یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏11 ص.‏ 22-‏26
  • کیا آپ کا کام آگ کے سامنے قائم رہیگا؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ کا کام آگ کے سامنے قائم رہیگا؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • درست بنیاد ڈالنا
  • درست سامان سے تعمیر کرنا
  • کیا آپ کا کام آگ کے سامنے قائم رہیگا؟‏
  • ذمہ‌دار کون ہے؟‏
  • یہوواہ کی قربت میں آنے کیلئے لوگوں کی مدد کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • اپنی نجات کے کام کئے جاؤ!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏11 ص.‏ 22-‏26

کیا آپ کا کام آگ کے سامنے قائم رہیگا؟‏

‏”‏ہر ایک خبردار رہے کہ [‏بنیاد پر]‏ کیسی عمارت اُٹھاتا ہے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۰‏، این‌ڈبلیو۔‏

۱.‏ وفادار مسیحی امکانی شاگردوں کی بابت کیا اُمید رکھتے ہیں؟‏

ایک بیاہتا مسیحی جوڑا اپنے نوزاد بچے کو غور سے دیکھتا ہے۔ ایک بادشاہتی مبشر کو ایک بائبل طالبعلم کے چہرے پر دلچسپی کے آثار نظر آتے ہیں۔ پلیٹ‌فارم سے تعلیم دیتے ہوئے ایک مسیحی بزرگ سامعین میں ایک نئے دلچسپی رکھنے والے شخص پر غور کرتا ہے جو اشتیاق سے اپنی بائبل میں صحائف دیکھتا ہے۔ یہوواہ کے ان وفادار خادموں کے دل پُراُمید ہیں۔ وہ یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آیا ’‏یہ شخص یہوواہ سے محبت اور اُسکی خدمت کریگا—‏اور وفادار رہیگا؟‘‏ بِلاشُبہ ایسا نتیجہ ازخود حاصل نہیں ہوتا۔ یہ کام کا متقاضی ہے۔‏

۲.‏ پولس رسول نے عبرانی مسیحیوں کو تعلیم دینے کے کام کی اہمیت کی یاددہانی کس طرح کرائی اور یہ ہمیں اپنا کونسا ذاتی تجزیہ کرنے کی تحریک دیتا ہے؟‏

۲ ایک ماہر اُستاد کے طور پر پولس رسول نے خود تعلیم دینے اور شاگرد بنانے کے کام کی اہمیت کو اُجاگر کِیا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏وقت کے خیال سے تو تمہیں اُستاد ہونا چاہئے تھا۔“‏ (‏عبرانیوں ۵:‏۱۲‏)‏ مسیحی جن سے پولس مخاطب تھا، جتنی دیر سے وہ ایمان لا چکے تھے اُسکی نسبت اُنہوں نے بہت کم ترقی کی تھی۔ دوسروں کو سکھانے کیلئے تیار ہونا تو درکنار اُنہیں تو سچائی کی بنیادی باتوں کی یاددہانی کرانے کی ضرورت تھی۔ آجکل ہم سب وقتاًفوقتاً تعلیم دینے کی اپنی قابلیت کا انداز لگا کر اچھا کرتے ہیں کہ ہم کیسے بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔ زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

۳.‏ (‏ا)‏ پولس رسول نے ایک مسیحی شاگرد بنانے کے کام کا موازنہ کس چیز سے کِیا؟ (‏ب)‏ مسیحی معماروں کے طور پر ہمیں کیا شرف حاصل ہے؟‏

