یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏2 ص.‏ 20-‏23
  • یہوواہ کے حضور قابلِ‌قبول قربانیاں گزراننا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کے حضور قابلِ‌قبول قربانیاں گزراننا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مختلف راستوں کا انتخاب کرنا
  • یہوواہ کی مشورت اور قائن کا ردِعمل
  • ہمارے لئے ایک سبق
  • مختلف رُجحانات کو فروغ دینے والے بھائی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • غصہ قتل کی وجہ بنا
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ایک اچھا بیٹا اور ایک بُرا بیٹا
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • سوالات از قارئین
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏2 ص.‏ 20-‏23

یہوواہ کے حضور قابلِ‌قبول قربانیاں گزراننا

ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ باغِ‌عدن کے مشرقی مدخل پر ایک بہت ہی عجیب‌وغریب منظر دیکھا جا سکتا تھا۔‏a وہاں نگرانی کرنے والے زورآور کروبیوں کی موجودگی اس بات کو یقینی بنا رہی تھی کہ کسی کو بھی وہاں داخل ہونے کی جرأت نہیں کرنی چاہئے۔ گھومنے والی شعلہ‌زن تلوار بھی داخلے کو ناممکن بنا رہی تھی جسکی روشنی رات کے وقت اردگرد کے درختوں میں ہیبتناک لگتی ہوگی۔ (‏پیدایش ۳:‏۲۴‏)‏ اس حیرت‌انگیز نظارے کا مشاہدہ کرنے والے کے لئے مناسب فاصلہ رکھنا ضروری تھا۔‏

قائن اور ہابل نے اس نظارے کو بہت مرتبہ دیکھا ہوگا۔ آدم اور حوا نے اُنہیں باغ سے باہر جنم دیا تھا اسلئے وہ فردوس میں رہنے کا محض تصور ہی کر سکتے تھے جہاں کبھی اُنکے والدین رہتے تھے اور جس میں پھلوں سبزیوں اور ہریالی کی بہتات تھی۔ اب عدن کا نظر آنے والا تھوڑا سا حصہ بِلاشُبہ غیرآباد اور جھاڑجھنکار سے بھرا ہوا ہوگا۔‏

یقیناً آدم اور حوا نے اپنے بچوں کو بتایا ہوگا کہ باغ کی دیکھ‌بھال کیوں نہیں کی جا رہی تھی اور یہ کہ اُنکے وہاں جانے پر پابندی کیوں ہے۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷؛‏ ۳:‏۶،‏ ۲۳‏)‏ قائن اور ہابل کتنے مایوس ہوئے ہونگے!‏ وہ باغ کو دیکھ سکتے تھے مگر اس میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ فردوس کے اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی اُس سے بہت دُور تھے۔ ناکاملیت نے اُنکو داغدار کر دیا تھا اور قائن یا ہابل اسکی بابت کچھ نہیں کر سکتے تھے۔‏

اُنکے والدین کے تعلقات نے معاملات کو بہتر نہیں بنایا ہوگا۔ حوا کو سزا سناتے ہوئے خدا نے کہا:‏ ”‏تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا۔“‏ (‏پیدایش ۳:‏۱۶‏)‏ اس پیشینگوئی کے مطابق آدم نے اب اپنی بیوی پر حکومت جتاتا ہوگا اور شاید اب اُسے ایک ساتھی یا مددگار خیال نہیں کرتا ہوگا۔ نیز حوا اب اس آدمی پر غیرضروری طور پر انحصار کرتی ہوگی۔ ایک تفسیر تو یہاں تک کہتی ہے کہ اُسکی ”‏رغبت“‏ ”‏ایک مرض“‏ کی مانند تھی۔‏

اُن کے والدین کے ازدواجی تعلقات نے والدین کے لئے لڑکوں کے احترام کو کس حد تک متاثر کِیا بائبل اس کی بابت کچھ نہیں کہتی۔ تاہم یہ واضح ہے کہ آدم اور حوا نے اپنے بچوں کے لئے ایک پریشان‌کُن مثال قائم کی تھی۔‏

