کیا مجھے اپنے بھائی سے قرض مانگنا چاہئے؟
سائمن کا سب سے چھوٹا بیٹا بیمار ہے اور اُسے دوا کی فوری ضرورت ہے۔ تاہم سائمن بہت غریب ہے اور اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔ وہ کیا کر سکتا ہے؟ ایک ساتھی مسیحی، مائیکل کی معاشی حالت اُس سے بہتر ہے۔ شاید مائیکل اُسے کچھ رقم اُدھار دے دے۔ تاہم دل ہی دل میں سائمن جانتا ہے کہ وہ بمشکل ہی اس قرض کو لوٹا سکے گا۔a
جب سائمن مائیکل کے پاس جاتا ہے تو مائیکل تذبذب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ضرورت حقیقی ہے تاہم اسے شک ہے کہ سائمن یہ رقم لوٹا نہ سکے گا کیونکہ اُسے اپنے خاندان کو محض دو وقت کا کھانا کھلانے کیلئے سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ مائیکل کو کیا کرنا چاہئے؟
کئی ممالک میں لوگ راتوںرات اپنے ذریعۂمعاش سے محروم ہو سکتے ہیں اور اُنکے پاس طبّی اخراجات پورے کرنے کیلئے کوئی پیسہ یا انشورنس بھی نہیں ہوتی۔ بنک سے بھی شاید قرض دستیاب نہ ہو یا بہت مہنگا ہو۔ لہٰذا جب کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو واحد حل شاید قرض لینا ہی دکھائی دیتا ہے۔ تاہم قرض مانگنے سے پہلے، چند اہم باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔
لاگت کا حساب لگائیں
صحائف قرضخواہ اور قرضدار دونوں کیلئے راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس مشورت کی پیروی کرنے سے ہم بہت سی غلطفہمیوں اور مجروح جذبات سے بچ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، بائبل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم قرض لینے کو معمولی خیال نہ کریں۔ پولس رسول نے روم کے مسیحیوں کو تحریک دی: ”آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو کیونکہ جو دوسروں سے محبت رکھتا ہے اُس نے شریعت پر پورا عمل کیا۔“ (رومیوں ۱۳:۸) سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ ایک مسیحی کو صرف محبت کا قرضدار ہونا چاہئے۔ پس ہم پہلے خود سے پوچھ سکتے ہیں، ’کیا قرض لینا واقعی ضروری ہے؟‘
اگر جواب ہاں میں ہے تو قرض لینے کے نتائج پر غور کرنا دانشمندی ہوگی۔ یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ اہم فیصلوں کیلئے محتاط غوروفکر اور منصوبہسازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس نے اپنے شاگردوں سے پوچھا: ”تم میں ایسا کون ہے کہ جب وہ ایک برج بنانا چاہے تو پہلے بیٹھ کر لاگت کا حساب نہ کر لے کہ آیا میرے پاس اُسکے تیار کرنے کا سامان ہے یا نہیں۔“ (لوقا ۱۴:۲۸) کسی بھائی سے قرض لینے کے سلسلے میں غوروفکر کرتے وقت اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔ لاگت کا حساب لگانے کا مطلب یہ دیکھنا ہے کہ ہم کب اور کیسے قرض واپس کرینگے۔
قرض دینے والا یہ جاننے کا حق رکھتا ہے کہ قرض کب اور کیسے واپس کِیا جائیگا۔ تمام معاملات کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد ہی ہم اسے ٹھوس جواب دینے کے لائق ہونگے۔ کیا ہم نے ایک معقول مدت میں قرض واپس کرنے کی لاگت کا حساب لگایا ہے؟ یقیناً اپنے بھائی کو یہ بتانا آسان ہو گا ”مَیں جتنی جلدی ممکن ہو سکا واپس کر دونگا۔ آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔“ تاہم کیا ہمیں ایسے معاملات کو زیادہ ذمہدارانہ طریقے سے حل نہیں کرنا چاہئے؟ ہمیں قرض واپس کرنے کا پُختہ عزم رکھنا چاہئے کیونکہ یہوواہ ہم سے یہی چاہتا ہے۔ زبور ۳۷:۲۱ بیان کرتی ہے کہ ”شریر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا“۔
اس بات کا جائزہ لینے سے کہ ہم کب اور کیسے قرض ادا کرینگے، ہم خود کو اُس عہد کی سنجیدگی کا احساس دلاتے ہیں جو ہم باندھنے جا رہے ہیں۔ یہ اس امکان کو کم کر دیتا ہے کہ ہم غیرضروری طور پر قرض لیں گے۔ اگر ہم قرض لینے سے گریز کر سکیں تو یہ مفید ہو گا۔ امثال ۲۲:۷ آگاہ کرتی ہے: ”مالدار مسکین پر حکمران ہوتا ہے اور قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے۔“ حتیٰکہ جب قرضخواہ اور قرضدار دونوں روحانی بھائی ہوں تو بھی قرض کسی نہ کسی حد تک اُنکے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ قرض کے سلسلے میں غلطفہمیوں نے بعض کلیسیاؤں کے امن کو بھی متاثر کِیا ہے۔
واضح کریں کہ رقم کیوں درکار ہے
بنیادی طور پر قرضخواہ یہ جاننے کا حق رکھتا ہے کہ ہم مطلوبہ رقم کس مصرف میں لائیں گے۔ کیا اسکے علاوہ ہم دوسروں سے بھی پیسہ اُدھار لے رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس بات کو واضح کرنا چاہئے کہ اس قرض کو واپس کرنا ہماری استطاعت میں ہے۔
کاروباری قرض اور ہنگامی صورتحال کیلئے قرض میں امتیاز کرنا خاص طور پر اہم ہے۔ ایک بھائی تجارتی مقاصد کیلئے قرض دینے کی کسی صحیفائی پابندی کے تحت نہیں ہے تاہم وہ مدد دینے پر مائل ہو سکتا ہے اگر کوئی بھائی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، لباس یا ضروری طبّی امداد کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں صافگوئی اور سچائی غلطفہمیوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہو گی۔—افسیوں ۴:۲۵۔
اسے تحریری صورت دیں
اگر ہم مستقبل میں غلطفہمیوں سے بچنا چاہتے ہیں تو معاہدے کا تحریری ریکارڈ رکھنا ایک اہم قدم ہے۔ اگر اسے باضابطہ تحریر میں نہیں لایا جاتا تو ہم معاہدے کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھول سکتے ہیں۔ جتنی رقم لی گئی ہے ہمیں اسے لکھ لینا چاہئے کہ اسے کب اور کیسے لوٹایا جائیگا۔ قرضخواہ اور قرضدار دونوں کا معاہدے پر دستخط کرنا اور اپنے پاس ایک ایک کاپی رکھنا موزوں ہو گا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ مالی معاملات کو تحریری صورت میں ہونا چاہئے۔ بابل کے یروشلیم کو تباہ کرنے سے کچھ دیر پہلے، یہوواہ نے یرمیاہ سے اپنے ایک رشتہدار سے ایک قطعہ اراضی خریدنے کو کہا۔ ہم اس سارے معاملے کا جائزہ لینے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
