آجکل کے مسیحی اور انسانی معاشرہ
”میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھینگی۔“—متی ۲۴:۹۔
۱. مسیحیت کا امتیازی نشان کیا ہونا تھا؟
دنیا سے علیحدگی ابتدائی مسیحیوں کا امتیازی نشان تھا۔ اپنے آسمانی باپ، یہوواہ، سے دعا میں، مسیح نے اپنے شاگردوں کی بابت کہا: ”میں نے تیرا کلام انہیں پہنچا دیا اور دنیا نے ان سے عداوت رکھی اسلئے کہ جس طرح میں دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۷:۱۴) جب یسوع پنطس پیلاطس کے سامنے بلایا گیا تو اس نے بیان کیا: ”میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں۔“ (یوحنا ۱۸:۳۶) دنیا سے قدیمی مسیحیت کی علیحدگی کی تصدیق مسیحی یونانی صحائف اور مورخین کے ذریعے کی گئی ہے۔
۲. (ا) وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یسوع کے پیروکاروں اور دنیا کے مابین تعلق میں کیا کوئی تبدیلی ہونی تھی؟ (ب) کیا یسوع کی بادشاہت قوموں کے تبدیل ہونے کے ذریعے آنے والی تھی؟
۲ کیا یسوع نے بعد میں آشکارا کیا کہ اسکے پیروکاروں اور دنیا کے مابین تعلق میں تبدیلی پیدا ہوگی اور اسکی بادشاہت دنیا کے مسیحیت میں تبدیل ہو جانے سے آئے گی؟ نہیں۔ یسوع کی موت کے بعد، اسکے پیروکاروں کو اس طرح کی کسی چیز کو تحریر کرنے کا الہام یہاں تک کہ ایسی چیز کا اشارہ بھی نہیں دیا گیا۔ (یعقوب ۴:۴ [۶۲ س۔ع۔ سے تھوڑا پہلے لکھی گئی]، ۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷، ۵:۱۹ [۹۸ س۔ع۔ کے قریب لکھی گئی]) اسکے برعکس، بائبل یسوع کے آنے [”موجودگی،“ NW] اور بعد میں بادشاہتی اختیار میں ”آنے“ کو ”دنیا کے آخر“ کے ساتھ جوڑتی ہے جو اسکے ”خاتمہ،“ یا تباہی پر عروج کو پہنچتی ہے۔ (متی ۲۴:۳، ۱۴، ۲۹، ۳۰، دانیایل ۲:۴۴، ۷:۱۳، ۱۴) اپنے پیروسیا یا موجودگی کے نشان میں جو یسوع نے دیا، اس نے اپنے سچے پیروکاروں کی بابت کہا: ”اس وقت لوگ تم کو ایذا دینے کیلئے پکڑوائینگے اور تم کو قتل کرینگے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھینگی۔“—متی ۲۴:۹۔
آجکل سچے مسیحی
۳، ۴. (ا) ایک کیتھولک انسائیکلوپیڈیا ابتدائی مسیحیوں کو کیسے بیان کرتا ہے؟ (ب) ابتدائی مسیحیوں اور یہوواہ کے گواہوں کو کونسے مماثل کلمات میں بیان کیا گیا ہے؟
۳ آجکل کس مذہبی گروپ نے اپنے لئے مسیحی اصولوں سے وفاداری اور اس دنیا سے علیحدگی، اور اس بات میں شہرت حاصل کی ہے کہ اس کے ممبروں سے نفرت کی جائے اور انہیں ستایا جائے؟ کونسی عالمگیر مسیحی تنظیم ہر لحاظ سے ابتدائی مسیحیوں کے تاریخی بیانات سے مطابقت رکھتی ہے؟ ان کی بابت نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے: ”قدیم مسیحی معاشرے کو شروع میں اگرچہ محض یہودی معاشرتی ماحول میں ایک اور فرقہ خیال کیا گیا تو بھی وہ اپنی دینی تعلیم، اور خاص طور پر اپنے ممبروں کے جوش میں بینظیر ثابت ہوا، جنہوں نے ”تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک“ مسیح کے گواہوں کے طور پر خدمت کی (اعمال ۱.۸)۔“—جلد ۳، صفحہ ۶۹۴۔