مختلف راستوں کا انتخاب کرنا

بالآخر ہابل چرواہا بن گیا اور قائن نے کاشتکاری شروع کر دی۔ (‏پیدایش ۴:‏۲‏)‏ بِلاشُبہ اپنے ریوڑ کی گلہ‌بانی کرتے ہوئے ہابل کے پاس بہت سا وقت ہوتا ہوگا کہ اُس منفرد پیشینگوئی پر غور کرے جو باغِ‌عدن سے نکالے جانے سے پہلے اُسکے والدین کو سنائی گئی تھی کہ ”‏مَیں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُسکی ایڑی پر کاٹیگا۔“‏ (‏پیدایش ۳:‏۱۵‏)‏ ہابل ضرور حیران ہوتا ہوگا، ’‏نسل سے متعلق خدا کا وعدہ کیسے پورا ہو گا جو شیطان کو کچلے گی اور اُس نسل کی ایڑی پر کیسے کاٹا جائے گا؟‘‏

کچھ عرصہ بعد جب وہ غالباً بالغ ہو گئے تو قائن اور ہابل دونوں یہوواہ کیلئے ہدیہ لائے۔ چونکہ ہابل چرواہا تھا اسلئے یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہ ”‏اپنی بھیڑبکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ اُنکی چربی کا ہدیہ لایا۔“‏ اسکے برعکس قائن ”‏کھیت کے پھل“‏ کا ہدیہ لایا۔ یہوواہ نے ہابل کی قربانی کو قبول کِیا مگر ”‏قائنؔ کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور نہ کِیا۔“‏ (‏پیدایش ۴:‏۳-‏۵‏)‏ کیوں نہیں؟‏

بعض اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہابل نے ”‏بھیڑبکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں“‏ کی قربانی دی تھی جبکہ قائن نے محض ”‏کھیت کے پھل“‏ پیش کئے تھے۔ تاہم مسئلہ قائن کے ہدیے کی قدروقیمت کا نہیں تھا کیونکہ بیان کہتا ہے کہ یہوواہ نے ”‏ہاؔبل کو اور اُس کے ہدیہ“‏ کو قبول کِیا اور ”‏قائنؔ کو اور اُس کے ہدیہ“‏ کو قبول نہ کِیا۔ لہٰذا بنیادی طور پر یہوواہ نے پرستار کے دل کی حالت کو دیکھا تھا۔ ایسا کرنے پر اُس نے کیا جان لیا؟ عبرانیوں ۱۱:‏۴ کہتی ہے کہ ہابل نے ”‏ایمان سے“‏ اپنی قربانی گزرانی۔ بدیہی طور پر قائن میں اُس ایمان کی کمی تھی جس نے ہابل کی قربانی کو قابلِ‌قبول بنایا تھا۔‏

اس سلسلے میں یہ بات بھی قابلِ‌غور ہے کہ ہابل کی قربانی میں خون بہانا شامل تھا۔ اُس نے شاید درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کِیا ہو کہ نسل جس کی ایڑی پر کاٹا جائیگا اُس کی بابت خدا کے وعدے میں جان کی قربانی شامل ہوگی۔ اسلئے ہابل کی قربانی کفارے کیلئے ایک درخواست ہو گی اور اس نے خدا پر ایمان بھی ظاہر کِیا گیا ہوگا کہ وہ مقررہ وقت پر گناہوں کے کفارے کیلئے قربانی مہیا کرے گا۔‏

اس کے برعکس قائن نے اپنے ہدیے کے متعلق بہت کم سوچا ہوگا۔ ۱۹ویں صدی کا ایک بائبل مبصر رائے پیش کرتا ہے، ”‏اُسکے ہدیے سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ خدا کو صرف فیض‌رساں تسلیم کرتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اُسے اپنے اور خالق کے درمیان پائی جانے والی خلیج کا کوئی احساس نہیں تھا اور نہ ہی اُسے اپنے گناہ قبول کرنے یا کفارے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔“‏

مزیدبرآں پہلوٹھا ہونے کی وجہ سے قائن نے گستاخانہ طور پر خیال کِیا ہوگا کہ وہ وہی موعودہ نسل ہے جو سانپ یعنی شیطان کو کچلے گا۔ حوا کے دل میں بھی اپنے پہلوٹھے بیٹے کیلئے ایسی ہی بلندنظر خواہشات جنم لے سکتی تھیں۔ (‏پیدایش ۴:‏۱‏)‏ یقیناً اگر قائن اور حوا ایسی توقع رکھتے تھے تو وہ بہت غلط سوچ رہے تھے۔‏

