اپنے ایمان کا دفاع کرنا
”مسیح کو خداوند جان کر اپنے دلوں میں مُقدس سمجھو اور جو کوئی تم سے تمہاری اُمید کی وجہ دریافت کرے اُسکو جواب دینے کے لئے ہر وقت مستعد رہو۔“—۱-پطرس ۳:۱۵۔
۱، ۲. یہوواہ کے گواہ مخالفت سے حیران کیوں نہیں ہوتے لیکن اُنکی خواہش کیا ہے؟
بیشتر ممالک میں یہوواہ کے گواہوں کو عموماً دیانتدار، پاکباز لوگ سمجھا جاتا ہے۔ بہتیرے اُنہیں نیک اور بےضرر پڑوسی خیال کرتے ہیں۔ پھربھی، ستمظریفی یہ ہے کہ خواہ جنگ کا وقت ہو یا امن کا ان امنپسند مسیحیوں کو ناحق اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ ایسی مخالفت اُن کیلئے حیرانکُن نہیں ہے۔ دراصل، وہ اسکی توقع رکھتے ہیں۔ بہرصورت، وہ جانتے ہیں کہ پہلی صدی س.ع. میں وفادار مسیحی ”عداوت“ کا نشانہ بنے تھے اسلئے جو لوگ آجکل مسیح کے سچے پیروکار بننے کی کوشش کرتے ہیں کیا وہ فرق سلوک کی توقع کر سکتے ہیں؟ (متی ۱۰:۲۲) علاوہازیں، بائبل بیان کرتی ہے: ”جتنے مسیح یسوؔع میں دینداری کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائینگے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱۲۔
۲ یہوواہ کے گواہوں کو اذیت اُٹھانے کا کوئی شوق نہیں ہے نہ ہی وہ اس سے وابستہ جرمانوں، قیدوبند یا سخت برتاؤ جیسی مشکلات میں مبتلا ہو کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ ’مطمئن اور پُرسکون زندگی بسر‘ کرنا چاہتے ہیں تاکہ بِلاروکٹوک خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کر سکیں۔ (۱-تیمتھیس ۲:۱، ۲) وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ بیشتر ممالک میں اپنی پرستش کو جاری رکھنے کیلئے اُنہیں مذہبی آزادی حاصل ہے، لہٰذا وہ انسانی حکمرانوں سمیت ”سب آدمیوں کے ساتھ میلملاپ“ رکھنے کیلئے نیکنیتی سے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۲:۱۸؛ ۱۳:۱-۷) پھر وہ ”عداوت“ کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟
۳. یہوواہ کے گواہوں سے غیرمنصفانہ طور پر نفرت کئے جانے کی ایک وجہ کیا ہے؟
۳ درحقیقت، جن وجوہات کی بِنا پر ابتدائی مسیحیوں کو ستایا گیا تھا وہی یہوواہ کے گواہوں سے غیرمنصفانہ طور پر نفرت کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اوّل، یہوواہ کے گواہ اپنے مذہبی اعتقادات پر سختی سے عمل کرتے ہیں جس سے بعض لوگ اُنہیں پسند نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، وہ سرگرمی سے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ اُن کے اس جذبے کا غلط مطلب نکالتے ہیں اور اُن کی منادی کو ”زبردستی نومُرید بنانے کا عمل“ سمجھتے ہیں۔ (مقابلہ کریں اعمال ۴:۱۹، ۲۰۔) وہ مختلف اقوام کی سیاست اور جنگوں میں بھی غیرجانبدار رہتے ہیں اور بعضاوقات اس سے یہ غلطفہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ گواہ وفادار شہری نہیں ہیں۔—میکاہ ۴:۳، ۴۔
۴، ۵. (ا) یہوواہ کے گواہ جھوٹے الزامات کا نشانہ کیسے بنے ہیں؟ (ب) یہوواہ کے خادموں کیلئے اذیت برپا کرنے میں اکثر سب سے زیادہ کس کا ہاتھ رہا ہے؟
۴ دوم، یہوواہ کے گواہ جھوٹے الزامات—بےباک دروغگوئیوں اور اپنے ہی اعتقادات کی غلط نمائندگی—کا نشانہ بنے ہیں۔ نتیجتاً وہ بعض ممالک کے اندر غیرمنصفانہ حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ مزیدبرآں، ’خون سے پرہیز‘ کرنے کی بابت بائبل کے حکم پر عمل کرنے کی خواہش رکھتے ہوئے وہ خون کے بغیر طبّی علاج کرانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اسکی وجہ سے اُن پر ”بچوں کے قاتل“ اور ”خودکُشی کرنے والا مَسلک“ جیسے لیبل لگا دئے گئے ہیں۔ (اعمال ۱۵:۲۹) تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہوواہ کے گواہ زندگی کو گرانقدر خیال کرتے ہیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے لئے بہترین دستیاب طبّی نگہداشت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ الزام بالکل بےبنیاد ہے کہ ہر سال یہوواہ کے گواہوں کے کئی بچے انتقالِخون سے انکار کرنے کے باعث مر جاتے ہیں۔ علاوہازیں، بائبل سچائی کا خاندان کے تمام افراد پر یکساں اثر نہ ہونے کی وجہ سے گواہوں پر خاندانوں میں انتشار پھیلانے کا بھی الزام ہے۔ تاہم جو لوگ یہوواہ کے گواہوں سے واقف ہیں وہ اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ وہ خاندانی زندگی کی بہت قدر کرتے ہیں اور بائبل کے اُن حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کیساتھ محبت اور احترام سے پیش آنے اور بچوں کو اپنے والدین کی تابعداری کرنے کی تاکید کرتے ہیں خواہ وہ ہمایمان ہوں یا نہ ہوں۔—افسیوں ۵:۲۱–۶:۳۔
۵ بیشتر واقعات میں یہوواہ کے خادموں کیلئے اذیت برپا کرنے میں سب سے زیادہ مذہبی مخالفین کا ہاتھ رہا ہے جو گواہوں کی کارگزاریوں کو دبانے کیلئے سیاسی اربابِاختیار کیساتھ گٹھجوڑ اور ذرائعابلاغ کو استعمال کرتے ہیں۔ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہمیں اپنے اعتقادات اور افعال کے نتیجے میں یا جھوٹے الزامات کے باعث برپا ہونے والی ایسی مخالفت کیلئے کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟
”تمہاری معقولیت سب آدمیوں پر ظاہر ہو“
۶. مسیحی کلیسیا سے باہر کے لوگوں کیلئے متوازن نظریہ رکھنا کیوں اہم ہے؟
۶ سب سے پہلے تو ہمیں اُن لوگوں کی بابت صحیح نقطۂنظر یعنی یہوواہ کا نقطۂنظر اَپنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے مذہبی عقائد میں شریک نہیں ہوتے۔ بصورتِدیگر ہم غیرضروری طور پر دوسروں کی دشمنی اور نفرت مول لے لینگے۔ پولس رسول نے لکھا کہ ”تمہاری نرممزاجی [”معقولیت،“ اینڈبلیو] سب آدمیوں پر ظاہر ہو۔“ (فلپیوں ۴:۵) لہٰذا، بائبل ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے کہ مسیحی کلیسیا سے باہر کے لوگوں کی بابت متوازن نظریہ رکھیں۔
۷. اپنےآپ کو ”دُنیا سے بیداغ“ رکھنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۷ دوسری طرف، صحائف ہمیں واضح طور پر نصیحت کرتے ہیں کہ ”اپنےآپ کو دُنیا سے بیداغ“ رکھیں۔ (یعقوب ۱:۲۷؛ ۴:۴) بائبل میں بیشتر مقامات کی طرح یہاں پر ”دُنیا“ کی اصطلاح سچے مسیحیوں کے علاوہ تمام انسانیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہم لوگوں کے اس معاشرے میں رہتے ہیں؛ ملازمت کی جگہ، سکول یا آسپڑوس میں اکثر ہمارا اُن سے آمناسامنا ہوتا ہے۔ (یوحنا ۱۷:۱۱، ۱۵؛ ۱-کرنتھیوں ۵:۹، ۱۰) اس کے باوجود ہم خدا کے راست معیاروں سے ٹکرانے والے رُجحانات، گفتگو اور چالچلن سے کنارہ کرتے ہوئے خود کو دُنیا سے بیداغ رکھتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس دُنیا، بالخصوص یہوواہ کے معیاروں کی سراسر بےحُرمتی کرنے والوں کی قریبی رفاقت کے خطرے کو پہچانیں۔—امثال ۱۳:۲۰۔
۸. دُنیا سے بیداغ رہنے کی مشورت ہمیں دوسروں کو حقیر جاننے کی کوئی بنیاد فراہم کیوں نہیں کرتی؟
۸ تاہم، دُنیا سے بیداغ رہنے کی مشورت ہمیں قطعی طور پر اُن لوگوں کو حقیر جاننے کی بنیاد فراہم نہیں کرتی جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔ (امثال ۸:۱۳) پچھلے مضمون میں بیانکردہ یہودی مذہبی پیشواؤں کی مثال کو ذرا یاد کیجئے۔ جو طریقۂعبادت اُنہوں نے اختیار کِیا تھا اُس سے یہوواہ خوش نہیں تھا نہ ہی یہ غیریہودیوں کیساتھ اچھے تعلقات پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوا تھا۔ (متی ۲۱:۴۳، ۴۵) یہ متعصّب اشخاص ظاہری راستبازی کے بلند مقام پر بیٹھ کر غیرقوموں کو بڑی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ہم اُن لوگوں کی تحقیر کرنے سے جو گواہ نہیں ہیں، ایسی تنگنظری نہیں اپناتے۔ پولس رسول کی طرح ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ بائبل کا سچا کلام سننے والے تمام لوگ خدا کی پسندیدگی حاصل کریں۔—اعمال ۲۶:۲۹؛ ۱-تیمتھیس ۲:۳، ۴۔
۹. ایک متوازن، صحیفائی نظریے کو اُن لوگوں کی بابت ہمارے طرزِگفتگو پر کیا اثر ڈالنا چاہئے جو ہمارے ہمایمان نہیں ہیں؟
۹ ایک متوازن، صحیفائی نقطۂنظر کو جو لوگ گواہ نہیں اُنکی بابت ہمارے طرزِگفتگو پر بھی اثرانداز ہونا چاہئے۔ پولس نے ططس کو ہدایت کی کہ کریتے کے جزیرے کے مسیحیوں کو یہ یاد دلائے کہ ”کسی کی بدگوئی نہ کریں۔ تکراری نہ ہوں بلکہ نرممزاج [”معقول،“ اینڈبلیو] ہوں اور سب آدمیوں کے ساتھ کمال حلیمی سے پیش آئیں۔“ (ططس ۳:۲) غور فرمائیں کہ مسیحیوں کو ”کسی کی“ بدگوئی نہیں کرنی تھی—حتیٰکہ کریتے کے غیرمسیحیوں کی بھی نہیں جن میں سے بعض جھوٹ، بسیارخوری اور کاہلی کی وجہ سے مشہور تھے۔ (ططس ۱:۱۲) لہٰذا جو لوگ ہمارے ہمایمان نہیں ہیں اُنکا ذکر کرتے وقت اہانتآمیز اصطلاحات استعمال کرنا غیرصحیفائی ہوگا۔ خود کو برتر ثابت کرنے کا رویہ دیکھ کر دوسرے لوگ کبھی بھی یہوواہ کی پرستش کی طرف راغب نہیں ہونگے۔ اس کے برعکس، جب ہم دوسروں کیساتھ یہوواہ کے کلام کے معقول اصولوں کے مطابق پیش آتے ہیں تو ہم خدا کی ”تعلیم کو رونق“ بخشتے ہیں۔—ططس ۲:۱۰۔
کب چپ رہیں، کب بولیں
۱۰، ۱۱. یسوع نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ جانتا تھا کہ (ا) کب ”چپ رہنے کا . . . وقت ہے“؟ (ب) کب ”بولنے کا . . . وقت ہے“؟
۱۰ واعظ ۳:۷ بیان کرتی ہے کہ ”چپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔“ پس، مسئلہ یہ ہے کہ کب مخالفین کو نظرانداز کریں اور کب اپنے ایمان کے دفاع میں بولیں۔ اس سلسلے میں ہم یسوع کے نمونے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جو اپنی قوتِفیصلہ کا ہمیشہ درست استعمال کرتا تھا۔ (۱-پطرس ۲:۲۱) وہ جانتا تھا کہ کب ”چپ رہنے کا . . . وقت“ ہے۔ مثلاً، جب سردار کاہن اور بزرگوں نے پیلاطُس کے سامنے اُس پر جھوٹا الزام لگایا تو یسوع نے ”جواب نہ دیا۔“ (متی ۲۷:۱۱-۱۴) وہ کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہتا تھا جو اُسکی بابت خدا کی مرضی کی تکمیل میں حائل ہوتی۔ اسکی بجائے اُس نے اپنی عوامی خدمت کو بولنے کا موقع دیا۔ وہ جانتا تھا کہ سچائی بھی اُنکے متکبر ذہنوں اور دلوں کو بدل نہیں سکتی۔ لہٰذا اُس نے اُنکے الزام کو نظرانداز کر دیا اور دانستہ طور پر خاموش رہا۔—یسعیاہ ۵۳:۷۔
۱۱ تاہم، یسوع یہ بھی جانتا تھا کہ کب ”بولنے کا . . . وقت ہے۔“ ایک موقع پر، اُس نے تنقید کرنے والوں کے ساتھ سرِعام بحث کی اور اُن کے جھوٹے الزامات کی تردید کی۔ مثال کے طور پر، جب فقیہوں اور فریسیوں نے اُسے بِھیڑ کی نظروں میں نیچا دکھانے کی کوشش میں اُس پر یہ الزام لگایا کہ وہ بعلزبول کی مدد سے بدروحیں نکالتا ہے تو یسوع نے جھوٹے الزامات کو اپنے سامنے ٹکنے نہ دیا۔ مرعوبکُن منطق اور اثرآفریں تمثیل سے اُس نے جھوٹ کو اُلٹ دیا۔ (مرقس ۳:۲۰-۳۰ کے علاوہ متی ۱۵:۱-۱۱؛ ۲۲:۱۷-۲۱؛ یوحنا ۱۸:۳۷ کو بھی دیکھیں) اسی طرح جب یسوع کو دھوکے سے پکڑ لینے کے بعد صدرِعدالت کے سامنے پیش کِیا گیا تو سردار کاہن کیفا نے بڑی عیاری سے مطالبہ کِیا: ”مَیں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تُو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔“ یہ بھی ”بولنے کا . . . وقت“ تھا کیونکہ اس وقت خاموش رہنا یہ تاثر دیتا کہ وہ مسیح ہونے سے منکر ہے۔ لہٰذا یسوع نے جواب دیا: ”ہاں مَیں ہوں۔“—متی ۲۶:۶۳، ۶۴؛ مرقس ۱۴:۶۱، ۶۲۔
۱۲. کن حالات نے پولس اور برنباس کو اُکنیم میں دلیری کیساتھ کلام کرنے کی تحریک دی تھی؟
۱۲ پولس اور برنباس کی مثال پر بھی غور کریں۔ اعمال ۱۴:۱، ۲ بیان کرتی ہیں: ”اکنیمؔ میں ایسا ہوا کہ وہ ساتھ ساتھ یہودیوں کے عبادتخانہ میں گئے اور ایسی تقریر کی کہ یہودیوں اور یونانیوں دونوں کی بڑی جماعت ایمان لے آئی۔ مگر نافرمان یہودیوں نے غیرقوموں کے دلوں میں جوش پیدا کرکے اُن کو بھائیوں کی طرف سے بدگمان کر دیا۔“ دی نیو انگلش بائبل اسے یوں بیان کرتی ہے: ”تاہم جن یہودیوں نے اپنا مذہب نہیں بدلا تھا اُنہوں نے غیرقوم لوگوں کو مشتعل کِیا اور اُن کے ذہنوں میں بھائیوں کے خلاف زہر بھر دیا۔“ یہودی مخالفین نے نہ صرف خود پیغام کو ردّ کِیا بلکہ غیرقوم آبادی میں مسیحیوں کے خلاف تعصّب پیدا کرنے کی کوشش میں غیرمصدقہ الزامات لگانے شروع کر دئے۔a مسیحیت کے لئے اُن کے دل میں کتنی زیادہ نفرت تھی! (مقابلہ کریں اعمال ۱۰:۲۸۔) پولس اور برنباس نے محسوس کِیا کہ یہ ”بولنے کا . . . وقت ہے“ ورنہ نئے شاگرد اس برملا رسوائی سے دلبرداشتہ ہو جاتے۔ ”پس [پولس اور برنباس] بہت عرصہ تک وہاں رہے اور خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے بھروسے پر دلیری سے کلام کرتے تھے“ جس نے اُنہیں نشان اور عجیب کام کرنے کی طاقت بخشنے سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کِیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض ”یہودیوں کی طرف ہو گئے اور بعض رسولوں کی طرف۔“—اعمال ۱۴:۳، ۴۔
۱۳. رسوائی کا سامنا کرتے وقت عموماً کب ”چپ رہنے کا . . . وقت“ ہوتا ہے؟
۱۳ پس، جب ہمیں رسوا کِیا جاتا ہے تو ہمیں کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟ اس کا انحصار حالات پر ہے۔ بعض حالتوں میں ہم سے اس اصول کا اطلاق کرنے کی توقع کی جاتی ہے کہ ”چپ رہنے کا ایک وقت ہے۔“ خاص طور پر اُس وقت جب ہٹدھرم مخالفین ہمیں بیکار بحثوتکرار میں اُلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بعض لوگ سچائی جاننا ہی نہیں چاہتے۔ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۹-۱۲) جن لوگوں کے دل گھمنڈ اور بےاعتقادی کی طرف مائل ہیں اُن سے استدلال کرنے کی کوشش کرنا فضول ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم ہر جھوٹے الزامتراش کے ساتھ بحث میں اُلجھ جاتے ہیں تو ہم اس سے کہیں زیادہ اہم اور بااجر کارگزاری یعنی بائبل سچائی سیکھنے کی حقیقی خواہش رکھنے والے خلوصدل اشخاص کی مدد کرنے سے غافل ہو جائینگے۔ لہٰذا جب ہمارا سامنا ایسے حریفوں سے ہوتا ہے جو ہماری بابت جھوٹ پھیلانے پر اٹل ہیں تو الہامی مشورت یہ ہے: ”اُن سے کنارہ . . . کرو۔“—رومیوں ۱۶:۱۷، ۱۸؛ متی ۷:۶۔
۱۴. کن طریقوں سے ہم دوسروں کے سامنے اپنے ایمان کا دفاع کر سکتے ہیں؟
۱۴ تاہم، اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے ایمان کا دفاع نہیں کرتے۔ بہرحال، ”بولنے کا ایک وقت“ بھی ہے۔ ہم بجا طور پر ایسے خلوصدل اشخاص کے لئے فکر رکھتے ہیں جن کے سامنے ہم پر ہتکآمیز تنقید کی جاتی ہے۔ ہم دوسروں کے سامنے اپنے پُختہ اعتقادات کی وضاحت کرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ ہم ایسے موقع کو خوشی سے قبول کرتے ہیں۔ پطرس نے لکھا: ”مسیح کو خداوند جان کر اپنے دلوں میں مُقدس سمجھو اور جو کوئی تُم سے تمہاری اُمید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لئے ہر وقت مستعد رہو مگر حلم اور خوف کے ساتھ۔“ (۱-پطرس ۳:۱۵) جب حقیقی دلچسپی رکھنے والے اشخاص ہم سے اُن اعتقادات کا ثبوت مانگتے ہیں جنہیں ہم گرانقدر خیال کرتے ہیں، جب وہ مخالفین کی طرف سے لگائے گئے جھوٹے الزامات کی بابت پوچھتے ہیں توپھر یہ ہماری ذمہداری ہے کہ ہم بائبل پر مبنی ٹھوس جوابات کے ساتھ اپنے ایمان کا دفاع کریں۔ علاوہازیں، ہمارا عمدہ چالچلن مُنہ بولتا ثبوت بن سکتا ہے۔ وسیعالنظر مشاہدین کی طرح جو جانتے ہیں کہ ہم خدا کے راست معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، وہ بھی بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ ہم پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔—۱-پطرس ۲:۱۲-۱۵۔
بہتانآمیز تشہیر کی بابت کیا ہے؟
۱۵. اس حقیقت کی ایک مثال کیا ہے کہ یہوواہ کے گواہ ذرائعابلاغ کی طرف سے غلط معلومات کا نشانہ بنے ہیں؟
۱۵ بعضاوقات یہوواہ کے گواہوں کو ذرائعابلاغ کی طرف سے غلط معلومات کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، یکم اگست ۱۹۹۷ کو ایک روسی اخبار نے ایک بہتانآمیز مضمون شائع کِیا جس میں دیگر باتوں کیساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کِیا گیا کہ گواہ اپنے ارکان سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ’اگر اُنکے شوہر، بیویاں اور والدین اُنکے ایمان کو نہیں سمجھتے یا اُنکے ہمایمان نہیں تو وہ اُنہیں چھوڑ دیں۔‘ یہوواہ کے گواہوں کو قریب سے جاننے والا ہر شخص اس حقیقت سے واقف ہے کہ یہ الزام غلط ہے۔ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ مسیحیوں کو خاندان کے دیگر بےایمان افراد کیساتھ محبت اور احترام سے پیش آنا چاہئے اسلئے گواہ اس ہدایت پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۱۲-۱۶؛ ۱-پطرس ۳:۱-۴) بہرحال، مضمون شائع ہوا اور بہتیرے قاری بدظن ہوئے۔ لہٰذا جب ہم پر جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے تو ہم اپنے ایمان کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۶، ۱۷ اور صفحہ ۳۰ پر بکس. (ا) ذرائعابلاغ کی طرف سے غلط معلومات کے لئے جوابیعمل دکھانے کے سلسلے میں دی واچٹاور نے ایک مرتبہ کیا بیان کِیا تھا؟ (ب) کن حالات کے تحت یہوواہ کے گواہ ذرائعابلاغ میں منفی رپورٹوں کے لئے جوابیعمل دکھاتے ہیں؟
۱۶ اس صورت میں بھی اصول یہی ہے کہ ”چپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔“ دی واچٹاور میں ایک مرتبہ اسکی وضاحت یوں کی گئی تھی: ”اس کا انحصار حالات، تنقید کو ہوا دینے والے اور اُسکے مقصد پر ہے کہ آیا ہم ذرائعابلاغ میں پیش کی جانے والی جھوٹی معلومات کو نظرانداز کرتے ہیں یا مناسب طریقوں سے سچائی کا دفاع کرتے ہیں۔“ بعض معاملات میں منفی رپورٹوں کو نظرانداز کر دینا ہی بہتر ہو سکتا ہے تاکہ جھوٹ کی مزید تشہیر نہ ہو۔
۱۷ دیگر معاملات میں ”بولنے کا . . . وقت“ ہو سکتا ہے۔ شاید کسی فرضشناس صحافی یا رپورٹر کو یہوواہ کے گواہوں کی بابت غلط معلومات دی گئی ہیں اور وہ ہماری بابت درست معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (دیکھیں بکس ”غلطبیانی کی اصلاح کرنا۔“) اگر ذرائعابلاغ کی منفی رپورٹوں سے ایسا تعصّب پیدا ہوتا ہے جس سے ہمارا منادی کا کام رک جاتا ہے تو پھر واچ ٹاور سوسائٹی کے برانچ آفس کے نمائندے موزوں طریقوں سے سچائی کا دفاع کرنے میں پیشقدمی کر سکتے ہیں۔b مثال کے طور پر، لائق بزرگوں کو ٹیوی پروگرام میں حقائق پیش کرنے کیلئے تفویض کِیا جا سکتا ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ یہوواہ کے گواہوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں ہر ایک گواہ دانشمندی کیساتھ واچ ٹاور سوسائٹی اور اسکے نمائندوں کی ہدایات سے تعاون کرتا ہے۔—عبرانیوں ۱۳:۱۷۔
قانوناً خوشخبری کا دفاع کرنا
۱۸. (ا) ہمیں منادی کے لئے انسانی حکومتوں کی اجازت کی ضرورت کیوں نہیں ہے؟ (ب) منادی کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں ہمیں کونسی روش اختیار کرنی چاہئے؟
۱۸ ہمیں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے کا اختیار آسمان سے حاصل ہوا ہے۔ ہمیں اس کام کو کرنے کا حکم یسوع کی طرف سے ملا تھا جسے ’آسمان اور زمین کا کُل اختیار‘ سونپا گیا ہے۔ (متی ۲۸:۱۸-۲۰؛ فلپیوں ۲:۹-۱۱) لہٰذا، ہمیں منادی کرنے کیلئے انسانی حکومتوں کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اسکے باوجود، ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مذہبی آزادی بادشاہتی پیغام کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جن ممالک میں ہمیں پرستش کی آزادی ہے وہاں ہم اسکی حفاظت کیلئے قانون کا سہارا لینگے۔ جہاں ہمیں ایسی آزادی حاصل نہیں ہے وہاں ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرینگے۔ ہمارا مقصد معاشرتی اصلاح نہیں بلکہ ”خوشخبری کی جوابدہی اور ثبوت“ فراہم کرنا ہے۔—فلپیوں ۱:۷۔
۱۹. (ا) ’جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرنا‘ کس چیز پر منتج ہو سکتا ہے؟ (ب) ہمارا عزمِمُصمم کیا ہے؟
۱۹ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہم یہوواہ کو کائنات کا حاکمِاعلیٰ تسلیم کرتے ہیں۔ اُسکی شریعت سب سے افضل ہے۔ ہم فرضشناسی سے انسانی حکومت کی اطاعت کرتے ہیں اور یوں ’جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو ادا کرتے ہیں۔‘ مگر ہم کسی بھی چیز کو ’جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرنے‘ کی اپنی سب سے اہم ذمہداری کو پورا کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینگے۔ (متی ۲۲:۲۱) ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہم قوموں کی ”عداوت“ کا نشانہ بنیں گے لیکن ہم اسے شاگردی کی لاگت کا حصہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ اس ۲۰ویں صدی میں یہوواہ کے گواہوں کا قانونی ریکارڈ اپنے ایمان کا دفاع کرنے کے سلسلے میں اُنکے عزم کی شہادت ہے۔ یہوواہ کی مدد اور پُشتپناہی سے ہم ”خوشخبری سنانے سے . . . باز“ نہیں آئینگے۔—اعمال ۵:۴۲۔
[فٹنوٹ]
a میتھیو ہنریز کومینٹری آن دی ہول بائبل وضاحت کرتی ہے کہ یہودی مخالفین نے ”یہ دستور بنا لیا تھا کہ وہ جانبوجھ کر ایسے [غیرقوم لوگوں] کے پاس جایا کرتے تھے گویا وہ اُنکے جانپہچان والے ہوں اور پھر اُنکے اندر مسیحیت کیلئے حقارت اور بدگمانی پیدا کرنے کی خاطر مُنہ میں جو اناپشناپ آتا بول دیتے تھے۔“
b رشئین اخبار (جسکا پیراگراف ۱۵ میں ذکر کِیا گیا) میں بہتانآمیز مضمون کی اشاعت کے بعد یہوواہ کے گواہوں نے رشئین فیڈریشن پریذیڈینشل جوڈیشل چیمبر فار میڈیا ڈِسپیوٹس سے مضمون میں لگائے گئے جھوٹے الزامات پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی۔ حال ہی میں عدالت نے ایسا فیصلہ صادر کِیا جس سے اخبار کو توہینآمیز مضمون شائع کرنے کیلئے بہت ملامت اٹھانی پڑی۔—دیکھیں اویک!، نومبر ۲۲، ۱۹۹۸، صفحات ۲۶-۲۷۔
کیا آپکو یاد ہے
◻یہوواہ کے گواہ ”عداوت“ کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟
◻ہمیں اُن لوگوں کو کیسا خیال کرنا چاہئے جو ہمارے ہمایمان نہیں ہیں؟
◻مخالفین کا سامنا کرتے وقت یسوع نے کونسا متوازن نمونہ قائم کِیا؟
◻رسوائی کی صورت میں ہم اس اصول کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں کہ ”چپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے“؟
[صفحہ 30 پر بکس]
غلطبیانی کی اصلاح کرنا
”یاکیوبا، بولیویا میں ایک مقامی بشارتی گروپ نے ٹیوی سٹیشن کیساتھ ایک فلم دکھانے کا بندوبست بنایا جسے برگشتہ لوگوں نے تیار کِیا تھا۔ اس پروگرام کے بُرے اثرات کے پیشِنظر، بزرگوں نے دو ٹیوی سٹیشنوں پر جانے اور اُنہیں عوام کو ویڈیوز جیہوواز وٹنسز—دی آرگنائزیشن بیہائنڈ دی نیم اور دی بائبل—اے بُک آف فیکٹ اینڈ پروفیسی دکھانے کیلئے معقول رقم دینے کا فیصلہ کِیا۔ سوسائٹی کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد ایک ریڈیو سٹیشن کا مالک برگشتہ لوگوں کے پروگرام کی غلطبیانیوں سے نہایت برہم ہوا اور یہوواہ کے گواہوں کی جلد منعقد ہونے والی ڈسٹرکٹ کنونشن کی بابت مُفت اعلانات کرنے کی پیشکش کی۔ حاضری غیرمعمولی طور پر زیادہ تھی اور خدمتگزاری کے دوران بہتیرے خلوصدل لوگوں نے گواہوں سے سنجیدہ سوال پوچھنے شروع کر دئے۔“—۱۹۹۷ ائیربُک آف جیہوواز وٹنسز، صفحات ۶۱-۶۲۔
[صفحہ 31 پر تصویر]
ایک موقع پر یسوع نے اپنے نقادوں کے جھوٹے الزامات کی برملا تردید کی