مٹی کے برتنوں میں ہمارا خزانہ
”ہمارے پاس یہ خزانہ مٹی کے برتنوں میں رکھا ہے تاکہ یہ حد سے زیادہ قدرت ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے معلوم ہو۔“—۲-کرنتھیوں ۴:۷۔
۱. یسوع کے نمونے کو ہماری حوصلہافزائی کیسے کرنی چاہئے؟
زمینی دَور میں یہوواہ کی طرف سے ڈھالے جانے کے عمل کے دوران یسوع نے نوعِانسان کی کمزوریوں کا براہِراست تجربہ کِیا۔ راستی برقرار رکھنے کے سلسلے میں اُس کے نمونے سے ہمیں خوب حوصلہافزائی حاصل کرنی چاہئے! رسول ہمیں بتاتا ہے: ”تم اِسی کے لئے بلائے گئے ہو کیونکہ مسیح بھی تمہارے واسطے دکھ اُٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تاکہ اُس کے نقشِقدم پر چلو۔“ (۱-پطرس ۲:۲۱) یسوع نے ڈھالے جانے کے ایسے عمل سے گزر کر دُنیا پر فتح پائی تھی۔ اُس نے اپنے رسولوں کی بھی فاتح ثابت ہونے کے لئے ہمتافزائی کی۔ (اعمال ۴:۱۳، ۳۱؛ ۹:۲۷، ۲۸؛ ۱۴:۳؛ ۱۹:۸) لہٰذا اُن کے سامنے اپنے آخری خطبے کے اختتام پر اُس نے کیا ہی شاندار حوصلہافزائی پیش کی! اُس نے بیان کِیا: ”مَیں نے تم سے یہ باتیں اسلئے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پاؤ۔ دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔“—یوحنا ۱۶:۳۳۔
۲. دُنیا کے اندھےپن کے برعکس ہمارے پاس کونسی روشنی ہے؟
۲ اسی طرح ”اس جہان کے خدا“ کے برپا کئے ہوئے اندھےپن کا ”جلال کی خوشخبری کی روشنی“ سے موازنہ کرنے کے بعد پولس نے ہماری بیشقیمت خدمتگزاری کی بابت کہا: ”ہمارے پاس یہ خزانہ مٹی کے برتنوں میں رکھا ہے تاکہ یہ حد سے زیادہ قدرت ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے معلوم ہو۔ ہم ہر طرف سے مصیبت تو اٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران تو ہوتے ہیں مگر ناامید نہیں ہوتے۔ ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔ گرائے تو جاتے ہیں لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔“ (۲-کرنتھیوں ۴:۴، ۷-۹) خدا نے ہمیں نازک ”مٹی کے برتن“ ہونے کے باوجود اپنی روح کے ذریعے ایسے ڈھالا ہے کہ ہم شیطان کی دُنیا پر مکمل فتح پا سکتے ہیں۔—رومیوں ۸:۳۵-۳۹؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۷۔
قدیم اسرائیل کی ڈھلائی
۳. یسعیاہ نے یہودی قوم کی ڈھلائی کو کیسے بیان کِیا؟
۳ یہوواہ نہ صرف اشخاص کو بلکہ قوموں کو بھی ڈھالتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب قدیم اسرائیل نے یہوواہ کی طرف سے ڈھالے جانے کے عمل کی پابندی کی تو اُس نے ترقی کی۔ لیکن آخرکار اس نے سختدلی سے نافرمانی کی روش اختیار کر لی۔ نتیجتاً، اسرائیل کے صانع نے اس پر ”افسوس“ کا اظہار کِیا۔ (یسعیاہ ۴۵:۹) آٹھویں صدی ق.س.ع. میں یسعیاہ نے اسرائیل کی سنگین گنہگارانہ حالت کی بابت یہوواہ سے کہا: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو]! تُو ہمارا باپ ہے۔ ہم مٹی ہیں اور تُو ہمارا کمہار ہے اور ہم سب کے سب تیری دستکاری ہیں۔ . . . ہماری نفیس چیزیں برباد ہو گئیں۔“ (یسعیاہ ۶۴:۸-۱۱) اسرائیل کو تباہی کے لائق برتن کے طور پر ڈھالا گیا تھا۔
