یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏11 ص.‏ 18-‏21
  • ایک یروشلیم—‏اپنے نام کے عین مطابق

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک یروشلیم—‏اپنے نام کے عین مطابق
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک شاندار روزِاجتماع
  • ایک اَور پُرمسرت اجتماع
  • ہمیں خدا کے گھر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے
  • پُرمسرت تقدیس
  • ابدی خوشی کا سبب
  • یروشلیم—‏کیا آپ اسے ’‏اپنی بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح دیتے ہیں‘‏؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • نحمیاہ کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • یروشلم کی دیواریں
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • یروشلیم کی دیواریں
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏11 ص.‏ 18-‏21

ایک یروشلیم—‏اپنے نام کے عین مطابق

‏”‏تُم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو کیونکہ دیکھو مَیں یرؔوشلیم کو خوشی .‏ .‏ .‏ بناؤنگا۔“‏—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۸‏۔‏

۱.‏ عزرا نے خدا کے منتخب شہر کی بابت کیسا محسوس کِیا تھا؟‏

خدا کے کلام کے مستعد طالبعلم کے طور پر، یہودی کاہن عزرا نے یہوواہ کی سچی پرستش کیساتھ یروشلیم کی وابستگی کیلئے بڑی قدرافزائی دکھائی۔ (‏استثنا ۱۲:‏۵؛‏ عزرا ۷:‏۲۷‏)‏ خدا کے شہر کیلئے اُسکی محبت بائبل میں—‏پہلا، دوسرا تواریخ اور عزرا—‏سے عیاں ہے جسے اُس نے خود زیرِالہام تحریر کِیا تھا۔ نام یروشلیم پوری بائبل میں ۸۰۰ سے زیادہ مرتبہ آتا ہے مگر اسکا ایک چوتھائی صرف ان تاریخی سرگزشتوں میں ہی ملتا ہے۔‏

۲.‏ یروشلیم نام کے خصوصی استعمال میں ہم کونسا نبوّتی منظر دیکھ سکتے ہیں؟‏

۲ بائبلی عبرانی میں، ”‏یرؔوشلیم“‏ کو عبرانی زبان کی ایسی شکل سے سمجھا جا سکتا ہے جو تثنیہ کہلاتی ہے۔ تثنیہ اکثر ایسی چیزوں کیلئے استعمال ہوتی ہے جو جوڑوں کی صورت میں ہیں جیسے کہ آنکھیں، کان، ہاتھ اور پاؤں۔ تثنیہ کی شکل میں نام یروشلیم کو اُس سلامتی کا نبوّتی منظر خیال کِیا جا سکتا ہے جس سے خدا کے لوگ دہرے—‏روحانی اور جسمانی—‏مفہوم میں استفادہ کرینگے۔ صحائف یہ آشکارا نہیں کرتے کہ آیا عزرا اس حقیقت کو پوری طرح سمجھتا تھا۔ تاہم کاہن کی حیثیت سے اُس نے خدا کیساتھ صلح کے رشتے سے لطف‌اندوز ہونے کیلئے یہودیوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کی۔ نیز اُس نے اس ضمن میں یقیناً جانفشانی کی کہ یروشلیم اپنے نام کے مطلب یعنی ”‏دوچند سلامتی کا گہوراہ [‏یا بنیاد]‏“‏ کے عین مطابق ثابت ہو۔—‏عزرا ۷:‏۶‏۔‏

۳.‏ ہمیں عزرا کی کارگزاریوں کی بابت دوبارہ کچھ بتانے سے قبل کتنے سال گزر جاتے ہیں اور ہم اُسے کن حالات میں پاتے ہیں؟‏

۳ بائبل یہ بیان نہیں کرتی کہ عزرا یروشلیم کے اپنے دَورے اور نحمیاہ کے شہر پہنچنے کے درمیان ۱۲ سال کے عرصے میں کہاں رہا۔ اس عرصے میں قوم کی خراب روحانی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عزرا وہاں پر نہیں تھا۔ تاہم، یروشلیم کی فصیل دوبارہ تعمیر ہو جانے کے بعد ہم عزرا کو وفادار کاہن کے طور پر دوبارہ یروشلیم میں خدمت انجام دیتے ہوئے پاتے ہیں۔‏