۴ ان اظہارات پر غور کریں ”محض ایک اور فرقہ خیال کیا،“ ”اپنی ... تعلیم میں بینظیر،“ ”گواہوں کے طور پر ... جوش۔“ اور اب بغور دیکھیں کہ وہی انسائیکلوپیڈیا یہوواہ کے گواہوں کو کیسے بیان کرتا ہے: ”ایک فرقہ ... گواہ دل سے یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کا خاتمہ چند سالوں کے اندر ہی آ جائیگا۔ یہ قوی ایمان انکے انتھک جوش کی پُشت پر مضبوطترین قوتمتحرکہ دکھائی دیتی ہے۔ ... اس فرقے کے ہر ممبر کی بنیادی ذمہداری یہوواہ کی آنے والی بادشاہی کا اعلان کرنے سے اس کی گواہی دینا ہے۔ ... وہ بائبل کو اپنے ایمان اور طرزعمل کے ضابطے کے واحد ذریعے کے طور پر خیال کرتے ہیں ... سچا گواہ ہونے کیلئے کسی کو ایک یا دوسرے طریقے سے مؤثر طور پر منادی کرنا لازمی ہے۔“—جلد ۷، صفحات ۸۶۴-۸۶۵۔
۵. (ا) کن پہلوؤں سے یہوواہ کے گواہوں کی تعلیمات منفرد ہیں؟ (ب) ایسی مثالیں دیں جو ظاہر کریں کہ یہوواہ کے گواہوں کے اعتقادات صحائف کی مطابقت میں ہیں۔
۵ یہوواہ کے گواہوں کی تعلیمات کن پہلوؤں سے منفرد ہیں؟ نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا چند ایک کا ذکر کرتا ہے: ”وہ [یہوواہ کے گواہ] تثلیث کو مُلحد بتپرستی کے طور پر رد کرتے ہیں ... وہ یسوع کو یہوواہ کے گواہوں میں سے عظیمترین کے طور پر خیال کرتے ہیں یعنی ”ایک خدا۔“ (وہ یوحنا ۱.۱ کا ترجمہ اس طرح سے کرتے ہیں)، جو یہوواہ کے سوا کسی سے بھی کمتر نہیں۔ ... اس نے ایک انسان کے طور پر وفات پائی اور ایک غیرفانی روحانی بیٹے کے طور پر زندہ کیا گیا۔ اسکے دکھ اور موت وہ قیمت تھی جو اس نے نسلانسانی کے لئے زمین پر ابد تک زندہ رہنے کے حق کو پھر سے حاصل کرنے کیلئے ادا کی۔ واقعی، سچے گواہوں کا ”بڑا انبوہ“ (اپاکلپس ۷.۹) زمینی فردوس کی امید رکھتا ہے، صرف ۱۴۴،۰۰۰ ایماندار (اپاکلپس ۷.۴، ۱۴.۱، ۴) مسیح کے ساتھ آسمانی جلال کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ شریر مکمل طور پر تباہ کر دئے جائیں گے۔ ... بپتسمہ—جسے یہوواہ کے گواہ پانی میں ڈبکی کے ذریعے عمل میں لاتے ہیں ... وہ یہوواہ خدا کی خدمت کیلئے انکی مخصوصیت کی ظاہری علامت [ہے]۔ ... یہوواہ کے گواہوں نے انتقالخون سے انکار کرکے تشہیر حاصل کی ہے ... انکی ازدواجی اور جنسی اخلاقیات بڑی بےلوچ ہے۔“ یہوواہ کے گواہ شاید ان لحاظ سے منفرد ہیں، لیکن ان تمام نکات کیلئے انکا موقف مضبوطی سے بائبل پر مبنی ہے۔—زبور ۳۷:۲۹، متی ۳:۱۶، ۶:۱۰، اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹، رومیوں ۶:۲۳، ۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰، ۸:۶، مکاشفہ ۱:۵۔
۶. یہوواہ کے گواہوں نے کیا موقف قائم رکھا ہے؟ کیوں؟
