کیا آپ ابرہام جیسا ایمان رکھتے ہیں؟
”جب ابنِآؔدم آئیگا تو کیا زمین پر ایمان پائیگا؟“—لوقا ۱۸:۸۔
۱. آجکل اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا مشکل کیوں ہے؟
آجکل اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا آسان نہیں ہے۔ دُنیا روحانی چیزوں سے مسیحیوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اُن پر بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔ (لوقا ۲۱:۳۴؛ ۱-یوحنا ۲:۱۵، ۱۶) بہتیروں کو جنگوجدل، آفات، بیماریوں یا فاقہکشی سے بچنے کے لئے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ (لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱) کئی اقوام اسقدر دُنیاوی سوچ رکھتی ہیں کہ اپنے ایمان کے مطابق زندگی بسر کرنے والے اشخاص کو نامعقول، حتیٰکہ جنونی خیال کِیا جاتا ہے۔ علاوہازیں، بہتیرے مسیحیوں کو اُنکے ایمان کی خاطر اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ (متی ۲۴:۹) تقریباً ۲۰۰۰ سال قبل یسوع نے جو سوال پوچھا وہ واقعی موزوں ہے: ”جب ابنِآؔدم آئیگا تو کیا زمین پر ایمان پائیگا؟“—لوقا ۱۸:۸۔
۲. (ا) ایک مسیحی کے لئے مضبوط ایمان نہایت اہم کیوں ہے؟ (ب) ایمان کے سلسلے میں کس کے نمونے پر غوروخوض کرنا ہمارے لئے اچھا ہوگا؟
۲ تاہم، حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم اب کامیاب زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں موعودہ ابدی زندگی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں تو مضبوط ایمان نہایت ضروری ہے۔ حبقوق کی معرفت یہوواہ کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے پولس رسول نے لکھا: ”میرا راستباز بندہ ایمان سے جیتا رہیگا اور اگر وہ ہٹے گا تو میرا دل اُس سے خوش نہ ہوگا۔ . . . بغیر ایمان کے [خدا] کو پسند آنا ناممکن ہے۔“ (عبرانیوں ۱۰:۳۸–۱۱:۶؛ حبقوق ۲:۴) پولس نے تیمتھیس سے کہا: ”ایمان کی اچھی کشتی لڑ۔ اُس ہمیشہ کی زندگی پر قبضہ کر لے جسکے لئے تُو بلایا گیا تھا۔“ (۱-تیمتھیس ۶:۱۲) پس، ایسا غیرمتزلزل ایمان رکھنا کیسے ممکن ہے؟ اس سوال پر سوچبچار کرتے ہوئے ایک ایسے شخص پر غور کرنا نہایت مفید ثابت ہوگا جو ۴۰۰۰ سال قبل رہتا تھا مگر اُس کے ایمان کی آج بھی تین بڑے مذاہب—اسلام، یہودیت اور مسیحیت—میں بڑی قدر کی جاتی ہے۔ وہ شخص ابرہام ہے۔ اُسکا ایمان اتنا غیرمعمولی کیوں تھا؟ کیا آجکل ہم اُسکی نقل کر سکتے ہیں؟
خدائی راہنمائی کی اطاعت
۳، ۴. تارح اپنے خاندان کو اُور سے حاران کیوں لے گیا؟