۳ ایک توسیعی تمثیل میں پولس نے شاگرد بنانے کے کام کو عمارت تعمیر کرنے کے کام سے تشبِیہ دی۔ اُس نے اس طرح اپنی بات‌چیت شروع کی:‏ ”‏ہم خدا کے ساتھ کام کرنے والے ہیں۔ تم خدا کی کھیتی اور خدا کی عمارت ہو۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۹‏)‏ لہٰذا ہم لوگوں پر مشتمل ایک تعمیری کام میں حصہ لیتے ہیں؛ ہم اُنکی مسیح کے شاگرد بننے میں مدد کرتے ہیں۔ ہم اُس ہستی کے ساتھی کارکنوں کے طور پر کام کرتے ہیں ”‏جس نے سب چیزیں بنائیں۔“‏ (‏عبرانیوں ۳:‏۴‏)‏ کیا ہی شاندار استحقاق!‏ آئیے دیکھیں کہ کرنتھیوں کیلئے پولس کی الہامی مشورت ہمیں اپنے کام کیلئے زیادہ ماہر بننے میں کیسے مدد دے سکتی ہے۔ ہم خاص طور پر ”‏تعلیم دینے کے فن“‏ پر توجہ مرکوز رکھینگے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۲‏، این‌ڈبلیو۔‏

درست بنیاد ڈالنا

۴.‏ (‏ا)‏ مسیحی کلیسیا کی تعمیر میں پولس کا کیا کردار تھا؟ (‏ب)‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ یسوع اور اُس کے سامعین دونوں اچھی بنیادوں کی اہمیت سے واقف تھے؟‏

۴ ایک مستحکم اور پائیدار عمارت کیلئے اچھی بنیاد کی ضرورت ہے۔ لہٰذا پولس نے لکھا:‏ ”‏مَیں نے اُس توفیق کے موافق جو خدا نے مجھے بخشی دانا معمار کی طرح نیو رکھی۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۰‏)‏ اسی طرح کی تمثیل استعمال کرتے ہوئے یسوع مسیح نے بیان کِیا گھر کے معمار کے ٹھوس بنیاد کا انتخاب کرنے کی وجہ سے ایک گھر طوفان سے محفوظ رہا۔ (‏لوقا ۶:‏۴۷-‏۴۹‏)‏ یسوع بنیاد کی اہمیت سے پوری طرح واقف تھا۔ وہ زمین کی بنیاد رکھتے وقت یہوواہ کے ساتھ موجود تھا۔‏a (‏امثال ۸:‏۲۹-‏۳۱‏)‏ یسوع کے سامعین بھی اچھی بنیادوں کی اہمیت سے واقف تھے۔ فلسطین میں بعض‌اوقات رونما ہونے والے شدید طوفانِ‌بادوباراں اور زلزلوں کے مقابل مضبوط بنیادوں پر استوار مکان ہی قائم رہ سکتے تھے۔ تاہم پولس کے ذہن میں کونسی بنیاد تھی؟‏

۵.‏ مسیحی کلیسیا کی بنیاد کون ہے اور اسکی کیسے پیشینگوئی کی گئی تھی؟‏

۵ پولس نے لکھا:‏ ”‏کیونکہ سوا اُس نیو کے جو پڑی ہوئی ہے اور وہ یسوؔع مسیح ہے کوئی شخص دوسری نہیں رکھ سکتا۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۱‏)‏ یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ یسوع کو بنیاد سے تشبِیہ دی گئی تھی۔ درحقیقت یسعیاہ ۲۸:‏۱۶ نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏اسلئے خداوند یوں فرماتا ہے۔ دیکھو مَیں صیوؔن میں بنیاد کے لئے ایک پتھر رکھونگا۔ آزمودہ پتھر۔ محکم بنیاد کے لئے کونے کے سرے کا قیمتی پتھر۔“‏ یہوواہ کا بہت پہلے سے مقصد تھا کہ اُسکا بیٹا مسیحی کلیسیا کی بنیاد بنے۔—‏زبور ۱۱۸:‏۲۲؛‏ افسیوں ۲:‏۱۹-‏۲۲؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۴-‏۶‏۔‏