بائبل یہ نہیں بتاتی کہ یہوواہ نے ہابل کی قربانی کے لئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیسے کِیا۔ بعض کا خیال ہے کہ آسمان سے آگ نے اُسے بھسم کر دیا تھا۔ بہرحال یہ جان لینے کے بعد کہ اُسکے ہدیے کو رد کر دیا گیا ہے ”‏قائنؔ نہایت غضبناک ہؤا اور اُسکا مُنہ بگڑا۔“‏ (‏پیدایش ۴:‏۵‏)‏ قائن تباہی کی جانب گامزن ہو گیا تھا۔‏

یہوواہ کی مشورت اور قائن کا ردِعمل

یہوواہ نے قائن کے ساتھ استدلال کِیا۔ ”‏تُو کیوں غضبناک ہؤا؟ اور تیرا مُنہ کیوں بگڑا ہؤا ہے؟“‏ اُس نے پوچھا۔ اس بات نے قائن کو اپنے جذبات اور محرکات کی جانچ کرنے کا موقع دیا۔ یہوواہ نے مزید کہا:‏ ”‏اگر تُو بھلا کرے تو کیا تُو مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تُو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تُو اُس پر غالب آ۔“‏—‏پیدایش ۴:‏۶، ۷‏۔ (‏صفحہ ۲۳ کے بکس کو دیکھیں۔)‏

قائن نے توجہ نہ دی۔ بلکہ وہ ہابل کو کھیت میں لے گیا اور اُسے قتل کر ڈالا۔ بعدازاں جب یہوواہ نے اُس سے پوچھا کہ ہابل کہاں ہے تو قائن نے جھوٹ بول کر اپنے گناہ میں مزید اضافہ کِیا۔ اُس نے سرکشی سے جواب دیا:‏ ”‏مجھے نہیں معلوم۔ کیا مَیں اپنے بھائی کا محافظ ہوں؟“‏—‏پیدایش ۴:‏۸، ۹‏۔‏

ہابل کے قتل سے پہلے اور بعد میں دونوں مرتبہ قائن نے ”‏بھلا“‏ کرنے سے انکار کر دیا۔ اُس نے گناہ کو اپنے اُوپر غالب آنے دیا اور اس وجہ سے قائن کو اُس علاقے سے نکال دیا گیا جہاں انسانی خاندان رہائش‌پذیر تھا۔ بہرحال اُسے ایک ”‏نشان“‏ دیا گیا تاکہ کوئی ہابل کی موت کا بدلہ لینے کیلئے قائن کو نہ مار دے۔—‏پیدایش ۴:‏۱۵‏۔‏

اسکے بعد قائن نے اپنے بیٹے کے نام پر ایک شہر تعمیر کِیا۔ اس میں کچھ عجب نہیں کہ اُسکی اولاد بھی اپنے تشدد کی بدولت مشہور ہوئی۔ آخرکار قائن کی نسل اُس وقت نابود ہو گئی جب نوح کے زمانے کے طوفان نے تمام بدکار لوگوں کو مٹا ڈالا۔—‏پیدایش ۴:‏۱۷-‏۲۴؛‏ ۷:‏۲۱-‏۲۴‏۔‏

قائن اور ہابل کی یہ سرگزشت محض تفریح کیلئے محفوظ نہیں کی گئی تھی۔ بلکہ یہ ”‏ہماری تعلیم کے لئے لکھی“‏ گئی اور ”‏تعلیم .‏ .‏ .‏ اور اصلاح .‏ .‏ .‏ کرنے کیلئے فائدہ‌مند بھی ہے۔“‏ (‏رومیوں ۱۵:‏۴؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ ہم اس بیان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