۳ ابرہام (جو پہلے ابرام کہلاتا تھا) کا پہلی مرتبہ ذکر بائبل کے بہت شروع میں ملتا ہے۔ پیدایش ۱۱:۲۶ میں ہم پڑھتے ہیں: ”تاؔرح . . . سے اؔبرام اور نحوؔر اور حاؔران پیدا ہوئے۔“ تارح اور اُسکا خاندان کسدیوں کے اُور، جنوبی مسوپتامیہ کے نہایت خوشحال شہر میں رہتا تھا۔ تاہم، اُنہوں نے وہاں قیام نہ کِیا۔ ”تاؔرح نے اپنے بیٹے اؔبرام کو اور اپنے پوتے لوؔط کو جو حاؔران کا بیٹا تھا اور اپنی بہو ساؔری [سارہ] کو جو اُسکے بیٹے اؔبرام کی بیوی تھی ساتھ لیا اور وہ سب کسدیوں کے اُؔور سے روانہ ہوئے کہ کنعان کے ملک میں جائیں اور وہ حاؔران تک آئے اور وہیں رہنے لگے۔“ (پیدایش ۱۱:۳۱) ابرہام کا بھائی نحور بھی اپنے خاندان کو لیکر حاران میں آ گیا۔ (پیدایش ۲۴:۱۰، ۱۵؛ ۲۸:۱، ۲؛ ۲۹:۴) تاہم، تارح خوشحال اُور کو چھوڑ کر اتنی دُور حاران میں کیوں جا بسا؟
۴ ابرہام کے زمانے سے کوئی ۲۰۰۰ سال بعد، ایماندار شخص ستفنس نے یہودی صدرعدالت کے سامنے تارح کے خاندان کی اس غیرمعمولی نقلمکانی کی وضاحت کی۔ اُس نے کہا: ”خدایِذوالجلال ہمارے باپ اؔبرہام پر اُس وقت ظاہر ہوا جب وہ حاؔران میں بسنے سے پیشتر مسوؔپتامیہ میں تھا۔ اور اُس سے کہا کہ اپنے ملک اور اپنے کُنبے سے نکلکر اُس ملک میں چلا جا جسے مَیں تجھے دکھاؤنگا۔ اس پر وہ کسدیوں کے ملک سے نکل کر حاؔران میں جا بسا۔“ (اعمال ۷:۲-۴) تارح نے اپنے اہلوعیال کو حاران منتقل کر کے ابرہام کیلئے یہوواہ کی مرضی کو پورا کِیا۔
۵. اپنے باپ کی وفات کے بعد ابرہام کہاں چلا گیا؟ کیوں؟
۵ تارح کا خاندان اپنے نئے شہر میں آباد ہو گیا۔ برسوں بعد جب ابرہام نے ”میرے وطن“ کا ذکر کِیا تو اسکا مطلب اُور نہیں بلکہ حاران کا علاقہ تھا۔ (پیدایش ۲۴:۴) تاہم، حاران ابرہام کی مستقل قیامگاہ نہیں ہونا تھا۔ ستفنس کے مطابق، ”[ابرہام کے] باپ کے مرنے کے بعد خدا نے اُسکو اس ملک میں لا کر بسا دیا جس میں تم اب بستے ہو۔“ (اعمال ۷:۴) خدائی راہنمائی کی اطاعت میں ابرہام، لوط کے ہمراہ، دریائےفرات کو پار کرکے ملکِکنعان میں آ گیا۔a
۶. یہوواہ نے ابرہام سے کیا وعدہ کِیا؟
۶ یہوواہ ابرہام کو کنعان میں کیوں لایا؟ اسکا تعلق اُس ایماندار شخص کیلئے خدا کے مقاصد سے ہے۔ یہوواہ ابرہام سے کہہ چکا تھا: ”تُو اپنے وطن اور اپنے ناتےداروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نکل کر اُس ملک میں جا جو مَیں تجھے دکھاؤنگا۔ اور مَیں تجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تُو باعثِبرکت ہو! جو تجھے مبارک کہیں اُنکو مَیں برکت دونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر مَیں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔“ (پیدایش ۱۲:۱-۳) ابرہام ایک ایسی بڑی قوم کا باپ ہوگا جو یہوواہ کے تحفظ سے مستفید ہوگی اور ملکِکنعان میں آباد ہوگی۔ کیا ہی شاندار وعدہ! مگر اُس ملک کو حاصل کرنے کیلئے ابرہام کو اپنی زندگی میں بہت بڑی تبدیلیاں کرنی پڑیں۔
۷. یہوواہ کے وعدے کا وارث بننے کیلئے ابرہام کو کونسی تبدیلیاں کرنے کیلئے تیار رہنا تھا؟
۷ جب ابرہام نے اُور کو چھوڑا تو اسکا مطلب یہ تھا کہ اُس نے نہ صرف ایک خوشحال شہر کو بلکہ اپنے باپ کے وسیع خاندان کو بھی چھوڑ دیا تھا جو اُس سرقبائلی دور میں تحفظ کے بنیادی ذرائع تھے۔ جب اُس نے حاران کو چھوڑا تو وہ اپنے بھائی نحور کے خاندان سمیت اپنے باپ کے کُنبے سے علیٰحدہ ہو کر ایک نامعلوم ملک میں جا بسا۔ کنعان میں بھی اُس نے کسی فصیلدار شہر میں تحفظ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ کیوں نہیں؟ ملک میں داخل ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد یہوواہ نے ابرہام سے کہا: ”اُٹھ اور اس ملک کے طولوعرض میں سیر کر کیونکہ مَیں اِسے تجھ کو دونگا۔“ (پیدایش ۱۳:۱۷) ۷۵سالہ ابرہام اور اُسکی ۶۵سالہ بیوی، سارہ نے ان ہدایات پر عمل کِیا۔ ”ایمان ہی سے اُس نے ملکِموعود میں اس طرح مسافرانہ طور پر بودوباش کی کہ گویا غیر ملک ہے اور . . . خیموں میں سکونت کی۔“—عبرانیوں ۱۱:۹؛ پیدایش ۱۲:۴۔
آجکل ابرہام جیسا ایمان
۸. ابرہام اور دیگر قدیمی گواہوں کے نمونے کے پیشِنظر ہمیں کیا چیز پیدا کرنی چاہئے؟
۸ ابرہام اور اُس کے خاندان کا نام عبرانیوں ۱۱ باب میں مذکورہ ”[زمانۂمسیحیت سے قبل کے] گواہوں“ کے بڑے ”بادل“ میں آتا ہے۔ خدا کے ان ابتدائی خادموں کے ایمان کے پیشِنظر، پولس ”ہر ایک بوجھ اور اُس گناہ [ایمان کی کمی] کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے دور“ کرنے کے لئے مسیحیوں کی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ (عبرانیوں ۱۲:۱) جیہاں، ایمان کی کمی ’ہمیں آسانی سے اُلجھا‘ سکتی ہے۔ تاہم پولس اور ہمارے زمانہ کے سچے مسیحی بالکل ابرہام اور دیگر قدیمی خادموں جیسا مضبوط ایمان پیدا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ اپنا اور ساتھی مسیحیوں کا ذکر کرتے ہوئے، پولس کہتا ہے: ”ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں بلکہ ایمان رکھنے والے ہیں کہ جان بچائیں۔“—عبرانیوں ۱۰:۳۹۔
۹، ۱۰. اس بات کی کیا شہادت موجود ہے کہ آجکل بہتیرے ابرہام جیسا ایمان رکھتے ہیں؟
۹ سچ ہے کہ ابرہام کے زمانے کی نسبت دُنیا بہت بدل چکی ہے۔ مگر ہم ابھی تک ”اؔبرہام“ کے اُسی ”خدا“ کی خدمت کرتے ہیں جو لاتبدیل ہے۔ (اعمال ۳:۱۳؛ ملاکی ۳:۶) یہوواہ ابرہام کے زمانہ کی طرح آج بھی ویسی ہی پرستش کا مستحق ہے۔ (مکاشفہ ۴:۱۱) بہتیرے لوگ خود کو مکمل طور پر یہوواہ کیلئے مخصوص کر دیتے ہیں اور خدا کی مرضی بجا لانے کیلئے ابرہام کی طرح اپنی زندگیوں میں ضروری تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔ گزشتہ سال، ۳،۱۶،۰۹۲ لوگوں نے ”باپ اور بیٹے اور روحاُلقدس کے نام“ سے پانی میں بپتسمہ لیکر اپنی مخصوصیت کا علانیہ اظہار کِیا۔—متی ۲۸:۱۹۔
۱۰ ان نئے مسیحیوں میں سے بیشتر کو اپنی مخصوصیت کو پورا کرنے کی خاطر کسی دُوراُفتادہ غیر ملک کا سفر نہیں کرنا پڑا۔ تاہم، روحانی مفہوم میں، ان میں سے بہتیروں کو طویل سفر کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر، ماریشس کی ایلسی ایک ساحرہ تھی۔ ہر کوئی اُس سے ڈرتا تھا۔ ایک سپیشل پائنیر نے ایلسی کی بیٹی کیساتھ بائبل مطالعے کا بندوبست کِیا جس سے ایلسی کیلئے ’تاریکی سے نکل کر روشنی میں آنے‘ کی راہ کھل گئی۔ (اعمال ۲۶:۱۸) اپنی بیٹی کی دلچسپی کے پیشِنظر، ایلسی مائے بُک آف بائبل سٹوریز کا مطالعہ کرنے پر راضی ہو گئی۔ اُس کیساتھ ہفتے میں تین مرتبہ مطالعہ کِیا جاتا تھا کیونکہ اُسے مستقل حوصلہافزائی کی ضرورت تھی۔ اُسے اپنے پُراسرار کاموں سے کوئی خوشی حاصل نہ ہوئی بلکہ وہ بہت سے ذاتی مسائل میں اُلجھی ہوئی تھی۔ بالآخر، اُس نے شیاطینپرستی سے سچی پرستش تک کا طویل سفر طے کر لیا۔ جب لوگ اُسکی خدمات حاصل کرنے کیلئے آتے تو وہ اُنہیں بتاتی کہ صرف یہوواہ اُنہیں مصیبت سے بچا سکتا ہے۔ ایلسی اب ایک بپتسمہیافتہ گواہ ہے اور اُسکے خاندان اور واقفکاروں میں سے ۱۴ افراد نے سچائی قبول کر لی ہے۔
۱۱. خود کو یہوواہ کیلئے مخصوص کرنے والے لوگ کیا تبدیلیاں لانے کیلئے تیار ہیں؟
۱۱ گزشتہ سال خود کو خدا کی خدمت کیلئے مخصوص کرنے والے لوگوں کی اکثریت کو ایسی بڑی تبدیلیاں پیدا نہیں کرنی پڑی تھیں۔ تاہم سب روحانی موت سے روحانی زندگی میں داخل ہو گئے۔ (افسیوں ۲:۱) اگرچہ جسمانی لحاظ سے وہ ابھی تک دُنیا میں ہیں مگر اب وہ اسکا حصہ نہیں ہیں۔ (یوحنا ۱۷:۱۵، ۱۶) ممسوح مسیحیوں کی طرح جنکا ”وطن آسمان پر“ ہے، وہ بھی ”پردیسی اور مسافر“ ہیں۔ (فلپیوں ۳:۲۰؛ ۱-پطرس ۲:۱۱) اُنہوں نے سب سے بڑھکر خدا کی محبت اور پڑوسی کی محبت سے تحریک پا کر اپنی زندگیوں کو خدا کے معیاروں کے مطابق ڈھال لیا۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) وہ خودغرضانہ، مادہپرستانہ نصبالعین کی جستجو نہیں کرتے نہ ہی اس دُنیا میں ذاتی تسکین کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اسکی بجائے، وہ اپنی نظریں موعودہ ’نئے آسمان اور نئی زمین‘ پر لگائے ہوئے ہیں ’جن میں راستبازی کا بسیرا ہوگا۔‘—۲-پطرس ۳:۱۳؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۱۸۔
۱۲. گزشتہ سال کی کونسی کارگزاری اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ یسوع نے اپنی موجودگی کے دوران ”زمین پر ایمان“ پایا ہے؟
۱۲ جب ابرہام کنعان منتقل ہوا تو وہ اور اُسکا خاندان وہاں بالکل اکیلا تھا صرف یہوواہ ہی اُنکا محافظ اور کفیل تھا۔ تاہم، یہ ۳،۱۶،۰۹۲ نئے بپتسمہیافتہ مسیحی بالکل تنہا نہیں ہیں۔ سچ ہے کہ یہوواہ ابرہام کی طرح انکی بھی اپنی روح کے ذریعے مدد اور حفاظت کرتا ہے۔ (امثال ۱۸:۱۰) علاوہازیں، وہ ایک ایسی پُرجوش، بینالاقوامی ”قوم“ کے ذریعے اُن کی مدد کرتا ہے جس کی آبادی آجکل کی بعض دُنیاوی اقوام سے کہیں زیادہ ہے۔ (یسعیاہ ۶۶:۸) گزشتہ سال، اس قوم کے ۵۸،۸۸،۶۵۰ شہریوں کی انتہائی تعداد نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خدا کے وعدوں کی بابت گفتگو کرنے سے اپنے فعال ایمان کا ثبوت پیش کِیا۔ (مرقس ۱۳:۱۰) اُنہوں نے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو تلاش کرنے کی خواہش کے ساتھ اس کام میں ۱،۱۸،۶۶،۶۶،۷۰۸ گھنٹوں کی غیرمعمولی تعداد صرف کی۔ نتیجتاً، اپنے ایمان کو بڑھانے کے خواہشمند دیگر لوگوں کیساتھ ۴۳،۰۲،۸۵۲ بائبل مطالعے کئے گئے۔ اپنے جوشوجذبے کے مزید اظہار میں، اس ”قوم“ کے ۶،۹۸،۷۸۱ لوگوں نے کُلوقتی یا ایک ماہ یا پھر اس سے زیادہ عرصے کیلئے پائنیر خدمت میں حصہ لیا۔ (گزشتہ سال یہوواہ کے گواہوں کی کارگزاری کی تفصیلات ۲۶ تا ۳۱ صفحات پر ملاحظہ فرمائیں) یہ شاندار ریکارڈ یسوع کے اس سوال کا مثبت اور جیتاجاگتا جواب ہے کہ ”جب ابنِآؔدم آئیگا تو کیا زمین پر ایمان پائیگا؟“
آزمائشوں کے باوجود وفادار
۱۳، ۱۴. ابرہام اور اُسکے خاندان کو کنعان میں پیش آنے والی بعض مشکلات بیان کریں۔
۱۳ ابرہام اور اُسکے خاندان کو کنعان میں اکثر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک مرتبہ تو ایسا سخت کال پڑا کہ اُسے کنعان چھوڑ کر مصر جانا پڑا۔ مزیدبرآں، مصر کے حاکم اور جرار (غزہ کے قریب) کے حاکم دونوں نے ہی ابرہام کی بیوی، سارہ کو لینے کی کوشش کی۔ (پیدایش ۱۲:۱۰-۲۰؛ ۲۰:۱-۱۸) اسکے علاوہ ابرہام کے گلّے کے چرواہوں اور لوط کے گلّے کے چرواہوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوئے جس سے دونوں گھرانے علیٰحدہ ہو گئے۔ ابرہام نے بڑی بےغرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوط کو اپنے لئے پہلے علاقہ چننے کا موقع دیا اور لوط نے یردن کی سرزمین کا انتخاب کِیا جو زرخیزی اور خوبصورتی کے اعتبار سے عدن جیسی تھی۔—پیدایش ۱۳:۵-۱۳۔
۱۴ بعدازاں، لوط سدیم کی وادی میں دُوراُفتادہ عیلام کے بادشاہ اور اُسکے اتحادیوں اور پانچ شہروں کے بادشاہوں کے مابین جنگ میں گِھر گیا۔ غیرملکی بادشاہوں نے مقامی بادشاہوں کو شکست دی اور لوط اور اُسکے مالواسباب سمیت بہت کچھ لُوٹ کر لے گئے۔ جب ابرہام کو اس واقعہ کی خبر ملی تو اُس نے دلیری کیساتھ غیرملکی بادشاہوں کا تعاقب کِیا اور لوط اور اُسکے گھرانے کیساتھ ساتھ مقامی بادشاہوں کے مالواسباب کو بھی چھڑا لیا۔ (پیدایش ۱۴:۱-۱۶) تاہم، کنعان میں لوط کا یہی بدترین تجربہ نہیں تھا۔ سدوم کی بداخلاقی کی شہرت سے آگاہ ہونے کے باوجود کسی وجہ سے اُس نے اسی شہر میں سکونت اختیار کی۔b (۲-پطرس ۲:۶-۸) دو فرشتوں سے اُس شہر کی تباہی کی بابت آگاہی پا کر لوط اپنی بیوی اور بیٹیوں سمیت وہاں سے بھاگ گیا۔ تاہم، لوط کی بیوی نے فرشتوں کی خصوصی ہدایات کو نظرانداز کِیا اور نتیجتاً نمک کا ستون بن گئی۔ لوط کو کچھ وقت کیلئے اپنی دو بیٹیوں کیساتھ ضغر میں ایک غار کے اندر رہنا پڑا۔ (پیدایش ۱۹:۱-۳۰) لوط ابرہام کے خاندان کا حصہ بن کر کنعان میں آیا تھا اسلئے ان واقعات نے ابرہام کو بہت پریشان کِیا ہوگا۔
۱۵. ابرہام نے غیر ملک میں خیموں کے اندر رہنے کی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود بظاہر کس منفی سوچ سے گریز کِیا؟
۱۵ کیا ابرہام نے کبھی یہ سوچا کہ اُسے اور لوط کو اپنے باپ کے وسیع خاندان کیساتھ اُور کے محفوظ شہر میں یا اپنے بھائی نحور کیساتھ حاران میں ہی رہنا چاہئے تھا؟ کیا اُس نے کبھی یہ خواہش کی کہ وہ خیموں میں رہنے کی بجائے کسی محفوظ فصیلدار شہر میں قیام کر سکتا تھا؟ کیا اُس نے کبھی غیر ملک میں خانہبدوشی کی زندگی بسر کرنے کیلئے قربانیاں دینے کی حکمتِعملی پر اعتراض کِیا؟ ابرہام اور اُسکے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے پولس رسول نے لکھا: ”جس ملک سے وہ نکل آئے تھے اگر اُس کا خیال کرتے تو انہیں واپس جانے کا موقع تھا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱۵) مگر وہ واپس نہ گئے۔ مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے، وہ وہیں رہے جہاں یہوواہ اُنہیں رکھنا چاہتا تھا۔
آجکل برداشت
۱۶، ۱۷. (ا) آجکل بہتیرے مسیحیوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟ (ب) مسیحی کونسا مثبت رجحان رکھتے ہیں؟ کیوں؟
۱۶ آجکل مسیحیوں میں بھی ایسی ہی برداشت دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ خدا کی خدمت کرنا اُن کیلئے بڑی خوشی کا باعث ہے توبھی ان آخری ایّام میں سچے مسیحیوں کیلئے زندگی آسان نہیں ہے۔ اگرچہ وہ روحانی فردوس میں رہتے ہیں توبھی وہ اپنے ہمسایوں کی طرح معاشی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ (یسعیاہ ۱۱:۶-۹) ان میں سے بہتیرے بیگناہ لوگ قوموں کی جنگوں کا لقمہ بن گئے ہیں اور بعض کسی ذاتی قصور کے بغیر ہی انتہائی غربت کا شکار ہو گئے ہیں۔ علاوہازیں، وہ ایک نامقبول اقلیت ہونے کے مسائل کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ کئی ممالک میں وہ بہت زیادہ بےحسی کا سامنا کرنے کے باوجود خوشخبری کی منادی کرتے ہیں۔ دیگر ممالک میں وہ ’قانون کی آڑ میں مصیبت برپا‘ کرنے اور ”بےگناہ پر قتل کا فتویٰ“ دینے والوں کی طرف سے مغالطہآمیز حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ (زبور ۹۴:۲۰، ۲۱) ایسے ممالک میں بھی جہاں مسیحی کسی حملے کی زد میں نہیں ہیں بلکہ اُن کے اعلیٰ معیاروں کی وجہ سے اُنکی تعریف کی جاتی ہے، وہ بالکل اُسی طرح اپنے ہممکتبوں اور ہمپیشہ لوگوں سے فرق دکھائی دینے کی ضرورت سے باخبر ہیں جیسے ابرہام خیموں میں سکونت کرتا تھا جبکہ اُس کے آسپاس کے لوگ شہروں میں بستے تھے۔ جیہاں، دُنیا میں رہتے ہوئے اسکا ”حصہ نہ“ ہونا آسان نہیں ہے۔—یوحنا ۱۷:۱۴، اینڈبلیو۔
۱۷ پس، کیا ہم خدا کیلئے اپنی مخصوصیت پر پشیمان ہیں؟ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی دیگر تمام لوگوں کی طرح دُنیا کا حصہ ہی رہنا چاہئے تھا؟ کیا ہم اُن قربانیوں پر افسوس کرتے ہیں جو ہم نے یہوواہ کی خدمت میں پیش کی ہیں؟ ہرگز نہیں! ماضی پر حسرت بھری نگاہ ڈالنے کی بجائے، ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خواہ ہم نے کوئی بھی چیز قربان کیوں نہ کی ہو اُسکی اُن برکات کے سامنے کوئی وقعت نہیں جن سے ہم اب اور مستقبل قریب میں لطفاندوز ہونگے۔ (لوقا ۹:۶۲؛ فلپیوں ۳:۸) علاوہازیں، کیا دُنیا کے لوگ خوش ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ اُن میں سے اکثر ایسے جوابات کی تلاش میں ہیں جو ہمارے پاس پہلے ہی سے موجود ہیں۔ بائبل کے ذریعے خدا کی جس راہنمائی کی ہم پابندی کرتے ہیں وہ اُس کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے نقصان اُٹھاتے ہیں۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۵) نیز اُن میں بیشتر ایسی مسیحی رفاقت اور مسرتبخش دوستی کے آرزومند ہیں جسکا ہم اپنے ساتھی ایمانداروں کے درمیان تجربہ کرتے ہیں۔—زبور ۱۳۳:۱؛ کلسیوں ۳:۱۴۔
۱۸. جب مسیحی ابرہام جیسی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
۱۸ سچ ہے کہ بعضاوقات ہمیں بھی بالکل اُسی طرح دلیری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے جیسے ابرہام نے لوط کو قیدی بنانے والوں کا تعاقب کرتے وقت کِیا تھا۔ تاہم جب ہم ایسا کرتے ہیں تو یہوواہ انجام کو برکت سے نوازتا ہے۔ مثال کے طور پر، شمالی آئرلینڈ میں فرقہپرستی کی بِنا پر تشدد کے نتیجے میں نفرتیں اسقدر جڑ پکڑ چکی ہیں کہ غیرجانبدار رہنا بڑی دلیری کا تقاضا کرتا ہے۔ تاہم، وفادار مسیحیوں نے یشوع کیلئے یہوواہ کے ان الفاظ پر عمل کِیا ہے: ”مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ۔ خوف نہ کھا اور بیدل نہ ہو کیونکہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] تیرا خدا جہاں جہاں تُو جائے تیرے ساتھ رہیگا۔“ (یشوع ۱:۹؛ زبور ۲۷:۱۴) برسوں کے دوران اُنکا دلیرانہ موقف اُنکے لئے باعثِتوقیر ثابت ہوا ہے اور آجکل وہ اسی ملک کے تمام علاقوں میں آزادی کیساتھ منادی کر سکتے ہیں۔
۱۹. مسیحی کس میں شامل ہو کر خوش ہیں اور یہوواہ کی راہنمائی پر عمل کرنے کی صورت میں وہ اعتماد کیساتھ کس انجام کی توقع کرتے ہیں؟
۱۹ ہمیں کبھی بھی اس بات پر شک نہیں کرنا چاہئے کہ خواہ ہمیں کیسی بھی صورتحال کا سامنا ہو، اگر ہم یہوواہ کی راہنمائی پر عمل کرینگے تو انجامکار اُسے جلال اور ہمیں دائمی فائدہ حاصل ہوگا۔ آزمائشوں اور قربانیوں کے باوجود، یہوواہ کی خدمت میں شامل ہونے سے بڑھکر اَور کوئی چیز نہیں ہے جس میں ہم اپنے مسیحی بھائیوں کی رفاقت سے لطفاندوز ہوتے اور اعتماد کیساتھ اُس ابدی مستقبل کے منتظر ہیں جسکا خدا نے وعدہ فرمایا ہے۔
[فٹنوٹ]
a غالباً اپنے بھائی لوط کے باپ کی وفات پر ابرہام نے اپنے بھتیجے لوط کو اپنی فرزندی میں لے لیا تھا۔—پیدایش ۱۱:۲۷، ۲۸؛ ۱۲:۵۔
b بعض کا خیال ہے کہ چار بادشاہوں کی حراست میں رہنے کے بعد لوط نے زیادہ تحفظ حاصل کرنے کیلئے اس شہر میں سکونت اختیار کی تھی۔
کیا آپکو یاد ہے؟
◻مضبوط ایمان کیوں لازمی ہے؟
◻ابرہام نے اپنے مضبوط ایمان کا ثبوت کیسے پیش کِیا؟
◻مخصوصیت کیساتھ کیسے ایک شخص کی زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟
◻ہم تمام مسائل کے باوجود خدا کی خدمت کرنے سے خوش کیوں ہیں؟
[صفحہ 18 پر تصویریں]
ابرہام وعدے کا وارث بننے کیلئے اپنی زندگی میں بڑی تبدیلیاں لانے کیلئے تیار تھا