۶.‏ پولس نے کرنتھس کے مسیحیوں کیلئے مناسب بنیاد کیسے ڈالی تھی؟‏

۶ انفرادی طور پر مسیحیوں کیلئے کیا بنیاد ہے؟ جیسے پولس رسول نے کہا سچے مسیحیوں کیلئے خدا کے کلام—‏یسوع مسیح میں ڈالی گئی بنیاد کے علاوہ کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یقیناً پولس نے ایسی ہی بنیاد ڈالی تھی۔ پولس نے کرنتھس میں لوگوں کو دُنیاوی حکمت سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کی جہاں پر فلسفے کو معتبر خیال کِیا جاتا تھا۔ اسکے برعکس پولس نے ”‏مسیح مصلوب“‏ کی منادی کی جسے قوموں نے ”‏بیوقوفی“‏ خیال کِیا۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۳‏)‏ پولس نے تعلیم دی کہ یہوواہ کے مقاصد میں یسوع کا مرکزی کردار ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۰؛‏ کلسیوں ۲:‏۲، ۳‏۔‏

۷.‏ ہم پولس کے اپنے آپکو ”‏دانا معمار“‏ کہنے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۷ پولس نے بیان کِیا کہ وہ ”‏دانا معمار“‏ کی طرح ایسی تعلیم دیتا ہے۔ یہ بیان خودپسندانہ نہیں تھا۔ یہ محض یہوواہ کی طرف سے شاندار بخشش کا اعتراف تھا جو یہوواہ نے اُسے دیا تھا—‏منظم کرنے یا ہدایت دینے کا کام۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۲۸‏)‏ سچ ہے کہ پہلی صدی کے مسیحیوں کے پاس جو معجزانہ نعمتیں تھیں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ نیز ہم اپنے آپکو شاید خداداد قابلیت کے حامل اُستاد بھی خیال نہ کریں۔ تاہم ایک اہم مفہوم میں، ہم اُستاد ہیں۔ غور کریں:‏ یہوواہ نے ہماری مدد کیلئے ہمیں روح‌القدس عطا کی ہے۔ (‏مقابلہ کریں لوقا ۱۲:‏۱۱، ۱۲‏۔)‏ لہٰذا ہم یہوواہ سے محبت رکھتے ہیں اور اُسکے کلام کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہیں۔ یہ دوسروں کو سکھانے کیلئے واقعی بخششیں ہیں۔ آئیے مناسب بنیاد ڈالنے کیلئے اُنکو استعمال کرنے کا عزم‌مُصمم کریں۔‏

۸.‏ ہم امکانی شاگردوں کے اندر کیسے مسیح کی بنیاد ڈالتے ہیں؟‏

۸ جب ہم مسیح کو بنیاد بناتے ہیں تو ہم اُسے چرنی میں ایک بے‌بس بچے یا تثلیث میں یہوواہ کے برابر پیش نہیں کرتے۔ ایسے غیرصحیفائی نظریات نقلی مسیحیوں کی بنیاد کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم تعلیم دیتے ہیں کہ وہ عظیم ترین انسان ہے جو کبھی ہو گزرا ہے، اُس نے اپنی کامل زندگی ہماری خاطر دے دی اور اب یہوواہ کے مُتعیّنہ بادشاہ کے طور پر آسمان میں بادشاہی کر رہا ہے۔ (‏رومیوں ۵:‏۸؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۵‏)‏ ہم اپنے طالبعلموں کو یسوع کے نقشِ‌قدم پر چلنے اور اُس کی صفات کی نقل کرنے کی تحریک دینے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏)‏ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خدمتگزاری کے لئے یسوع کے جوش، حلیم اور مظلوم لوگوں کے لئے اُس کے ترس، گناہوں کے بوجھ سے دبے ہوئے گنہگاروں کے لئے اُس کے رحم، آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے اُس کی غیرمتزلزل دلیری سے گہری تحریک پائیں۔ یقیناً یسوع ایک شاندار بنیاد ہے۔ تاہم اگلی، چیز کیا ہے؟‏

درست سامان سے تعمیر کرنا

۹.‏ اگرچہ بنیادی طور پر پولس بنیاد ڈالنے والا تھا، جنہوں نے اُس کی سکھائی ہوئی باتوں کی سچائی کو قبول کِیا اُسے اُنکی بابت کیا فکر تھی؟‏

