، یہوواہ ”موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کریگا اور . . . سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالیگا۔“—یسعیاہ ۲۵:۸۔
جبتک ایسا نہیں ہوتا، ہم خوش ہو سکتے ہیں کہ ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کیلئے حقیقی فکر رکھتے ہیں۔ سب سے بڑی خوشی کی وجہ تو یہ ہے کہ درحقیقت یہوواہ خود پرواہ کرتا ہے۔ وہ بہت جلد تمام ظلم اور تکلیف کو ختم کر دیگا۔
آپ یہوواہ کے وعدوں پر پورا بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔ اُس کا خادم یشوع واقعی اُس پر بھروسہ رکھتا تھا۔ اُس نے خدا کے قدیم لوگوں کو پورے اعتماد کے ساتھ بتایا تھا: ”تم خوب جانتے ہو کہ اُن سب اچھی باتوں میں سے جو [یہوواہ] تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی اُن میں سے رہ نہ گئی۔“ (یشوع ۲۳:۱۴) لہٰذا، جب تک موجودہ نظامالعمل قائم ہے آپ اُن آزمائشوں سے مغلوب نہ ہوں جو آپ کے سامنے سر اُٹھاتی ہیں۔ اپنی ساری فکر یہوواہ پر ڈال دیں کیونکہ وہ واقعی پرواہ کرتا ہے۔—۱-پطرس ۵:۷۔
[صفحہ 7 پر تصویریں]
خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں، زمین غربت، ظلم، بیماری اور ناانصافی سے پاک ہوگی