فرشتوں کا وجود
دو ہزار سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شہنشاہ تین آدمیوں کو موت کی سزا سناتا ہے اور اُنہیں آگ کی جلتی ہوئی بھٹی میں ڈالنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن ایک فرشتہ اُن تین آدمیوں کو موت کے منہ سے بچا لیتا ہے۔ اِس منظر کو دیکھ کر شہنشاہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ وہ اُن تین آدمیوں سے کہتا ہے: ’تمہارا خدا مبارک ہو جس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو رِہائی بخشی جنہوں نے اُس پر توکل کِیا۔‘ (دانیایل ۳:۲۸) قدیم زمانے میں لاکھوں لوگ فرشتوں کے وجود کو مانتے تھے۔ آج بہتیرے نہ صرف یہ مانتے ہیں کہ فرشتوں کا وجود ہے بلکہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ اُنکی زندگیوں پر اثر کرتے ہیں۔
خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ آسمان پر خدا کیساتھ کروڑوں فرشتے رہتے ہیں۔ (مکاشفہ ۵:۱۱) یہ تمام فرشتے ”زور میں بڑھ کر“ ہیں۔ (زبور ۱۰۳:۲۰) جسطرح ہم خدا کو نہیں دیکھ سکتے اُسی طرح ہم فرشتوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ انسانوں کی طرح فرشتوں کی بھی اپنی اپنی شخصیت ہوتی ہے اور وہ اچھے بُرے کی پہچان بھی رکھتے ہیں۔ انسان اور زمین کو خلق کرنے سے بہت پہلے خدا نے فرشتوں کو خلق کِیا تھا۔ خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ جب خدا نے ”زمین کی بنیاد ڈالی“ تھی تو ”صبح کے ستارے [یعنی فرشتے] ملکر گاتے تھے اور خدا کے سب بیٹے خوشی سے للکارتے تھے۔“ (ایوب ۳۸:۴، ۷) چونکہ خدا نے فرشتوں کو خلق کِیا ہے اِس لئے وہ اُس کے بیٹے کہلاتے ہیں۔
خدا نے فرشتوں کو کس مقصد کے لئے خلق کِیا تھا؟ فرشتوں نے انسانی تاریخ میں کون سا کردار ادا کِیا ہے؟ کیا شیطان کی طرح اَور فرشتوں نے بھی خود کو خدا کا دُشمن بنا لیا ہے؟ خدا کا کلام آپ کو اِن سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