”مَیں نے اُس کھیت کو جو عنتوؔت میں تھا اپنے چچا کے بیٹے حنمؔایل سے خرید لیا،“ یرمیاہ نے بیان کِیا۔ ”اور نقد ستر مِثقال چاندی تول کر اُسے دی۔ اور مَیں نے ایک قبالہ لکھا اور اُس پر مہر کی اور گواہ ٹھہرائے اور چاندی ترازو میں تول کر اُسے دی۔ سو مَیں نے اُس قبالہ کو لیا یعنی وہ جو آئین اور دستور کے مطابق سربمہر تھا اور وہ جو کُھلا تھا۔ اور مَیں نے اُس قبالہ کو اپنے چچا کے بیٹے حنمؔایل کے سامنے اور اُن گواہوں کے روبرو جنہوں نے اپنے نام قبالہ پر لکھے تھے اُن سب یہودیوں کے روبرو جو قیدخانہ کے صحن میں بیٹھے تھے باؔروک بن محسیاؔہ کو سونپا۔“ (یرمیاہ ۳۲:۹-۱۲) اگرچہ یہ مثال خریدنے کی ہے قرض کی نہیں تو بھی یہ بتاتی ہے کاروباری معاملات کو واضح اور غیرمبہم طور پر نپٹانا چاہئے۔—دیکھیں واچٹاور مئی ۱، ۱۹۷۳ کے صفحات ۲۸۷-۲۸۸۔
اس کے باوجود اگر مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو مسیحیوں کو متی ۱۸:۱۵-۱۷ میں درج یسوع کی مشورت کے مطابق انہیں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تاہم ایسے معاملات میں مدد دینے کی کوشش کرنے والے ایک بزرگ نے تبصرہ کِیا: ”تقریباً تمام معاملات میں تحریری معاہدہ موجودہ نہ تھا۔ نتیجتاً دونوں فریقین پر یہ بات واضح نہ تھی کہ قرض کن شرائط کے مطابق واپس کِیا جائیگا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایسے معاملات کو تحریری صورت دینا بےاعتمادی کی بجائے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔“
جب ہم ایک معاہدہ کر لیتے ہیں تو پھر یقیناً ہمیں اُس پر قائم رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یسوع نے حوصلہافزائی کی: ”تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیونکہ جو اس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے۔“ (متی ۵:۳۷) اگر ایک غیرمتوقع صورتحال ہمیں وقت کے مطابق قرض واپس کرنے سے روکتی ہے تو ہمیں فوراً قرضخواہ کو آگاہ کرنا چاہئے۔ شاید وہ ہمیں آسان اقساط میں قرض واپس کرنے کی اجازت دے دے۔
تاہم ناموافق حالات ہمیں اپنی ذمہداریوں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیتے۔ یہوواہ سے ڈرنے والا ہر شخص اپنے قول پر قائم رہنے کی ہر ممکن کوشش کریگا۔ (زبور ۱۵:۴) معاملات کا نتیجہ شاید ہماری توقع کے مطابق نہ ہو تو بھی ہمیں اپنا قرض ادا کرنے کیلئے ہر قسم کی قربانیاں دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری مسیحی ذمہداری ہے۔
قرض دینے میں محتاط ہوں
یقیناً یہ صرف قرضدار کیلئے ہی لازمی نہیں کہ وہ تمام معاملات کا محتاط جائزہ لے۔ جس بھائی سے قرض دینے کی درخواست کی گئی ہے اسے بھی لاگت کا حساب لگانا چاہے۔ ہم دانشمندی کا مظاہرہ کرینگے اگر ہم قرض دینے سے قبل معاملات کا محتاط اور حقیقتپسندانہ جائزہ لیتے ہیں۔ بائبل یہ کہتے ہوئے خبردار کرتی ہے: ”تُو اُن میں شامل نہ ہو جو ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اور نہ ان میں جو قرض کے ضامن ہوتے ہیں۔“—امثال ۲۲:۲۶۔
کوئی بھی وعدہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ اگر بھائی اس قرض کو واپس کرنے کے قابل نہ ہوا تو کیا واقع ہو سکتا ہے۔ کیا اس کی وجہ سے آپ کسی سنگین معاشی مسئلے کا شکار ہو جائینگے؟ بھائی کے نیکنیت ہونے کے باوجود بھی حالات بدل سکتے ہیں یا بھائی کا تجزیہ غلط ہو سکتا ہے۔ یعقوب ۴:۱۴ ہم سب کو یاد دلاتی ہے: ”یہ نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا۔ ذرا سنو تو! تمہاری زندگی چیز ہی کیا ہے؟ بخارات کا سا حال ہے۔ ابھی نظر آئے۔ ابھی غائب ہوگئے۔“ مقابلہ کریں واعظ ۹:۱۱۔
کاروباری قرض کی صورت میں قرضدار کی ساکھ کو بالخصوص ملحوظِخاطر رکھنا دانشمندی ہو گی۔ کیا وہ قابلِبھروسہ اور بااعتماد شخص کے طور پر جانا جاتا ہے یا وہ مالی معاملات کو غیردانشمندانہ طریقے سے نپٹاتا ہے؟ کیا وہ کلیسیا میں مختلف لوگوں کے پاس جا کر پیسے مانگنے کا میلان رکھتا ہے؟ ان الفاظ کو یاد رکھنا دانشمندی ہے: ”نادان ہر بات کا یقین کر لیتا ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روش کو دیکھتا بھالتا ہے۔“—امثال ۱۴:۱۵۔
بعضاوقات قرض دینا قرض مانگنے والے کے بہترین مفاد میں نہیں ہوتا۔ یہ بڑی آسانی سے اُسکے لئے ایک بوجھ بنتے ہوئے اُسے خوشی سے محروم کر سکتا ہے۔ کیا آپ چاہینگے کہ ایک ایسا بھائی آپکا ”غلام“ بن جائے؟ قرض ہمارے تعلق کو متاثر کرتا ہے اور اگر وہ بھائی اسے واپس کرنے کے قابل نہیں تو وہ پریشانی اور شرمندگی محسوس کریگا؟
اگر ضرورت حقیقی ہے تو کیا ہم قرض کی بجائے اسے کچھ رقم تحفے کے طور پر دے دیں گے چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو؟ صحائف ہماری حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ جب ہم کسی بھائی کو ضرورتمند دیکھیں تو ہمدردی دکھائیں۔ ”صادق رحم کرتا ہے اور دیتا ہے۔“ زبورنویس نے نغمہسرائی کی۔ (زبور ۳۷:۲۲۱) ضرورتمند بھائیوں کی مدد کیلئے جو کچھ بھی ہم عملی طور پر کر سکتے ہیں، محبت کو ہمیں وہ سب کرنے کی تحریک دینی چاہئے۔—یعقوب ۲:۱۵، ۱۶۔
اپنی روش میں محتاط بنیں
چونکہ قرض مشکلات کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا اسے پہلے انتخاب کی بجائے آخری تدبیر ہونا چاہئے۔ جیسا کہ پہلے بیان کِیا گیا ہے، قرضدار کو قرضخواہ کیساتھ صافگو ہونا چاہئے اس بات کو تحریری صورت میں لاتے ہوئے کہ قرض کب اور کیسے واپس کِیا جائیگا۔ نیز حقیقی بحران میں تحفہ دینا بہترین حل ہے۔
مائیکل نے سائمن کو اسکی درخواست کے مطابق قرض نہ دیا۔ اسکی بجائے مائیکل نے ایک چھوٹی رقم اسے تحفے کے طور پر دے دی۔ سائمن اپنے بچے کی دوا کیلئے اخراجات برداشت کرنے کے سلسلے میں اس مدد کیلئے شکرگزار تھا۔ نیز مائیکل خوش تھا کہ وہ عملی طریقے سے برادرانہ محبت کا اظہار کرنے کے قابل تھا۔ (امثال ۱۴:۲۱؛ اعمال ۲۰:۳۵) مائیکل اور سائمن دونوں ہی اُس وقت کے منتظر ہیں جب بادشاہت کے تحت مسیح ”محتاج کو جب وہ فریاد کرے . . . چھڑائیگا“ اور کوئی نہیں کہے گا کہ ”مَیں بیمار ہوں“۔ (زبور ۷۲:۱۲؛ یسعیاہ ۳۳:۲۴) اُس وقت تک اگرچہ ہمیں کسی سے قرض کیلئے درخواست کرنا پڑتی ہے تو بھی ہمیں اپنی روش میں محتاط رہنا چاہئے۔
[فٹنوٹ]
a یہاں فرضی نام استعمال کئے گئے ہیں۔
[صفحہ 19 پر تصویر]
قرض کے معاہدے کو تحریری صورت دینا بےاعتمادی کا نہیں محبت کا ثبوت ہے