۴. یرمیاہ نے کس تمثیل پر عمل کر کے دکھایا؟
۴ ایک صدی کے بعد، جب یومِاحتساب نزدیک تھا تو یہوواہ نے یرمیاہ سے ایک مٹی کی صراحی لینے اور یروشلیم کے بزرگوں کو ساتھ لیکر ہنوم کی وادی میں جانے کو کہا اور اُسے یہ ہدایت کی: ”تُو اُس صراحی کو اُن لوگوں کے سامنے جو تیرے ساتھ جائینگے توڑ ڈالنا۔ اور اُن سے کہنا کہ ربالافواج یوں فرماتا ہے کہ مَیں اِن لوگوں اور اِس شہر کو ایسا توڑو گا جس طرح کوئی کمہار کے برتن کو توڑ ڈالے جو پھر درست نہیں ہو سکتا۔“—یرمیاہ ۱۹:۱۰، ۱۱۔
۵. اسرائیل کے معاملے میں یہوواہ کی عدالت کتنی بڑی تھی؟
۵ نبوکدنضر نے ۶۰۷ ق.س.ع. میں یروشلیم کو برباد کر دیا اور باقیماندہ یہودیوں کو اسیر کرکے بابل کو لے گیا۔ تاہم ۷۰ سال کی اسیری کے بعد، تائب یہودی یروشلیم اور اس کی ہیکل کی ازسرِنو تعمیر کرنے کے لئے لوٹنے کے قابل ہوئے تھے۔ (یرمیاہ ۲۵:۱۱) مگر پہلی صدی س.ع. تک، قوم عظیم کمہار کو پھر ترک کر چکی تھی اور بالآخر یہ اسقدر گراوٹ کا شکار ہو گئی کہ خدا کے بیٹے کو قتل کرنے کے انتہائی سنگین جُرم کی مُرتکب ٹھہری۔ خدا نے ۷۰ س.ع. میں یروشلیم اور اس کی ہیکل کو تباہ کرنے اور یہودی نظاماُلعمل کا قلعقمع کرنے کے لئے عالمی طاقت روم کو اپنے سزا دینے والے کے طور پر استعمال کِیا۔ پھر کبھی بھی یہوواہ اپنے ہاتھ سے اسرائیلی قوم کو ”پاک اور دلکش“ چیز کے طور پر نہیں ڈھالیگا۔a
ایک روحانی قوم کو ڈھالنا
۶، ۷. (ا) پولس روحانی اسرائیل کی ڈھلائی کے عمل کو کیسے بیان کرتا ہے؟ (ب) ”رحم کے برتنوں“ کی مکمل تعداد کیا ہے اور اسے کیسے تشکیل دیا گیا تھا؟
۶ یسوع کو قبول کرنے والے یہودیوں کو ایک نئی قوم، ”خدا کے“ روحانی ”اؔسرائیل“ کے بنیادی ارکان کے طور پر ڈھالا گیا تھا۔ (گلتیوں ۶:۱۶) پس، پولس کے الفاظ نہایت موزوں ہیں: ”کیا کمہار کو مٹی پر اختیار نہیں کہ ایک ہی لوندے میں سے ایک برتن عزت کے لئے بنائے اور دوسرا بےعزتی کے لئے؟ . . . خدا اپنا غضب ظاہر کرنے اور اپنی قدرت آشکارا کرنے کے ارادہ سے غضب کے برتنوں کے ساتھ جو ہلاکت کے لئے تیار ہوئے تھے نہایت تحمل سے پیش آیا۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ اپنے جلال کی دولت رحم کے برتنوں کے ذریعہ سے آشکارا کرے جو اُس نے جلال کے لئے پہلے سے تیار کئے تھے۔“—رومیوں ۹:۲۱-۲۳۔