ایک شاندار روزِاجتماع

۴.‏ اسرائیل کے ساتویں مہینے کے پہلے دن کی بابت کیا چیز اہمیت کی حامل ہے؟‏

۴ یروشلیم کی فصیل کو اسرائیل کے مذہبی کیلنڈر کے ساتویں مہینے یعنی نہایت اہم تہواروں کے مہینے تشری کیلئے عین وقت پر مکمل کر لیا گیا تھا۔ تشری کے پہلے دن پر نئے چاند کا خاص جشن ہوتا تھا جسے نرسنگوں کی عید کہا جاتا تھا۔ اس دن پر جس اثنا میں یہوواہ کے حضور قربانیاں گذرانی جاتی تھیں کاہن نرسنگے پھونکتے تھے۔ (‏گنتی ۱۰:‏۱۰؛ ۲۹:‏۱)‏ یہ دن اسرائیلیوں کو ۱۰ تشری پر سالانہ یومِ‌کفارہ اور اسی مہینے کی ۱۵ تا ۲۱ تاریخ کو پُرمسرت مُقدس مجمع کیلئے تیار کرتا تھا۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ عزرا اور نحمیاہ نے ”‏ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ“‏ کا اچھا استعمال کیسے کِیا؟ (‏ب)‏ اسرائیلی کیوں رونے لگے؟‏

۵ عزرا اور نحمیاہ سے حوصلہ‌افزائی پاکر ”‏ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ“‏ کو ”‏سب لوگ“‏ جمع ہوئے۔ ان میں مرد، عورتیں اور ایسے سب لوگ شامل تھے جو ”‏سنکر سمجھ سکتے تھے۔“‏ لہٰذا چھوٹے بچے بھی حاضر تھے اور جب عزرا منبر پر کھڑا ہو کر ”‏صبح سے دوپہر“‏ تک شریعت پڑھتا رہا تو وہ بڑے دھیان سے سنتے رہے۔ (‏نحمیاہ ۸:‏۱-‏۴‏)‏ جوکچھ پڑھا جا رہا تھا اُسے لاوی وقفے وقفے سے لوگوں کو سمجھا رہے تھے۔ اس سے اسرائیلیوں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے کیونکہ اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ اور اُنکے آباؤاجداد خدا کی شریعت کی فرمانبرداری سے کتنی دُور جا چکے تھے۔—‏نحمیاہ ۸:‏۵-‏۹‏۔‏

۶، ۷.‏ نحمیاہ نے یہودیوں کو رونے سے باز رکھنے کیلئے جوکچھ کِیا اُس سے مسیحی کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۶ تاہم، یہ ماتم کا وقت نہیں تھا۔ یہ عید کا دن تھا کیونکہ لوگوں نے ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے یروشلیم کی فصیل کی ازسرِنو تعمیر کا کام مکمل کِیا تھا۔ لہٰذا نحمیاہ نے اُنہیں درست ذہنی میلان پیدا کرنے میں مدد دیتے ہوئے کہا:‏ ”‏جاؤ اور جو موٹا ہے کھاؤ اور جو میٹھا ہے پیو اور جنکے لئے کچھ تیار نہیں ہؤا اُنکے پاس بھی بھیجو کیونکہ آج کا دن ہمارے خداوند کے لئے مُقدس ہے اور تُم اُداس مت ہو کیونکہ خداوند کی شادمانی تمہاری پناہ‌گاہ ہے۔“‏ اُسکی بات مانکر ”‏سب لوگ کھانے پینے اور حصہ بھیجنے اور بڑی خوشی کرنے کو چلے گئے کیونکہ وہ اُن باتوں کو جو اُنکے آگے پڑھی گئیں سمجھے تھے۔“‏—‏نحمیاہ ۸:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

۷ آجکل خدا کے لوگ اس سرگزشت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جن بھائیوں کو اجلاسوں اور اسمبلیوں پر حصے پیش کرنے کا شرف حاصل ہوتا ہے اُنہیں مذکورہ‌بالا نمونے کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ ضروری اصلاحی مشورت فراہم کرنے کے علاوہ ایسے مواقع خدا کے تقاضوں کو پورا کرنے سے حاصل ہونے والے فوائد اور برکات کو اُجاگر کرتے ہیں۔ خدا کے لوگوں کو عمدہ کاموں کی انجام‌دہی کیلئے شاباش اور برداشت کرنے کیلئے حوصلہ‌افزائی دی جاتی ہے۔ اُنہیں ایسے اجتماعات سے حاصل ہونے والی خدا کے کلام کی تقویت‌بخش تعلیم کے باعث خوشدلی کیساتھ واپس جانا چاہئے۔—‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

ایک اَور پُرمسرت اجتماع

۸، ۹.‏ ساتویں مہینے کے دوسرے دن پر کونسا خاص اجتماع منعقد ہوا اور اسکا خدا کے لوگوں کیلئے کیا نتیجہ نکلا؟‏

۸ اُسی خاص مہینے کے دوسرے دن پر ”‏سب لوگوں کے آبائی خاندانوں کے سردار اور کاہن اور لاوی عزرا فقیہ کے پاس اکٹھے ہوئے کہ توریت کی باتوں پر دھیان لگائیں۔“‏ (‏نحمیاہ ۸:‏۱۳‏)‏ عزرا اس اجتماع کی سیادت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا اسلئے‌کہ وہ ”‏آمادہ ہو گیا تھا کہ خداوند کی شریعت کا طالب ہو اور اُس پر عمل کرے اور اسرائیل میں آئین اور احکام کی تعلیم دے۔“‏ (‏عزرا ۷:‏۱۰‏)‏ بِلاشُبہ، اس اجتماع نے ایسے حلقوں کی نشاندہی کی جن میں خدا کے لوگوں کو شریعت کی اَور زیادہ پابندی کرنے کی ضرورت تھی۔ فوری توجہ کا حامل معاملہ جلد آنے والی عیدِخیام کیلئے موزوں تیاریاں کرنا تھا۔‏

۹ ہفتہ‌بھر کی اس عید کو صحیح طریقے سے منایا گیا جس میں تمام لوگوں نے مختلف درختوں کی شاخوں اور پتوں سے بنی ہوئی عارضی جھونپڑیوں میں قیام کِیا۔ لوگوں نے اپنی چھتوں پر، اپنے صحنوں میں، ہیکل کے صحنوں میں اور یروشلیم کے میدانوں میں سائبان لگائے۔ (‏نحمیاہ ۸:‏۱۵، ۱۶‏)‏ لوگوں کو جمع کرنے اور اُنکے سامنے شریعت پڑھنے کا یہ کیا ہی شاندار موقع تھا!‏ (‏مقابلہ کریں استثنا ۳۱:‏۱۰-‏۱۳۔)‏ عید کے ”‏پہلے دن سے آخری دن تک“‏ ایسا ہی ہوتا تھا جس سے خدا کے لوگوں کو ”‏بڑی خوشی“‏ ہوتی تھی۔—‏نحمیاہ ۸:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

ہمیں خدا کے گھر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے

۱۰.‏ ساتویں مہینے کی ۲۴ویں تاریخ پر ایک خاص مجمع کا بندوبست کیوں کِیا گیا؟‏

۱۰ خدا کے لوگوں کی سنگین غلطیوں کو درست کرنے کا مناسب وقت اور مقام ہوتا ہے۔ بدیہی طور پر، ایسے ہی وقت کی توقع میں عزرا اور نحمیاہ نے تشری کی ۲۴ویں تاریخ کو روزے کے دن کا اہتمام کِیا۔ خدا کی شریعت کی دوبارہ پڑھائی کی گئی اور لوگوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کِیا۔ بعدازاں لاویوں نے سرکش لوگوں کیساتھ خدا کے رحمانہ برتاؤ کا اعادہ کِیا، خوبصورت اظہارات سے یہوواہ کی حمد کی اور ایک ”‏سچا عہد“‏ کِیا جس پر اُمرا، لاویوں اور کاہنوں نے مہر کر دی۔—‏نحمیاہ ۹:‏۱-‏۳۸‏۔‏

۱۱.‏ یہودیوں نے کونسا ”‏سچا عہد“‏ کِیا؟‏

۱۱ لوگوں نے مجموعی طور پر تحریرکردہ ”‏سچے عہد“‏ پر عمل کرنے کا حلف اُٹھایا۔ وہ ”‏خدا کی شریعت پر .‏ .‏ .‏ عمل“‏ کرینگے۔ علاوہ‌ازیں، اُنہوں نے عہد کِیا کہ ”‏ملک کے باشندوں“‏ کیساتھ ازدواجی بندھن نہیں باندھیں گے۔ (‏نحمیاہ ۱۰:‏۲۸-‏۳۰‏)‏ مزیدبرآں، یہودیوں نے سبت کی پابندی کرنے، سچی پرستش کی حمایت میں سالانہ مالی عطیات دینے، قربانی کے مذبح کیلئے لکڑی فراہم کرنے، اپنے مویشیوں کے پہلوٹھوں کو قربانی کیلئے پیش کرنے اور ہیکل کی کوٹھریوں کیلئے اپنی زمین کے پہلے پھل لانے کا بھی عہد کِیا۔ واقعی، اُنہوں نے ’‏اپنے خدا کے گھر کو نظرانداز نہ کرنے‘‏ کا عزم کر لیا تھا۔—‏نحمیاہ ۱۰:‏۳۲-‏۳۹‏۔‏

۱۲.‏ آجکل خدا کے گھر کو نظرانداز نہ کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

۱۲ آجکل، یہوواہ کے لوگوں کو یہوواہ کی عظیم روحانی ہیکل کے صحنوں میں ’‏پاک خدمت انجام‘‏ دینے کے شرف کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۱۵‏)‏ اس میں یہوواہ کی پرستش کے فروغ کیلئے باقاعدگی سے دلی دُعائیں کرنا شامل ہے۔ ایسی دُعاؤں کے مطابق زندگی بسر کرنا مسیحی اجلاسوں کیلئے تیاری اور ان میں شرکت، خوشخبری کی منادی کرنے کے انتظامات میں شمولیت اور دلچسپی رکھنے والے اشخاص سے واپسی ملاقات کرنے اور اگر ممکن ہو تو اُن کیساتھ بائبل مطالعہ کرنے سے اُنکی مدد کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ جو خدا کے گھر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتے وہ منادی کے کام اور سچی پرستش کے مقامات کی دیکھ‌بھال کیلئے مالی عطیات دیتے ہیں۔ ہم اجلاسوں کیلئے جن مقامات کی فوری ضرورت ہے اُن کی تعمیر اور صفائی‌ستھرائی کیلئے بھی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ خدا کے روحانی گھر کیلئے محبت دکھانے کا ایک اہم طریقہ ساتھی ایمانداروں میں امن قائم رکھنا اور مادی یا روحانی مدد کے حاجتمندوں کی مدد کرنا ہے۔—‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۱۵، ۱۶‏۔‏

پُرمسرت تقدیس

۱۳.‏ یروشلیم کی فصیل کی تقدیس سے پہلے کس اہم معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت تھی اور بہتوں نے کونسا عمدہ نمونہ قائم کِیا؟‏

۱۳ نحمیاہ کے زمانے میں مہرکردہ ”‏سچے عہد“‏ نے خدا کے قدیم لوگوں کو یروشلیم کی فصیل کی تقدیس کے دن کیلئے تیار کِیا۔ تاہم ایک اہم مسئلہ ابھی تک توجہ کا مستحق تھا۔ اب ۱۲ پھاٹکوں والے ایک بڑے فصیل‌دار یروشلیم کے اندر زیادہ آبادی کی ضرورت تھی۔ اگرچہ کچھ اسرائیلی تو اُس میں آباد تھے توبھی ”‏شہر تو وسیع اور بڑا تھا پر اُس میں لوگ کم تھے۔“‏ (‏نحمیاہ ۷:‏۴‏)‏ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے لوگوں نے ”‏قرعے ڈالے کہ ہر دس شخصوں میں سے ایک کو شہرِمُقدس یرؔوشلیم میں بسنے کے لئے لائیں۔“‏ اس بندوبست کیلئے رضامندانہ جوابی‌عمل نے لوگوں کو تحریک دی کہ ”‏خوشی سے اپنے‌آپ کو یرؔوشلیم میں بسنے کے لئے پیش“‏ کرنے والوں کو دُعا دیں۔ (‏نحمیاہ ۱۱:‏۱، ۲‏)‏ یہ آجکل کے ایسے سچے پرستاروں کیلئے کتنا عمدہ نمونہ ہے جنکے حالات اُنہیں ایسے علاقوں میں منتقل ہونے کی اجازت دیتے ہیں جہاں پُختہ مسیحی مدد کی زیادہ ضرورت ہے!‏

۱۴.‏ یروشلیم کی فصیل کی تقدیس کے دن پر کیا واقع ہوا؟‏

۱۴ جلد ہی یروشلیم کی فصیل کی تقدیس کے عظیم دن کیلئے اہم تیاریاں شروع ہو گئیں۔ یہوداہ کے قریبی شہروں سے موسیقاروں اور گانے والوں کو جمع کِیا گیا۔ انہیں حمد کرنے والے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کِیا گیا جن میں سے ہر ایک کے پیچھے جلوس تھا۔ (‏نحمیاہ ۱۲:‏۲۷-‏۳۱،‏ ۳۶،‏ ۳۸‏)‏ گروہ اور جلوس ہیکل سے دور ایک دیوار، غالباً وادی کے پھاٹک سے مخالف سمت میں چلتے ہوئے خدا کے گھر تک پہنچے۔ ”‏اُس دن اُنہوں نے بہت سی قربانیاں چڑھائیں اور خوشی کی کیونکہ خدا نے ایسی خوشی اُن کو بخشی کہ وہ نہایت شادمان ہوئے اور عورتوں اور بچوں نے بھی خوشی منائی سو یرؔوشلیم کی خوشی کی آواز دُور تک سنائی دیتی تھی۔“‏—‏نحمیاہ ۱۲:‏۴۳‏۔‏

۱۵.‏ یروشلیم کی فصیل کی مخصوصیت مستقل خوشی کا باعث کیوں نہیں تھی؟‏

۱۵ بائبل اس پُرمسرت تقریب کی کوئی تاریخ نہیں بتاتی۔ بِلاشُبہ، اگر یہ یروشلیم کی بحالی کا عروج نہیں تو اہم واقعہ ضرور تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر کے اندر بھی بہت سا تعمیراتی کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ایک وقت آیا کہ یروشلیم کے شہری اپنی اچھی روحانی حیثیت کھو بیٹھے۔ مثال کے طور پر، جب نحمیاہ نے دوسری مرتبہ شہر کا دَورہ کِیا تو اُس نے دیکھا کہ خدا کے گھر کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی ایک بار پھر بُت‌پرست عورتوں سے شادی کر رہے تھے۔ (‏نحمیاہ ۱۳:‏۶-‏۱۱،‏ ۱۵،‏ ۲۳‏)‏ ملاکی نبی نے بھی اپنی تحریروں میں انہی بُری حالتوں کی تصدیق کی ہے۔ (‏ملاکی ۱:‏۶-‏۸؛ ۲:‏۱۱؛ ۳:‏۸)‏ لہٰذا یروشلیم کی فصیل کی مخصوصیت مستقل خوشی کا باعث نہیں تھی۔‏

ابدی خوشی کا سبب

۱۶.‏ خدا کے لوگ کن شاندار واقعات کے منتظر ہیں؟‏

۱۶ آجکل، یہوواہ کے لوگ اُس وقت کے منتظر ہیں جب خدا اپنے تمام دشمنوں پر فتح پائیگا۔ اسکا آغاز ”‏بڑے بابل“‏—‏جھوٹے مذہب کی تمام اقسام پر مشتمل ایک علامتی شہر—‏کی تباہی سے ہوگا۔ (‏مکاشفہ ۱۸:‏۲،‏ ۸‏)‏ جھوٹے مذہب کی تباہی جلد آنے والی بڑی مصیبت کے پہلے مرحلے کی نشاندہی کریگی۔ (‏متی ۲۴:‏۲۱، ۲۲‏)‏ ہمارے سامنے ایک اَور نہایت اہم واقعہ بھی ہے—‏آسمان میں خداوند یسوع مسیح کی ”‏نئے یرؔوشلیم“‏ کے ۱،۴۴،۰۰۰ شہریوں پر مشتمل اپنی دلہن کیساتھ شادی۔ (‏مکاشفہ ۱۹:‏۷؛‏ ۲۱:‏۲‏)‏ یہ شاندار بندھن کب تکمیل کو پہنچے گا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے مگر یہ یقیناً شادمانی کا موقع ہوگا۔—‏دیکھیں دی واچ‌ٹاور، اگست ۱۵، ۱۹۹۰، صفحات ۳۰-‏۳۱۔‏

۱۷.‏ ہم نئے یروشلیم کی تکمیل کی بابت کیا جانتے ہیں؟‏

۱۷ ہم یہ جانتے ہیں کہ نئے یروشلیم کی تکمیل بہت جلد ہونے والی ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۳،‏ ۷-‏۱۴؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۱۲‏)‏ یروشلیم کے زمینی شہر کے برعکس، یہ کبھی بھی مایوسی کا سبب نہیں بنیگا۔ اسلئے‌کہ اسکے تمام شہری روح سے مسح‌شُدہ، آزمودہ اور یسوع مسیح کے پاک‌صاف کئے ہوئے پیروکار ہیں۔ ان میں سے ہر ایک موت تک وفادار رہنے کی صورت میں کائنات کے حاکمِ‌اعلیٰ، یہوواہ خدا کا دائمی وفادار ثابت ہو چکا ہوگا۔ اسکی باقی نوعِ‌انسان—‏زندہ اور مُردہ—‏کیلئے بڑی اہمیت ہے!‏

۱۸.‏ ہمیں ’‏ابدی خوشی اور شادمانی‘‏ کیوں کرنی چاہئے؟‏

۱۸ غور فرمائیں کہ جب نیا یروشلیم یسوع کی فدیے کی قربانی پر ایمان رکھنے والے انسانوں پر توجہ کریگا تو کیا واقع ہوگا۔ ”‏دیکھ،“‏ یوحنا رسول نے لکھا۔ ”‏خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُنکے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُسکے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُنکے ساتھ رہیگا اور اُنکا خدا ہوگا۔ اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۲-‏۴‏)‏ مزیدبرآں، خدا نوعِ‌انسان کو کاملیت تک پہنچانے کیلئے اس شہرنما بندوبست کو استعمال کریگا۔ (‏مکاشفہ ۲۲:‏۱، ۲‏)‏ یہ ’‏خدا کی نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی‘‏ کرنے کی کتنی شاندار وجوہات ہیں!‏—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۸‏۔‏

۱۹.‏ روحانی فردوس کیا ہے جس میں مسیحیوں کو جمع کِیا گیا ہے؟‏

۱۹ تاہم، تائب انسانوں کو خدا سے مدد حاصل کرنے کیلئے اُس وقت تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہوواہ نے ۱۹۱۹ کے سال میں ۱،۴۴،۰۰۰ کے آخری ارکان کو روحانی فردوس میں جمع کرنا شروع کر دیا تھا جہاں محبت، خوشی اور اطمینان جیسے خدا کی روح کے پھل بکثرت پائے جاتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ اس روحانی فردوس کا نمایاں پہلو اسکے ممسوح باشندوں کا ایمان ہے جو تمام آبادشُدہ زمین پر خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کے کام میں پیشوائی کرتے ہوئے حیرت‌انگیز طور پر پھلدار ثابت ہوئے ہیں۔ (‏متی ۲۱:‏۴۳؛‏ ۲۴:‏۱۴‏)‏ نتیجتاً، زمینی اُمید کی حامل تقریباً چھ ملین ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کو بھی روحانی فردوس میں آ کر نتیجہ‌خیز کام سے لطف‌اندوز ہونے کا موقع بخشا گیا ہے۔ (‏یوحنا ۱۰:‏۱۶‏، این‌ڈبلیو)‏ وہ اُسکے بیٹے، یسوع مسیح کی فدیے کی قربانی پر ایمان لاکر خود کو یہوواہ خدا کیلئے مخصوص کرنے سے اس لائق ٹھہرے ہیں۔ نئے یروشلیم کے امکانی ارکان کیساتھ اُنکی رفاقت واقعی ایک برکت ثابت ہوئی ہے۔ لہٰذا، ممسوح مسیحیوں کے سلسلے میں یہوواہ نے جوکچھ کِیا ہے اُس سے اُس نے ”‏نئی زمین“‏ یعنی ایسے خداترس انسانوں کے معاشرے کی پُختہ بنیاد رکھی ہے جو آسمانی بادشاہت کی زمینی عملداری کی میراث حاصل کرینگے۔—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۷؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

۲۰.‏ نیا یروشلیم اپنے نام کے عین مطابق کیسے ثابت ہوگا؟‏

۲۰ یہوواہ کے لوگ اپنی روحانی فردوس میں جن پُرامن حالتوں سے لطف اُٹھاتے ہیں بہت جلد وہ زمین پر جسمانی فردوس میں اُنہی حالتوں کا تجربہ کرینگے۔ یہ اُس وقت ہوگا جب نیا یروشلیم نوعِ‌انسان کو برکت دینے کیلئے آسمان سے اُترتا ہے۔ خدا کے لوگ یسعیاہ ۶۵:‏۲۱-‏۲۵ میں موعودہ پُرامن حالتوں سے دہرے طریقے سے مستفید ہونگے۔ روحانی فردوس میں خدا کے متحد پرستاروں کے طور پر، ممسوح اشخاص نے نئے آسمانی یروشلیم میں ابھی اپنا مقام حاصل کرنا ہے اور ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کے ارکان اب خداداد امن کا تجربہ کر رہے ہیں۔ نیز، جب ’‏خدا کی مرضی آسمان کی طرح زمین پر بھی پوری ہوگی‘‏ تو جسمانی فردوس میں ہر طرف سلامتی ہوگی۔ (‏متی ۶:‏۱۰‏)‏ جی‌ہاں، خدا کا شاندار آسمانی شہر ’‏دوچند سلامتی‘‏ کی پُختہ ’‏بنیاد‘‏ کے طور پر اپنے نام یروشلیم کے عین مطابق ثابت ہوگا۔ تمام ابدیت تک، یہ اپنے عظیم خالق، یہوواہ خدا اور اپنے دُلہے بادشاہ، یسوع مسیح کی قابلِ‌تحسین پہچان کے طور پر قائم رہیگا۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

◻جب نحمیاہ نے لوگوں کو یروشلیم میں جمع کِیا تو کیا کام انجام پایا؟‏

◻قدیم یہودیوں کو خدا کے گھر کو نظرانداز نہ کرنے کیلئے کیا کرنا تھا اور ہم سے کیا کرنے کا تقاضا کِیا گیا ہے؟‏

◻دائمی خوشی اور سلامتی لانے میں ”‏یرؔوشلیم“‏ کا کیا کردار ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں