”اپنے دلوں کو مضبوط رکھو“
”تمہیں صبر کرنا ضرور ہے تاکہ خدا کی مرضی پوری کر کے وعدہ کی ہوئی چیز حاصل کرو۔“—عبرانیوں ۱۰:۳۶۔
۱، ۲. (ا) پہلی صدی میں کئی ایک مسیحیوں کیساتھ کیا واقع ہوا؟ (ب) ایمان کا کمزور ہو جانا آسان کیوں ہے؟
تمام بائبل مصنّفین میں سے کسی نے بھی پولس رسول سے زیادہ مرتبہ ایمان کا ذکر نہیں کِیا۔ نیز اُس نے بارہا ایسے لوگوں کا ذکر کِیا جنکا ایمان کمزور یا مُردہ ہو گیا تھا۔ مثال کے طور پر، ہمنیُس اور سکندر کے ”ایمان کا جہاز غرق ہو گیا“ تھا۔ (۱-تیمتھیس ۱:۱۹، ۲۰) دیماس نے ”اس موجودہ جہان کو پسند“ کرنے کی وجہ سے پولس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ (۲-تیمتھیس ۴:۱۰) بعض اپنے غیرمسیحی، غیرذمہدارانہ کاموں کے باعث ”ایمان کے منکر“ ہو گئے تھے۔ دیگر جھوٹی حکمت کے دھوکے میں آ کر ”ایمان سے برگشتہ“ ہو گئے تھے۔—۱-تیمتھیس ۵:۸؛ ۶:۲۰، ۲۱۔
۲ وہ ممسوح مسیحی ان حلقوں میں ناکام کیوں ہو گئے تھے؟ اس لئےکہ ”ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱) ہم اندیکھی چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمیں دیکھی ہوئی چیزوں کیلئے اسکی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ نادیدہ روحانی خزانے کی نسبت مادی دولت کیلئے جدوجہد کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ (متی ۱۹:۲۱، ۲۲) بہتیری مادی اشیاء—جیسےکہ ”جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش“—ہمارے ناکامل جسم کو بہت زیادہ دلکش لگتی ہیں اور ہمارے ایمان کو کمزور کر سکتی ہیں۔—۱-یوحنا ۲:۱۶۔
۳. ایک مسیحی کو کس قسم کا ایمان پیدا کرنا چاہئے؟
۳ تاہم پولس بیان کرتا ہے، ”خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“ موسیٰ ایسا ہی ایمان رکھتا تھا۔ ”اُس کی نگاہ اجر پانے پر تھی“ اسلئے ”وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم رہا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۶، ۲۴، ۲۶، ۲۷) ایک مسیحی کو ایسے ہی ایمان کی ضرورت ہے۔ جیسے پچھلے مضمون میں بیان کِیا گیا، اس ضمن میں ابرہام ایک نہایت عمدہ نمونہ تھا۔
ابرہام کے ایمان کی مثال
۴. ابرہام کے ایمان کا اُسکی زندگی پر کیا اثر ہوا؟
۴ ابرہام اُور ہی میں تھا جب خدا نے اُس سے وعدہ کِیا کہ اُس سے پیدا ہونے والی نسل سب قوموں کیلئے باعثِبرکت ہوگی۔ (پیدایش ۱۲:۱-۳؛ اعمال ۷:۲، ۳) اس وعدے کی بِنا پر، ابرہام نے پہلے حاران اور پھر کنعان میں منتقل ہو کر یہوواہ کیلئے فرمانبرداری ظاہر کی۔ وہیں یہوواہ نے وہ ملک ابرہام کی نسل کو دینے کا وعدہ فرمایا۔ (پیدایش ۱۲:۷؛ نحمیاہ ۹:۷، ۸) تاہم، یہوواہ کے وعدے کا بیشتر حصہ ابرہام کی موت کے بعد پورا ہونا تھا۔ مثال کے طور پر، کنعان کا کوئی بھی حصہ ابرہام کی ذاتی ملکیت نہیں تھا ماسوائے مکفیلہ کے غار کے جو اُس نے قبر بنانے کیلئے خریدا تھا۔ (پیدایش ۲۳:۱-۲۰) اس کے باوجود، وہ یہوواہ پر ایمان رکھتا تھا۔ سب سے بڑھکر، ”وہ اُس پایدار شہر“ پر ایمان رکھتا تھا ”جسکا معمار اور بنانے والا خدا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱۰) ایسے ایمان نے اُسے زندگیبھر سنبھالے رکھا۔
۵، ۶. یہوواہ کے وعدے کے سلسلے میں ابرہام کے ایمان کی آزمائش کیسے ہوئی؟
۵ یہ بات بالخصوص اس وعدے کے سلسلے میں نمایاں نظر آتی ہے کہ ابرہام کی نسل ایک بڑی قوم بنے گی۔ اس کے لئے ابرہام کو ایک بیٹے کی ضرورت تھی اور ایک بیٹے کی برکت پانے کے لئے اُسے کافی مدت تک انتظار کرنا پڑا تھا۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ جب خدا نے پہلی مرتبہ اُس سے وعدہ کِیا تو اُسکی عمر کیا تھی مگر طویل مسافت کے بعد حاران پہنچنے تک یہوواہ نے اُسے کوئی اولاد نہیں بخشی تھی۔ (پیدایش ۱۱:۳۰) حاران میں کافی طویل قیام کے دوران ’مالواسباب جمع کر کے اور آدمیوں کو ساتھ لیکر‘ جب وہ کنعان گیا تو اُس کی عمر ۷۵ سال اور سارہ کی عمر ۶۵ سال تھی۔ ابھی تک اُن کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ (پیدایش ۱۲:۴، ۵) جب سارہ ۷۰ کے دہے کے وسط میں پہنچی تو اُس نے یہ سوچا کہ اب اس بڑھاپے میں وہ ابرہام کے لئے اولاد پیدا نہیں کر سکتی۔ لہٰذا، اُس وقت کے دستور کے مطابق اُس نے اپنی لونڈی ہاجرہ ابرہام کو دی اور اُس سے اُس کے لئے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ تاہم یہ وہ بچہ نہیں تھا جسکا وعدہ کِیا گیا تھا۔ بالآخر، ہاجرہ اور اُس کے بیٹے اسمٰعیل کو دُور بھیج دیا گیا تھا۔ اسکے باوجود جب ابرہام نے اُن کے لئے یہوواہ سے درخواست کی تو یہوواہ نے اسمٰعیل کو برکت دینے کا وعدہ کِیا۔—پیدایش ۱۶:۱-۴، ۱۰؛ ۱۷:۱۵، ۱۶، ۱۸-۲۰؛ ۲۱:۸-۲۱۔
۶ خدا کے مقررہ وقت پر—پہلی مرتبہ وعدہ سننے کے طویل عرصے بعد—۱۰۰سالہ ابرہام اور ۹۰سالہ سارہ کے ہاں لڑکا، اضحاق پیدا ہوا۔ یہ کتنی حیرانی کی بات تھی! اس عمررسیدہ جوڑے کیلئے اپنے ”مُردہ“ اجسام سے نئی زندگی کو جنم دینا قیامت کے مترادف تھا۔ (رومیوں ۴:۱۹-۲۱) اگرچہ بہت دیر تک انتظار کرنا پڑا مگر جب وعدہ پورا ہوا تو بالآخر یہ انتظار بااجر ثابت ہوا۔
۷. ایمان برداشت سے کیسے وابستہ ہے؟
۷ ابرہام کا نمونہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان محض قلیلالمدت نہیں ہونا چاہئے۔ پولس نے ایمان کو برداشت سے مربوط کرتے ہوئے لکھا: ”تمہیں صبر [”برداشت،“ اینڈبلیو] کرنا ضرور ہے تاکہ خدا کی مرضی پوری کر کے وعدہ کی ہوئی چیز حاصل کرو۔ . . . ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں بلکہ ایمان رکھنے والے ہیں کہ جان بچائیں۔“ (عبرانیوں ۱۰:۳۶-۳۹) بہتیرے بڑی دیر سے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ بعض نے تو ساری زندگی انتظار میں گزار دی ہے۔ اُنکے مضبوط ایمان نے اُنہیں سنبھالے رکھا ہے۔ لہٰذا، ابرہام کی طرح وہ بھی یہوواہ کے مقررہ وقت پر اجر حاصل کرینگے۔—حبقوق ۲:۳۔
خدا کی سننا
۸. آجکل ہم خدا کی کیسے سنتے ہیں اور یہ ہمارے ایمان کو کیوں مضبوط کریگا؟
۸ کمازکم چار چیزوں نے ابرہام کے ایمان کو تقویتبخشی اور یہی ہماری بھی مدد کر سکتی ہیں۔ اوّل، اُس نے یہوواہ کی بات پر دھیان دینے سے ’خدا کی موجودگی پر ایمان‘ کا مظاہرہ کِیا۔ یوں، وہ یرمیاہ کے زمانہ کے یہودیوں سے بالکل فرق تھا جو یہوواہ کو مانتے تھے مگر اُس کی باتوں پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ (یرمیاہ ۴۴:۱۵-۱۹) آجکل، یہوواہ اپنے الہامی کلام، بائبل کے ذریعے ہم سے گفتگو کرتا ہے جس کی بابت پطرس نے کہا کہ ”وہ ایک چراغ ہے جو اندھیری جگہ . . . تمہارے دلوں“ میں روشنی بخشتا ہے۔ (۲-پطرس ۱:۱۹) جب ہم بائبل کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہم ”ایمان . . . کی باتوں سے . . . پرورش“ پاتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۴:۶؛ رومیوں ۱۰:۱۷) مزیدبرآں، ان آخری ایّام میں، ”دیانتدار اور عقلمند نوکر . . . وقت پر“ روحانی ”کھانا“ یعنی بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے اور بائبل پیشینگوئیوں کو سمجھنے کیلئے ہدایت فراہم کر رہا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) ان ذرائع سے یہوواہ کی سننا مضبوط ایمان رکھنے کیلئے اشد ضروری ہے۔
۹. اگر ہم واقعی مسیحی اُمید پر ایمان رکھتے ہیں تو انجام کیا ہوگا؟
۹ ابرہام کے ایمان اور اُس کی اُمید کا آپس میں گہرا تعلق تھا۔ ”وہ . . . اُمید کے ساتھ ایمان لایا . . . کہ وہ بہت سی قوموں کا باپ ہو۔“ (رومیوں ۴:۱۸) یہ ایک دوسری چیز ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہوواہ ”اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“ پولس رسول نے کہا: ”ہم محنت اور جانفشانی اسی لئے کرتے ہیں کہ ہماری اُمید اس زندہ خدا پر لگی ہوئی ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۴:۱۰) اگر ہم واقعی مسیحی اُمید پر یقین رکھتے ہیں تو ابرہام کی طرح ہمارا تمام طرزِزندگی ہمارے ایمان کی عکاسی کریگا۔
خدا سے ہمکلام ہونا
۱۰. کس قسم کی دُعا ہمارے ایمان کو مضبوط کریگی؟
۱۰ ابرہام خدا سے ہمکلام ہوا اور یہ تیسری چیز تھی جس نے اُسکے ایمان کو تقویت بخشی۔ آجکل یسوع مسیح کے وسیلے دُعا کی بخشش سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم بھی یہوواہ سے ہمکلام ہو سکتے ہیں۔ (یوحنا ۱۴:۶؛ افسیوں ۶:۱۸) باقاعدہ دُعا کی ضرورت پر زور دینے والی تمثیل بیان کرنے کے بعد یسوع نے یہ سوال پوچھا: ”جب ابنِآؔدم آئیگا تو کیا زمین پر ایمان پائیگا؟“ (لوقا ۱۸:۸) ایمانافزا دُعا بِلاسوچےسمجھے یا غیرشعوری نہیں ہوتی۔ یہ نہایت پُرمعنی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اہم فیصلے کرنے یا شدید دباؤ کا سامنا کرنے کی صورت میں دلی دُعا نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔—لوقا ۶:۱۲، ۱۳؛ ۲۲:۴۱-۴۴۔
۱۱. (ا) خدا کے سامنے اپنا دل اُنڈیل دینے سے ابرہام کو کیسے تقویت ملی؟ (ب) ابرہام کے تجربے سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۱ جب ابرہام بہت عمررسیدہ ہو رہا تھا اور یہوواہ نے ابھی تک اُسے موعودہ نسل عطا نہیں کی تھی تو اُس نے خدا کے سامنے اپنی فکرمندی کا اظہار کِیا۔ یہوواہ نے اُسے یقین دلایا۔ نتیجہ؟ ابرہام ”خداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کِیا۔“ اسکے بعد یہوواہ نے اپنے تسلیبخش الفاظ کی تصدیق کیلئے ایک نشان فراہم کِیا۔ (پیدایش ۱۵:۱-۱۸) اگر ہم دُعا میں یہوواہ کے سامنے اپنے دل اُنڈیل دیتے ہیں، اُسکے کلام بائبل میں یہوواہ کی یقیندہانیوں کو قبول کرتے ہیں اور پورے ایمان کیساتھ اُسکی فرمانبرداری کرتے ہیں تو یہوواہ ہمارے ایمان کو بھی تقویت بخشے گا۔—متی ۲۱:۲۲؛ یہوداہ ۲۰، ۲۱۔
۱۲، ۱۳. (ا) ابرہام نے یہوواہ کی راہنمائی کی پیروی کرنے سے کیسے برکت پائی؟ (ب) کس قسم کے تجربات ہمارے ایمان کو مضبوط کرینگے؟
۱۲ ابرہام کے ایمان کو تقویت بخشنے والا چوتھی چیز خدائی راہنمائی کی پیروی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی یہوواہ کی مدد تھی۔ جب ابرہام لوط کو حملہآور بادشاہوں سے چھڑانے کیلئے گیا تو یہوواہ نے اُسے فتح بخشی۔ (پیدایش ۱۴:۱۶، ۲۰) اگرچہ ابرہام اُس ملک میں ایک پردیسی کی طرح رہا جسکا اُسکی نسل نے وارث بننا تھا توبھی یہوواہ نے اُسے مادی لحاظ سے خوب برکت بخشی۔ (مقابلہ کریں پیدایش ۱۴:۲۱-۲۳۔) اضحاق کیلئے ایک موزوں بیوی تلاش کرنے کے سلسلے میں یہوواہ نے اُسکے نوکر کی راہنمائی کی۔ (پیدایش ۲۴:۱۰-۲۷) جیہاں، یہوواہ نے ”سب باتوں میں اؔبرہام کو برکت بخشی تھی۔“ (پیدایش ۲۴:۱) چنانچہ اُسکا ایمان اتنا مضبوط اور یہوواہ خدا کیساتھ اُسکا رشتہ اتنا قریبی تھا کہ یہوواہ نے اُسے ”میرا دوست“ کہا۔—یسعیاہ ۴۱:۸؛ یعقوب ۲:۲۳۔
۱۳ کیا آجکل ہم ایسا مضبوط ایمان رکھ سکتے ہیں؟ جیہاں۔ اگر ہم ابرہام کی طرح اُسکے احکام کی اطاعت کرنے سے یہوواہ کو آزما کر دیکھیں تو وہ ہمیں بھی برکت دیگا جس سے ہمارا ایمان مضبوط ہوگا۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۸ کے خدمتی سال کی رپورٹ کا ایک سرسری سا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ بہتیروں نے خوشخبری کی منادی کے سلسلے میں اُسکے حکم پر عمل کرکے شاندار طریقے سے برکت حاصل کی۔—مرقس ۱۳:۱۰۔
آجکل ایمان کا ریکارڈ
۱۴. یہوواہ نے بادشاہتی خبر نمبر ۳۵ کو کیسے برکت سے نوازا؟
۱۴ اکتوبر ۱۹۹۷ میں، لاکھوں انفرادی گواہوں کے جوشوجذبے کی بدولت بادشاہتی خبر نمبر ۳۵ کی عالمگیر مہم کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ اسکی ایک نمایاں مثال گھانا ہے۔ چار زبانوں میں تقریباً ۵.۲ ملین کاپیاں تقسیم کی گئیں جس کے نتیجے میں تقریباً ۲۰۰۰ بائبل مطالعوں کی درخواست کی گئی۔ قبرص میں بادشاہتی خبر پیش کرتے ہوئے دو گواہوں نے ایک پادری کو اپنے پیچھے آتے دیکھا۔ تھوڑی دیر بعد اُنہوں نے اُسے بھی بادشاہتی خبر کی ایک کاپی پیش کی۔ وہ پہلے ہی اسکی کاپی حاصل کر چکا تھا لہٰذا اُس نے کہا: ”مَیں اسکے پیغام سے اسقدر متاثر ہوا ہوں کہ مَیں اسے شائع کرنے والے لوگوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا تھا۔“ ڈنمارک میں بھی عمدہ نتائج کیساتھ بادشاہتی خبر کی ۵.۱ ملین کاپیاں تقسیم کی گئیں۔ وہاں تعلقاتِعامہ میں کام کرنے والی ایک خاتون نے کہا: ”اس اشتہار کا پیغام سب کیلئے ہے۔ یہ آسان فہم اور زیادہ علم حاصل کرنے کی تحریک اور خواہش پیدا کرنے والا ہے۔ یہ واقعی تیر بہ ہدف ہے!“
۱۵. کن تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ نے ہر جگہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کو برکت سے نوازا تھا؟
۱۵ اس سال ۱۹۹۸ میں، نہ صرف گھروں پر بلکہ ہر جگہ لوگوں کو منادی کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ کوٹ ڈیآئیوری میں ایک مشنری جوڑے نے بندرگاہوں پر لنگرانداز ۳۲۲ جہازوں کا دَورہ کِیا۔ اُنہوں نے ۲۴۷ کتابیں، ۲،۲۸۴ رسالے، ۵۰۰ بروشر اور سینکڑوں اشتہار پیش کئے اور جہازرانوں کو ویڈیوز بھی دیں جنہیں وہ سمندری سفر کے دوران دیکھ سکتے تھے۔ کینیڈا میں ایک گواہ ایک موٹر ورکشاپ میں گیا۔ مالک نے دلچسپی ظاہر کی اور بھائی وہاں ساڑھے چار گھنٹے رہا جبکہ گاہکوں کے آنے جانے کی وجہ سے گواہی دینے میں صرف ایک گھنٹہ صرف کِیا گیا۔ انجامکار، رات دس بجے بائبل مطالعہ کرنے کا بندوبست کِیا گیا۔ تاہم، بعضاوقات تو مطالعہ آدھی رات کو شروع ہوتا اور صبح ۲ بجے تک چلتا رہتا۔ ایسا شیڈول اگرچہ چیلنجخیز تھا مگر اس سے عمدہ نتائج حاصل ہوئے۔ اُس آدمی نے اجلاسوں پر حاضر ہونے کی خاطر اتوار کے روز دُکان بند رکھنے کا فیصلہ کِیا۔ جلد ہی وہ اور اُسکا خاندان عمدہ ترقی کرنے لگا۔
۱۶. کونسے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ تقاضا بروشر اور علم کی کتاب منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام میں نہایت مؤثر آلات ہیں؟
۱۶ بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ اور کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے حسبِمعمول منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام میں نہایت مؤثر آلات ثابت ہوئے ہیں۔ اٹلی میں بس کے انتظار میں کھڑی ایک راہبہ نے بادشاہتی خبر کی کاپی قبول کی۔ اگلے ہی دن، اُس سے دوبارہ گفتگو کی گئی تو اُس نے تقاضا بروشر قبول کر لیا۔ اُسکے بعد، ہر روز وہ بس سٹاپ پر ۱۰ تا ۱۵ منٹ تک بائبل مطالعہ کرتی۔ ڈیڑھ ماہ بعد، اُس نے کانوینٹ چھوڑنے اور مطالعہ جاری رکھنے کیلئے اپنے گھر گوٹیمالہ جانے کا فیصلہ کِیا۔ ملاوی میں خلوصدلی سے چرچ جانے والی لوبینا نامی خاتون کی بیٹیوں نے جب یہوواہ کے گواہوں کیساتھ مطالعہ شروع کِیا تو وہ سخت ناراض ہوئی۔ تاہم جب بھی موقع ملتا وہ لڑکیاں اپنی ماں کو بائبل سچائی کی بابت بتاتیں۔ جون ۱۹۹۷ میں لوبینا نے علم کی کتاب دیکھی اور ”علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے“ کی عبارت سے بہت متاثر ہوئی۔ جولائی میں وہ بائبل مطالعے کیلئے راضی ہو گئی۔ اگست میں وہ ڈسٹرکٹ کنونشن پر حاضر ہوئی اور تمام پروگرام کو بڑی توجہ سے سنا۔ اُسی ماہ کے آخر تک، وہ اپنا چرچ چھوڑ کر غیربپتسمہیافتہ پبلشر بن چکی تھی۔ نومبر ۱۹۹۷ میں اُس نے بپتسمہ لے لیا۔
۱۷، ۱۸. سوسائٹی کی ویڈیوز لوگوں کی روحانی چیزوں کو ”دیکھنے“ میں مدد کرنے کیلئے کیسے کارآمد ثابت ہوئی ہیں؟
۱۷ سوسائٹی کی ویڈیوز نے روحانی چیزیں ”دیکھنے“ میں بہتیروں کی مدد کی ہے۔ ماریشس میں ایک آدمی نے تفرقے کی وجہ سے اپنے چرچ کو چھوڑ دیا۔ ایک مشنری نے اُسے یونائٹیڈ بائے ڈیوائن ٹیچنگ ویڈیو میں یہوواہ کے گواہوں کا اتحاد دکھایا۔ وہ آدمی اسقدر متاثر ہوا کہ اُس نے کہا: ”آپ یہوواہ کے گواہ تو ابھی سے فردوس میں رہ رہے ہیں!“ وہ بائبل مطالعہ کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ جاپان میں ایک بہن نے اپنے بےایمان شوہر کو ویڈیو جہیوواز وِٹنسز—آرگنائزیشن بیہائنڈ دی نیم دکھائی جس سے تحریک پاکر اُس نے باقاعدہ بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ یونائٹیڈ بائے ڈیوائن ٹیچنگ دیکھنے کے بعد وہ یہوواہ کا گواہ بننا چاہتا تھا۔ تین حصوں پر مشتمل دی بائبل—اے بُک آف فیکٹ اینڈ پرافیسی نے اپنی زندگی میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے میں اُسکی مدد کی۔ آخر میں، جیہوواز وِٹنسز سٹینڈ فرم اگینسٹ نازی اسالٹ نے اُس پر ظاہر کِیا کہ یہوواہ شیطان کے حملوں کے خلاف اپنے لوگوں کو استحکام بخشتا ہے۔ اس شخص نے اکتوبر ۱۹۹۷ میں بپتسمہ لے لیا۔
۱۸ یہ گزشتہ خدمتی سال کے دوران پیش آنے والے متعدد تجربات میں سے محض چند ایک ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ کے گواہ فعال ایمان رکھتے ہیں اور یہوواہ اُنکی کارگزاری کو برکت دینے سے اس ایمان کو تقویت بخش رہا ہے۔—یعقوب ۲:۱۷۔
آجکل ایمان بڑھانا
۱۹. (ا) ہم ابرہام سے بہتر حالت میں کیوں ہیں؟ (ب) یسوع کی قربانی کی موت کی یادگار منانے کیلئے گزشتہ سال کتنے لوگ جمع ہوئے تھے؟ (پ) گزشتہ سال کن ممالک میں میموریل کی حاضریاں غیرمعمولی تھیں؟ (صفحات ۲۶ تا ۳۱ پر چارٹ دیکھیں۔)
۱۹ آجکل ہم کئی طریقوں سے ابرہام کی نسبت بہتر حالت میں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ نے ابرہام سے کئے گئے اپنے تمام وعدوں کو پورا کِیا۔ ابرہام کی اولاد واقعی کنعان کی وارث بنی اور وہ واقعی ایک بڑی قوم بن گئی۔ (۱-سلاطین ۴:۲۰؛ عبرانیوں ۱۱:۱۲) مزیدبرآں، ابرہام کے حاران چھوڑنے کے کوئی ۱،۹۷۱ سال بعد اُس کے شجرۂنسب سے یسوع یوحنا بپتسمہ دینے والے سے پانی کا اور پھر خود یہوواہ سے روحالقدس کا بپتسمہ پاکر مسیحا یعنی مکمل، روحانی مفہوم میں ابرہام کی نسل بن گیا۔ (متی ۳:۱۶، ۱۷؛ گلتیوں ۳:۱۶) نیسان ۱۴، ۳۳ س.ع. کو یسوع نے اُن تمام لوگوں کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دی جو اُس پر ایمان کا مظاہرہ کرینگے۔ (متی ۲۰:۲۸؛ یوحنا ۳:۱۶) اب لاکھوں اُس کے وسیلے سے برکت حاصل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ سال، محبت کے اس شاندار عمل کی یاد میں ۱،۳۸،۹۶،۳۱۲ لوگ نیسان ۱۴ کو جمع ہوئے تھے۔ یہوواہ کی کیا ہی سربلندی جو وعدوں کو پورا کرنے میں عظیم ہے!
۲۰، ۲۱. پہلی صدی میں تمام قوموں نے ابرہام کی نسل کے وسیلے سے کیسے برکت پائی اور آجکل وہ کیسے برکت پا رہی ہیں؟
۲۰ پہلی صدی میں، جسمانی اسرائیل سے شروع کر کے تمام قوموں میں سے بہتیرے لوگ ابرہام کی اس نسل پر ایمان ظاہر کرنے سے خدا کے ممسوح فرزند، ”خدا کے“ نئے، روحانی ”اؔسرائیل“ کے ارکان بن گئے۔ (گلتیوں ۳:۲۶-۲۹؛ ۶:۱۶؛ اعمال ۳:۲۵، ۲۶) وہ خدا کی بادشاہت میں ساتھی حکمرانوں کے طور پر آسمان میں غیرفانی روحانی زندگی کی یقینی اُمید رکھتے تھے۔ صرف ۱،۴۴،۰۰۰ کو ایسی برکت حاصل ہوتی ہے جن میں سے تھوڑے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ (مکاشفہ ۵:۹، ۱۰؛ ۷:۴) گزشتہ سال، ۸،۷۵۶ نے میموریل کی تقریب کے دوران علامات میں سے تناول فرما کر اپنے اس تعداد میں شامل ہونے کے اعتقاد کا ثبوت پیش کِیا۔
۲۱ آجکل تقریباً تمام یہوواہ کے گواہ مکاشفہ ۷:۹-۱۷ میں بیانکردہ ”بڑی بِھیڑ“ کا حصہ ہیں۔ یسوع کے وسیلے برکت پانے کی وجہ سے وہ بھی فردوسی زمین پر ابدی زندگی کی اُمید رکھتے ہیں۔ (مکاشفہ ۲۱:۳-۵) منادی کے کام میں ۱۹۹۸ میں ۵۸،۸۸،۶۵۰ حصہ لینے والے لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ بِھیڑ واقعی بہت ”بڑی“ ہے۔ روس اور یوکرائن دونوں کو پہلی مرتبہ ۱،۰۰،۰۰۰ سے زائد پبلشروں کی رپورٹ دیتے ہوئے دیکھنا بالخصوص ہیجانخیز تھا۔ ریاستہائےمتحدہ کی رپورٹ بھی غیرمعمولی تھی—اگست میں ۱۰،۴۰،۲۸۳ پبلشر! گزشتہ سال ۱،۰۰،۰۰۰ سے زائد پبلشروں کی رپورٹ دینے والے ۱۹ ممالک میں سے یہ محض تین تھے۔
اُمید جلد بَر آئیگی
۲۲، ۲۳. (ا) آجکل ہمیں اپنے دل مضبوط کیوں رکھنے چاہئیں؟ (ب) پولس کے بیان کے مطابق ہم بےایمان لوگوں کی بجائے ابرہام کی طرح کیسے ثابت ہو سکتے ہیں؟
۲۲ میموریل پر حاضر ہونے والوں کو یاددہانی کرائی گئی کہ ہم یہوواہ کے وعدوں کی تکمیل کے کتنے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ۱۹۱۴ میں یسوع کو خدا کی آسمانی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر تختنشین کر دیا گیا تھا جسکے ساتھ ہی بادشاہتی اختیار میں اُسکی موجودگی کا آغاز ہو گیا۔ (متی ۲۴:۳؛ مکاشفہ ۱۱:۱۵) جیہاں، ابرہام کی نسل اب آسمان میں حکومت کرتی ہے! یعقوب نے اپنے زمانے کے مسیحیوں سے کہا: ”صبر کرو اور اپنے دلوں کو مضبوط رکھو کیونکہ خداوند کی آمد [”موجودگی،“ اینڈبلیو] قریب ہے۔“ (یعقوب ۵:۸) لہٰذا، اب وہ موجودگی حقیقت بن چکی ہے! اپنے دلوں کو مضبوط رکھنے کی کیا ہی معقول وجہ!
۲۳ خدا کرے کہ باقاعدہ بائبل مطالعے اور پُرمعنی دُعا سے خدا کے وعدوں پر ہمارا ایمان ہرلمحہ تازگی پاتا رہے۔ دُعا ہے کہ ہم ہمیشہ یہوواہ کے کلام پر عمل کرنے سے اُسکی برکات کا تجربہ کرتے رہیں۔ اس صورت میں ہم پولس رسول کے بیان کے مطابق ابرہام کی مانند ہونگے نہ کہ اُن لوگوں کی مانند جنکا ایمان کمزور اور مُردہ ہو چکا ہے۔ کوئی بھی چیز ہمیں اپنے پاکترین ایمان سے جُدا نہیں کریگی۔ (یہوداہ ۲۰) ہماری دُعا ہے کہ یہ بات ۱۹۹۹ کے خدمتی سال کے دوران اور ہمیشہ ہمیشہ تک یہوواہ کے تمام خادموں کے حق میں سچ ثابت ہو۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
◻آجکل ہم خدا کی بات کیسے سن سکتے ہیں؟
◻خدا کے حضور پُرمعنی دُعاؤں سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟
◻اگر ہم فرمانبرداری کیساتھ یہوواہ کی راہنمائی کی پابندی کرتے ہیں تو ہمارا ایمان کیسے مضبوط ہوگا؟
◻سالانہ رپورٹ (صفحات ۲۶ تا ۳۱) کے کونسے پہلو آپ کے لئے خاص طور پر دلچسپی کے حامل تھے؟
[صفحہ 26 31 پر چارٹ
1998 Service Year Report of Jehovah’s Witnesses Worldwide
(چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
[صفحہ 24 پر تصویر]
خدمتگزاری میں حصہ لینے سے ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے