اپنے ایمان کی خاطر نفرت کا نشانہ بنے
”میرے نام کے باعث سے سب لوگ تم سے عداوت رکھینگے۔“—متی ۱۰:۲۲۔
۱، ۲. کیا آپ کچھ ایسے زندگی کے حقیقی تجربات بیان کر سکتے ہیں جو یہوواہ کے گواہوں کو اپنے مذہبی اعتقادات پر عمل کرنے کی وجہ سے پیش آئے ہیں؟
کریتے کے جزیرے میں ایک دیانتدار دُکاندار کو کئی مرتبہ گرفتار اور بارہا یونانی عدالتوں کے سامنے پیش کِیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، وہ چھ سال اپنی بیوی اور پانچ بچوں سے دُور قید میں گزارتا ہے۔ جاپان میں ایک ۱۷سالہ طالبعلم کو نہایت مہذب اور ۴۲ طالبعلموں کی جماعت میں اوّل آنے کے باوجود سکول سے خارج کر دیا گیا ہے۔ فرانس میں کئی لوگوں کو محنت اور ایمانداری سے کام کرنے کے شاندار ریکارڈ کے باوجود کھڑےکھڑے نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ زندگی کے ان حقیقی تجربات میں کیا بات مشترک ہے؟
۲ یہ سب اشخاص یہوواہ کے گواہ ہیں۔ اُنکا ”جُرم“؟ بنیادی طور پر، اپنے مذہبی اعتقادات کی پابندی۔ یسوع مسیح کی تعلیمات کی اطاعت میں دُکاندار اپنے ایمان کا دوسرے لوگوں میں پرچار کرتا رہا تھا۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) اُسے ایک متروک یونانی قانون کے تحت سزا دی گئی جو نواعتقادی کو قابلِسزا جُرم قرار دیتا ہے۔ طالبعلم کو خارج کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اُسکے بائبل سے تربیتیافتہ ضمیر نے اُسے لازمی کینڈو (جاپانی تیغزنی) تربیت میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ (یسعیاہ ۲:۴) نیز فرانس میں نوکری سے برخاست کئے جانے والوں کو اُنکی برطرفی کی صرف یہی وجہ بتائی گئی کہ وہ یہوواہ کے گواہ ہیں۔
۳. زیادہتر یہوواہ کے گواہوں کو دیگر انسانوں کے ہاتھوں سخت تکلیف کیوں نہیں اُٹھانی پڑتی ہے؟
۳ حال ہی میں یہوواہ کے گواہ بعض ممالک کے اندر جن حالات سے گزرے ہیں ایسے تلخ تجربات اُنکی محض چند ایک مثالیں ہیں۔ تاہم، زیادہتر یہوواہ کے گواہوں کو دیگر انسانوں کے ہاتھوں سخت تکلیف نہیں اُٹھانی پڑتی۔ یہوواہ کے لوگ اپنے عمدہ چالچلن کیلئے عالمی شہرت رکھتے ہیں جس کے باعث کسی کے پاس بھی اُنہیں نقصان پہنچانے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱۱، ۱۲) وہ نہ تو کسی قسم کی سازشیں کرتے ہیں اور نہ ہی نقصاندہ طرزِعمل اختیار کرتے ہیں۔ (۱-پطرس ۴:۱۵) اس کے برعکس، وہ پہلے خدا اور پھر دُنیاوی حکومتوں کے تابع رہنے کی بابت بائبل کی مشورت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ واجب ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ”سب آدمیوں کے ساتھ میلملاپ“ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۲:۱۸؛ ۱۳:۶، ۷؛ ۱-پطرس ۲:۱۳-۱۷) بائبل کے تعلیمی کام میں وہ قانون، خاندانی اقدار اور اخلاقیات کیلئے احترام دکھانے کی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔ کئی حکومتوں نے قانون کی پابندی کرنے والے شہری ہونے کی وجہ سے اُنکی تعریف کی ہے۔ (رومیوں ۱۳:۳) اسکے باوجود، جیسےکہ پہلے پیراگراف میں بیان کِیا گیا ہے بعضاوقات اُنہیں مخالفت—بعض ممالک میں تو حکومتی پابندی—کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیا ہمیں اس سے حیران ہونا چاہئے؟
شاگردی کی ”لاگت“
۴. یسوع کے مطابق اُسکا شاگرد بننے والے شخص کو کس چیز کی توقع رکھنی چاہئے؟
۴ یسوع نے واضح کِیا کہ اُسکا شاگرد بننے میں کیا کچھ شامل ہے۔ اُس نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ ”نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ اگر اُنہوں نے مجھے ستایا تو تمہیں بھی ستائینگے۔“ یسوع سے ”بےسبب“ عداوت رکھی گئی تھی۔ (یوحنا ۱۵:۱۸-۲۰، ۲۵؛ زبور ۶۹:۴؛ لوقا ۲۳:۲۲) اُس کے شاگرد بھی ایسی ہی بےبنیاد مخالفت کی توقع کر سکتے تھے۔ اُس نے کئی مرتبہ اُنہیں آگاہ کِیا: ”لوگ تُم سے عداوت رکھینگے۔“—متی ۱۰:۲۲؛ ۲۴:۹۔
۵، ۶. (ا) یسوع نے امکانی پیروکاروں کو ”لاگت کا حساب“ لگانے کی تاکید کیوں کی تھی؟ (ب) پس، مخالفت کے پیشِنظر ہمیں حیران کیوں نہیں ہونا چاہئے؟
۵ چنانچہ، یسوع نے امکانی پیروکاروں کو شاگردی کی ”لاگت کا حساب“ لگانے کی تاکید کی۔ (لوقا ۱۴:۲۸) کس لئے؟ یہ فیصلہ کرنے کیلئے نہیں کہ آیا اُنہیں اُسکے پیروکار بننا چاہئے یا نہیں بلکہ اسلئےکہ اسکے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا عزم کر سکیں۔ ہمیں اس استحقاق سے وابستہ تمام آزمائشوں یا مشکلات کو برداشت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ (لوقا ۱۴:۲۷) کوئی بھی ہمیں مسیح کا پیروکار بن کر یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے مجبور نہیں کرتا۔ یہ رضاکارانہ مگر علم پر مبنی فیصلہ ہے۔ ہمیں پہلے ہی معلوم ہے کہ خدا کیساتھ مخصوص رشتے میں داخل ہونے سے حاصل ہونے والی عظیم برکات کے علاوہ ہمیں ”عداوت“ کا نشانہ بھی بننا پڑیگا۔ اسلئے جب ہمیں مخالفت کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں کوئی حیرانی نہیں ہوتی۔ ہم نے ’لاگت کا حساب‘ لگا لیا ہے اور اسے ادا کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔—۱-پطرس ۴:۱۲-۱۴۔
۶ سرکاری اہلکار اور بعض دیگر لوگ سچے مسیحیوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ جواب کیلئے پہلی صدی س.ع. کے دو مذہبی گروہوں کا جائزہ لینا مفید ثابت ہوگا۔ نفرت تو دونوں سے کی گئی مگر اسکی وجوہات بالکل مختلف تھیں۔
نفرتانگیز اور قابلِنفرت
۷، ۸. کن تعلیمات نے غیرقوموں کیلئے حقارت کو ظاہر کِیا اور اس سے یہودیوں میں کیسا رُجحان پیدا ہو گیا؟
۷ پہلی صدی س.ع. میں اسرائیل پر روم کی حکومت تھی اور یہودیت یعنی یہودی مذہبی نظام مکمل طور پر فقیہوں اور فریسیوں جیسے مذہبی پیشواؤں کی مٹھی میں تھا۔ (متی ۲۳:۲-۴) ان متعصّب پیشواؤں نے دیگر اقوام سے علیٰحدگی کے سلسلے میں موسوی شریعت کے اصولوں کو توڑمروڑ کر غیریہودیوں کو حقیر سمجھنے کا تقاضا کِیا۔ اس طرح ایک ایسا مذہب وجود میں آیا جس نے غیرقوموں کیلئے نفرت کو فروغ دیا اور نتیجتاً غیرقوموں نے یہودیوں سے نفرت رکھی۔
۸ یہودی پیشواؤں کیلئے غیرقوموں کو حقارت سے دیکھنے کی تعلیم دینا کوئی مشکل بات نہیں تھی کیونکہ اُس وقت کے یہودی غیرقوموں کو گھٹیا مخلوق خیال کرتے تھے۔ مذہبی پیشوا سکھاتے تھے کہ ایک یہودی عورت کو غیرقوم کے لوگوں کے ساتھ کبھی بھی تنہا نہیں رہنا چاہئے کیونکہ اُنہیں نہایت ”عیاش خیال کِیا جاتا“ تھا۔ ایک یہودی مرد کو بھی ”اُن کے ساتھ تنہا“ نہیں رہنا چاہئے ”کیونکہ اُنہیں خونی خیال کِیا جاتا“ تھا۔ کسی غیرقوم شخص کے ہاتھ کا دوہا ہوا دودھ اُس وقت تک استعمال نہیں کِیا جا سکتا تھا جبتککہ کوئی یہودی اس عمل کے دوران وہاں موجود نہیں ہوتا تھا۔ اپنے پیشواؤں کے زیرِاثر یہودیوں نے تنہائی اور علیٰحدگی کا رُجحان اختیار کر لیا۔—مقابلہ کریں یوحنا ۴:۹۔
۹. غیریہودیوں کی بابت یہودی پیشواؤں کی تعلیم کا کیا اثر ہوا تھا؟
۹ غیریہودیوں کی بابت ایسی تعلیمات یہودیوں اور غیرقوموں کے مابین اچھے تعلقات استوار کرنے میں خاطرخواہ کردار ادا نہ کر سکیں۔ غیرقوموں کی نظر میں یہودی تمام نوعِانسان سے نفرت کرنے والے تھے۔ رومی مؤرخ تستُس (تقریباً ۵۶ س.ع. میں پیدا ہوا) یہودیوں کی بابت بیان کرتا ہے کہ ”وہ دیگر انسانوں سے دشمنوں جیسی نفرت رکھتے تھے۔“ تستُس یہ بھی بیان کرتا ہے کہ جو غیرقوم لوگ یہودی نومُرید بن جاتے تھے اُن سے اپنا ملک چھوڑنے اور اپنے خاندان اور دوستواحباب کو حقیر جاننے کا تقاضا کِیا جاتا تھا۔ رومیوں نے بڑی حد تک یہودیوں کو برداشت کِیا کیونکہ وہ تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ اُن پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں تھا۔ تاہم، ۶۶ س.ع. میں یہودی بغاوت کے باعث رومیوں کی طرف سے سخت انتقامی کارروائیاں شروع ہو گئیں جو ۷۰ س.ع. میں یروشلیم کی بربادی پر منتج ہوئیں۔
۱۰، ۱۱. (ا) موسوی شریعت نے اجنبیوں سے کس قسم کا سلوک کرنے کا تقاضا کِیا تھا؟ (ب) یہودیت کیساتھ جوکچھ واقع ہوا ہم اُس سے کیا سبق سیکھتے ہیں؟
۱۰ اجنبیوں کی بابت ایسا نظریہ موسوی شریعت میں بیانکردہ طرزِپرستش سے کیسے مختلف تھا؟ شریعت نے دیگر اقوام سے علیٰحدہ رہنے کا تقاضا تو کِیا تھا مگر اسکا مقصد اسرائیلیوں اور بالخصوص اُنکی خالص پرستش کو محفوظ رکھنا تھا۔ (یشوع ۲۳:۶-۸) علاوہازیں، شریعت یہ بھی تقاضا کرتی تھی کہ جب تک اجنبی اسرائیل کے قوانین کی برملا خلافورزی نہیں کرتے تب تک اُن کیساتھ منصفانہ اور غیرمتعصّبانہ سلوک کِیا جائے اور اُن کیلئے مہماننوازی کا جذبہ دکھایا جائے۔ (احبار ۲۴:۲۲) اجنبیوں کے سلسلے میں شریعت کے واضح اور معقول مفہوم سے ہٹ کر یسوع کے زمانہ کے مذہبی پیشوا ایسے طرزِپرستش کو وجود میں لائے جس نے نہ صرف نفرت کو فروغ دیا بلکہ خود بھی قابلِنفرت بن گیا۔ انجامکار، پہلی صدی کی یہودی قوم یہوواہ کی پسندیدگی سے محروم ہو گئی۔—متی ۲۳:۳۸۔
۱۱ کیا یہ ہمارے لئے سبقآموز ہے؟ جیہاں، بالکل ہے! ظاہری راستبازی، برتری کا رُجحان جس سے ہمارے مذہبی اعتقادات میں شریک نہ ہونے والے لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے کی تحریک ملتی ہے درحقیقت یہوواہ کی سچی پرستش کی عکاسی نہیں کرتا اور نہ ہی یہ اُسے خوش کرتا ہے۔ پہلی صدی کے وفادار مسیحیوں پر غور کریں۔ وہ نہ تو غیرمسیحیوں سے نفرت کرتے تھے نہ ہی روم کے خلاف بغاوت کرتے تھے۔ اسکے باوجود اُن سے ”عداوت“ رکھی گئی۔ کیوں؟ اور کن کی طرف سے؟
ابتدائی مسیحی—کن کی نفرت کا نشانہ بنے؟
۱۲. صحائف سے یہ کیسے عیاں ہے کہ یسوع چاہتا تھا کہ اُسکے پیروکار غیرمسیحیوں کی بابت متوازن نظریہ رکھیں؟
۱۲ یسوع کی تعلیمات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ اُس کے شاگرد غیرمسیحیوں کی بابت متوازن نظریہ رکھیں۔ ایک طرف تو اُس نے کہا کہ اُس کے پیروکار دُنیا سے علیٰحدہ ہونگے یعنی وہ یہوواہ کے راست معیاروں سے ٹکرانے والے رُجحانات اور چالچلن سے گریز کرینگے۔ وہ جنگ اور سیاست کے معاملات میں غیرجانبدار رہیں گے۔ (یوحنا ۱۷:۱۴، ۱۶) دوسری طرف، غیرمسیحیوں سے گھن کھانے کی تعلیم دینے کی بجائے یسوع نے اپنے پیروکاروں کو ’اپنے دشمنوں سے بھی محبت‘ رکھنے کا درس دیا۔ (متی ۵:۴۴) پولس رسول نے مسیحیوں کو تلقین کی: ”اگر تیرا دُشمن بھوکا ہو تو اُس کو کھانا کھلا۔ اگر پیاسا ہو تو اُسے پانی پلا۔“ (رومیوں ۱۲:۲۰) اُس نے مسیحیوں کو ”سب کے ساتھ نیکی“ کرنے کا حکم دیا۔—گلتیوں ۶:۱۰۔
۱۳. یہودی مذہبی پیشوا مسیح کے شاگردوں کے اسقدر خلاف کیوں تھے؟
۱۳ تاہم، جلد ہی مسیح کے شاگردوں نے یہ بھانپ لیا کہ وہ تین ذرائع سے ”عداوت“ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہودی مذہبی پیشوا اس میں پیشپیش تھے۔ کچھ عجب نہیں کہ مسیحی فوراً اُنکی توجہ کا مرکز بن گئے! مسیحی اخلاقیات اور راستی کے سلسلے میں اعلیٰ اصول رکھتے تھے اور گرمجوشی سے اُمیدافزا پیغام پیش کرتے تھے۔ ہزاروں لوگوں نے یہودیت کو چھوڑ کر مسیحیت اختیار کر لی تھی۔ (اعمال ۲:۴۱؛ ۴:۴؛ ۶:۷) یہودی مذہبی پیشواؤں کی نظر میں یسوع کے یہودی شاگرد برگشتہ لوگوں کے سوا کچھ نہ تھے۔ (مقابلہ کریں اعمال ۱۳:۴۵۔) ان مشتعل پیشواؤں نے محسوس کِیا کہ مسیحیت نے اُنکی روایات کو باطل کر دیا ہے۔ اس نے تو غیرقوموں کی بابت اُنکے نقطۂنظر کو بھی رد کر دیا تھا! لہٰذا، ۳۶ س.ع. سے غیرقوموں کے لوگ مسیحی بن کر یہودی مسیحیوں کیساتھ ایک ہی ایمان میں شریک ہو سکتے اور ایک ہی جیسے استحقاقات سے محظوظ ہو سکتے تھے۔—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
۱۴، ۱۵. (ا) مسیحیوں کو بُتپرستوں کی طرف سے نفرت کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ ایک مثال پیش کریں۔ (ب) ابتدائی مسیحی کس تیسرے گروہ کی طرف سے ”عداوت“ کا نشانہ بنے؟
۱۴ دوم، مسیحیوں کو بُتپرستوں کی طرف سے بھی نفرت کا سامنا ہوا۔ مثال کے طور پر، قدیم افسس میں ارتمس دیوی کے روپہلے مندر بنانا ایک نفعبخش کاروبار تھا۔ تاہم جب پولس نے وہاں منادی کی تو افسیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس سے اثرپذیر ہو کر ارتمس کی پرستش کو ترک کر دیا۔ اپنے کاروبار کو خطرے میں دیکھ کر سناروں نے بلوہ کر دیا۔ (اعمال ۱۹:۲۴-۴۱) جب مسیحیت بتُھنیہ (اب شمالمغربی تُرکی) میں پہنچی تو وہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ مسیحی یونانی صحائف کے مکمل ہونے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد بتُھنیہ کے حاکم پلینی دوم نے بیان کِیا کہ بُتپرستوں کے مندر سنسان پڑے تھے اور قربانی کے جانوروں کیلئے چارے کی خریدوفروخت میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔ مسیحیوں کو موردِالزام ٹھہرایا گیا اور اُنہیں اذیت دی گئی کیونکہ اُنکی پرستش میں جانوروں کی قربانیوں اور بُتوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ (عبرانیوں ۱۰:۱-۹؛ ۱-یوحنا ۵:۲۱) ظاہر ہے کہ بُتپرستی سے پیسہ کمانے والے بعض اشخاص مسیحیت کی توسیع سے بہت متاثر ہوئے اور جنہیں کاروبار میں نقصان ہوا وہ اس کی مخالفت پر اُتر آئے۔
۱۵ سوم، مسیحی قومپرست رومیوں کی ”عداوت“ کا بھی نشانہ بنے۔ شروع شروع میں تو رومی مسیحیوں کو محض ایک چھوٹا سا جنونی مذہبی گروہ سمجھتے تھے۔ تاہم، ایک وقت آیا کہ مسیحی ہونے کا اقرار کرنا ہی واجبالقتل جُرم بن گیا۔ مسیحی زندگی بسر کرنے والے دیانتدار شہریوں کو اذیت اور موت کے لائق کیوں خیال کِیا گیا؟
ابتدائی مسیحی—رومی معاشرے میں نفرت کا نشانہ کیوں بنے؟
۱۶. مسیحی کن طریقوں سے دُنیا سے علیٰحدہ رہتے تھے اور اس سے وہ رومی معاشرے میں نامقبول کیوں ہو گئے؟
۱۶ بنیادی طور پر، رومی معاشرے میں مسیحیوں سے اُن کے مذہبی اعتقادات کی وجہ سے نفرت کی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر، وہ دُنیا سے علیٰحدہ رہے۔ (یوحنا ۱۵:۱۹) لہٰذا وہ نہ تو سیاسی منصب قبول کرتے تھے اور نہ ہی فوج میں بھرتی ہوتے تھے۔ نتیجتاً، اُنکی بابت ”مشہور ہو گیا کہ وہ دُنیا کے لحاظ سے مُردہ اور زندگی کے تمام معاملات کے اعتبار سے ناکارہ ہیں،“ مؤرخ اوگوستُس نیاندر بیان کرتا ہے۔ دُنیا کا حصہ نہ ہونے کا مطلب بدکار رومی معاشرے کے گھنونے کاموں سے گریز کرنا بھی تھا۔ مؤرخ وِل ڈیورانٹ وضاحت کرتا ہے کہ ”عیشوعشرت کے دلدادہ بُتپرست معاشرے کو چھوٹےچھوٹے مسیحی گروہوں کی پارسائی اور شایستگی سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔“ (۱-پطرس ۴:۳، ۴) مسیحیوں کو اذیت اور سزائیں دینے سے رومیوں نے شاید ضمیر کی تکلیفدہ آواز کو دبانے کی کوشش کی تھی۔
۱۷. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ پہلی صدی کے مسیحیوں کی منادی مؤثر تھی؟
۱۷ پہلی صدی کے مسیحیوں نے غیرمصالحانہ جذبے کے ساتھ خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کی تھی۔ (متی ۲۴:۱۴) تقریباً ۶۰ س.ع. میں، پولس یہ کہہ سکتا تھا کہ خوشخبری کی ”منادی آسمان کے نیچے کی تمام مخلوقات“ میں کر دی گئی ہے۔ (کلسیوں ۱:۲۳) پہلی صدی کے اختتام تک، یسوع کے پیروکار ساری رومی سلطنت—ایشیا، یورپ اور افریقہ—میں شاگرد بنا چکے تھے! یہانتککہ ”قیصرؔ کے گھر“ کے بعض افراد بھی مسیحی بن گئے تھے۔a (فلپیوں ۴:۲۲) ایسی سرگرم منادی نہایت اشتعالانگیز ثابت ہوئی۔ نیاندر بیان کرتا ہے: ”رفتہرفتہ مسیحیت ہر طبقے کے لوگوں میں پھیل گئی اور یوں ریاستی مذہب کے لئے خطرہ دکھائی دینے لگی۔“
۱۸. یہوواہ کیلئے بِلاشرکتِغیرے عقیدت رکھنے کی وجہ سے رومی حکومت مسیحیوں کی اسقدر مخالف کیوں ہو گئی؟
۱۸ یسوع کے پیروکار یہوواہ کے لئے بِلاشرکتِغیرے عقیدت رکھتے تھے۔ (متی ۴:۸-۱۰) غالباً اُن کی پرستش کے اسی پہلو نے سب سے بڑھکر روم کو اُن کی مخالفت پر اُکسایا تھا۔ جبتک دیگر مذاہب کے لوگ شہنشاہ کی پرستش کرنے میں حصہ لیتے رومی بھی اُن کے ساتھ رواداری برتتے تھے۔ ابتدائی مسیحی ایسی پرستش میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ خود کو رومی حکومت سے کہیں زیادہ اعلیٰوبالا اختیار کے مالک یہوواہ خدا کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ (اعمال ۵:۲۹) پس، ایک مسیحی دیگر حلقوں میں خواہ کتنا ہی اچھا شہری کیوں نہ ہوتا اُسے حکومت کا دشمن ہی خیال کِیا جاتا تھا۔
۱۹، ۲۰. (ا) وفادار مسیحیوں کی بابت بہتانآمیز باتیں پھیلانے میں سب سے زیادہ کس کا ہاتھ تھا؟ (ب) مسیحیوں پر کونسے جھوٹے الزامات لگائے گئے؟
۱۹ رومی معاشرے میں وفادار مسیحیوں کے ”عداوت“ کا نشانہ بننے کی ایک اَور وجہ بھی تھی: لوگ اُنکے خلاف بہتانآمیز باتوں کا بڑی آسانی سے یقین کر لیتے تھے جس کے پیچھے یہودی مذہبی پیشواؤں کا ہاتھ تھا۔ (اعمال ۱۷:۵-۸) تقریباً ۶۰ یا ۶۱ س.ع. میں، جب پولس روم میں شہنشاہ نیرو کے سامنے اپنے مقدمے کیلئے پیش ہونے کا منتظر تھا، چند ممتاز یہودیوں نے مسیحیوں کی بابت کہا: ”اس فرقہ کی بابت ہم کو معلوم ہے کہ ہر جگہ اسکے خلاف کہتے ہیں۔“ (اعمال ۲۸:۲۲) نیرو نے بھی اُنکے خلاف بہتانآمیز قصے سن رکھے ہونگے۔ لہٰذا جب ۶۴ س.ع. میں اُس پر روم میں آتشزدگی کا الزام لگایا گیا تو نیرو نے فوراً پہلے سے بدنام مسیحیوں کو قربانی کے بکرے سمجھ کر دھر لیا۔ اس سے مسیحیوں کا قلعقمع کرنے کیلئے متشدّد اذیت کی لہر دوڑ گئی۔
۲۰ مسیحیوں کے خلاف جھوٹے الزامات اکثر دروغگوئیوں اور اُنہی کے عقائد کے بگاڑ پر مشتمل ہوتے تھے۔ توحیدپرست ہونے کی وجہ سے وہ شہنشاہ کی پرستش نہیں کرتے تھے اس لئے اُنہیں دہریے قرار دیا گیا۔ بعض غیرمسیحی خاندانی افراد کی طرف سے اپنے مسیحی رشتہداروں کی مخالفت کے باعث مسیحیوں پر خاندانوں میں انتشار ڈالنے کا بھی الزام تھا۔ (متی ۱۰:۲۱) اُنہیں آدمخور کہا گیا، بعض ذرائع کے مطابق یہ الزام خداوند کے عشائیے پر کہے گئے یسوع کے الفاظ کے بگاڑ پر مبنی تھا۔—متی ۲۶:۲۶-۲۸۔
۲۱. مسیحی کن دو وجوہات کی بِنا پر ”عداوت“ کا نشانہ بنے؟
۲۱ چنانچہ، دو بنیادی وجوہات کی بِنا پر رومی وفادار مسیحیوں سے ”عداوت“ رکھتے تھے: (۱) بائبل پر مبنی اعتقادات اور افعال، نیز (۲) اُنکے خلاف جھوٹے الزامات۔ وجہ خواہ کوئی بھی ہو مخالفین کا مقصد محض مسیحیت کو دبانا تھا۔ بِلاشُبہ، مسیحیوں کی اذیت کی پُشت پر دراصل مافوقالبشر مخالفین یعنی نادیدہ بدکار روحانی طاقتیں تھیں۔—افسیوں ۶:۱۲۔
۲۲. (ا) کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہوواہ کے گواہ ”سب کے ساتھ نیکی“ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ (صفحہ ۲۵ پر بکس دیکھیں۔) (ب) اگلے مضمون میں کیا باتچیت کی جائیگی؟
۲۲ ابتدائی مسیحیوں کی طرح، جدید زمانہ میں یہوواہ کے گواہ بھی مختلف ممالک میں ”عداوت“ کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسکے باوجود وہ نہ تو اُن لوگوں سے نفرت کرتے ہیں جو گواہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کبھی حکومتوں کے خلاف شورش کا باعث بنے ہیں۔ اسکے برعکس، وہ پوری دُنیا میں ایسی حقیقی محبت رکھنے کیلئے مشہور ہیں جو تمام سماجی، نسلی اور طبقاتی رکاوٹوں کو عبور کر جاتی ہے۔ لہٰذا، اُنہیں اذیت کیوں پہنچائی جاتی ہے؟ نیز وہ مخالفت کیلئے کیسا ردِعمل دکھاتے ہیں؟ اگلے مضمون میں ان سوالات پر باتچیت کی جائیگی۔
[فٹنوٹ]
a اصطلاح ”قیصرؔ کے گھر“ سے مُراد اُس وقت کے حاکم، نیرو کے قریبی خاندانی افراد نہیں ہیں۔ بلکہ، اسکا اطلاق گھریلو خادموں اور چھوٹے اہلکاروں پر ہوتا ہے جو غالباً شاہی خاندان اور عملے کیلئے طباخی اور صفائیستھرائی جیسی خانگی خدمات انجام دیتے تھے۔
آپ کیا جواب دینگے؟
◻یسوع نے امکانی پیروکاروں کو شاگردی کی لاگت کا حساب لگانے کی تاکید کیوں کی تھی؟
◻غیریہودیوں کی بابت مروّجہ نظریے کا یہودیت پر کیا اثر پڑا اور ہم اس سے کیا سیکھتے ہیں؟
◻وفادار ابتدائی مسیحیوں کو کن تین ذرائع سے مخالفت کا سامنا تھا؟
◻کن بنیادی وجوہات کی بِنا پر ابتدائی مسیحی رومیوں کی ”عداوت“ کا نشانہ بنے؟
[صفحہ 25 پر بکس]
’سب کیساتھ نیکی کرنا‘
یہوواہ کے گواہ ”سب کے ساتھ نیکی“ کرنے کے سلسلے میں بائبل کی فہمائش پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (گلتیوں ۶:۱۰) بوقتِضرورت، پڑوسی سے محبت اُنہیں ایسے لوگوں کی مدد کرنے کی تحریک دیتی ہے جو اُنکے مذہبی نظریات میں شریک نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۴ میں روانڈا کے اندر پُرآشوب حالات کے تحت یورپ کے گواہوں نے افریقہ جا کر مدد کرنے کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کِیا۔ مدد بہمپہنچانے کیلئے خوب منظم کیمپ اور ہسپتال قائم کئے گئے۔ بذریعہ ہوائی جہاز بڑی مقدار میں اشیائےخوردنی، کپڑے اور کمبل بھیجے گئے۔ اس امدادی کاوش سے مستفید ہونے والے پناہگزینوں کی تعداد اُس علاقے کے گواہوں کی تعداد سے تین گُنا زیادہ تھی۔
[صفحہ 23 پر تصویر]
پہلی صدی کے مسیحیوں نے غیرمصالحانہ جذبے کیساتھ خوشخبری کی منادی کی