آپ نے کیسا نام کمایا ہے؟
بائبل میں لفظ ”نام“ کو بعضاوقات کسی کی ساکھ کا حوالہ دینے کیلئے بھی استعمال کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، دانشمند بادشاہ سلیمان نے لکھا: ””نیکنامی بیشبہا عطر سے بہتر ہے اور مرنے کا دن پیدا ہونے کے دن سے۔“ (واعظ ۷:۱ مقابلہ کریں امثال ۲۲:۱۔) سلیمان کے مطابق، کوئی شخص نیک نام پیدا نہیں ہوتا۔ اسکے برعکس وہ اپنے دورِحیات میں حقیقی معنوں میں نام کماتا ہے۔ اُسکا نام اُسکے شخصی اوصاف کی نشاندہی کرتا ہے کہ آیا وہ فیاض ہے یا خودغرض، ہمدرد ہے یا سردمزاج، فروتن ہے یا مغرور حتیٰکہ راستباز ہے یا شریر۔
داؤد پر غور کریں۔ اپنی حکومت کے دوران اُس نے خود کو مضبوط اور غیرمتزلزل ثابت کِیا۔ دریںاثنا، داؤد نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کِیا اور اپنے سنگین گناہوں پر نادم ہوا۔ پس یہوواہ کا نبی یہ کہنے میں حق بجانب تھا کہ داؤد ”[خدا] کے دل کے مطابق ہے۔“ (۱-سموئیل ۱۳:۱۴) نوجوان داؤد پہلے ہی سے خدا کے حضور نیک نام رکھتا تھا۔
اسکے برعکس، یہودیہ کے بادشاہ یربعام نے اپنے لئے بُرا نام کمایا۔ اُس نے اپنی رعایا کو یہوواہ کی پرستش سے برگشتہ کِیا اور اپنے چھ بھائیوں اور یہودیہ کے بعض شہزادوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بالآخر یہوواہ نے یربعام کو ایک تکلیفدہ بیماری میں مبتلا کر دیا جو اُسکی موت پر منتج ہوئی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ یربعام ”بغیر ماتم کے رخصت ہوا“۔ یا جیسے ٹوڈیز انگلش ورشن بیان کرتی ہے، ”اُسکے مرنے کا کسی کو افسوس نہ تھا۔“—۲-سلاطین ۲۱:۲۰۔
داؤد اور یربعام کی زندگیاں بائبل کی اس مثل کی صداقت کی تصویرکشی کرتی ہیں: ”راست آدمی کی یادگار مبارک ہے لیکن شریروں کا نام سڑ جائیگا۔“ (امثال ۰۱:۷) پس ہم میں سے ہر ایک کو سنجیدگی کیساتھ اس سوال پر غور کرنا چاہئے، ’مَیں خدا کے حضور اور ساتھی انسانوں میں کیسا نام کما رہا ہوں؟‘