ہمارے لئے ایک سبق

قائن اور ہابل کی طرح آج مسیحیوں کو بھی خدا کے حضور قربانی گزارننے کی دعوت دی جاتی ہے—‏ایک حقیقی سوختنی قربانی نہیں بلکہ ”‏حمد کی قربانی یعنی ان ہونٹوں کا پھل جو اُسکے نام کا اقرار کرتے ہیں۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۵‏)‏ آجکل یہوواہ کے گواہوں کے ۲۳۰ سے زیادہ ممالک میں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری پھیلانے سے یہ کام عالمگیر پیمانے پر کِیا جا رہا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ کیا آپ اس کام میں حصہ لے رہے ہیں؟ تو پھر آپ یقین رکھ سکتے ہیں کہ ”‏خدا بے‌انصاف نہیں جو تمہارے کام اور اس محبت کو بھول جائے جو تم نے اُسکے نام کے واسطے .‏ .‏ .‏ ظاہر کی۔“‏—‏عبرانیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

قائن اور ہابل کی طرح آپ کی قربانی کی قدروقیمت کا تعیّن اُس کی ظاہری وضع‌قطع سے نہیں ہوتا—‏مثلاً گھنٹوں کی اُس تعداد سے جو آپ خدمتگزاری میں صرف کرتے ہیں۔ یہوواہ گہرائی تک دیکھتا ہے۔ یرمیاہ ۱۷:‏۱۰ کہتی ہے کہ وہ ”‏دل‌ودماغ کو جانچتا اور آزماتا“‏ ہے—‏کسی کی شخصیت کے گہرے خیالات، احساسات اور محرکات کو جانچتا ہے۔ لہٰذا اصل چیز محرک ہے نہ کہ مقدار۔ درحقیقت قربانی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ خدا کے نزدیک اُسی صورت میں قابلِ‌قدر ہے اگر وہ محبت سے تحریک پائے ہوئے دل سے دی جاتی ہے۔—‏مرقس ۱۲:‏۴۱-‏۴۴ کا ۱۴:‏۳-‏۹ سے مقابلہ کریں۔‏

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جیسے یہوواہ نے قائن کی بے‌دلی سے پیش کی گئی قربانی کو قبول نہیں کِیا تھا ویسے ہی وہ ہماری ناقص قربانی کو بھی قبول نہیں کرے گا۔ (‏ملاکی ۱:‏۸، ۱۳)‏ یہوواہ آپ سے بہترین چیز کا تقاضا کرتا ہے یعنی یہ کہ آپ پورے دل، جان، عقل اور طاقت سے اُس کی خدمت کریں۔ (‏مرقس ۱۲:‏۳۰‏)‏ کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو پھر آپ کے پاس اپنی قربانی سے مطمئن ہونے کی معقول وجہ ہے۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏پس ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے اس صورت میں اُسے اپنی ہی بابت فخر کرنے کا موقع ہوگا نہ کہ دوسرے کی بابت۔“‏—‏گلتیوں ۶:‏۴‏۔‏

قائن اور ہابل کی پرورش ایک جیسی ہوئی تھی۔ لیکن وقت اور حالات کی بدولت دونوں میں مختلف خصوصیات پیدا ہو گئیں۔ بتدریج قائن کا رویہ حسد، جھگڑے اور غصے والا بن گیا۔‏

اسکے برعکس ہابل کو خدا نے ایک راستباز آدمی کے طور پر یاد رکھا۔ (‏متی ۲۳:‏۲۵‏)‏ ہر قیمت پر خدا کو خوش کرنے کے اُسکے پُختہ عزم نے ہابل کو اپنے خاندان کے دیگر ناشکرے—‏افراد آدم، حوا اور قائن سے یکسر مختلف بنا دیا تھا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اگرچہ ہابل مر گیا پھر بھی وہ ”‏اب تک کلام کرتا ہے۔“‏ خدا کیلئے اُسکی وفادارانہ خدمت کے بیان کو بائبل کے تاریخی ریکارڈ کا مستقل حصہ بنا دیا گیا ہے۔ دُعا ہے کہ ہم سب ہابل کی پیروی کرتے ہوئے خدا کے حضور قابلِ‌قبول قربانیاں گزرانتے رہیں۔—‏عبرانیوں ۱۱:‏۴‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض کے مطابق باغِ‌عدن موجودہ ترکی کے مشرقی حصے کے پہاڑی علاقے میں واقع تھا۔‏

