خدا کیساتھ ساتھ چلنا—ابتدائی اقدام
”خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئیگا۔“—یعقوب ۴:۸۔
۱، ۲. آپ کے خیال میں یہوواہ کی خدمت کرنا عظیم شرف کیوں ہے؟
اُس شخص نے کئی سال تک قید میں تکلیف اُٹھائی۔ اسکے بعد اُسے ملک کے حکمران کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا۔ حالات بڑی تیزی سے بدلے۔ جلد ہی وہ قیدی اُس وقت زمین کے سب سے طاقتور حاکم کے حضور خدمت کرنے لگا۔ اُس سابقہ قیدی کو بھاری ذمہداری سونپ کر نہایت ممتاز رُتبے پر فائز کر دیا گیا۔ یوسف، جسکے پاؤں کبھی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے، اب بادشاہ کا رفیق تھا!—پیدایش ۴۱:۱۴، ۳۹-۴۳؛ زبور ۱۰۵:۱۷، ۱۸۔
۲ آجکل، انسانوں کو مصر کے فرعون سے کہیں اعلیٰوبالا ہستی کی خدمت کرنے کا موقع حاصل ہے۔ کائنات کا حاکمِاعلیٰ ہم سب کو اپنی خدمت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قادرِمطلق خدا، یہوواہ کی خدمت کرنا اور اُس سے قریبی رشتہ رکھنا کیا ہی تعجبانگیز شرف ہے! صحائف میں، عظیم قدرت اور شانوشوکت نیز متانت، جمال اور بشاشت کو اُسی سے منسوب کِیا گیا ہے۔ (حزقیایل ۱:۲۶-۲۸؛ مکاشفہ ۴:۱-۳) اُسکے تمام کاموں سے محبت نمایاں ہے۔ (۱-یوحنا ۴:۸) وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ (گنتی ۲۳:۱۹) نیز یہوواہ اپنے وفاداروں کو کبھی مایوس بھی نہیں کرتا۔ (زبور ۱۸:۲۵) اُسکے راست تقاضوں کو پورا کرنے سے ہم ہمیشہ کی زندگی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اب خوشحال، بامقصد زندگی سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں۔ (یوحنا ۱۷:۳) کوئی بھی انسانی حکمران ایسی چیز پیش نہیں کر سکتا جو اِن برکات اور استحقاقات کے ذرا برابر ہو۔
۳. نوح کس طرح ’سچے خدا کیساتھ ساتھ چلتا رہا‘؟
۳ مدتوں پہلے، آبائی بزرگ نوح نے خدا کی مرضی اور مقصد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عزم کِیا۔ بائبل اُس کی بابت بیان کرتی ہے: ”نوؔح مردِراستباز اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بےعیب تھا اور نوؔح خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔“ (پیدایش ۶:۹) بِلاشُبہ، نوح حقیقت میں یہوواہ کے ساتھ ساتھ نہیں چلتا تھا کیونکہ کسی انسان نے ”خدا کو . . . کبھی نہیں دیکھا۔“ (یوحنا ۱:۱۸) اس کے برعکس، نوح اس مفہوم میں خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا کہ اُس نے خدا کی ہر بات پر عمل کِیا۔ اپنی زندگی یہوواہ کی مرضی بجا لانے کے لئے وقف کر دینے سے نوح قادرِمطلق خدا کے ساتھ پُرتپاک، قریبی رشتے سے محظوظ ہوا۔ نوح کی طرح، لاکھوں لوگ یہوواہ کی مشورت اور ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے سے آجکل ’خدا کے ساتھ ساتھ چل‘ رہے ہیں۔ ایک شخص ایسی روش کیسے اختیار کر سکتا ہے؟
صحیح علم ضروری ہے
۴. یہوواہ اپنے لوگوں کی ہدایت کیسے کرتا ہے؟
