فرشتے کس طرح آپکی مدد کر سکتے ہیں
خدا کا کلام فرشتوں کے وجود کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ لاکھوںلاکھ روحانی خلائق موجود ہیں۔ یہوواہ کے خادم، دانیایل نے آسمانی چیزوں کی رویا دیکھی جسکی بابت اُس نے لکھا: ”ہزاروں ہزار اُسکی خدمت میں حاضر تھے اور لاکھوںلاکھ اُسکے حضور کھڑے تھے۔“—دانیایل ۷:۱۰۔
نوٹ کریں کہ دانیایل کا بیان ہمیں فرشتوں کی تعداد سے زیادہ کچھ بتاتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ فرشتے خدا کی خدمت کرتے ہیں۔ وہ اُسکے خادم ہیں۔ زبورنویس نے اس کی مطابقت میں حمدسرائی کی: ”اَے خداوند کے فرشتو! اُسکو مبارک کہو۔ تم جو زور میں بڑھ کر ہو اور اُسکے کلام کی آواز سنکر اُس پر عمل کرتے ہو۔ اَے خداوند کے لشکرو! سب اُس کو مبارک کہو۔ تم جو اُس کے خادم ہو اور اُس کی مرضی بجا لاتے ہو۔“—زبور ۱۰۳:۲۰، ۲۱۔
بائبل یہ بھی وضاحت کرتی ہے کہ فرشتوں کی زندگی کا آغاز زمین پر انسانوں کے طور پر نہیں ہوا تھا۔ یہوواہ نے زمین خلق کرنے سے پہلے آسمان میں فرشتوں کو بنایا۔ جب خدا نے ’زمین کی بنیاد ڈالی تو خدا کے سب روحانی بیٹے خوشی سے للکارتے تھے۔‘—ایوب ۳۸:۴-۷۔
فرشتے—نادیدہ، طاقتور، ذہین روحانی مخلوق ہیں۔ بائبل میں روحانی مخلوق کی نشاندہی کرنے والے عبرانی لفظ ملائک اور یونانی اصطلاح انگیلوس کا ترجمہ ”فرشتہ“ کِیا گیا ہے۔ بائبل میں یہ الفاظ تقریباً ۴۰۰ مرتبہ آتے ہیں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی ”پیامبر۔“
فرشتوں کا نمودار ہونا
فرشتے یقیناً پیامبر ہیں۔ آپ شاید بائبل کے اُس بیان سے واقف ہوں جب جبرائیل فرشتہ مریم کے پاس آیا تھا۔ اُس نے مریم کو بتایا کہ اگرچہ وہ کنواری ہے تو بھی اُس کے ہاں بیٹا ہوگا جسکا نام یسوع رکھنا۔ (لوقا ۱:۲۶-۳۳) میدان میں موجود بعض چرواہوں کو بھی ایک فرشتہ دکھائی دیا۔ اُس نے اعلان کِیا: ”آج . . . تمہارے لئے ایک منجّی پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند۔“ (لوقا ۲:۸-۱۱) اسی طرح فرشتوں نے ہاجرہ، ابرہام، لوط، یعقوب، موسیٰ، جدعون، یسوع اور بائبل ریکارڈ کے مطابق دیگر لوگوں تک پیغامات پہنچائے۔—پیدایش ۱۶:۷-۱۲؛ ۱۸:۱-۵، ۱۰؛ ۱۹:۱-۳؛ ۳۲:۲۴-۳۰؛ خروج ۳:۱، ۲؛ قضاۃ ۶:۱۱-۲۲؛ لوقا ۲۲:۳۹-۴۳؛ عبرانیوں ۱۳:۲۔
قابلِغور بات یہ ہے کہ فرشتوں کی معرفت دئے جانے والے یہ تمام پیغام انسانوں کی بجائے خدا کے مقاصد کی تکمیل سے ہمآہنگ تھے۔ فرشتے خدا کے نمائندوں کے طور پر، اُسکی مرضی اور وقت کے مطابق ظاہر ہوئے۔ انسانوں نے اُنہیں نہیں بلایا تھا۔
کیا ہمیں فرشتوں سے مدد مانگنی چاہئے؟
کیا مشکل وقت میں فرشتوں کو پکارنا موزوں ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقیناً ہم اُس فرشتے کا نام جاننا چاہینگے جو ہمیں بہترین مدد فراہم کر سکتا ہے۔ نتیجتاً بعض کمرشل کتابوں نے فرشتوں کے فرضی ناموں، عہدوں اور ذمہداریوں کی فہرست مرتب کی ہے۔ ایک کتاب جسکا نام ”دس بہترین فرشتے“ ہے اُن ناموں کی فہرست مہیا کرتی ہے جو ”مغربی دُنیا میں معروف فرشتے ہیں۔“ اس فہرست کیساتھ مشورہ دیا گیا ہے کہ اپنی آنکھیں بند کر لیں، فرشتے کے نام کو آہستہ آہستہ دہرائیں، لمبے لمبے سانس لیں اور ”اپنے آپ کو اُن سے رابطے کیلئے تیار کریں۔“
اس کے برعکس، بائبل ہمیں خدا کے صرف دو وفادار فرشتوں، میکائیل اور جبرائیل کے نام بتاتی ہے۔ (دانیایل ۱۲:۱؛ لوقا ۱:۲۶) ان فرشتوں کے نام بتانے کا مقصد ممکنہ طور پر یہ وضاحت کرنا ہے کہ ہر فرشتہ منفرد روحانی شخصیت اور نام رکھتا ہے اور محض غیرشخصی توانائی یا قوت نہیں ہے۔
یہ بات بھی قابلِغور ہے کہ بعض فرشتوں نے انسانوں پر اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب یعقوب نے ایک فرشتے سے اُسکے نام کی بابت استفسار کِیا تو اُس نے اپنا نام ظاہر نہیں کِیا تھا۔ (پیدایش ۳۲:۲۹) جب یشوع کے پاس ایک فرشتہ آیا اور یشوع نے اُس سے اپنی شناخت کروانے کیلئے کہا تو اُس نے صرف اتنا کہا کہ وہ ”خداوند کے لشکر کا سردار“ ہے۔ (یشوع ۵:۱۴) جب سمسون کے والدین نے فرشتے کا نام جاننا چاہا تو اُس نے کہا ”تُو کیوں میرا نام پوچھتا ہے کیونکہ وہ تو عجیب ہے؟“ (قضاۃ ۱۳:۱۷، ۱۸) فرشتوں کے ناموں کی فہرست فراہم نہ کرنے سے بائبل ہماری مدد کرتی ہے کہ ہم فرشتوں کو بیجا عزت دینے اور انکی پرستش کرنے سے بچ سکیں۔ نیز یہ ہمیں اُن سے التجا کرنے کی تاکید نہیں کرتی ہے جیساکہ ہم دیکھیں گے۔
خدا کو پکارنا
روحانی عملداری کے معاملات کی بابت ہمیں جتنا کچھ جاننے کی ضرورت ہے بائبل ہمیں وہ سب کچھ بتاتی ہے۔ پولس رسول نے لکھا: ”ہر ایک صحیفہ . . . خدا کے الہام سے ہے تعلیم . . . کے لئے فائدہمند بھی ہے۔ تاکہ مردِخدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) اگر خدا چاہتا کہ ہمیں فرشتوں کے نام معلوم ہوں تو یقیناً وہ اپنے کلام بائبل میں اُنہیں آشکارا کر دیتا۔ نیز اگر خدا چاہتا کہ ہمیں فرشتوں سے رابطہ کرنے اور اُن سے دُعا کرنے کے سلسلے میں ہدایات دے تو اُس نے صحائف میں ایسی معلومات فراہم کر دی ہوتیں۔
اس کی بجائے یسوع مسیح نے سکھایا: ”جب تُو دُعا کرے تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشیدگی میں ہے دُعا کر . . . پس تم اس طرح دُعا کیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔“ (متی ۶:۶، ۹) صحیفائی نقطۂنظر یہ ہے: ہمیں فرشتوں کو نہیں پکارنا اور نہ ہی اُن سے دُعا کرنی ہے بلکہ ہمیں خلوصدلی سے فرشتوں کے خالق، خدا کے پاس جانا چاہئے۔ اُسکا نام کوئی راز نہیں اور نہ ہی اُسے آشکارا کرنے کیلئے کسی رویا کی ضرورت ہے۔ اگرچہ الہٰی نام کو مٹانے کی کافی کوششیں کی گئی ہیں توبھی بائبل میں یہ نام کوئی ۷۰۰۰ مرتبہ آتا ہے۔ مثال کے طور پر، زبورنویس نے آسمانی باپ یہوواہ کی مدحسرائی کی: ”تُو ہی جسکا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“—زبور ۸۳:۱۸۔
یہوواہ کبھی بھی اتنا مصروف نہیں کہ اگر ہم صحیح طریقے سے اسکے حضور جائیں تو وہ ہماری نہ سنے۔ بائبل یقین دلاتی ہے: ”خداوند کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُنکی امداد میں جنکا دل اُسکی طرف کامل ہے اپنے تیئں قوی دکھائے۔“ (۲-تواریخ ۱۶:۹)
فرشتے اور معیار
ذرائعابلاغ جس طرح اکثر تصویرکشی کرتا ہے اس کے برعکس، فرشتے لوگوں کا انصاف نہیں کرتے۔ یہ مناسب ہے کہ فرشتوں کو انسانوں کا انصاف کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہوواہ ”سب کا منصف“ ہے اور اُس نے ”عدالت کا سارا کام“ اپنے بیٹے یسوع مسیح کے ”سپرد کیا ہے“۔ (عبرانیوں ۱۲:۲۳؛ یوحنا ۵:۲۲) تاہم، یہ فرض کر لینا بھی غلط ہو گا کہ فرشتوں کو ہمارے طرزِزندگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یسوع نے کہا: ”ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث خدا کے فرشتوں کے سامنے خوشی ہوتی ہے۔“—لوقا ۱۵:۱۰۔
فرشتے صرف بےکار کھڑے رہنے والے خدمتگزار نہیں ہیں۔ ماضی میں انہوں نے یہوواہ کی عدالتی کارروائی کے نتیجے میں سزا دینے والوں کے طور پر خدمت انجام دی۔ مثال کے طور پر، خدا نے قدیم مصریوں کے خلاف فرشتوں کو استعمال کِیا۔ زبور ۷۸:۴۹ کے مطابق، ”اُس نے عذاب کے فرشتوں کی فوج بھیج کر اپنے قہر کی شدت غیظوغضب اور بلا کو اُن پر نازل کِیا۔“ اسی طرح، بائبل بتاتی ہے کہ ایک فرشتے نے ایک ہی رات میں ۱،۸۵،۰۰۰ اسوری سپاہیوں کو ہلاک کر ڈالا۔—۲-سلاطین ۱۹:۳۵۔
اسی طرح مستقبل میں فرشتے اُن تمام لوگوں کو تباہ کر دینگے جو خدا کے راست معیاروں کی پیروی کرنے سے انکار کرتے ہوئے دوسروں کی فلاحوبہبود کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ یسوع ”اپنے قوی فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوگا۔ اور جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوؔع کی خوشخبری کو نہیں مانتے ان سے بدلہ لیگا۔“—۲-تھسلنیکیوں ۱:۷، ۸۔
پس صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ خدا کے وفادار فرشتے اُسکی ہدایات پر عمل کرنے اور اسکے راست معیاروں کو سربلند رکھنے سے ہمیشہ اُسکی مرضی بجا لاتے ہیں۔ واضح طور پر، اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا کے فرشتے ہماری مدد کریں تو ہمیں خدا کی مرضی کو جاننے اور اسے پورا کرنے کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔
محافظ فرشتے
کیا فرشتے لوگوں کی نگرانی کرتے اور انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں؟ پولس رسول نے پوچھا: ”کیا وہ سب خدمتگزار روحیں [فرشتے] نہیں جو نجات کی میراث پانے والوں کی خاطر خدمت کو بھیجی جاتی ہیں؟“ (عبرانیوں ۱:۴۱) واضح طور پر پولس کے سوال کا جواب ہاں ہے۔
بابلی بادشاہ نبوکدنضر کی نصبکردہ سونے کی مورت کو سجدہ کرنے سے انکار پر تین عبرانیوں سدرک، میسک اور عبدنجو کو تیز جلتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا گیا۔ تاہم آگ نے خدا کے ان وفادار خادموں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔ جب بادشاہ نے بھٹی پر نظر کی تو اُس نے ”چار آدمیوں“ کو دیکھا اور کہا ”چوتھے کی صورت الہٰزادہ کی سی ہے۔“ (دانیایل ۳:۲۵) چند سال بعد، دانیایل نے اپنی وفاداری کے باعث خود کو شیروں کی ماند میں پایا۔ وہ بھی محفوظ رہا اور بیان کِیا کہ ”میرے خدا نے اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے مُنہ بند کر دئے۔“—دانیایل ۶:۲۲۔
پہلی صدی س.ع. میں مسیح کے رسولوں کی کلیسیا کے قائم ہونے کیساتھ، فرشتے پھر ظاہر ہوئے اور رسولوں کو قید سے چھڑایا۔ (اعمال ۵:۱۷-۲۴؛ ۱۲:۶-۱۲) نیز جب سمندر میں پولس کی زندگی خطرے میں تھی تو ایک فرشتے نے اُسے یقین دلایا کہ وہ صحیحسلامت روم پہنچ جائیگا۔—اعمال ۲۷:۱۳-۲۴۔
آجکل یہوواہ کے خادم پوری طرح آگاہ ہیں کہ خدا کے نادیدہ فرشتوں کے لشکر حقیقی ہیں اور تحفظ فراہم کر سکتے ہیں جیساکہ اُنہوں نے الیشع اور اُسکے خادم کے سلسلے میں کِیا۔ (۲-سلاطین ۶:۱۵-۱۷) یقیناً ”خداوند سے ڈرنے والوں کی چاروں طرف اُسکا فرشتہ خیمہزن ہوتا ہے اور اُنکو بچاتا ہے۔“—زبور ۳۴:۷؛ ۹۱:۱۱۔
پیغام جو فرشتے لے جاتے ہیں
فرشتے اُن لوگوں کی فلاحوبہبود کی فکر رکھتے ہیں جو یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں، وہ اس بات کا خیال بھی رکھتے ہیں کہ لوگ یہوواہ اور اسکے مقاصد کی بابت سیکھیں۔ یوحنا رسول نے لکھا: ”مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان کے بیچ میں اڑتے ہوئے دیکھا جسکے پاس زمین کے رہنے والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اہلِزبان اور امت کے سنانے کے لئے ابدی خوشخبری تھی۔ اور اُس نے بڑی آواز سے کہا کہ خدا سے ڈرو اور اُسکی تمجید کرو۔“—مکاشفہ ۱۴:۶، ۷۔
کیا آپ اس ”ابدی خوشخبری“ کے نفسِمضمون کی بابت جاننا چاہینگے؟ اگر ایسا ہے تو یہوواہ کے گواہوں سے باتچیت کریں۔ وہ آپکو اس میں شریک کر کے خوش ہونگے۔
[صفحہ 7 پر تصویر]
ایک فرشتہ آسمان کے بیچ میں ابدی خوشخبری کا اعلان کر رہا ہے۔ کیا آپ اسکی بابت سیکھنا چاہتے ہیں؟