۷ قیامتیافتہ یسوع نے بعدازاں ظاہر کِیا کہ ان ”رحم کے برتنوں“ کی تعداد ۱،۴۴،۰۰۰ ہوگی۔ (مکاشفہ ۷:۴؛ ۱۴:۱) پیدائشی اسرائیل میں سے یہ عدد مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہوواہ نے دیگر قوموں کے لوگوں کو اپنے رحم سے مستفید ہونے کا موقع بخشا۔ (رومیوں ۱۱:۲۵، ۲۶) نوخیز مسیحی کلیسیا نے بڑی تیزی سے ترقی کی۔ ۳۰ سال کے اندر اندر خوشخبری کی ”منادی آسمان کے نیچے کی تمام مخلوقات“ میں کر دی گئی تھی۔ (کلسیوں ۱:۲۳) اس سے کئی الگتھلگ مقامی کلیسیاؤں کی موزوں نگرانی ضروری ہو گئی۔
۸. ابتدائی گورننگ باڈی کن پر مشتمل تھی اور اس میں کیسے اضافہ ہوا؟
۸ یسوع نے اپنے ۱۲ رسولوں کو پہلی گورننگ باڈی تشکیل دینے کے لئے تیار کِیا اور اُن کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کو بھی خدمتگزاری کی تربیت دی۔ (لوقا ۸:۱؛ ۹:۱، ۲؛ ۱۰:۱، ۲) پنتِکُست ۳۳ س.ع. پر مسیحی کلیسیا قائم ہوئی اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کی گورننگ باڈی کو یروشلیم کے ”رسولوں اور بزرگوں“ کی شمولیت سے وسیع کِیا گیا تھا۔ یسوع کا سوتیلا بھائی یعقوب رسول نہ ہونے کے باوجود کافی عرصہ تک اس کی صدارت کرتا رہا۔ (اعمال ۱۲:۱۷؛ ۱۵:۲، ۶، ۱۳؛ ۲۱:۱۸) مؤرخ یوسیبیس کے مطابق رسول اذیت کا خاص نشانہ بنے اور گِردونواح کے علاقہ میں پراگندہ ہو گئے تھے۔ گورننگ باڈی کی ساخت میں حسبِضرورت ردوبدل کِیا گیا تھا۔
۹. یسوع نے کس افسوسناک حالت کے واقع ہونے کی پیشینگوئی کی تھی؟
۹ پہلی صدی ختم ہونے کیساتھ ’دشمن، ابلیس‘ نے ”آسمان کی بادشاہی“ کے گیہوںنما وارثوں کے درمیان ’کڑوے دانے‘ بونے شروع کر دئے۔ یسوع پیشینگوئی کر چکا تھا کہ اس افسوسناک حالت کو ”دُنیا کے آخر،“ کٹائی کے وقت تک جاری رہنے کی اجازت دی جائیگی۔ لہٰذا ’راستباز‘ ایک بار پھر ’اپنے باپ کی بادشاہی میں آفتاب کی مانند چمکیں گے۔‘ (متی ۱۳:۲۴، ۲۵، ۳۷-۴۳) ایسا کب ہوگا؟
آجکل خدا کے اسرائیل کو ڈھالنا
۱۰، ۱۱. (ا) دورِحاضر میں خدا کے اسرائیل کی ڈھلائی کا عمل کیسے شروع ہوا؟ (ب) مسیحی دُنیا اور خلوصدل بائبل سٹوڈنٹس کے مابین کونسی مختلف تعلیمات نظر آئیں؟
۱۰ چارلس ٹیز رسل نے ۱۸۷۰ میں پٹسبرگ، پینسلوانیہ، یو.ایس.اے. میں بائبل مطالعے کے ایک گروہ کو تشکیل دیا۔ اُس نے ۱۸۷۹ میں ایک ماہانہ رسالہ شائع کرنا شروع کِیا جو آجکل دی واچٹاور [مینارِنگہبانی] کے نام سے مشہور ہے۔ بائبل سٹوڈنٹس کہلانے والے یہ لوگ جلد ہی سمجھ گئے کہ مسیحی دُنیا نے جان کی غیرفانیت، آتشِدوزخ، اعراف، تثلیثی خدا اور شِیرخواروں کے بپتسمے جیسی غیرصحیفائی جھوٹی تعلیمات اپنا رکھی ہیں۔
۱۱ تاہم، سب سے اہم یہ کہ بائبل سچائی سے محبت رکھنے والے ان لوگوں نے یسوع کے فدیے کی قربانی کے ذریعے چھٹکارے اور خدا کی بادشاہت کے تحت پُرامن زمینی فردوس میں ابدی زندگی کے لئے قیامت جیسی بائبل کی بنیادی تعلیمات کو بحال کِیا۔ سب سے بڑھکر، کائنات کے حاکمِاعلیٰ کے طور پر یہوواہ خدا کی قریبالوقوع سربلندی پر زور دیا گیا۔ بائبل طالبعلموں کو یقین تھا کہ خداوند کی دُعا کا جواب ملنے والا ہے: ”اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیرا بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ (متی ۶:۹، ۱۰) خدا کی روحالقدس کے ذریعے اُنہیں امنپسند مسیحیوں کے عالمگیر معاشرے کی صورت میں ڈھالا جا رہا تھا۔
۱۲. بائبل طالبعلم ایک اہم سال کو کیسے پہچان گئے؟
۱۲ دانیایل ۴ باب اور دیگر پیشینگوئیوں کے گہرے مطالعے سے بائبل سٹوڈنٹس اس بات کے قائل ہو گئے کہ مسیحائی بادشاہ کے طور پر یسوع کی موجودگی قریب ہے۔ اُنہوں نے سمجھ لیا کہ ۱۹۱۴ ”غیرقوموں کی میعاد“ کے خاتمے کا سال ہوگا۔ (لوقا ۲۱:۲۴؛ حزقیایل ۲۱:۲۶، ۲۷) بائبل سٹوڈنٹس نے پورے ریاستہائےمتحدہ میں بائبل کلاسز قائم کرنے سے بڑی تیزی کیساتھ اپنی کارگزاری کو وسیع کِیا۔ نئی صدی کے شروع میں اُنکا بشارتی کام یورپ اور آسٹریلیا کے براعظم میں بھی زور پکڑ رہا تھا۔ لہٰذا اچھی تنظیم ضروری ہو گئی۔
۱۳. بائبل سٹوڈنٹس کو کونسی قانونی حیثیت حاصل ہوئی اور سوسائٹی کے پہلے صدر نے کونسی غیرمعمولی خدمت انجام دی؟
۱۳ بائبل سٹوڈنٹس کو قانونی حیثیت دینے کیلئے زائنز واچٹاور ٹریکٹ سوسائٹی کو ریاستہائےمتحدہ میں ۱۸۸۴ میں تشکیل دیا گیا جسکا ہیڈکوارٹر پٹسبرگ، پینسلوانیہ میں تھا۔ اس کے ڈائریکٹروں نے خدا کی بادشاہت کی عالمگیر منادی کے کام کی نگرانی کرتے ہوئے اِس کی مرکزی گورننگ باڈی کے طور پر خدمت انجام دی۔ سوسائٹی کے پہلے صدر، چارلس ٹی. رسل نے چھ جِلدوں پر مشتمل سٹڈیز اِن دی سکرپچرز تصنیف کی اور وسیع پیمانے پر منادی کے دَورے کئے۔ اُس نے اپنا بائبل مطالعہ شروع کرنے سے قبل جو مالومتاع جمع کر رکھا تھا وہ سب بھی عالمگیر بادشاہتی کام کی نذر کر دیا۔ جس وقت یورپ کے اندر ۱۹۱۶ میں جنگِعظیم زورں پر تھی تو خود کو پوری طرح صرف کر ڈالنے والا بھائی رسل منادی کے ایک سفر کے دوران وفات پا گیا۔ اُس نے خدا کی بادشاہت کی بابت گواہی کے کام کو وسیع کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔
۱۴. جے. ایف. رتھرفورڈ نے کیسے ’اچھی کشتی لڑی‘؟ (۲-تیمتھیس ۴:۷)
۱۴ جوزف ایف. رتھرفورڈ جو میسوری میں عارضی طور پر جج کے فرائض انجام دے رہے تھے اگلے صدر مقرر ہوئے۔ اُس کی بائبل سچائی کی دلیرانہ حمایت کے نتیجے میں مسیحی دُنیا کے پادری طبقے نے ”قانون کی آڑ میں بدی“ گھڑنے کے لئے سیاستدانوں سے الحاق کر لیا۔ جون ۲۱، ۱۹۱۸ کو بھائی رتھرفورڈ اور سات دیگر ممتاز بائبل سٹوڈنٹس کو جیل بھیج دیا گیا اور بیکوقت ۱۰ یا ۲۰ سال کی مختلف سزائیں سنائی گئیں۔ بائبل سٹوڈنٹس نے مقدمہ لڑا۔ (زبور ۹۴:۲۰؛ فلپیوں ۱:۷) اپیل کرنے پر اُنہیں مارچ ۲۶، ۱۹۱۹ میں رہائی مل گئی اور بعدازاں بغاوت کے جھوٹے الزام سے بالکل بری کر دیا گیا۔b اس تجربے نے اُنہیں سچائی کے بےخوف حمایتیوں کے طور پر ڈھالنے کا کام انجام دیا۔ بڑے بابل کی مخالفت کے باوجود یہوواہ کی مدد سے خوشخبری کا اعلان کرنے کے سلسلے میں روحانی لڑائی جیتنے کے لئے اُنہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ یہ لڑائی آج ۱۹۹۹ کے سال تک جاری ہے۔—مقابلہ کریں متی ۲۳ باب؛ یوحنا ۸:۳۸-۴۷۔
۱۵. تاریخی اعتبار سے ۱۹۳۱ کا سال کیوں اہم تھا؟
۱۵ خدا کا ممسوح اسرائیل عظیم کمہار کے زیرِہدایت ۱۹۲۰ اور ۱۹۳۰ کے دہوں کے دوران ڈھلائی کے عمل سے گزرتا رہا۔ صحائف کی نبوّتی روشنی چمکی جو یہوواہ کے لئے تعظیم کا باعث ہوئی اور یسوع کی مسیحائی بادشاہت پر توجہ مرکوز کروانے پر منتج ہوئی۔ بائبل طالبعلم ۱۹۳۱ میں اپنا نیا نام یہوواہ کے گواہ قبول کر کے بہت خوش ہوئے تھے۔—یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲؛ متی ۶:۹، ۱۰؛ ۲۴:۱۴۔
۱۶. صفحہ ۱۹ کا بکس بھی دیکھیں۔ ۱،۴۴،۰۰۰ کی تعداد کب مکمل ہوئی اور اس کا کیا ثبوت موجود ہے؟
۱۶ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ”بلائے ہوئے اور برگزیدہ اور وفادار،“ ۱،۴۴،۰۰۰ کی تعداد ۱۹۳۰ کے دہے میں مکمل ہو گئی تھی۔ (مکاشفہ ۱۷:۱۴؛ صفحہ ۱۹ کے بکس کو دیکھیں۔) ہم یہ تو نہیں جانتے کہ پہلی صدی میں اور مسیحی دُنیا کی عظیم برگشتگی کے تاریک دَور کے دوران ”کڑوے دانوں“ میں سے کتنے ممسوح لوگوں کو جمع کر لیا گیا تھا۔ تاہم، ۱۹۳۵ میں عالمی پیمانے پر ۵۶،۱۵۳ کی انتہائی تعداد میں سے کُل ۵۲،۴۶۵ نے میموریل کی علامات سے تناول فرما کر اپنی آسمانی اُمید کا اظہار کِیا تھا۔ ابھی اَور بہت سے جمع کئے جانے والوں کی منزل کیا ہوگی؟
”ایک بڑی بِھیڑ“
۱۷. سن ۱۹۳۵ میں کونسی تاریخی تبدیلی رُونما ہوئی؟
۱۷ واشنگٹن ڈی.سی.، یو.ایس.اے. میں مئی ۳۰ تا جون ۳، ۱۹۳۵ کو منعقد ہونے والی کنونشن پر بھائی رتھرفورڈ نے ”بڑا ہجوم“ کے عنوان سے ایک انقلابی تقریر پیش کی۔c یہ گروہ، ”جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا،“ ۱،۴۴،۰۰۰ پر مشتمل روحانی اسرائیل پر حتمی مہر ختم ہونے کے قریب ظاہر ہونا تھا۔ یہ بھی ”برّہ“ یعنی یسوع کے ”خون“ کی فدیہ دینے والی طاقت پر ایمان ظاہر کرینگے اور پرستش کیلئے یہوواہ کی ہیکل کے انتظام کے تحت پاک خدمت بجا لائینگے۔ ایک گروہ کے طور پر، وہ ”بڑی مصیبت میں سے نکل کر“ زمینی فردوس کے وارث بنیں گے جہاں ”موت [نہ] رہیگی۔“ اُس کنونشن سے کئی سال پہلے تک، اس گروہ کو یہوناداب کہا جاتا تھا۔—مکاشفہ ۷:۹-۱۷؛ ۲۱:۴؛ یرمیاہ ۳۵:۱۰۔
۱۸. کس لحاظ سے ۱۹۳۸ کا سال فیصلہکُن تھا؟
۱۸ ان دونوں جماعتوں کی واضح شناخت کے سلسلے میں ۱۹۳۸ کا سال انتہائی فیصلہکُن ثابت ہوا تھا۔ مارچ ۱۵ اور اپریل ۱، ۱۹۳۸ کے دی واچٹاور کے شماروں نے ”اُس کا گلّہ“ کے عنوان سے دو حصوں پر مشتمل مطالعہ پیش کِیا اور اس میں ممسوح بقیے اور اُن کے ساتھیوں، بڑی بِھیڑ کے نسبتی مرتبوں کو واضح کِیا۔ اس کے بعد جون ۱ اور جون ۱۵ کے شماروں میں یسعیاہ ۶۰:۱۷ پر مبنی ”تنظیم“ کی بابت مطالعے کے مضامین شائع ہوئے۔ تمام کلیسیاؤں سے کہا گیا کہ وہ مقامی سطح پر خادم مقرر کرنے کے سلسلے میں گورننگ باڈی سے درخواست کریں تاکہ ایک بہتر خداداد، تھیوکریٹک نظام قائم کِیا جا سکے۔ کلیسیاؤں نے ایسا ہی کِیا۔
۱۹. فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔ کونسے حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ”دوسری بھیڑوں“ کی عام بلاہٹ ۶۰ سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے؟
۱۹ ائیربُک آف جیہوواز وٹنسز ۱۹۳۹ کی رپورٹ نے بیان کِیا: ”اس وقت مسیح یسوع کے زمین پر موجود ممسوح پیروکاروں کی تعداد بہت کم ہے اور اُن کی تعداد میں کبھی اضافہ نہیں ہوگا۔ صحائف میں ان کی نشاندہی صیون، خدا کی تنظیم کی اولاد کے ’بقیے‘ کے طور پر کی گئی ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۷) اس وقت خداوند اپنی ’دوسری بھیڑوں‘ کو جمع کر رہا ہے جو ’بڑے ہجوم‘ کو تشکیل دیں گی۔ (یوحنا ۱۰:۱۶) اس وقت جمع کئے جانے والے لوگ بقیے کے ساتھی ہیں جوکہ بقیے کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔ تب سے لیکر ’دوسری بھیڑوں‘ میں شامل ہونے والوں کی تعداد اُس وقت تک بڑھتی جائے گی جب تک کہ ’بڑا ہجوم‘ جمع نہیں کر لیا جاتا۔“ ممسوح بقیے کو بڑی بِھیڑ کو جمع کرنے کے کام کی دیکھبھال کرنے کے لئے ڈھالا گیا ہے۔ اب انہیں بھی ڈھالا جانا چاہئے۔d
۲۰. ۱۹۴۲ سے لیکر کونسی تنظیمی تبدیلیاں رُونما ہوئی ہیں؟
۲۰ جب جنوری ۱۹۴۲ میں دوسری جنگِعظیم اپنے عروج پر تھی تو جوزف رتھرفورڈ نے وفات پائی اور اُس کی جگہ ناتھن نار صدر بنا۔ سوسائٹی کے تیسرے صدر کو کلیسیاؤں میں تھیوکریٹک منسٹری سکول اور مشنریوں کی تربیت کے لئے گلئیڈ سکول قائم کرنے کے حوالے سے بڑی محبت کے ساتھ یاد کِیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے ۱۹۴۴ میں سوسائٹی کے سالانہ اجلاس پر اعلان کِیا کہ سوسائٹی کے چارٹر میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق رُکنیت کی بنیاد مالی عطیات نہیں بلکہ روحانیت ہو گی۔ اگلے ۳۰ سال کے دوران، پوری دُنیا میں میدان میں کام کرنے والوں کی تعداد ۱،۵۶،۲۹۹ سے بڑھکر ۲۱،۷۹،۲۵۶ ہو گئی۔ ۱۹۷۱-۱۹۷۵ کے دوران مزید تنظیمی تبدیلیاں درکار تھیں۔ اب سے صدر کے عہدے پر فائز ایک ہی شخص عالمگیر بادشاہتی کام کی پوری طرح نگرانی کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ گورننگ باڈی کی تعداد ۱۸ ممسوح ارکان تک بڑھا دی گئی جسکا چیئرمین بدلتا رہتا ہے جن میں سے تقریباً نصف اب تک اپنا زمینی دَور ختم کر چکے ہیں۔
۲۱. کس چیز نے چھوٹے گلّے کے ارکان کو بادشاہت کے لائق ٹھہرایا ہے؟
۲۱ چھوٹے گلّے کے باقیماندہ ارکان کو کئی عشروں کی آزمائشوں کے ذریعے ڈھالا گیا ہے۔ ناقابلِتردید طور پر ’روح کی گواہی‘ پانے سے اُن کی بڑی حوصلہافزائی ہوئی ہے۔ یسوع اُنہیں بتا چکا ہے: ”تم وہ ہو جو میری آزمایشوں میں برابر میرے ساتھ رہے۔ اور جیسے میرے باپ نے میرے لئے ایک بادشاہی مقرر کی ہے مَیں بھی تمہارے لئے مقرر کرتا ہوں۔ تاکہ میری بادشاہی میں میری میز پر کھاؤ پیو بلکہ تم تختوں پر بیٹھ کر اؔسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے۔“—رومیوں ۸:۱۶، ۱۷؛ لوقا ۱۲:۳۲؛ ۲۲:۲۸-۳۰۔
۲۲، ۲۳. چھوٹے گلّے اور دوسری بھیڑوں کو کیسے ڈھالا جا رہا ہے؟
۲۲ زمین پر روح سے مسحشُدہ بقیے کی تعداد کم ہونے کے باعث بڑی بِھیڑ کے پُختہ بھائیوں کو پوری دُنیا کی تقریباً تمام کلیسیاؤں میں روحانی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔ نیز جب تک آخری ممسوح گواہ اپنا زمینی دَور ختم کریں گے اُس وقت تک دوسری بھیڑوں میں سے شہزادہنما سارِم کو زمین پر فرمانروا کی حیثیت سے انتظامی فرائض انجام دینے کے لئے تربیت دی جا چکی ہوگی۔—حزقیایل ۴۴:۳؛ یسعیاہ ۳۲:۱۔
۲۳ چھوٹا گلّہ اور دوسری بھیڑیں دونوں عزت کے برتنوں کے طور پر ڈھالے جانے کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں۔ (یوحنا ۱۰:۱۴-۱۶) خواہ ہماری اُمید ”نئے آسمان“ پر لگی ہے یا ”نئی زمین“ پر، دُعا ہے کہ ہم پورے دل سے یہوواہ کی اس دعوت سے اثرپذیر ہوتے رہیں: ”تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو کیونکہ دیکھو مَیں یرؔوشلیم کو خوشی اور اُسکے لوگوں کو خرمی بناؤنگا۔“ (یسعیاہ ۶۵:۱۷، ۱۸) خدا کرے کہ ہم ادنیٰ انسان ہمیشہ فروتنی سے خدمت کریں اور ”حد سے زیادہ قدرت“—خدا کی روحالقدس کی قدرت—کے ذریعے ڈھالے جائیں!—۲-کرنتھیوں ۴:۷؛ یوحنا ۱۶:۱۳۔
[فٹنوٹ]
a برگشتہ مسیحی دُنیا بھی، جسکا قدیم اسرائیل نے عکس پیش کِیا، یہوواہ کی طرف سے ایسی ہی عدالت کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہو جائے۔—۱-پطرس ۴:۱۷، ۱۸۔
b جج مینٹن، ایک رومن کیتھولک جس نے بائبل سٹوڈنٹس کو ضمانت پر رِہا کرنے سے انکار کِیا تھا اُسے خود ہی بعدازاں رشوت لینے کے جُرم میں قید ہو گئی۔
c سن ۱۹۵۰ میں ریلیز ہونے والی نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی کرسچن گریک سکرپچرز الہامی یونانی اصطلاح کا زیادہ بہتر ترجمہ ”بڑی بِھیڑ“ استعمال کرتی ہے۔
d پوری دُنیا کے اندر ۱۹۳۸ میں میموریل کی حاضری ۷۳،۴۲۰ تھی جس میں سے ۳۹،۲۲۵ اشخاص—حاضرین کے ۵۳ فیصد—نے علامات میں سے تناول فرمایا۔ ۱۹۹۸ تک حاضری ۱،۳۸،۹۶،۳۱۲ تک بڑھ گئی ہے جس میں سے صرف ۸،۷۵۶ نے تناول فرمایا جو ہر ۱۰ کلیسیاؤں میں تناول فرمانے والے ۱ شخص سے بھی کم کی اوسط ہے۔
کیا آپکو یاد ہے؟
◻اپنے باپ کی طرف سے ڈھلائی کے عمل سے گزر کر یسوع ہمارے لئے کیسے نمونہ ٹھہرا؟
◻قدیم اسرائیل میں ڈھلائی کا کونسا عمل واقع ہوا؟
◻”خدا کا اؔسرائیل“ اب تک کیسے ڈھالا گیا ہے؟
◻”دوسری بھیڑوں“ کو کس مقصد کیلئے ڈھالا گیا ہے؟
[صفحہ 18 پر بکس]
مسیحی دُنیا میں مزید ڈھلائی
اتھینے، یونان سے بھیجے ہوئے ایک ایسوسیایٹڈ پریس نے گریک آرتھوڈکس چرچ کے حال ہی میں مقرر ہونے والے سربراہ کی بابت مندرجہذیل رپورٹ پیش کی: ”اُسے امن کا پیامبر ہونا چاہئے۔ تاہم گریک آرتھوڈکس چرچ کا پیشوا جنگ کیلئے تیار ہونے والے جرنیل کی مانند زیادہ نظر آتا ہے۔
”’ضرورت پڑنے پر ہم خون بہانے اور قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں۔ بطور کلیسیا ہم امن کی دُعا مانگتے ہیں . . . مگر جب وقت کا تقاضا ہو تو ہم مُقدس ہتھیاروں کو بھی برکت دیتے ہیں،‘ آرچبشپ کرسٹوڈولس نے حال ہی میں عیدِاستقبالِمریم کے مقدس موقع پر یہ بیان دیا جسے یومِیونانیمسلحافواج کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔“
[صفحہ 19 پر بکس]
”مزید اضافہ نہیں!“
سن ۱۹۷۰ میں، گلئیڈ گریجوایشن کے موقع پر واچ ٹاور سوسائٹی کے نائب صدر، فریڈرک فرینز نے طالبعلموں کو جو سب زمینی اُمید رکھنے والی دوسری بھیڑوں کا حصہ تھے، اس امکان سے آگاہ کِیا کہ ممکن ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو بپتسمہ دیں جو شاید ممسوح بقیے میں سے ہونے کا دعویٰ کرے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ بالکل، اُس نے وضاحت کی کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا دوسری بھیڑوں میں سے تھا مگر اُس نے یسوع کو اور بعض رسولوں کو بپتسمہ دیا تھا۔ پھر اُس نے مزید استفسار کِیا کہ آیا بقیے کے مزید ارکان کو جمع کرنے کی بلاہٹ ابھی جاری ہے۔ ”نہیں، مزید اضافہ نہیں!“ اُس نے کہا۔ ”وہ بلاہٹ تو ۱۹۳۱-۱۹۳۵ میں ختم ہو گئی تھی! اس میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ توپھر وہ نئے شامل ہونے والے لوگ کون ہیں جو میموریل کی علامات میں سے تناول فرماتے ہیں؟ اگر وہ بقیے کا حصہ ہیں تو وہ اُن کی جگہ لیتے ہیں! وہ ممسوحوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہیں بلکہ گمراہ ہو جانے والوں کی جگہ لیتے ہیں۔“
[صفحہ 15 پر تصویر]
ہم اپنی خدمت کے خزانے کی کتنی قدر کرتے ہیں!
[صفحہ 16 پر تصویر]
قدیم اسرائیل ہلاکت کے لائق برتن بن گیا