۶ یہ رومن کیتھولک تحریر اضافہ کرتی ہے کہ ۱۹۶۵ میں (ظاہری طور پر وہ سال جس وقت یہ مضمون لکھا گیا تھا) ”گواہوں نے اس وقت تک یہ خیال نہیں کیا تھا کہ وہ اس معاشرے کا حصہ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔“ ایسے لگتا ہے کہ مصنف نے یہ سوچ رکھا ہو کہ جوں جوں وقت گزرے گا اور یہوواہ کے گواہ شمار میں زیادہ ہوتے جائینگے اور ”ایک فرقے کے برعکس زیادہ سے زیادہ ایک چرچ کے اوصاف“ اختیار کر لیں گے،“ تو وہ اس دنیا کا حصہ بن جائینگے۔ لیکن یہ بات سچ ثابت نہیں ہوئی ہے۔ ۱۹۶۵ میں جتنے گواہ تھے، آجکل، اس سے چار گنا زیادہ ہیں، تو بھی یہوواہ کے گواہوں نے اس دنیا کے سلسلے میں اپنے موقف کو بااصول طور پر قائم رکھا ہے۔ ”جس طرح،“ یسوع ”دنیا کا نہیں“ تھا ”وہ بھی دنیا کے نہیں“ ہیں—یوحنا ۱۷:۱۶۔
علیحدہ مگر دشمن نہیں
۷، ۸. جیسے ابتدائی مسیحیوں کی بابت سچ تھا، آجکل یہوواہ کے گواہوں کی بابت بھی کیا سچ ہے؟
۷ دوسری صدی کے اپولوجسٹ جسٹن مارٹر کے ذریعے ابتدائی مسیحیوں کے دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے، رابرٹ ایم۔ گرانٹ نے اپنی کتاب ارلی کرسچینیٹی اینڈ سوسائٹی (ابتدائی مسیحیت اور معاشرہ) میں لکھا: ”اگر مسیحی انقلابی ہوتے تو وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے روپوش رہتے۔ ... امن اور اچھے نظمونسق کے سلسلے میں وہ شہنشاہ کے بہترین حلیف ہیں۔“ اسی طرح سے، آجکل یہوواہ کے گواہ تمام دنیا میں امنپسند اور نظموضبط کے پابند شہریوں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ حکومتیں، خواہ کسی بھی قسم کی ہوں، جانتی ہیں کہ انکے پاس یہوواہ کے گواہوں سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
۸ شمالی امریکہ کے ایک اداریہ لکھنے والے نے لکھا: ”یہ یقین کرنے کیلئے متعصب اور انتہائی خوفناک تصور کی ضرورت ہے کہ یہوواہ کے گواہ کسی بھی سیاسی طرزحکومت کیلئے کسی قسم کا خطرہ ہیں، وہ ایسے غیرتخریبی اور امنپسند ہیں جتنا کہ ایک مذہبی جماعت ہو سکتی ہے۔“ اپنی کتاب لااوبجیکشیون دی کانشیانس (فرضشناس اعتراض)، میں ژاں پیئر کتلاں لکھتا ہے: ”گواہ مکمل طور پر حکام کے اطاعتشعار ہیں اور بالعموم قوانین کی فرمانبرداری کرتے ہیں، وہ اپنے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور حکومتوں پر اعتراض کرنے، ان کو بدلنے، یا تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے، کیونکہ وہ دنیا کے معاملات سے اپنا کوئی تعلق نہیں رکھتے۔“ کتلان آگے اضافہ کرتا ہے کہ حکومت اگر صرف انکی زندگیوں پر حق جتاتی ہے، جنہیں وہ پورے طور پر خدا کے لئے مخصوص کر چکے ہیں، تو یہوواہ کے گواہ فرمانبرداری کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس طرح سے وہ ابتدائی مسیحیوں سے قریبی مشابہت رکھتے ہیں۔—مرقس ۱۲:۱۷، اعمال ۵:۲۹۔
حکمران طبقوں کی طرف سے غلط سمجھے گئے
۹. دنیا سے علیحدگی کے سلسلے میں، ابتدائی مسیحیوں اور جدید زمانہ کے کیتھولکوں کے درمیان کیا فرق ہے؟
۹ زیادہتر رومی شہنشاہوں نے ابتدائی مسیحیوں کو غلط سمجھا اور انہیں اذیت دی۔ یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ کیوں، دی ایپیسل ٹو ڈیوگنیٹس، جسے بعض نے دوسری صدی س۔ع۔ کے وقت کی خیال کیا، بیان کرتی ہے: ”مسیحی دنیا میں رہتے ہیں، لیکن دنیا کے معاملات میں نہیں الجھتے۔“ اسکے برعکس، دوسری ویٹیکن کونسل نے، ڈاگمیٹک کانسٹی ٹیوشن (چرچ کے اپنے اعتقادی دستور) میں بیان کیا کہ کیتھولکوں کو ”دنیاوی معاملات میں حصہ لینے سے خدا کی بادشاہت کی تلاش“ اور ”دنیا کے اندر ہی سے اسکی تقدیس کیلئے کام کرنا“ چاہیے۔
۱۰. (ا) ابتدائی مسیحیوں کو حکمران طبقوں نے کیسا خیال کیا تھا؟ (ب) یہوواہ کے گواہوں کو اکثر کیسا خیال کیا جاتا ہے، اور انکا ردعمل کیا ہے؟
۱۰ مورخ ای۔ جی۔ ہارڈی بیان کرتا ہے کہ رومی شہنشاہوں نے ابتدائی مسیحیوں کو ”کسی حد تک قابلمذمت جنونی“ خیال کیا۔ فرانسیسی مورخ ایتائن تروکمے اس ”حقارت“ کا ذکر کرتا ہے ”جس میں مہذب یونانی اور رومی اہلکاروں نے ایک نہایت ہی عجیب مشرقی فرقہ [مسیحیوں] کو دیکھا۔“ بتونیہ کے رومی گورنر، پلائینی دی ینگر اور شہنشاہ ٹراجن کے درمیان خطوکتابت ظاہر کرتی ہے کہ حکمران طبقے عام طور پر مسیحیت کی حقیقی نوعیت سے ناواقف تھے۔ اسی طرح سے آجکل، یہوواہ کے گواہوں کو اکثر غلط سمجھا گیا ہے اور دنیا کے حکمران طبقوں کی طرف سے حقیر بھی جانا گیا ہے۔ تاہم، یہ گواہوں کو نہ تو حیرتزدہ اور نہ ہی دہشتزدہ کرتا ہے۔—اعمال ۴:۱۳، ۱-پطرس ۴:۱۲، ۱۳۔
”ہر جگہ اسکے خلاف کہتے ہیں“
۱۱. (ا) ابتدائی مسیحیوں کی بابت کونسی باتیں کہی گئی تھیں، اور یہوواہ کے گواہوں کی بابت کیا کہا گیا ہے؟ (ب) یہوواہ کے گواہ سیاسیات میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟
۱۱ ابتدائی مسیحیوں کی بابت یہ کہا گیا تھا: ”کیونکہ اس فرقہ کی بابت ہم کو معلوم ہے کہ ہر جگہ اسکے خلاف کہتے ہیں۔“ (اعمال ۲۸:۲۲) دوسری صدی س۔ع۔ میں بتپرست سیلسس نے دعوی کیا کہ مسیحیت صرف انسانی معاشرے کے گھٹیا طبقوں کو پسند آئی۔ اسی طرح سے یہوواہ کے گواہوں کی بابت کہا گیا ہے کہ ”زیادہتر، وہ ہمارے معاشرے کے محروم لوگوں میں سے آئے ہیں۔“ چرچ مورخ آگسٹس نیانڈر نے رپورٹ دی کہ ”مسیحیوں کو دنیا کے لحاظ سے مردہ، اور زندگی کے تمام معاملات میں بیکار آدمیوں کے طور پر پیش کیا گیا تھا، ... اور یہ پوچھا گیا تھا کہ اگر سب انکی مانند بن جائیں تو زندگی کے کاروبار کا کیا ہوگا؟“ چونکہ یہوواہ کے گواہ سیاسیات میں حصہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں، اسلئے انہیں بھی اکثر انسانی معاشرے کا بیکار حصہ ہونے کا الزام دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر سرگرم ہوں اور اسکے ساتھ ہی ساتھ بنیآدم کی واحد امید کے طور پر خدا کی بادشاہت کے حامی بھی ہوں؟ یہوواہ کے گواہ پولس رسول کے الفاظ پر دل لگاتے ہیں: ”مسیح یسوع کے اچھے فوجی کی طرح میرے ساتھ دکھ اٹھا۔ کوئی فوجی خدمت کے وقت غیرفوجی معاملات میں نہیں پھنستا، چنانچہ اسکا نصبالعین اسکو خوش کرنا ہوتا ہے جس نے اسکو بھرتی کیا ہے۔“—۲-تیمتھیس ۲:۳، ۴، ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورشن، این اکیومینیکل ایڈیشن۔
۱۲. علیحدگی کے کس اہم پہلو میں یہوواہ کے گواہ ابتدائی مسیحیوں کے مماثل ہیں؟
۱۲ اپنی کتاب اے ہسٹری آف کرسچینیٹی میں پروفیسر کے۔ ایس۔ لاٹوریٹ لکھتا ہے: ”مسائل میں سے ایک جس پر ابتدائی مسیحی یونانی--رومی دنیا اختلاف رائے رکھتے تھے وہ جنگ میں شرکت کا مسئلہ تھا۔ پہلی تین صدیوں تک کسی بھی مسیحی تحریر نے جو ہمارے زمانے تک باقی رہی ہے مسیحیوں کے جنگ میں حصہ لینے کی پردہ پوشی نہ کی۔“ ایڈورڈ گبنز کی تحریر دی ہسٹری آف دی ڈیکلائن اینڈ فال آف دی رومن ایمپائر (رومی سلطنت کے زوال اور سقوط کی تاریخ) بیان کرتی ہے: ”یہ ناممکن تھا کہ مسیحی زیادہ مقدس فرض سے دستبردار ہوئے بغیر، سپاہیوں، مجسٹریٹوں، یا امرا کے کردار کی ذمہداری قبول کر سکتے۔“ اسی طرح سے یہوواہ کے گواہ سخت غیرجانبداری کا موقف اختیار کرتے ہیں اور یسعیاہ ۲:۲-۴ اور متی ۲۶:۵۲ میں بیانکردہ بائبل اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔
۱۳. یہوواہ کے گواہوں پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے، لیکن حقائق کیا ظاہر کرتے ہیں؟
۱۳ یہوواہ کے گواہوں پر انکے دشمنوں کی طرف سے خاندانوں کو توڑنے کا الزام دیا گیا ہے۔ سچ ہے کہ خاندانوں کے بٹنے کے ایسے معاملے ہوئے ہیں جب ایک یا زیادہ ممبر یہوواہ کے گواہ بنے۔ یسوع نے اسکی پیشینگوئی کی تھی کہ ایسے واقع ہوگا۔ (لوقا ۱۲:۵۱-۵۳) تاہم، اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ شادیاں جو اس وجہ سے ٹوٹتی ہیں وہ مستثنیات ہیں۔ مثال کے طور پر فرانس میں، یہوواہ کے گواہوں کے درمیان ۳ بیاہتا جوڑوں میں سے ۱ کے اندر ایک ایسا بیاہتا ساتھی شامل ہے جو گواہ نہیں ہے۔ پھر بھی، ان مخلوط شادیوں میں طلاق کی شرح قومی اوسط سے زیادہ نہیں ہے۔ کیوں؟ پولس اور پطرس رسول نے بےایمانوں سے بیاہے گئے مسیحیوں کو دانشمندانہ، الہامی مشورت دی، اور یہوواہ کے گواہ انکے الفاظ کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۱۲-۱۶، ۱-پطرس ۳:۱-۴) اگر ایک مخلوط شادی ٹوٹتی ہے تو پہل تقریباً ہمیشہ غیرگواہ ساتھی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسکی دوسری جانب، کئی ہزار شادیاں بچ گئی ہیں کیونکہ بیاہتا ساتھی یہوواہ کے گواہ بن گئے اور انہوں نے اپنی زندگیوں میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرنا شروع کر دیا۔
مسیحی، نہ کہ تثلیثپرست
۱۴. ابتدائی مسیحیوں کے خلاف کیا الزام لگایا گیا تھا، اور یہ طنزآمیز کیوں ہے؟
۱۴ یہ بات طنزآمیز ہے کہ رومی سلطنت میں، ابتدائی مسیحیوں کے خلاف عائدکردہ الزامات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ دہریہ تھے۔ ڈاکٹرآگسٹس نیانڈر لکھتا ہے: ”دیوتاؤں کا انکار کرنے والے، دہریے، ... عام نام تھا جس سے لوگوں کے اندر مسیحیوں کو نامزد کیا جاتا تھا۔“ کتنی عجیب بات ہے کہ مسیحیوں کو جو زندہ خالق کی پرستش کرتے تھے نہ کہ متعدد دیوتاؤں کی، بتپرستوں کی طرف سے دہریے کا نام دیا جائے جنہوں نے انکی پرستش کی جو ”خدا نہ تھے بلکہ آدمیوں کی دستکاری تھے۔ لکڑی اور پتھر۔“—یسعیاہ ۳۷:۱۹۔
۱۵، ۱۶. (ا) بعض مذہبپرستوں نے یہوواہ کے گواہوں کی بابت کیا کہا ہے، لیکن یہ کونسا سوال پیدا کرتا ہے؟ (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ کے گواہ سچے مسیحی ہیں؟
۱۵ یہ حقیقت یکساں طور پر طنزآمیز ہے کہ آجکل مسیحی دنیا میں بعض ارباباقتدار انکار کرتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہ مسیحی ہیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ گواہ تثلیث کو مسترد کرتے ہیں۔ مسیحی دنیا کی متعصب تشریح کے مطابق، ”مسیحی وہ ہیں جو مسیح کو خدا کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔“ اس کے برعکس، ایک جدید ڈکشنری اسم ”مسیحی“ کی تشریح ”ایسے شخص“ کے طور پر کرتی ہے ”جو یسوع مسیح پر ایمان رکھتا ہے اور جو اسکی تعلیمات پر چلتا ہے“ اور ”مسیحیت“ کی ”ایک مذہب“ کے طور پر ”جو یسوع مسیح کی تعلیمات پر مبنی ہے اور یہ ایمان رکھتا ہے کہ وہ خدا کا بیٹا تھا۔“ کونسا گروہ اس تشریح کی زیادہ مطابقت میں ہے؟
۱۶ یہوواہ کے گواہ یسوع کی اپنی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ہے کون؟ اس نے بیان کیا: ”میں خدا کا بیٹا ہوں،“ نہ کہ ”میں خدا بیٹا ہوں۔“ (یوحنا ۱۰:۳۶، مقابلہ کریں یوحنا ۲۰:۳۱۔) وہ مسیح کی بابت پولس رسول کے الہامی بیان کو قبول کرتے ہیں: ”اس نے خدا کی صورت پر ہونے کو، خدا کے ساتھ برابری خیال نہ کیا یعنی ایسی چیز جس پر قبضہ کیا جانا چاہئے۔“a نے کسی ایسے مظہر [ایک ہممرتبہ تثلیث] کا ذکر کبھی نہیں کیا، اور لفظ ”تثلیث“ نئے عہدنامے میں کہیں نہیں ملتا۔ چرچ نے اس نظریے کو ہمارے خداوند کی موت کے تین سو سال بعد ہی اختیار کیا تھا، اور اس تصور کی ابتدا قطعی طور پر بتپرستانہ ہے۔“ یہوواہ کے گواہ مسیح کی بابت بائبلی تعلیم کو قبول کرتے ہیں۔ وہ مسیحی ہیں، نہ کہ تثلیثپرست۔
کوئی عالمگیر اتحاد نہیں
۱۷. یہوواہ کے گواہ چرچوں کے عالمگیر اتحاد، یا بینالاعتقادی تحریک کیساتھ تعاون کیوں نہیں کرتے؟
۱۷ یہوواہ کے گواہوں کے خلاف دو اور شکایتیں کی جاتی ہیں کہ وہ دنیا کے چرچوں کو متحد کرنے والی تحریک میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہیں جسے ”نومرید بنانے کا جارحانہ کام“ کہا گیا ہے۔ ان دونوں بدنامیوں کا طعنہ ابتدائی مسیحیوں کو بھی دیا گیا تھا۔ مسیحی دنیا، اپنے کیتھولک، آرتھوڈکس، اور پروٹسٹنٹ حصوں پر مشتمل، ناقابلانکار طور پر اس دنیا کا حصہ ہے۔ یسوع کی طرح، یہوواہ کے گواہ، ”دنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۷:۱۴) وہ بینالاعتقادی تحریکوں کے ذریعے خود کو مذہبی تنظیموں کے اتحادی کیسے بنا سکتے ہیں جو غیرمسیحی چالچلن اور اعتقادات کو فروغ دیتی ہیں؟
۱۸. (ا) یہ دعویٰ کرنے کی وجہ سے یہوواہ کے گواہوں پر نکتہچینی کیوں نہیں کی جا سکتی کہ صرف وہی سچے مذہب کی پیروی کرتے ہیں؟ (ب) اگرچہ وہ سچا مذہب رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو بھی رومن کیتھولکوں کے پاس کیا نہیں ہے؟
۱۸ یہ ایمان رکھنے کی وجہ سے، جیسے کہ ابتدائی مسیحی بھی رکھتے تھے، کہ صرف وہی سچے مذہب کی پیروی کر رہے ہیں کون یہوواہ کے گواہوں پر جائز طور پر نکتہچینی کر سکتا ہے؟ یہانتک کہ کیتھولک چرچ بھی، اگرچہ ریاکارانہ طور پر چرچوں کو متحد کرنے کی تحریک سے تعاون کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے، اعلان کرتا ہے: ”ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ واحد سچا مذہب کیتھولک اور رسولی چرچ میں مسلسل برقرار رہتا ہے، جسے خداوند یسوع نے اسے تمام آدمیوں میں پھیلانے کا کام سونپا جب اس نے رسولوں سے کہا: ”پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ۔““ (ویٹیکن کونسل II، ”ڈیکلریشن آن ریلیجس لبرٹی“ [مذہبی آزادی کا منشور]) اگرچہ ظاہری طور پر، شاگرد بنانے کی خاطر جانے کیلئے ایسا ایمان کیتھولکوں کے اندر انتھک جوش کو پیدا کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔
۱۹، (ا) یہوواہ کے گواہ کیا کرنے کیلئے اٹل ہیں، اور کس محرک کے ساتھ؟ (ب) اگلے مضمون میں کس چیز کا جائزہ لیا جائیگا؟
۱۹ یہوواہ کے گواہ ایسا جوش رکھتے ہیں۔ وہ اس وقت تک گواہی دیتے رہنے کیلئے عزممُصمم رکھتے ہیں جب تک خدا ان سے ایسا چاہتا ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) انکی گواہی پرجوش ہے مگر جارحانہ نہیں۔ یہ پڑوسی کیلئے محبت سے تحریک پاتی ہے، نہ کہ بنیآدم کیلئے نفرت سے۔ وہ امید رکھتے ہیں کہ بنیآدم کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ تعداد بچائی جائے گی۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۶) ابتدائی مسیحیوں کی طرح، وہ ”سب آدمیوں کے ساتھ میلملاپ رکھنے“ کی کوشش کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۲:۱۸) وہ یہ کس طرح کرتے ہیں اس پر اگلے مضمون میں بحث کی جائیگی۔ (۱۲ ۷/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a عقیدہءتثلیث کے سلسلے میں اس بیان پر باتچیت کیلئے، دیکھیں دی واچٹاور جون ۱۵، ۱۹۷۱، صفحات ۳۵۵-۳۵۶۔
نظرثانی کی غرض سے
▫ ابتدائی مسیحیوں کا خاصہ کیا تھا، اور یہوواہ کے گواہ انکی مماثلت کیسے ہیں؟
▫ کن پہلوؤں سے یہوواہ کے گواہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اچھے شہری ہیں؟
▫ حکمران طبقوں نے ابتدائی مسیحیوں کو کیسا خیال کیا، اور کیا آجکل کچھ فرق ہے؟
▫ گواہوں کا یہ یقینکامل کہ انکے پاس سچائی ہے انہیں کیا کرنے کی تحریک دیتا ہے؟
[تصویر]
یہوواہ کے گواہ اس وقت تک گواہی دیتے رہنے کیلئے عزممُصمم رکھتے ہیں جب تک خدا ان سے ایسا چاہتا ہے
[تصویر]
پیلاطس نے کہا: ”دیکھو یہ آدمی“—وہ جو دنیا کا حصہ نہیں تھا۔—یوحنا ۱۹:۵
[تصویر کا حوالہ]
Ecce Homo” by A. Ciseri: Florence, Galleria d’Arte“
.Moderna / Alinari/Art Resource, N.Y