۴ یہوواہ کیساتھ چلنے کیلئے سب سے پہلے اُس سے واقف ہونا بہت ضروری ہے۔ یسعیاہ نبی نے بیان کِیا: ”آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کِیا جائیگا اور ٹیلوں سے بلند ہوگا اور سب قومیں وہاں پہنچیں گی۔ بلکہ بہت سی اُمتیں آئینگی اور کہینگی آؤ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوؔب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہمکو بتائیگا اور ہم اُسکے راستوں پر چلینگے کیونکہ شریعت صیوؔن سے اور خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا کلام یرؔوشلیم سے صادر ہوگا۔“ (یسعیاہ ۲:۲، ۳) جیہاں، ہم پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ اُن تمام لوگوں کو ہدایت دیگا جو اُسکی راہوں پر چلنے کے خواہاں ہیں۔ یہوواہ نے اپنا کلام، بائبل مہیا کِیا ہے اور اسے سمجھنے کیلئے ہماری مدد بھی کرتا ہے۔ ایسا کرنے کیلئے اُسکا ایک ذریعہ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) یہوواہ بائبل پر مبنی مطبوعات، مسیحی اجلاس اور مُفت گھریلو بائبل مطالعے کے بندوبست کے ذریعے روحانی تعلیموتربیت فراہم کرنے کیلئے ’دیانتدار نوکر‘ کو استعمال کرتا ہے۔ خدا اپنی رُوحاُلقدس کے ذریعے بھی اپنا کلام سمجھنے کیلئے اپنے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۲:۱۰-۱۶۔
۵. صحیفائی سچائی اتنی انمول کیوں ہے؟
۵ اگرچہ ہم بائبل سچائی کی کوئی قیمت ادا نہیں کرتے تو بھی یہ انمول ہے۔ جب ہم خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم خدا کی ذات—اُسکے نام، اُسکی شخصیت، اُسکے مقصد اور انسانوں کیساتھ اُسکے حسنسلوک—کی بابت سیکھتے ہیں۔ ہمیں زندگی کے بنیادی سوالات سے آزادی دلانے والے جوابات بھی حاصل ہوتے ہیں جیسےکہ: ہم یہاں کیوں ہیں؟ خدا تکلیف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟ ہم کیوں بوڑھے ہوتے اور مرتے ہیں؟ کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ مزیدبرآں، ہم سیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے خدا کی مرضی کیا ہے یعنی اُسے خوش کرنے کیلئے ہمیں کیسے عمل کرنا چاہئے۔ ہم سیکھتے ہیں کہ اُسکے تقاضے معقول ہیں اور جب ہم اُن کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں تو یہ حیرانکُن حد تک مفید ثابت ہوتے ہیں۔ خدا کی ہدایت کے بغیر ہم ایسی باتیں کبھی نہیں سمجھ سکتے۔
۶. صحیح علم ہمیں کونسی روِش اختیار کرنے کے قابل بناتا ہے؟
۶ بائبل سچائی طاقتور ہے اور ہمیں اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) صحائف کا علم حاصل کرنے سے پہلے، ہم ”دُنیا کی روش“ پر چلتے تھے۔ (افسیوں ۲:۲) تاہم، خدا کے کلام کا صحیح علم ہمارے لئے بالکل مختلف روش کی خاکہکشی کرتا ہے تاکہ ہمارا ”چالچلن خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے لائق ہو اور اُسکو ہر طرح سے پسند آ“ سکے۔ (کلسیوں ۱:۱۰) کُل کائنات کی سب سے عظیموجلیل ہستی، یہوواہ کیساتھ ساتھ چلنے میں ابتدائی قدم اُٹھانا کتنی خوشی کی بات ہے!—لوقا ۱۱:۲۸۔
دو اہم اقدام—مخصوصیت اور بپتسمہ
۷. جب ہم خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو انسانی پیشوائی کی بابت کونسی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے؟
۷ جب ہم بائبل کی سمجھ میں ترقی کرتے جاتے ہیں تو ہم انسانی امور اور اپنی ذاتی زندگیوں کا خدا کے کلام کی روحانی روشنی میں جائزہ لینے لگتے ہیں۔ اسطرح ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ اس حقیقت کو یرمیاہ نبی نے بہت عرصہ پہلے یوں بیان کِیا: ”اَے خداوند! مَیں جانتا ہوں کہ انسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) ہم سب انسانوں کو خدا کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔
۸. (ا) کونسی چیز لوگوں کو خدا کیلئے مخصوصیت کرنے کی تحریک دیتی ہے؟ (ب) مسیحی مخصوصیت کیا ہے؟
۸ اس نہایت اہم حقیقت کو سمجھ لینے سے ہمیں یہوواہ سے راہنمائی حاصل کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ لہٰذا خدا کیلئے ہماری محبت ہمیں اپنی زندگی اُس کیلئے مخصوص کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ خدا کیلئے مخصوصیت کرنے کا مطلب دُعا میں سنجیدگی کیساتھ اُس سے یہ وعدہ کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی اُسکی خدمت کیلئے استعمال کرینگے اور وفاداری سے اُسکی راہوں پر چلینگے۔ ایسا کرنے سے، ہم یسوع کی نقل کرتے ہیں جس نے الہٰی مرضی کو بجا لانے کے پُختہ عزم کیساتھ خود کو یہوواہ کے حضور پیش کِیا تھا۔—عبرانیوں ۱۰:۷۔
۹. لوگ یہوواہ کیلئے اپنی زندگی کیوں مخصوص کرتے ہیں؟
۹ یہوواہ خدا کبھی بھی کسی کو زبردستی یا دباؤ ڈال کر مخصوصیت کی طرف مائل نہیں کرتا۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۹:۷۔) مزیدبرآں، خدا کسی بھی شخص سے یہ توقع نہیں کرتا کہ وہ کسی عارضی جذبے کے تحت اپنی زندگی اُس کیلئے مخصوص کرے۔ بپتسمہ لینے سے پہلے ہی ایک شخص کو شاگرد ہونا چاہئے جو علم حاصل کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) پولس نے پہلے ہی سے بپتسمہیافتہ لوگوں سے التماس کی کہ ’اپنے بدن زندہ، پاک اور خدا کو پسندیدہ قربانی کے طور پر پیش کریں کیونکہ یہی قوتِاستدلال کیساتھ اُنکی پاک خدمت ہوگی۔‘ (رومیوں ۱۲:۱) اپنی قوتِاستدلال سے ہی ہم یہوواہ خدا کیلئے مخصوصیت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسکے تمام تقاضوں کو جاننے اور اس معاملے پر اچھی طرح سوچبچار کرنے کے بعد ہم رضامندی اور خوشی سے اپنی زندگی خدا کیلئے مخصوص کرتے ہیں۔—زبور ۱۱۰:۳۔
۱۰. مخصوصیت بپتسمے سے کیسے وابستہ ہے؟
۱۰ خلوت میں دُعا کے ذریعے خدا کے سامنے اُسکی راہوں پر چلنے کے عزم کا اظہار کرنے کے بعد ہم اگلا قدم اُٹھاتے ہیں۔ ہم پانی میں بپتسمہ لیکر اپنی مخصوصیت کا علانیہ اظہار کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی عوامی شہادت ہے کہ ہم نے خدا کی مرضی بجا لانے کا عہد کر لیا ہے۔ اپنی زمینی خدمت کے شروع میں یسوع نے یوحنا سے بپتسمہ لیکر ہمارے لئے ایک نمونہ قائم کِیا۔ (متی ۳:۱۳-۱۷) بعدازاں، یسوع نے اپنے پیروکاروں کو شاگرد بنانے اور اُنہیں بپتسمہ دینے کا حکم دیا۔ اسلئے، یہوواہ کیساتھ ساتھ چلنے کے خواہشمند ہر شخص کیلئے مخصوصیت اور بپتسمہ نہایت اہم اقدام ہیں۔
۱۱، ۱۲. (ا) بپتسمے کا شادی سے کیسے موازنہ کِیا جا سکتا ہے؟ (ب) یہوواہ کیساتھ ہمارے رشتے اور شوہر اور بیوی کے مابین پائے جانے والے رشتے میں کیا مماثلت دیکھی جا سکتی ہے؟
۱۱ یسوع مسیح کا مخصوص، بپتسمہیافتہ شاگرد بننا کسی حد تک شادی کرنے کے مترادف ہے۔ بیشتر ممالک میں، شادی سے قبل کئی اقدام کرنے پڑتے ہیں۔ مرد اور عورت ملتے ہیں، ایک دوسرے سے واقفیت پیدا کرتے ہیں اور پھر محبت کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ اسکے بعد منگنی ہوتی ہے۔ شادی پوشیدگی میں کئے گئے اس فیصلے کا علانیہ اظہار ہوتی ہے کہ وہ دونوں ازدواجی بندھن میں شوہر اور بیوی کے طور پر ملکر رہینگے۔ شادی ہی سب کے سامنے اس خاص رشتے کے آغاز کا نشان ہوتی ہے۔ وہ تاریخ ازدواجی رشتے کی ابتدا کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح، بپتسمہ ایسی عقیدتمندانہ زندگی کے آغاز کی علامت ہوتا ہے جس میں آپ یہوواہ کیساتھ مخصوص رشتے میں چلینگے۔
۱۲ ایک اَور مماثلت پر غور کیجئے۔ شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے مابین محبت گہری اور پُختہ ہونی چاہئے۔ ایک دوسرے کے زیادہ سے زیادہ قریب آنے کیلئے دونوں بیاہتا ساتھیوں کو اپنے ازدواجی بندھن کو مضبوط اور قائم رکھنے کیلئے بےغرضانہ کوشش کرنی چاہئے۔ اگرچہ ہم خدا کیساتھ ازدواجی رشتے میں تو داخل نہیں ہوتے توبھی اپنے بپتسمے کے بعد ہمیں یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ قائم رکھنے کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ اُسکی مرضی بجا لانے کیلئے ہم جوبھی کوششیں کرتے ہیں وہ اُنہیں دیکھتا اور سراہتا ہے اور ہمارے نزدیک آ جاتا ہے۔ ”خدا کے نزدیک جاؤ،“ شاگرد یعقوب نے لکھا، ”تو وہ تمہارے نزدیک آئیگا۔“—یعقوب ۴:۸۔
یسوع کے نقشِقدم پر چلنا
۱۳. خدا کیساتھ ساتھ چلنے کے سلسلے میں ہمیں کس کے نمونے کی پیروی کرنی چاہئے؟
۱۳ یہوواہ کیساتھ ساتھ چلنے کیلئے ہمیں یسوع مسیح کے نمونے کی پیروی کرنی چاہئے۔ پطرس رسول نے لکھا: ”تم اِسی کے لئے بلائے گئے ہو کیونکہ مسیح بھی تمہارے واسطے دکھ اُٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تاکہ اُسکے نقشِقدم پر چلو۔“ (۱-پطرس ۲:۲۱) یسوع تو کامل تھا مگر ہم ناکامل ہیں اسلئے ہم اُسکے قائمکردہ نمونے کی پوری طرح پیروی نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہوواہ ہم سے مقدوربھر کوشش کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ آئیے یسوع کی زندگی اور خدمتگزاری کے پانچ ایسے پہلوؤں پر غور کریں جنکی مخصوص مسیحیوں کو نقل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
۱۴. خدا کے کلام کو جاننے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۴ یسوع خدا کے کلام کا صحیح اور جامع علم رکھتا تھا۔ اپنی خدمتگزاری کے دوران یسوع نے اکثروبیشتر عبرانی صحائف سے حوالہجات پیش کئے۔ (لوقا ۴:۴، ۸) بِلاشُبہ، اُس زمانے کے شریر مذہبی پیشوا بھی صحائف سے حوالے پیش کرتے تھے۔ (متی ۲۲:۲۳، ۲۴) فرق یہ تھا کہ یسوع صحائف کے مفہوم کو سمجھتا تھا اور اُنکا اطلاق اپنی زندگی میں کرتا تھا۔ وہ شریعت کے لفظی مفہوم کو ہی نہیں بلکہ اُسکے حقیقی مفہوم کو بھی سمجھتا تھا۔ مسیح کے نمونے کی پیروی میں ہمیں بھی خدا کے کلام کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم الہٰی طور پر ایسے مقبول کارکُن بن سکتے ہیں جو ’کلامِحق کو درستی سے استعمال کرنے‘ کے لائق ہیں۔—۲-تیمتھیس ۲:۱۵۔
۱۵. خدا کی بابت کلام کرنے میں یسوع نے کیسے نمونہ قائم کِیا؟
۱۵ مسیح یسوع نے اپنے آسمانی باپ کی بابت دوسروں سے کلام کِیا۔ یسوع نے خدا کے کلام کا علم صرف اپنے تک محدود نہ رکھا۔ اُسکے تو دشمن بھی اُسے ”اُستاد“ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ وہ جہاں کہیں بھی جاتا دوسروں سے یہوواہ اور اُسکے مقاصد کی بابت گفتگو کرتا تھا۔ (متی ۱۲:۳۸) یسوع نے ہیکل کے احاطہ میں، عبادتخانوں میں، شہروں میں اور دیہاتوں میں علانیہ منادی کی۔ (مرقس ۱:۳۹؛ لوقا ۸:۱؛ یوحنا ۱۸:۲۰) اُس نے بڑی محبت سے لوگوں کی مدد کی اور اُنہیں رحم اور شفقت سے تعلیم دی۔ (متی ۴:۲۳) یسوع کے نمونے کی نقل کرنے والے لوگ بھی دوسروں کو یہوواہ خدا اور اُسکے شاندار مقاصد کی تعلیم دینے کے بہت سے مواقع اور طریقے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
۱۶. یہوواہ کے پرستاروں کیساتھ یسوع کتنا قریبی رشتہ رکھتا تھا؟
۱۶ یسوع نے یہوواہ کی پرستش کرنے والوں کیساتھ قریبی رشتہ رکھا۔ ایک مرتبہ جب یسوع بِھیڑ سے مخاطب تھا تو اُسکی ماں اور اُسکے بھائی جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے اُس سے ملنے کیلئے آئے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”کسی نے اُس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اُس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟ اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے۔“ (متی ۱۲:۴۷-۵۰) اسکا یہ مطلب نہیں کہ یسوع نے اپنے خاندان کو رد کر دیا تھا کیونکہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اُس نے درحقیقت ایسا نہیں کِیا تھا۔ (یوحنا ۱۹:۲۵-۲۷) تاہم، یہ بیان اُس محبت کو اُجاگر کرتا ہے جو یسوع اپنے ساتھی ایمانداروں کیلئے رکھتا تھا۔ اسی طرح آجکل بھی خدا کیساتھ ساتھ چلنے والے یہوواہ کے دیگر خادموں کی رفاقت چاہتے ہیں اور اُن سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔—۱-پطرس ۴:۸۔
۱۷. یسوع نے اپنے آسمانی باپ کی مرضی بجا لانے کی بابت کیسا محسوس کِیا اور اسے ہم پر کیسے اثرانداز ہونا چاہئے؟
۱۷ الہٰی مرضی بجا لانے سے یسوع نے اپنے آسمانی باپ کیلئے محبت دکھائی۔ یسوع نے ہر بات میں یہوواہ کی اطاعت کی۔ اُس نے کہا: ”میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُسکا کام پورا کروں۔“ (یوحنا ۴:۳۴) مسیح نے یہ بھی کہا: ”مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو [خدا کو] پسند آتے ہیں۔“ (یوحنا ۸:۲۹) یسوع اپنے آسمانی باپ سے اسقدر محبت کرتا تھا کہ اُس نے ”اپنے آپ کو پست کر دیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔“ (فلپیوں ۲:۸) اسکے عوض یہوواہ نے بھی یسوع کو بہت برکت بخشی اور اُسے اپنے بعد اختیار اور جلال والا مرتبہ عطا کِیا۔ (فلپیوں ۲:۹-۱۱) یسوع کی طرح، ہم بھی خدا کے حکموں کی پابندی کرنے اور اُسکی مرضی بجا لانے سے اُس کیلئے اپنی محبت ظاہر کرتے ہیں۔—۱-یوحنا ۵:۳۔
۱۸. دُعا کے معاملے میں یسوع نے کیسے نمونہ قائم کِیا؟
۱۸ یسوع دُعاگو شخص تھا۔ اُس نے اپنے بپتسمے کے موقع پر دُعا کی۔ (لوقا ۳:۲۱) اپنے ۱۲ رسولوں کا انتخاب کرنے سے پہلے اُس نے ساری رات دُعا کرنے میں گزار دی۔ (لوقا ۶:۱۲، ۱۳) یسوع نے اپنے شاگردوں کو دُعا کرنا سکھایا۔ (لوقا ۱۱:۱-۴) اپنی موت سے پہلے کی رات یسوع نے اپنے شاگردوں کیساتھ ملکر اُن کیلئے دُعا کی۔ (یوحنا ۱۷:۱-۲۶) دُعا یسوع کی زندگی کا اہم حصہ تھی اور اُسکے پیروکار ہونے کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بھی اسے ایسا ہی مقام حاصل ہونا چاہئے۔ دُعا میں کائنات کے حاکمِاعلیٰ سے مخاطب ہونا کتنا بڑا اعزاز ہے! مزیدبرآں، یہوواہ دُعاؤں کا جواب دیتا ہے کیونکہ یوحنا نے لکھا: ”ہمیں جو اُسکے سامنے دلیری ہے اُسکا سبب یہ ہے کہ اگر اُسکی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے۔ اور جب ہم جانتے ہیں کہ جوکچھ ہم مانگتے ہیں وہ ہماری سنتا ہے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جوکچھ ہم نے اُس سے مانگا ہے وہ پایا ہے۔“—۱-یوحنا ۵:۱۴، ۱۵۔