‏[‏صفحہ 23 پر بکس/‏تصویر]‏

مسیحی مشیروں کیلئے ایک نمونہ

”‏تُو کیوں غضبناک ہؤا؟ اور تیرا مُنہ کیوں بگڑا ہؤا ہے؟“‏ اس سوال کے ساتھ یہوواہ نے نرمی سے قائن کے ساتھ استدلال کِیا۔ اُس نے تبدیل ہونے کیلئے قائن کو مجبور نہیں کِیا تھا کیونکہ قائن آزاد مرضی کا مالک تھا۔ (‏مقابلہ کریں استثنا ۳۰:‏۱۹۔)‏ تاہم، یہوواہ نے بِلاتامل قائن کو اُس کی باغیانہ روش کے نتائج سے آگاہ کِیا۔ اُس نے قائن کو خبردار کِیا:‏ ”‏اگر تُو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے۔“‏​—‏⁠پیدایش ۴:‏​۶، ۷‏۔‏

یہ بات قابلِ‌غور ہے کہ اس پُرزور مذمت کے باوجود یہوواہ نے قائن سے ایسا سلوک نہیں کِیا کہ ’‏اُس سے اچھائی کی توقع بے‌فائدہ ہے۔‘‏ اسکے برعکس اُس نے قائن کو اُن برکتوں کی بابت بتایا جو اپنی روش کو تبدیل کر لینے کی صورت میں اُسکی منتظر تھیں، اُسے یقین تھا کہ اگر قائن چاہے تو اس مسئلے پر قابو پا سکتا ہے۔ یہوواہ نے کہا، ”‏اگر تُو بھلا کرے تو کیا تُو مقبول نہ ہوگا؟“‏ اُس نے قائن کے مُہلک غصے کے حوالے سے یہ بھی کہا:‏ ”‏تُو اُس پر غالب آ۔“‏

آجکل بھی بزرگوں کو مسیحی کلیسیا میں یہوواہ کے نمونے کی نقل کرنی چاہئے۔ ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۲ کی مطابقت میں بعض‌اوقات اُنہیں صاف‌گوئی کیساتھ خطاکار کو اُس کی باغیانہ روش کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے ”‏ملامت“‏ اور ”‏نصیحت“‏ بھی کرنی چاہئے۔ دریں‌اثنا بزرگوں کو اُسے ”‏سمجھانا“‏ چاہئے۔ یونانی لفظ پیراکالیئو ,کا مطلب ہے ”‏حوصلہ‌افزائی کرنا۔“‏ تھیولاجیکل ڈکشنری آف دی نیو ٹیسٹامنٹ بیان کرتی ہے کہ ”‏نصیحت تیز، مناظراتی یا تنقیدی نہیں ہوتی۔ درحقیقت اس کا ایک اور مطلب تسلی بھی ہو سکتا ہے جو کہ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔“‏

واضح طور پر، ایک متعلقہ یونانی لفظ پیراکلیٹوس ایک مددگار یا قانونی معاملے میں ایک مشیر کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ اسلئے جب بزرگ واضح طور پر ملامت کرتے ہیں تو اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اُس شخص کے جسے مشورت کی ضرورت ہے مددگار ہیں نہ کہ دشمن۔ یہوواہ کی طرح بزرگوں کو بھی مثبت ہونا چاہئے اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ جسے مشورت دی جا رہی ہے وہ مسئلے پر غالب آ سکتا ہے۔​—‏⁠مقابلہ کریں گلتیوں ۶:‏⁠۱‏۔‏

یقیناً، فہمائش کا اطلاق کرنے کا انحصار اُس شخص پر ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۵؛‏ فلپیوں ۲:‏۱۲‏)‏ ممکن ہے کہ مشیر یہ محسوس کریں کہ بعض اُنکی آگاہیوں پر کان نہیں دھرتے جیسے قائن نے خالق کی ملامت کو نظرانداز کرنے کا انتخاب کِیا تھا۔ تاہم جب بزرگ یہوواہ کی نقل کرتے ہیں جو مسیحی مشیروں کیلئے کامل نمونہ ہے تو وہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے وہی کِیا ہے جو اُنہیں کرنا چاہئے تھا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں