ایک چھوٹا اور دُورافتادہ جزیرہ
سینٹ ہلینا کے جزیرے کو بیان کرنے کیلئے مستعمل توصیفی الفاظ ”چھوٹا“ اور ”دُورافتادہ“ ہیں۔ یہ نہایت موزوں ہے کیونکہ ۱۷ کلومیٹر لمبا اور ۱۰ کلومیٹر چوڑا یہ جزیرہ افریقہ کے جنوب مغربی ساحل سے ۱،۹۵۰ کلومیٹر دور ہے۔ نپولین بوناپارٹ کو ۱۸۱۵ میں بطور ایک شکستخوردہ قیدی اپنی زندگی کے آخری برس گزارنے کیلئے یہیں بھیجا گیا تھا۔
سمندر سے یہ جزیرہ ایک خوفناک قلعے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ دراصل ایک یخبستہ آتشفشاں ہے جو بحرِاوقیانوس سے اُوپر کو چڑھتی ہوئی چٹانوں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے جنکی انتہائی ڈھلوان ۱۶۰۰ سے ۲۳۰۰ فٹ تک ہے۔ پورے جزیرے کی سب سے نمایاں چیز اسکا وسطی حصہ ماؤنٹ اِکٹین ہے جس کی اُونچائی ۲،۶۸۵ فٹ ہے۔ جنوبی اوقیانوس کی سرد بادِمراد اور سمندری لہروں کی بدولت جزیرے کا موسم عموماً خوشگوار اور معتدل رہتا ہے۔ تاہم ساحل سے پہاڑوں تک کے نشیبی علاقے میں موسموں اور نباتات میں بہت تنوع پایا جاتا ہے۔
سینٹ ہلینا ۱۷ویں صدی کے بعد سے برطانیہ کی ملکیت رہا ہے۔ ۵،۰۰۰ کی مختصر آبادی یورپی، ایشائی اور افریقی نسل کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ پورے جزیرے پر انگریزی بولی جاتی ہے تاہم لبولہجہ منفرد ہے۔ یہاں پر کوئی ہوائیاڈہ نہیں ہے؛ بیرونی دُنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ بحری جہاز ہیں جو باقاعدگی کیساتھ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ جاتے ہیں۔ درحقیقت، ۱۹۹۰ کے دہے کے وسط میں ایک سیارے سے رابطے کے ذریعے ٹیلیویژن براڈکاسٹ ممکن ہوئی تھی۔
خدا کی بادشاہی کی خوشخبری ۱۹۳۰ کے دہے کے اوائل میں پہلی مرتبہ ان ساحلوں تک پہنچی۔ (متی ۲۴:۱۴) سالوں کے دوران، جزیرے کے باشندوں نے اس خزانے پر قبضہ کر لیا ہے جو مادی دولت کو غیراہم بنا دیتا ہے۔ (متی ۶:۱۹، ۲۰) آج سینٹ ہلینا اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں اوسطاً ۳۱ لوگوں کیلئے ۱ گواہ ہے جوکہ دُنیا میں بہترین تناسب ہے!
[صفحہ 24 پر نقشہ]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
سینٹ ہلینا
جیمزٹاؤن
لیولووڈ
افریقہ
بحرِاوقیانوس
سینٹ ہلینا