۱۹. (ا) ہمیں یسوع کی کن صفات کی نقل کرنی چاہئے؟ (ب) یسوع کی زندگی اور خدمتگزاری کا مطالعہ کرنے سے ہم کن طریقوں سے مستفید ہو سکتے ہیں؟
۱۹ یسوع مسیح کی زمینی زندگی اور خدمتگزاری کے قریبی جائزے سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے! اُس نے جن صفات کا مظاہرہ کِیا ذرا اُن پر غور کیجئے: محبت، رحم، مہربانی، قوت، توازن، معقولیت، فروتنی، ہمت اور بےغرضی۔ جتنا زیادہ ہم یسوع کی بابت سیکھتے ہیں اُسکے وفادار پیروکار بننے کیلئے ہماری خواہش اُتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ یسوع کی بابت علم ہمیں اَور بھی زیادہ یہوواہ کے نزدیک لیجاتا ہے۔ بہرصورت، یسوع اپنے آسمانی باپ کا کامل عکس تھا۔ وہ یہوواہ کے اسقدر قریب تھا کہ وہ کہہ سکتا تھا: ”جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔“—یوحنا ۱۴:۹۔
سہارے کیلئے خدا پر توکل کریں
۲۰. ہم یہوواہ کے ساتھ ساتھ چلنے کے سلسلے میں اعتماد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
۲۰ جب بچے چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو اُنکے قدم لڑکھڑاتے ہیں۔ وہ اعتماد کیساتھ چلنا کیسے سیکھتے ہیں؟ مشق اور مستقلمزاجی سے۔ لہٰذا، یہوواہ کیساتھ چلنے والے بااعتماد، مستقل رفتار سے چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کیلئے بھی وقت اور مستقلمزاجی کی ضرورت ہے۔ پولس نے خدا کے ساتھ چلنے میں مستقلمزاجی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے لکھا: ”غرض اَے بھائیو! ہم تُم سے درخواست کرتے ہیں اور خداوند یسوؔع میں تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ جس طرح تُم نے ہم سے مناسب چال چلنے اور خدا کو خوش کرنے کی تعلیم پائی اور جس طرح تُم چلتے بھی ہو اُسی طرح اَور ترقی کرتے جاؤ۔“—۱-تھسلنیکیوں ۴:۱۔
۲۱. جب ہم یہوواہ کیساتھ چلتے ہیں تو ہم کن برکات سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں؟
۲۱ اگر ہم مکمل طور پر یہوواہ کیلئے وقف ہیں تو وہ اپنے ساتھ چلنے میں ہماری مدد کریگا۔ (یسعیاہ ۴۰:۲۹-۳۱) دُنیا کی کوئی بھی چیز اُن برکات کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو وہ اپنی راہوں پر چلنے والوں کو عطا کرتا ہے۔ ’وہی ہمیں مفید تعلیم دیتا ہے اور جو راہ ہمارے لئے درست ہے اُسی پر ہمیں لے چلتا ہے۔ علاوہازیں، اگر ہم اُسکے احکام پر دھیان دیں تو ہماری سلامتی دریا کی مانند اور ہماری صداقت سمندر کی موجوں کی مانند ہوگی۔‘ (یسعیاہ ۴۸:۱۷، ۱۸) خدا کیساتھ چلنے کی دعوت قبول کرنے اور پھر وفاداری سے اُس کیساتھ چلتے رہنے سے ہم ہمیشہ تک اُسکی سلامتی سے لطف اُٹھا سکیں گے۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
◻خدائےبرحق کیساتھ ساتھ چلنا ایک اعزاز کیوں ہے؟
◻مطالعہ، مخصوصیت اور بپتسمہ یہوواہ کیساتھ ساتھ چلنے کے ابتدائی اقدام کیوں ہیں؟
◻ہم یسوع کے نقشِقدم پر کیسے چل سکتے ہیں؟
◻ہم کیسے جانتے ہیں کہ جب ہم یہوواہ کیساتھ ساتھ چلیں گے تو وہ ہمیں سنبھالیگا؟
[صفحہ 11 پر تصویر]
مطالعہ، مخصوصیت اور بپتسمہ خدا کیساتھ ساتھ چلنے کے ابتدائی اقدام ہیں