۹ پولس نے لکھا:‏ ”‏اگر کوئی اُس نیو پر سونا یا چاندی یا بیش‌قیمت پتھروں یا لکڑی یا گھاس یا بھوسے کا ردا رکھے۔ تو اُسکا کام ظاہر ہو جائیگا کیونکہ جو دن آگ کے ساتھ ظاہر ہوگا وہ اُس کام کو بتا دیگا اور وہ آگ خود ہر ایک کام آزما لیگی کہ کیسا ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۲، ۱۳‏)‏ پولس کا کیا مطلب تھا؟ پس‌منظر پر غور کریں۔ پولس بنیادی طور پر بنیاد ڈالنے والا تھا۔ اپنے مشنری دَوروں کے دوران اُس نے ایسے بہت سے لوگوں کو منادی کرتے ہوئے شہربہ‌شہر دَورہ کِیا جنہوں نے پہلے کبھی مسیح کا ذکر نہیں سنا تھا۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۲۰‏)‏ جب لوگوں نے اُسکی تعلیم کی سچائی کو قبول کر لیا تو کلیسیائیں وجود میں آ گئیں۔ پولس نے ان وفادار لوگوں کیلئے گہری فکرمندی دکھائی۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲۸، ۲۹‏)‏ تاہم، اُسکے کام نے اُس سے ہر وقت سفر کرنے کا تقاضا کِیا۔ لہٰذا، کرنتھس میں بنیاد ڈالنے کیلئے ۱۸ ماہ صرف کرنے کے بعد، وہ دوسرے شہروں میں منادی کرنے کیلئے چلا گیا۔ پھربھی وہ گہری دلچسپی رکھتا تھا کہ جو کام اُس نے وہاں پر کِیا ہے دوسرے اُس میں کیسے اضافہ کر رہے ہیں۔—‏اعمال ۱۸:‏۸-‏۱۱؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۶‏۔‏

۱۰، ۱۱.‏(‏ا)‏پولس نے مختلف طرح کے تعمیری سامان کا کیسے موازنہ کِیا؟ (‏ب)‏ قدیم کرنتھس میں کس طرح کی حقیقی عمارتیں موجود تھیں؟ (‏پ)‏ کس قسم کی عمارتیں غالباً آگ سے بچ سکتی ہیں اور اس سے مسیحی شاگرد بنانے والے کونسا سبق سیکھتے ہیں؟‏

۱۰ ایسا لگتا ہے کہ پولس نے کرنتھس میں جو بنیاد ڈالی اُس پر تعمیر کرنے والے ناقص کام انجام دے رہے تھے۔ مسئلے کو اُجاگر کرنے کے لئے پولس دو طرح کے تعمیری مادوں کا موازنہ کرتا ہے:‏ ایک جانب سونا، چاندی اور قیمتی پتھر؛ اور دوسری جانب لکڑی، گھاس اور بھوسا۔ ایک عمارت عمدہ، پائیدار اور غیرآتش‌گیر چیزوں سے بھی کھڑی کی جا سکتی ہے یا ناقص، عارضی اور آتش‌گیر مادے استعمال کرتے ہوئے جلدی سے تیار کی جا سکتی ہے۔ کرنتھس جیسا بڑا شہر بِلاشُبہ ایسی دونوں طرح کی عمارتوں سے بھرا پڑا تھا۔ وہاں جسیم اور قیمتی پتھروں سے بنے ہوئے شاندار مندر تھے جن کے بعض حصے سونے اور چاندی سے آراستہ تھے۔‏b یہ پائیدار عمارتیں قریبی لکڑی کی چوکھٹوں اور گھاس پھوس سے بنی ہوئی جھونپڑیوں کو نیچا دکھا رہی تھیں۔‏

۱۱ آگ کے سامنے ان عمارات کے ساتھ کیا واقع ہوگا؟ ہمارے دنوں کی طرح پولس کے ایّام میں بھی جواب واضح تھا۔ درحقیقت ۱۴۶ ق.‏س.‏ع.‏ میں رومی جنرل مومیس نے کرنتھس کے شہر کو فتح کر کے اسے آگ لگا دی۔ لکڑی، گھاس اور بھوسے کی عمارتیں یقیناً مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہوں گی۔ سونے اور چاندی سے آراستہ پتھر کی دیوہیکل عمارتوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟ بِلاشُبہ وہ بچ گئی تھیں۔ کرنتھس میں پولس کے طالبعلم روزانہ ان عمارتوں کو—‏کمزور عمارتوں کے ساتھ ساتھ تباہی سے بچ جانے والی پتھر کی شاندار عمارتوں کو—‏آتے جاتے دیکھتے ہوں گے۔ پولس نے اپنے نکتے کو کیسے واضح کِیا!‏ تعلیم دیتے وقت ہمیں اپنے آپ کو معمار خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ممکنہ طور پر بہترین، سب سے زیادہ پائیدار چیزیں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہمارے کام کے قائم رہنے کا زیادہ امکان ہے۔ وہ پائیدار چیزیں کیا ہیں اور اُنہیں استعمال کرنا اتنا ضروری کیوں ہے؟‏

کیا آپ کا کام آگ کے سامنے قائم رہیگا؟‏

۱۲.‏ کن طریقوں سے کرنتھس کے بعض مسیحی لاپروائی سے تعمیری کام کر رہے تھے؟‏

۱۲ واضح طور پر پولس نے محسوس کِیا کہ کرنتھس میں بعض مسیحی ناقص طریقے سے تعمیر کر رہے تھے۔ برائی کیا تھی؟ جیسے‌کہ اقتباس ظاہر کرتا ہے کلیسیا میں فرقہ‌واریت کی وبا پھیل گئی تھی، کلیسیا کے اتحاد کے خطرے میں ہونے کے باوجود انسانی شخصیات کو سراہا جا رہا تھا۔ بعض کہتے تھے، ”‏مَیں پولسؔ کا ہوں،“‏ جبکہ دوسرے کہہ رہے تھے، ”‏مَیں اپلوؔس کا ہوں۔“‏ بدیہی طور پر، بعض اپنی حکمت پر نازاں تھے۔ نتیجہ، جسمانی سوچ، روحانی ناپختگی کا ماحول تھا اور ”‏حسد اور جھگڑا“‏ قابو سے باہر تھے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۲؛‏ ۳:‏۱-‏۴،‏ ۱۸‏)‏ یہ رجحانات یقیناً کلیسیا میں اور خدمتگزاری میں اُن کی تعلیم سے عیاں تھے۔ نتیجہ، گھٹیا سامان سے تعمیر کرنے کی طرح اُنکا شاگرد بنانے کا کام لاپروائی سے کِیا جا رہا تھا۔ یہ ”‏آگ“‏ سے نہیں بچیگا۔ پولس کس آگ کی بات کر رہا تھا؟‏

۱۳.‏ پولس کی تمثیل میں آگ کس کی نمائندگی کرتی ہے اور تمام مسیحیوں کو کس چیز سے خبردار رہنا چاہئے؟‏

۱۳ ایک ایسی آگ جسکا ہم سب زندگی میں سامنا کرتے ہیں—‏ہمارے ایمان کی آزمائش۔ (‏یوحنا ۱۵:‏۲۰؛‏ یعقوب ۱:‏۲، ۳‏)‏ کرنتھس میں مسیحیوں کو جاننے کی ضرورت تھی جیسے آجکل ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص جسے ہم سچائی سکھاتے ہیں آزمایا جائیگا۔ اگر ہم ناقص طریقے سے سکھاتے ہیں تو نتائج ناخوشگوار ہو سکتے تھے۔ پولس نے آگاہ کِیا:‏ ”‏جسکا کام اُس پر بنا ہؤا باقی رہیگا وہ اجر پائیگا۔ اور جسکا کام جل جائیگا وہ نقصان اٹھائیگا لیکن خود بچ جائیگا مگر جلتے‌جلتے۔“‏c‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ایک مسیحی شاگرد بنانے والا کس طرح ”‏نقصان اُٹھا“‏ سکتا ہے، تاہم وہ آگ میں سے کس طرح بچ سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ ہم نقصان اُٹھانے کے خطرے کو کسطرح کم کر سکتے ہیں؟‏

۱۴ کیا ہی سنجیدہ خیال!‏ یہ نہایت تکلیف‌دہ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو شاگرد بنانے کیلئے سخت محنت کی جائے اور پھر وہ آزمائش یا اذیت سے مغلوب ہو کر سچائی کو چھوڑ دے۔ پولس نے اسکا اعتراف کِیا جب اُس نے کہا کہ ایسے معاملات میں ہم نقصان اُٹھاتے ہیں۔ یہ حالت اتنی تکلیف‌دہ ہو سکتی ہے کہ ہماری نجات کو ”‏آگ میں سے“‏ گزرنے کے مترادف ٹھہرایا گیا ہے—‏ایسے شخص کی طرح جس کا سب کچھ آگ میں ختم ہو جائے اور صرف وہ آگ سے بچ گیا ہو۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم نقصان کے خطرے کو کس طرح کم کر سکتے ہیں؟ پائیدار سامان سے تعمیر کریں!‏ اگر ہم تعلیم دیتے ہوئے اپنے طالبعلم کے دل تک پہنچتے ہیں اور اُسے حکمت، بصیرت، یہوواہ کا خوف اور حقیقی ایمان جیسی بیش‌بہا مسیحی خوبیوں کو اہم خیال کرنے کی تحریک دیتے ہیں تو ہم پائیدار، غیرآتش‌گیر مادوں سے تعمیر کر رہے ہیں۔ (‏زبور ۱۹:‏۹، ۱۰؛‏ امثال ۳:‏۱۳-‏۱۵؛‏ ۱-‏پطرس ۱:‏۶، ۷‏)‏ جو یہ خوبیاں پیدا کر لیتے ہیں وہ خدا کی مرضی پوری کرتے رہینگے اور ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُنکی اُمید یقینی ہوگی۔ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۷‏)‏ تاہم، ہم پولس کی تمثیل کا عملی اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟ بعض مثالوں پر غور کریں۔‏

۱۵.‏ کن طریقوں سے ہم یقین کر سکتے ہیں کہ اپنے بائبل طالبعلموں کے معاملے میں لاپروائی سے تعمیری کام نہ کریں؟‏

۱۵ بائبل طالبعلموں کو تعلیم دیتے ہوئے ہمیں انسانوں کو یہوواہ خدا پر کبھی فوقیت نہیں دینی چاہئے۔ ہمارا نصب‌العین اُنہیں یہ سکھانا نہیں ہے کہ وہ ہمیں حکمت کا بنیادی ماخذ خیال کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہوواہ، اُسکے کلام اور اُسکی تنظیم سے راہنمائی حاصل کرنے کی توقع رکھیں۔ اس مقصد کیلئے اُنکے سوالات کے جواب میں ہم محض اپنے خیالات ہی پیش نہیں کرتے۔ اسکے برعکس ہم بائبل اور ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کی فراہم‌کردہ مطبوعات سے اُنہیں جواب تلاش کرنا سکھاتے ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ اسی وجہ سے ہم محتاط رہتے ہیں کہ اپنے بائبل طالبعلموں کو اپنی ملکیت خیال نہ کریں۔ جب دوسرے اُن میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں تو خفا ہونے کی بجائے ہمیں اپنے طالبعلموں کو اشتیاق میں ”‏کشادہ“‏ ہونے، کلیسیا میں ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جاننے اور اُنکے لئے قدردانی پیدا کرنے کی حوصلہ‌افزائی کرنی چاہئے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

۱۶.‏ بزرگ کسطرح غیرآتش‌گیر مادے سے تعمیر کر سکتے ہیں؟‏

۱۶ مسیحی بزرگ بھی شاگرد بنانے کے کام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب وہ کلیسیا کو تعلیم دیتے ہیں تو وہ غیرآتش‌گیر مادوں سے تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُنکے سکھانے کی صلاحیت، تجربہ اور شخصیت شاید بہت مختلف ہوں، تاہم وہ ان مختلف خوبیوں کو پیروکاروں کو اپنے پیچھے لگانے کیلئے استعمال نہیں کرتے (‏مقابلہ کریں اعمال ۲۰:‏۲۹، ۳۰‏۔)‏ ہم اسکی اصل وجہ تو نہیں جانتے کہ کرنتھس میں بعض مسیحی کیوں کہتے تھے کہ ”‏مَیں پولسؔ کا ہوں“‏ یا ”‏مَیں اپلوؔس کا ہوں۔“‏ تاہم، ہم پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ان وفادار بزرگوں میں سے کسی نے بھی ایسی فرقہ‌وارانہ سوچ کو ہوا نہیں دی تھی۔ پولس ایسے اظہارات سے خوش نہیں ہوا تھا؛ اُس نے سختی سے انکی تردید کی۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۵-‏۷‏)‏ اسی طرح آجکل بزرگ ذہن میں رکھتے ہیں کہ وہ ”‏خدا کے گلہ“‏ کی گلہ‌بانی کرتے ہیں۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۲‏)‏ جو کسی انسان کی ملکیت نہیں ہے۔ لہٰذا بزرگ ایک شخص کے گلے یا بزرگوں کی جماعت پر اثرانداز ہونے کے کسی بھی رجحان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ جب تک بزرگ کلیسیا کی خدمت کرنے کی فروتن خواہش، دل تک پہنچنے اور پورے دل‌وجان سے بھیڑوں کی یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے مدد کرنے سے تحریک پاتے ہیں، وہ آتش‌گیر مادوں سے تعمیر کرتے ہیں۔‏

۱۷.‏ مسیحی والدین کسطرح غیرآتش‌گیر مادے سے تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟‏

۱۷ مسیحی والدین بھی اس معاملے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ہمیشہ تک زندہ رہتے دیکھیں!‏ اسی لئے وہ خدا کے کلام کے اصولوں کو اپنے بچوں کے ”‏ذہن نشین“‏ کرنے کیلئے محنت کرتے ہیں۔ (‏استثنا ۶:‏۶، ۷)‏ وہ چاہتے ہیں کہ اُنکے بچے سچائی کو محض ضابطۂ‌قانون یا دُعائیہ طریقوں کی بجائے بھرپور، بااجر اور خوشگوار طرزِزندگی کے طور پر اپنائیں۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۱:‏۱۱‏)‏ شفیق والدین اپنے بچوں کو مسیح کے وفادار شاگرد بنانے کیلئے غیرآتش‌گیر مادوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں میں ایسی خصلتیں ختم کرنے کیلئے جن سے یہوواہ نفرت کرتا ہے اور ایسی خوبیاں پیدا کرنے کیلئے جن سے وہ محبت کرتا ہے صبر سے کام لیتے ہیں۔—‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

ذمہ‌دار کون ہے؟‏

۱۸.‏ جب ایک شاگرد صحت‌بخش تعلیم کو رد کر دیتا ہے تو یہ ضروری کیوں نہیں ہے کہ اُسے تعلیم‌وتربیت دینے کی کوشش کرنے والوں کی غلطی ہے؟‏

۱۸ اس بات‌چیت سے اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص جس کی ہم مدد کرتے ہیں سچائی سے گمراہ ہو جاتا ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اُستاد کے طور پر ہم ناکام ہو گئے—‏ہم نے گھٹیا مادوں سے تعمیر کِیا ہے؟ ضروری نہیں ہے۔ پولس کے الفاظ یاددہانی کراتے ہیں کہ شاگرد بنانے کا کام ایک بھاری ذمہ‌داری ہے۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق بہترین تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، خدا کا کلام یہ نہیں کہتا کہ جب کوئی سچائی سے دُور چلا جاتا ہے جس کی ہم مدد کرتے رہے ہیں کہ ہم ہی پوری ذمہ‌داری اُٹھائیں اور گناہ کے بوجھ سے دَب جائیں۔ معماروں کے طور پر ہمارے کردار کے علاوہ دوسرے عناصر بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نوٹ کریں کہ پولس اُس اُستاد کے بارے میں بھی کیا کہتا ہے جس نے اطمینان‌بخش کام نہیں کِیا:‏ ”‏وہ نقصان اٹھائے گا لیکن خود بچ جائے گا۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۵‏)‏ اگر یہ اُستاد نجات حاصل کر لیتا ہے—‏جبکہ مسیحی شخصیت جو اُس نے اپنے طالبعلم میں پیدا کرنے کی کوشش کی آگ جیسی آزمائش کی وجہ ”‏جل“‏ جاتی ہے—‏تو ہمیں کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہئے؟ یقیناً یہ کہ یہوواہ طالبعلم کو اُس کے اپنے فیصلے کے لئے ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ آیا وہ وفادارانہ روش قائم رکھے گا یا نہیں۔‏

۱۹.‏ اگلے مضمون میں ہم کس چیز پر غور کرینگے؟‏

۱۹ ذاتی یا انفرادی ذمہ‌داری بہت اہم معاملہ ہے۔ یہ ہم سب پر اثرانداز ہوتا ہے۔ بائبل اس معاملے پر قطعی طور پر کیا تعلیم دیتی ہے؟ ہمارا اگلا مضمون اس پر غوروفکر کریگا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ‏’‏زمین کی بنیاد‘‏ غالباً اُن قدرتی طاقتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اسے—‏اور تمام اجرامِ‌فلکی—‏کو اُن کی جگہ پر قائم رکھتی ہے۔ مزیدبرآں، زمین کو اس طرح خلق کِیا گیا ہے کہ اسے کبھی بھی ”‏جنبش“‏ نہیں ہوگی۔—‏زبور ۱۰۴:‏۵‏۔‏

b ‏”‏قیمتی پتھر“‏ جنکا ذکر پولس نے کِیا ہیرے اور جواہرات نہیں تھے۔ غالباً وہ سنگِ‌مرمر یا آرائشی پتھر یا گرینیٹ جیسے عمارتی پتھر تھے۔‏

c یہاں پر پولس معمار کی نہیں بلکہ معمار کے ”‏کام“‏ کی نجات کو مشتبہ قرار دے رہا تھا۔ دی نیو انگلش بائبل اس آیت کو یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏اگر ایک شخص کی عمارت قائم رہیگی تو وہ اجر پائیگا؛ اگر وہ گر جائیگی تو وہ نقصان اٹھائیگا؛ مگر اُسکی زندگی بچ جائیگی جیسے کوئی آگ سے بچ جاتا ہے۔“‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

◻سچے مسیحی کی ”‏بنیاد“‏ کیا ہے اور یہ کیسے رکھی جاتی ہے؟‏

◻مختلف قسم کے تعمیری سامان سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

◻‏“‏آگ“‏ کس چیز کی نمائندگی کرتی ہے اور بعض کیلئے یہ کیسے ”‏نقصان اُٹھانے“‏ کا باعث ہو سکتی ہے؟‏

◻بائبل تعلیم دینے والے، بزرگ اور والدین کس طرح غیرآتش‌گیر سامان سے تعمیر کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 23 پر تصویر]‏

بہتیرے قدیم شہروں میں، کچی عمارتوں کیساتھ ساتھ غیرآتش‌گیر پتھر کی عمارتیں بھی موجود تھیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں