اپنی نجات کے کام کئے جاؤ!
”اے . . . عزیزو، ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کے کام کئے جاؤ۔“—فلپیوں ۲:۱۲۔
۱، ۲. کونسے مشہور نظریات لوگوں کے یہ محسوس کرنے کا باعث بنے ہیں کہ اُنکا اپنی زندگیوں پر کوئی اختیار نہیں ہے؟
”کیا آپکی پیدائش اسی طرح ہوئی ہے؟“ حال ہی میں یہ سوال ایک مشہور رسالے کے صفحۂاول پر شائع ہوا۔ شہسرخی کی زیریں عبارت یوں تھی: ”شخصیت، مزاج حتیٰکہ زندگی کے انتخابات۔ حالیہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ زیادہتر کا انحصار توارثی عناصر پر ہے۔“ ایسے دعوے بعض کو شاید یہ محسوس کرنے پر مجبور کریں کہ اُنکا اپنی زندگی پر اختیار بہت کم ہے۔
۲ دیگر خوفزدہ ہیں کہ اُنکے والدین کی ناقص پرورش یا اساتذہ کی ناقص تعلیموتربیت کی بدولت وہ ناخوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اپنے والدین کی غلطیوں کو دہرانا، اپنے بدترین رجحانات پر عمل کرنا، یہوواہ کیلئے بےوفا ثابت ہونا—المختصر غلط انتخابات کرنا اُنکا مقدر ہے۔ کیا بائبل یہی تعلیم دیتی ہے؟ بعض مذہبی اشخاص اصرار کرتے ہیں کہ بائبل تقدیر کے عقیدے کی ایسی تعلیم دیتی ہے۔ اس عقیدے کے مطابق خدا نے آپکی زندگی میں ہر واقعہ کا بہت پہلے سے تعیّن کر دیا ہے۔
۳. اپنے مستقبل کی بابت ذمہداری اُٹھانے کے سلسلے میں بائبل کے پاس کیا حوصلہافزا پیغام ہے؟
۳ ان تمام نظریات میں ایک پیغام مشترک ہے: آپ کے پاس انتخاب بہت کم ہے، آپکی زندگی کیسی ثابت ہوگی اُس پر بہت کم اختیار ہے۔ یہ حوصلہشکن پیغام ہے، کیا ایسا نہیں ہے اور حوصلہشکنی مسئلے میں اضافہ کرتی ہے۔ امثال ۲۴:۱۰ کہتی ہے: ”اگر تُو مصیبت کے دن بیدل ہو جائے تو تیری طاقت بہت کم ہے۔“ تاہم، ہماری حوصلہافزائی کی گئی ہے کہ سیکھیں کہ بائبل کے مطابق، ہم ’اپنی نجات کے کام‘ کر سکتے ہیں۔ (فلپیوں ۲:۱۲) اس مثبت صحیفائی تعلیم میں ہم اپنا اعتماد کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟
”تعمیر“ کا کام جو ہم اپنے سلسلے میں کرتے ہیں
۴. اگرچہ ۱-کرنتھیوں ۳:۱۰-۱۵ غیرآتشگیر مادوں سے تعمیر کرنے کی بات کرتی ہے، اس سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہئے؟
۴ ۱-کرنتھیوں ۳:۱۰-۱۵ میں پائی جانیوالی پولس کی تمثیل پر غور کریں۔ یہاں پر وہ ایک مسیحی تعمیری کام کی بات کرتا ہے اور اُسکی تمثیل کے اصول کا اطلاق اندرونی اور بیرونی خدمتگزاری پر کِیا جا سکتا ہے۔ کیا وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ایک شاگرد کے آخرکار یہوواہ کی خدمت کرنے کا انتخاب کرنے اور وفادار رہنے کی مکمل ذمہداری اُسکی تعلیموتربیت کرنے والے شخص پر ہے؟ نہیں۔ پولس اُستاد کی طرف سے ممکنہ طور پر تعمیر کے بہترین کام کرنے کی اہمیت پر زور دے رہا تھا۔ تاہم، جیسے ہم نے پچھلے مضمون میں سیکھا وہ یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ اس معاملے میں شاگرد یا طالبعلم کے پاس کوئی انتخاب نہیں ہے۔ درست ہے کہ پولس کی تمثیل اُس کام پر توجہ مرتکز کرتی ہے جو ہم اپنی بجائے دوسروں کے سلسلے میں کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کیونکہ پولس غیرتسلیبخش تعمیری کام کے تباہ ہونے کا ذکر کرتا ہے جبکہ معمار خود بچ جاتا ہے۔ تاہم، بائبل اسی استعارے کو اُس کام کیلئے بھی استعمال کرتی ہے جو ہم اپنے سلسلے میں کرتے ہیں۔
۵. کون سے صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ مسیحیوں کو اپنے اندر ”تعمیری“ کام کرنے چاہئیں؟
۵ مثال کے طور پر یہوداہ ۲۰، ۲۱ پر غور کریں: ”مگر تم اے پیارو اپنے پاکترین اِیمان میں اپنی ترقی [”تعمیر“، اینڈبلیو] کر کے روحالقدس میں دُعا کر کے۔ اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھو۔“ یہاں پر یہوداہ ”تعمیر“ کیلئے وہی یونانی لفظ استعمال کرتا ہے جو پولس نے ۱-کرنتھیوں ۳ باب میں استعمال کِیا ہے لیکن اُسکا نکتہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بنیاد پر خود کو ”تعمیر“ کریں۔ ایک آدمی کے چٹان پر اپنا گھر بنانے کی یسوع کی تمثیل قلمبند کرتے ہوئے لوقا ”بنیاد“ کیلئے وہی یونانی لفظ استعمال کرتا ہے جو پولس مسیحی عمارت کی تمثیل میں استعمال کرتا ہے۔ (لوقا ۶:۴۸، ۴۹) مزیدبرآں، اپنے ساتھی مسیحیوں کو روحانی ترقی کرنے کی تاکید کرتے ہوئے پولس ”بنیاد“ پر قائم ہونے کا خیال پیش کرتا ہے۔ جیہاں، خدا کا کلام ہمیں اپنے آپ میں ”تعمیر“ ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔—افسیوں ۳:۱۵-۱۹؛ کلسیوں ۱:۲۳؛ ۲:۷۔
۶. (ا) واضح کریں کہ کسطرح مسیحی شاگرد مشترکہ منصوبہ ہے۔ (ب) انفرادی طور پر ہر شاگرد کی کیا ذمہداری ہے؟
۶ کیا ایک مسیحی کی تعمیر کرنا ایک آدمی کا کام ہے؟ تصور کریں کہ آپ ایک گھر بنانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نقشے کے لئے آپ ماہرِتعمیرات کے پاس جاتے ہیں۔ اگرچہ بیشتر کام آپ خود کرنا چاہتے ہیں توبھی آپ ٹھیکےدار سے رابطہ کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کام کرے اور بہترین طریقوں کے لئے آپ کو مشورہ دے۔ اگر وہ مضبوط بنیاد ڈالتا، نقشے کو سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا اور تعمیر کے متعلق آپ کو بہت سی باتیں سکھاتا ہے تو آپ اتفاق کریں گے کہ اُس نے اچھا کام کِیا ہے۔ تاہم اگر آپ اُس کے مشورے کو نظرانداز کر دیتے، ناقص یا گھٹیا سامان خرید لیتے، حتیٰکہ ماہرِتعمیرات کے نقشے سے انحراف کرتے ہیں تو کیا ہو؟ یقیناً اگر گھر گِر جاتا ہے تو آپ ٹھیکےدار یا ماہرِتعمیرات کو الزام نہیں دے سکتے! اسی طرح، ہر مسیحی شاگرد ایک مشترکہ تعمیری منصوبہ ہے۔ یہوواہ عظیم ماہرِتعمیرات ہے۔ وہ اُس وفادار مسیحی کی مدد کرتا ہے جو ”خدا کے ساتھ کام کرنے والے“ کے طور پر ایک طالبعلم کو تعلیم دیتا اور اُسے تعمیر کرتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۹) تاہم، طالبعلم بھی شامل ہے۔ آخری امتحان میں وہ اپنی زندگی کے لئے خود ذمہدار ہے۔ (رومیوں ۱۴:۱۲) اگر وہ عمدہ مسیحی صفات رکھنا چاہتا ہے تو اُنہیں حاصل کرنے اور اپنے اندر پیدا کرنے کیلئے اُسے محنت کرنی چاہئے۔—۲-پطرس ۱:۵-۸۔
۷. بعض مسیحی کونسے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں اور کیا چیز اُنہیں تسلی دے سکتی ہے؟
۷ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ توارثی عناصر، ماحول اور ہمارے اساتذہ کا معیار بےمعنی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ خدا کا کلام تسلیم کرتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک اہم اور بااثر ہے۔ بہتیری گنہگارانہ، منفی رغبتیں پیدائشی ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ (زبور ۵۱:۵؛ رومیوں ۵:۱۲؛ ۷:۲۱-۲۳) والدین کی تربیت اور گھر کے ماحول کا—اچھائی یا برائی کے لئے بچے پر گہرا اثر ہو سکتا ہے۔ (امثال ۲۲:۶؛ کلسیوں ۳:۲۱) یہودی مذہبی راہنماؤں کی تعلیم کے دوسروں پر بُرے اثرات کے لئے یسوع نے اُن کی مذمت کی۔ (متی ۲۳:۱۳، ۱۵) آجکل ایسے عناصر ہم سب پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر خدا کے لوگوں میں سے بعض بچپن میں مشکلات کی وجہ سے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسوں کو ہماری رحمدلی اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ نیز وہ بائبل کے پیغام سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں کہ اپنے والدین کی غلطیاں دہرانا یا بےوفا ثابت ہونا اُن کا مقدر نہیں ہے۔ غور کریں کہ قدیم یہوداہ کے بعض بادشاہ اس نکتے کی وضاحت کیسے کرتے ہیں۔
یہوداہ کے بادشاہ—اُنہوں نے اپنے انتخابات خود کئے
۸. یوتام کے پاس اُسکے باپ کا کونسا بُرا نمونہ تھا، پھربھی اُس نے کیسا انتخاب کِیا؟
۸ عزیاہ ۱۶ سال کی ناپُختہ عمر میں یہوداہ کا بادشاہ بنا اور ۵۲ سال تک حکومت کی۔ اس پورے عرصے میں زیادہتر ”اُس نے جیسا اُسکے باپ اؔمصیاہ نے کِیا تھا ٹھیک اُسی طرح وہ کام کِیا جو خداوند کی نظر میں بھلا تھا۔“ (۲-سلاطین ۱۵:۳) یہوواہ نے اُسے اثرآفریں عسکری کامیابیوں سے نوازا۔ افسوس کی بات ہے کہ کامیابی نے عزیاہ کا دماغ خراب کر دیا۔ وہ مغرور ہو گیا اور ہیکل میں مذبح پر بخور جلانے سے یہوواہ کے خلاف بغاوت کی، وہ کام جو کاہنوں کیلئے مخصوص تھا۔ عزیاہ کو سرزنش کی گئی تاہم جوابیعمل اشتعالانگیز تھا۔ پھر اُسے ذلیل کِیا گیا—اُسے کوڑھ لگ گیا اور اُس نے اپنی پوری زندگی علیٰحدگی میں گزاری۔ (۲-تواریخ ۲۶:۱۶-۲۳) اُس کے بیٹے یوتام نے اس سب کیلئے کیسا ردِعمل دکھایا؟ نوجوان لڑکا اپنے باپ سے متاثر ہو سکتا تھا اور یہوواہ کی طرف سے اصلاح سے آزردہ ہو سکتا تھا۔ عام لوگ بھی نقصاندہ اثر پیدا کر سکتے تھے کیونکہ وہ غلط مذہبی کام کرتے تھے۔ (۲-سلاطین ۱۵:۴) لیکن یوتام نے اپنا انتخاب کِیا۔ ”اُس نے وہی جو خداوند کی نظر میں درست ہے ٹھیک ایسا ہی کِیا۔“—۲-تواریخ ۲۷:۲۔
۹. آخز پر بعض کونسے اچھے اثرات تھے، تاہم اُسکی زندگی کیسی ثابت ہوئی؟
۹ یوتام نے ۱۶ سال حکومت کی اور پورے عرصہ کے دوران یہوواہ کا وفادار رہا۔ اُسکے بیٹے آخز کے پاس اپنے وفادار باپ کا بہترین نمونہ تھا۔ نیز دیگر عمدہ اثرات بھی موجود تھے۔ جب یسعیاہ، ہوسیع اور میکاہ ملک میں سرگرمی سے نبوّت کر رہے تھے تو اُسے ایسے وقت میں زندہ رہنے کی برکت حاصل تھی۔ پھربھی اُس نے غلط انتخاب کِیا۔ ”اُس نے وہ نہ کِیا جو خداوند کی نظر میں درست ہے جیسا اُسکے باپ داؔؤد نے کِیا تھا۔“ اُس نے بعل کی مورتیں بنائیں اور اُنکی پرستش کی اور جھوٹے معبودوں کیلئے اپنے بیٹوں میں سے بعض کو قربانی کے طور پر جلایا۔ بہترین اثرات کے باوجود وہ بادشاہ اور یہوواہ کے خادم کے طور پر تباہکُن طریقے سے ناکام ہو گیا۔—۲-تواریخ ۲۸:۱-۴۔
۱۰. آخز کس قسم کا باپ تھا، تاہم اُسکے بیٹے حزقیاہ نے کیا انتخاب کِیا؟
۱۰ سچی پرستش کے حوالے سے آخز سے زیادہ بُرے باپ کا تصور کرنا مشکل ہے۔ تاہم، اُسکا بیٹا حزقیاہ اپنے باپ کا انتخاب نہیں کر سکتا تھا! چھوٹے بچے جنکو آخز نے بعل کیلئے قربانی کیلئے قتل کِیا تھا غالباً حزقیاہ کے اپنے بھائی تھے۔ کیا اس خوفناک پسمنظر نے یہوواہ کیلئے بےوفا ثابت ہونے کو حزقیاہ کی زندگی کا مقدر بنا دیا؟ اسکے برعکس، حزقیاہ یہوداہ کے واقعی عظیم بادشاہوں میں سے ایک تھا—ایک وفادار، دانشمند اور ہردلعزیز شخص تھا۔ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اُسکے ساتھ رہا۔“ (۲-سلاطین ۱۸:۳-۷) درحقیقت یہ یقین کرنے کی وجہ موجود ہے کہ حزقیاہ کو ۱۱۹ زبور تحریر کرنے کا الہام اُسوقت بخشا گیا جبکہ وہ نوجوان شاہزادہ ہی تھا۔ اگر ایسا ہے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اُس نے کیوں یہ لکھا: ”غم کے مارے میری جان گھلی جاتی ہے۔“ (زبور ۱۱۹:۲۸) اپنی تکلیفدہ مشکلات کے باوجود حزقیاہ نے یہوواہ کے کلام کو اپنی زندگی میں راہنمائی کرنے دی۔ زبور ۱۱۹:۱۰۵ کہتی ہے: ”تیرا کلام میرے قدموں کیلئے چراغ اور میری راہ کیلئے روشنی ہے۔“ جیہاں، حزقیاہ نے اپنا دُرست انتخاب کِیا۔
۱۱. (ا) اپنے باپ کے اچھے اثر کے باوجود یہوواہ کے خلاف منسی کی بغاوت کتنی شدید تھی؟ (ب) اپنی زندگی کے آخری حصے میں منسی نے کونسا انتخاب کِیا اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۱ اگرچہ ظاہری طور پر متناقص دکھائی دے توبھی یہوداہ کے بہترین بادشاہوں میں سے ایک بدترین بادشاہ پیدا ہوا۔ حزقیاہ کے بیٹے منسی نے بُتپرستی، ارواحپرستی اور تشدد کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا۔ ریکارڈ بیان کرتا ہے کہ ”خداوند نے“ غالباً نبیوں کے ذریعے ”منسیؔ اور اُس کے لوگوں سے باتیں کیں۔“ (۲-تواریخ ۳۳:۱۰) یہودی روایت کے مطابق منسی نے یسعیاہ کو آرے سے چیرنے سے جوابی عمل دکھایا۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۱:۳۷۔) خواہ یہ درست ہو یا نہ ہو، منسی الہٰی آگاہیوں پر دھیان دینے میں ناکام رہا۔ درحقیقت، اپنے دادا آخز کی طرح اُس نے اپنے بیٹوں کو قربانی کے طور پر آگ میں جلایا۔ تاہم، اپنی زندگی کے آخری حصے میں آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت یہ شریر انسان رجوع لایا اور اپنے طور طریقے بدل لئے۔ (۲-تواریخ ۳۳:۱-۶، ۱۱-۲۰) اُس کی مثال سے ہم سیکھتے ہیں کہ ایک شخص جس نے بہت غلط انتخابات بھی کئے ہوں ناقابلِاصلاح نہیں ہے۔ وہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
۱۲. یہوواہ کی خدمت کرنے کے سلسلے میں امون اور اُسکے بیٹے نے کونسے مختلف انتخابات کئے؟
۱۲ منسی کا بیٹا امون اپنے باپ کی توبہ سے بہت کچھ سیکھ سکتا تھا۔ لیکن اُس نے غلط انتخابات کئے۔ امون نے اپنے قتل کئے جانے تک حقیقت میں ”گناہ پر گناہ کِیا۔“ اُسکا بیٹا یوسیاہ اُسکے بالکل برعکس تھا۔ یوسیاہ نے جوکچھ اُسکے دادا کے ساتھ واقع ہوا تھا اُس نے اُس سے سیکھنے کا انتخاب کِیا۔ اُس نے محض آٹھ سال کی عمر میں حکومت کرنا شروع کی۔ جب وہ ۱۶ سال کا تھا تو وہ یہوواہ کا خواہاں ہوا اور قابلِتقلید، وفادار بادشاہ ثابت ہوا۔ (۲-تواریخ ۳۳:۲۰-۳۴:۵) اُس نے بالکل دُرست کِیا۔
۱۳. (ا) یہوداہ کے جن بادشاہوں پر ہم نے غور کِیا ہے ہم اُن سے کیا سیکھتے ہیں؟ (ب) والدین کی تربیت کتنی اہم ہے؟
۱۳ یہوداہ کے سات بادشاہوں کا مختصر جائزہ ہمیں ایک پُرزور سبق سکھاتا ہے۔ بعضاوقات بدترین بادشاہوں کے بہترین بیٹے تھے اور اس کے برعکس بہترین بادشاہوں کے بدترین بیٹے بھی تھے۔ (مقابلہ کریں واعظ ۲:۱۸-۲۱۔) یہ والدین کی تربیت کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ والدین جو یہوواہ کی راہوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں یقیناً اپنی اولاد کو یہوواہ کے وفادار خادم بننے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ (استثنا ۶:۶، ۷) پھربھی اپنے وفادار والدین کی بہترین کوششوں کے باوجود بعض بچے غلط روش پر چلنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ دوسرے بچے بدترین والدین کے اثر کے باوجود یہوواہ سے محبت کرنے اور اُس کی خدمت کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اُس کی برکت سے وہ کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔ بعضاوقات کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ کے معاملے میں کیا ہوگا؟ یہوواہ کی بعض ذاتی یقیندہانیوں پر غور کریں کہ آپ درست انتخاب کر سکتے ہیں!
یہوواہ آپ پر یقین رکھتا ہے!
۱۴. ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ ہماری حدود سے واقف ہے؟
۱۴ یہوواہ سب کچھ دیکھتا ہے۔ امثال ۱۵:۳ کہتی ہے: ”خداوند کی آنکھیں ہر جگہ ہیں اور نیکوں اور بدوں کی نگران ہیں۔“ بادشاہ داؤد نے یہوواہ کے بارے میں کہا: ”تیری آنکھوں نے میرے بےترتیب مادے کو دیکھا اور جو ایّام میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے۔ جبکہ ایک بھی وجود میں نہ آیا تھا۔“ (زبور ۱۳۹:۱۶) لہٰذا، یہوواہ منفی رجحانات سے واقف ہے جن کا آپ مقابلہ کرتے ہیں—خواہ وہ وراثت میں آپ کو ملے ہوں یا آپ کے قابو سے باہر اثرات کے نتیجے میں حاصل ہوئے ہوں۔ وہ سمجھتا ہے کہ اُنہوں نے آپکو کیسے متاثر کِیا ہے۔ وہ آپ کی حدود کو آپ سے بہتر جانتا ہے۔ نیز وہ رحیم بھی ہے۔ وہ ہماری استطاعت سے زیادہ کا تقاضا نہیں کرتا۔—زبور ۱۰۳:۱۳، ۱۴۔
۱۵. (ا) اُن لوگوں کیلئے تسلی کا ماخذ کِیا ہے جنہیں دوسروں نے قصداً نقصان پہنچایا ہے؟ (ب) یہوواہ کونسی ذمہداری سونپنے سے ہمیں عزت بخشتا ہے؟
۱۵ اسکے برعکس یہوواہ ہمیں حالات کے ہاتھوں بےبس بھی خیال نہیں کرتا۔ اگر ہمیں ماضی میں بُرے تجربات ہوئے ہیں تو ہم اس سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں کہ یہوواہ دانستہ بُرے چالچلن سے نفرت کرتا ہے۔ (زبور ۱۱:۵؛ رومیوں ۱۲:۱۹) تاہم، کیا وہ ہمیں غلط روش کے نتائج سے بریالذمہ قرار دیگا اگر ہم توبہ کرتے ہیں اور قصداً غلط انتخابات کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اُسکا کلام کہتا ہے: ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“ (گلتیوں ۶:۵) یہوواہ اپنی ذہین مخلوق کو درست کام کرنے اور اُسکی خدمت کرنے کی ذمہداری سونپنے سے اُنہیں عزت بخشتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے موسیٰ نے اسرائیل قوم کو بتایا: ”مَیں آج کے دن آسمان اور زمین کو تمہارے برخلاف گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تُو زندگی کو اختیار کر کہ توبھی جیتا رہے اور تیری اولاد بھی۔“ (استثنا ۳۰:۱۹) یہوواہ پُراعتماد ہے کہ ہم بھی درست انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟
۱۶. ’اپنی نجات کے کام‘ کرنے میں ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
۱۶ جوکچھ پولس رسول نے لکھا اُس پر غور کریں: ”پس اے میرے عزیزو! ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کے کام کئے جاؤ۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔“ (فلپیوں ۲:۱۲، ۱۳) اصلی یونانی لفظ جسکا ترجمہ ’کام کئے جاؤ‘ کِیا گیا ہے کسی کام کی تکمیل کا مفہوم پیش کرتا ہے۔ لہٰذا ناکام ہونا یا چھوڑ دینا ہم میں سے کسی کا بھی مقدر نہیں ہے۔ یہوواہ خدا پُراعتماد ہے کہ ہم اُس کام کو مکمل کر سکتے ہیں جو اُس نے ہمارے سپرد کِیا ہے—ہماری نجات کا باعث کام—بصورتِدیگر اُس نے ایسا الہامی بیان نہ دیا ہوتا۔ لیکن ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ یہ ہماری اپنی قوت سے نہیں ہے۔ اگر ہم خود اتنے مضبوط ہوتے تو ”ڈرنے اور کانپنے“ کی ضرورت نہیں تھی۔ اسکے برعکس یہوواہ ہمارے اندر ’کام کرتا ہے‘، اُسکی روحالقدس ”نیت اور عمل“ کرنے کیلئے ہمارے دلودماغ میں کام کرتی ہے۔ اس پُرمحبت مدد کیساتھ کیا کوئی وجہ ہے کہ ہم زندگی میں درست انتخاب نہ کریں اور اُسکے مطابق زندگی نہ گزاریں؟ نہیں!—لوقا ۱۱:۱۳۔
۱۷. ہم اپنے اندر کونسی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں اور ایسا کرنے میں یہوواہ کیسے ہماری مدد کرتا ہے؟
۱۷ ہمیں مشکلات پر قابو پانا ہوگا—شاید زندگی کی خراب عادات اور نقصاندہ اثرات جو ہماری سوچ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، یہوواہ کی روح کی مدد سے ہم ان پر قابو پا سکتے ہیں! جیسے پولس نے کرنتھس میں مسیحیوں کو لکھا، خدا کا کلام ”قلعوں کو ڈھا دینے“ کے قابل ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱۰:۴) درحقیقت یہوواہ ہمیں اپنی زندگیوں میں یکسر تبدیلیاں پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اُس کا کلام ہمیں ”پرانی انسانیت کو اتار“ ڈالنے اور ”نئی انسانیت کو“ پہننے کی تاکید کرتا ہے ”جو خدا کی سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔“ (افسیوں ۴:۲۲-۲۴) کیا یہوواہ کی روح ہمیں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے؟ یقیناً! خدا کی روح ہم میں پھل پیدا کرتی ہے—خوشنما بیشقیمت خوبیاں جو ہم سب پیدا کرنا چاہینگے۔ ان میں سے پہلی محبت ہے۔—گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳۔
۱۸. ہر معقول شخص کونسا انتخاب کرنے کے قابل ہے اور اسکی مدد سے ہمیں کیا کرنے کا عزم کرنا چاہئے؟
۱۸ درحقیقت خدا کی روح ہم میں محبت کا پھل پیدا کر سکتی ہے۔ یہوواہ محبت کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے اور ہم اُسکی شبِیہ پر پیدا کئے گئے ہیں۔ (پیدایش ۱:۲۶؛ ۱-یوحنا ۴:۸) لہٰذا، ہم یہوواہ سے محبت کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اور وہ محبت—ہمارا گذشتہ طرزِزندگی نہیں، ہماری غلطیاں نہیں، غلطی کرنے کا موروثی رجحان نہیں—ہمارے مستقبل کی کُنجی ہے۔ یہوواہ خدا کیلئے محبت ہی وہ چیز تھی جسکی عدن میں آدم اور حوا کو وفادار رہنے کیلئے ضرورت تھی۔ اسی محبت کی ہم سب کو ہرمجدون سے بچنے اور مسیح کی ہزارسالہ حکومت کے اختتام پر آخری امتحان سے کامیابی کیساتھ گزرنے کی ضرورت ہے۔ (مکاشفہ ۷:۱۴؛ ۲۰:۵، ۷-۱۰) ہمارے حالات خواہ کیسے بھی ہوں ہم میں سے ہر ایک ایسی محبت پیدا کر سکتا ہے۔ (متی ۲۲:۳۷؛ ۱-کرنتھیوں ۱۳:۱۳) آئیے یہوواہ سے محبت کرنے اور ابدیت تک اُس محبت پر تعمیر کرنے کا عزم کریں۔
آپ کیا سوچتے ہیں؟
◻کونسے مشہور خیالات انفرادی ذمہداری کے سلسلے میں بائبل کی تعلیم کے برعکس ہیں؟
◻ہر مسیحی کو اپنے آپ میں کونسا تعمیری کام کرنا چاہئے؟
◻یہوداہ کے بادشاہوں کی مثالوں نے کیسے واضح کِیا کہ ہر شخص اپنا انتخاب کرتا ہے؟
◻یہوداہ کیسے یقیندہانی کراتا ہے کہ اپنے اردگرد کے منفی اثرات سے قطعنظر ہم زندگی میں درست انتخاب کر سکتے ہیں؟
[صفحہ 28 پر تصویر]
کیا توارثی عناصر آپ کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں؟
[صفحہ 31 پر تصویر]
اپنے والد کے بُرے نمونہ کے باوجود، بادشاہ یوسیاہ نے یہوواہ کی خدمت کرنے کا انتخاب کِیا