یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏12 ص.‏ 27-‏31
  • ‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دوسروں کو کیوں معاف کریں؟‏
  • ‏”‏ایک دوسرے کی برداشت کرو“‏
  • جب زخم زیادہ گہرے ہوں
  • جب معاف کرنا ناممکن دکھائی دے
  • ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • معاف کرنے والے کیوں بنیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • اپنے دل سے معاف کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • دل سے معاف کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏12 ص.‏ 27-‏31

‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏

‏”‏ایک دوسرے کی برداشت [‏کرو]‏ اور ایک دوسرے کے قصور معاف [‏کرو]‏۔“‏—‏کلسیوں ۳:‏۱۳‏۔‏

۱.‏ (‏ا)‏ جب پطرس نے یہ تجویز پیش کی کہ ہمیں دوسروں کو ”‏سات بار تک“‏ معاف کرنا چاہئے تو اُس نے ایسا کیوں سوچا ہوگا کہ وہ بہت فراخدل ہے؟ (‏ب)‏ یسوع کی اِس سے کیا مُراد تھی جب اُس نے کہا کہ ہمیں ”‏ستر بار تک“‏ معاف کرنا چاہئے؟‏

‏”‏خداوند اگر میرا بھائی میرا گناہ کرتا رہے تو مَیں کتنی دفعہ اُسے معاف کروں؟ کیا سات بار تک؟“‏ (‏متی ۱۸:‏۲۱‏)‏ پطرس نے شاید سوچا ہو کہ وہ یہ تجویز پیش کرکے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اُس وقت، ربّیوں کی روایت کے مطابق کسی کے لئے بھی ایک ہی طرح کی غلطی کے لئے تین سے زیادہ مرتبہ معافی کی گنجائش نہیں تھی۔‏a پس ذرا پطرس کی حیرانی کا تصور کریں جب یسوع نے یہ جواب دیا:‏ ”‏مَیں تجھ سے نہیں کہتا کہ سات بار بلکہ سات دفعہ کے ستر بار تک۔“‏ (‏متی ۱۸:‏۲۲‏)‏ سات کا دہرایا جانا ”‏ہمیشہ“‏ کہنے کے مساوی تھا۔ یسوع کی نظر میں، عملاً اس بات کی کوئی حد نہیں کہ ایک مسیحی کو کتنی بار دوسروں کو معاف کرنا چاہئے۔‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ بعض حالتیں کونسی ہیں جن میں دوسروں کو معاف کرنا مشکل دکھائی دے سکتا ہے؟ (‏ب)‏ ہم یہ اعتماد کیوں رکھ سکتے ہیں کہ دوسروں کو معاف کرنے میں ہماری بہتری ہے؟‏

۲ تاہم، اس مشورت کا اطلاق کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے بیجا ٹھیس پہنچائے جانے کے درد کو محسوس نہ کِیا ہو؟ شاید جس پر آپ کو بھروسہ تھا اُسی نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ (‏امثال ۱۱:‏۱۳‏)‏ ممکن ہے کہ کسی جگری دوست کی بِلاتامل باتوں نے ’‏آپ کو تلوار کی طرح چھید ڈالا‘‏ ہے۔ (‏امثال ۱۲:‏۱۸‏)‏ شاید کسی عزیز یا قابلِ‌بھروسہ شخص کی طرف سے ناروا سلوک گہرے زخموں کا مؤجب بنا ہے۔ جب ایسی باتیں واقع ہوتی ہیں تو ہمارا قدرتی ردِعمل ناراضگی ہو سکتا ہے۔ ہم قصوروار سے دُور رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے اُس سے بات‌چیت بند کر دینے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ شاید ایسا دکھائی دے کہ اُسے معاف کر دینا، ہمیں تکلیف پہنچانے کیلئے اُسے بِلاسزا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا۔ تاہم، آزردگی کو دل میں رکھنے سے ہم بالآخر اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‏

۳ لہٰذا یسوع ہمیں ”‏ستر بار تک“‏ معاف کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یقیناً اُسکی تعلیمات کبھی بھی ہمیں ضرر نہیں پہنچائینگی۔ اُس نے جو بھی بات سکھائی وہ یہوواہ کی طرف سے تھی جو ’‏ہمیں مفید تعلیم دینے والا ہے۔‘‏ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷؛‏ یوحنا ۷:‏۱۶، ۱۷‏)‏ منطقی طور پر، دوسروں کو معاف کرنا ہمارے لئے فائدے کا باعث ہونا چاہئے۔ اس سے پیشتر کہ ہم یہ گفتگو کریں کہ ہمیں کیوں معاف کرنا چاہئے اور ہم کیسے ایسا کر سکتے ہیں، پہلے یہ واضح کر دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے کہ معافی کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ جب ہم دوسروں سے ناراض ہو جاتے ہیں تو معاف کرنے کی بابت ہمارا نقطۂ‌نظر معاف کرنے کی ہماری صلاحیت پر کسی حد تک اثرانداز ہو سکتا ہے۔‏

۴.‏ دوسروں کو معاف کرنے کا مطلب کیا نہیں ہے لیکن معافی کی تعریف کیسے کی گئی ہے؟‏

۴ ذاتی نوعیت کی غلطیوں کیلئے دوسروں کو معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جو کچھ اُنہوں نے کِیا ہے اُسے نظرانداز کر رہے ہیں یا اُسکی سنگینی کو کم کر رہے ہیں؛ نہ ہی اسکا مطلب دوسروں کو ہم سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی اجازت دینا ہے۔ بہرکیف، جب یہوواہ ہمیں معاف کرتا ہے تو وہ یقیناً ہمارے گناہوں کو معمولی خیال نہیں کرتا اور وہ کبھی بھی گنہگار انسانوں کو اپنے رحم کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۹‏)‏ انسائٹ آن دی سکرپچرز کے مطابق، معافی کی تعریف ”‏کسی قصوروار کیلئے اُسکی غلطی کے باعث آزردگی کا احساس ختم کرنے اور انتقام کے ہر دعویٰ سے دستبردار ہو کر اُسے بخش دینے کے عمل“‏ کے طور پر کی گئی ہے۔ (‏جِلد ۱، صفحہ ۸۶۱)‏b بائبل ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کی ٹھوس وجوہات فراہم کرتی ہے۔‏

دوسروں کو کیوں معاف کریں؟‏

۵.‏ افسیوں ۵:‏۱ میں دوسروں کو معاف کرنے کی کونسی اہم وجہ ظاہر کی گئی ہے؟‏

۵ دوسروں کو معاف کرنے کی ایک اہم وجہ افسیوں ۵:‏۱ میں ظاہر کی گئی ہے:‏ ”‏پس عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔“‏ ہمیں کس لحاظ سے ”‏خدا کی مانند“‏ بننا چاہئے؟ لفظ ”‏پس“‏ اس اظہار کو پچھلی آیت سے جوڑتا ہے جو بیان کرتی ہے:‏ ”‏ایک دوسرے پر مہربان اور نرم‌دل ہو اور جس طرح خدا نے مسیح میں تمہارے قصور معاف کئے ہیں تم بھی ایک دوسرے کے قصور معاف کرو۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۳۲‏)‏ جی‌ہاں، جب معافی کی بات آتی ہے تو ہمیں خدا کی مانند بننا چاہئے۔ جیسے ایک چھوٹا لڑکا بالکل اپنے باپ کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہے ویسے ہی، اُن بچوں کی طرح جنہیں یہوواہ بیحد پیار کرتا ہے، ہمیں اپنے معاف کرنے والے آسمانی باپ کی طرح بننے کی خواہش رکھنی چاہئے۔ آسمان سے نیچے نگاہ کرکے یہ دیکھ کر یہوواہ کے دل کو کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ اُسکے زمینی بچے ایک دوسرے کو معاف کرنے سے اُسکی طرح بننے کی کوشش کر رہے ہیں!‏—‏لوقا ۶:‏۳۵، ۳۶‏؛ مقابلہ کریں متی ۵:‏۴۴-‏۴۸‏۔‏

۶.‏ کس لحاظ سے یہوواہ کی معافی اور ہماری معافی میں بہت فرق ہے؟‏

۶ سچ ہے کہ ہم کبھی بھی یہوواہ کی طرح مکمل طور پر معاف نہیں کر سکتے۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یہی ہے جسکی بِنا پر ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہئے۔ غور کریں:‏ یہوواہ کی معافی اور ہماری معافی میں بہت فرق ہے۔ (‏یسعیاہ ۵۵:‏۷-‏۹‏)‏ جب ہم اپنے خلاف گناہ کرنے والوں کو معاف کرتے ہیں تو اکثر اس آگہی کیساتھ ایسا کِیا جاتا ہے کہ جلد یا بدیر شاید ہمیں یہ ضرورت محسوس ہو کہ وہ ہمیں معاف کرنے سے بھلائی کا بدلہ چکائیں۔ انسانوں کے معاملے میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ گنہگار گنہگاروں کو معاف کرتے ہیں۔ تاہم، یہوواہ کے معاملے میں معافی ہمیشہ یک‌طرفہ ہوتی ہے۔ وہ ہمیں معاف کرتا ہے لیکن ہمیں کبھی بھی اُسے معاف کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر یہوواہ، جو گناہ نہیں کرتا، ہمیں اسقدر محبت کیساتھ اور مکمل طور پر معاف فرماتا ہے تو پھر کیا ہم گنہگار انسانوں کو ایک دوسرے کو معاف کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے؟—‏متی ۶:‏۱۲‏۔‏

۷.‏ اگر ہم رحم کی گنجائش ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کو معاف کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو اس سے خدا کیساتھ ہمارے اپنے رشتے پر کیسے بہت بُرا اثر پڑ سکتا ہے؟‏

۷ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم رحم کی گنجائش ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کو معاف کرنے سے انکار کرتے ہیں تو اس سے خدا کیساتھ ہمارے اپنے رشتے پر بہت بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہوواہ صرف ہم سے ایک دوسرے کو معاف کرنے کیلئے کہتا ہی نہیں بلکہ وہ ہم سے ایسا کرنے کی توقع بھی کرتا ہے۔ صحائف کے مطابق، کسی حد تک ہمیں معاف کرنے والا بننے کی تحریک اسلئے ملتی ہے کہ شاید یہوواہ ہمیں معاف کرے یا پھر اسلئے کہ اُس نے ہمیں معاف کر دیا ہے۔ (‏متی ۶:‏۱۴؛‏ مرقس ۱۱:‏۲۵؛‏ افسیوں ۴:‏۳۲؛‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۱۱‏)‏ لہٰذا، اگر ہم دوسروں کو معاف کرنے کی ٹھوس وجہ ہونے کے باوجود ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں تو کیا ہم یہوواہ سے واقعی ایسی معافی کی توقع کر سکتے ہیں؟—‏متی ۱۸:‏۲۱-‏۳۵‏۔‏

۸.‏ معاف کرنے والا ہونے میں ہماری بہتری کیوں ہے؟‏

۸ یہوواہ اپنے لوگوں کو ”‏اچھی راہ“‏ کی تعلیم دیتا ہے ”‏جس پر اُنکو چلنا فرض ہے۔“‏ (‏۱-‏سلاطین ۸:‏۳۶‏)‏ جب وہ ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنے کی ہدایت کرتا ہے تو ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہماری بہتری چاہتا ہے۔ معقول وجہ سے ہی بائبل ہمیں ”‏غضب کو موقع“‏ دینے کی صلاح دیتی ہے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۹‏)‏ آزردگی ایک بھاری بوجھ ہے جسے زندگی میں اُٹھائے پھرنا نہایت مشکل ہے۔ جب ہم اسے اپنے دل میں گھر کرنے دیتے ہیں تو یہ ہمارے خیالات کو برباد کر دیتی، ہمارا سکھ چین چھین لیتی اور ہماری خوشی کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ حسد کی طرح، زیادہ دیر تک غصہ رکھنا بھی ہماری جسمانی صحت پر مُضر اثرات ڈال سکتا ہے۔ (‏امثال ۱۴:‏۳۰‏)‏ نیز جبکہ ہم اس تمام صورتحال سے گزر رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ قصوروار کو ہماری اضطرابی کی خبر تک نہ ہو!‏ ہمارا پُرمحبت خالق جانتا ہے کہ ہمیں نہ صرف اُنہی کے فائدے کیلئے بلکہ اپنے فائدے کیلئے بھی دوسروں کو فراخدلی سے معاف کرنے کی ضرورت ہے۔ بائبل کی معاف کرنے کی مشورت یقیناً ’‏اچھی راہ ہے جس پر چلنا چاہئے۔‘‏

‏”‏ایک دوسرے کی برداشت کرو“‏

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ کس قسم کی حالتوں کے لئے باقاعدہ معافی کی ضرورت نہیں ہوتی؟ (‏ب)‏ ”‏ایک دوسرے کی برداشت کرو“‏ کا اظہار کیا تجویز کرتا ہے؟‏

۹ جسمانی نقصان معمولی چوٹ سے گہرے زخم تک ہو سکتے ہیں اور سب لوگوں کو ایک ہی جیسی توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مجروح احساسات کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے—‏کچھ زخم دوسروں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ کیا ہمیں واقعی ہر معمولی چوٹ کو ایک مسئلہ بنانے کی ضرورت ہے جو ہمیں دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں لگتی ہے؟ معمولی سی خفگی، اہانت اور جھنجھلاہٹ زندگی کا حصہ ہیں اور انکے لئے باقاعدہ معافی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہم ایک ایسے شخص کے طور پر مشہور ہو جاتے ہیں جو ذرا سی بھول پر بھی دوسروں کو دھتکار دیتا ہے اور پھر یہ اصرار کرتا ہے کہ اس سے پیشتر کہ ہم اُن سے دوبارہ شائستگی سے پیش آئیں وہ معافی مانگیں تو ہم اُنہیں مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہماری صحبت میں آتے وقت زیادہ احتیاط برتیں یا ہم سے دُور ہی رہیں!‏

۱۰ اسکے برعکس، اس سے کہیں بہتر ہے کہ ”‏معقول ہونے کی شہرت رکھیں۔“‏ (‏فلپیوں ۴:‏۵‏، فلپس)‏ ناکامل انسانوں کے طور پر شانہ‌بشانہ خدمت کرتے ہوئے، ہم معقول طور پر توقع کر سکتے ہیں کہ وقتاًفوقتاً ہمارے بھائی ہمیں خفا کر سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ ہم بھی اُنکے ساتھ ایسا ہی کریں۔ کلسیوں ۳:‏۱۳ ہمیں نصیحت کرتی ہے:‏ ”‏ایک دوسرے کی برداشت کرو“‏۔ یہ اظہار مشورہ دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ تحمل سے پیش آئیں، اُن باتوں یا خصائل کی برداشت کریں جو ہم اُن میں پسند نہیں کرتے یا جنہیں ہم دق کرنے والا سمجھ سکتے ہیں۔ دوسروں کیساتھ اپنے تعلقات میں ہمیں جن چھوٹی‌موٹی مشکلات اور رنجشوں کا سامنا ہوتا ہے اُن پر—‏کلیسیا کا اَمن تباہ کئے بغیر—‏قابو پانے کیلئے ایسا صبر اور تحمل ہماری مدد کر سکتا ہے۔—‏ا-‏کرنتھیوں ۱۶:‏۱۴۔‏

جب زخم زیادہ گہرے ہوں

۱۱.‏ جب دوسرے ہمارے خلاف گناہ کرتے ہیں تو کونسی چیز اُنہیں معاف کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

۱۱ تاہم، اگر دوسرے گہرا زخم لگاتے ہوئے ہمارے خلاف گناہ کرتے ہیں تو کیا ہو؟ اگر گناہ زیادہ سنگین نہیں ہے تو شاید ہمیں بائبل کی اس نصیحت کا اطلاق کرنے میں کچھ مشکل پیش آئے کہ ’‏فراخدلی سے ایک دوسرے کو معاف کرو۔‘‏ (‏افسیوں ۴:‏۳۲‏)‏ معاف کرنے کے لئے یہ آمادگی پطرس کے الہامی الفاظ کی مطابقت میں ہے:‏ ”‏سب سے بڑھ کر آپس میں بڑی محبت رکھو کیونکہ محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۴:‏۸‏)‏ یہ بات ذہن میں رکھنا کہ ہم بھی گنہگار ہیں ہمیں دوسروں کے قصوروں کیلئے گنجائش پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ پس جب ہم معاف کرتے ہیں تو ہم آزردگی کو دل میں رکھنے کی بجائے اسے ختم کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، قصوروار کے ساتھ ہمارے رشتے کو کوئی دائمی نقصان نہیں پہنچتا اور ہم کلیسیا کے گرانقدر اَمن کو بھی محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ (‏رومیوں ۱۴:‏۱۹‏)‏ جوکچھ اُس نے کِیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُسکی یاد بھی ذہن سے مٹ جاتی ہے۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ جس شخص نے ہمیں گہرا صدمہ پہنچایا ہے اُسے معاف کرنے کے لئے ہمیں کونسی پیشقدمی کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ (‏ب)‏ افسیوں ۴:‏۲۶ کے الفاظ کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں فوراً معاملات کو طے کر لینا چاہئے؟‏

۱۲ تاہم، اگر کوئی ہمیں گہرا صدمہ پہنچاتے ہوئے ہمارے خلاف زیادہ سنگین انداز میں گناہ کرتا ہے تو کیا ہو؟ مثلاً، شاید کسی قابلِ‌بھروسہ دوست نے انتہائی ذاتی معاملات کو افشا کر دیا ہے جنکا آپ نے اُسے ہمراز بنایا تھا۔ آپ گہری چوٹ، شرمندہ اور فریب‌خوردہ محسوس کرتے ہیں۔ آپ نے اسے بھلانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بات ذہن سے نکلتی ہی نہیں۔ ایسے معاملے میں، آپ کو شاید قصوروار سے گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ حل کرنے کیلئے کچھ پیشقدمی کرنے کی ضرورت پڑے۔ اس سے پہلے کہ معاملہ کشیدگی پیدا کر دے ایسا کرنا دانشمندانہ عمل ہوگا۔ پولس نے ہمیں تاکید کی:‏ ”‏غصہ تو کرو مگر گناہ [‏یعنی اپنے غصے کو دل میں رکھنا یا اسکے مطابق عمل کرنا]‏ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۲۶‏)‏ یہ حقیقت پولس کے الفاظ کو اَور زیادہ پُرمطلب بنا دیتی ہے کہ یہودیوں میں غروبِ‌آفتاب ایک دن کے اختتام اور دوسرے کے آغاز کی علامت ہوا کرتا تھا۔ لہٰذا، نصیحت یہ ہے:‏ معاملہ جلد نپٹا لیں!‏—‏متی ۵:‏۲۴،۲۳‏۔‏

۱۳.‏ اُس شخص سے گفت‌وشنید کرتے وقت جس نے ہمیں ناراض کِیا ہے، ہمارا مقصد کیا ہونا چاہئے اور اسے حاصل کرنے کیلئے کونسی تجاویز ہماری مدد کر سکتی ہیں؟‏

۱۳ آپ کو قصوروار سے کیسے بات کرنی چاہئے؟ ”‏صلح کا طالب ہو اور اُسکی کوشش میں رہے،“‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۱۱ کہتی ہے۔ آپ کا مقصد، غصہ ظاہر کرنا نہیں بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ صلح کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے تلخ باتوں اور اظہارات سے گریز کرنا بہتر ہے، یہ شاید دوسرے شخص کی طرف سے ایسے ہی ردِعمل کا باعث بنے۔ (‏امثال ۱۵:‏۱۸؛‏ ۲۹:‏۱۱‏)‏ علاوہ‌ازیں، ایسے مبالغہ‌آمیز بیانات سے گریز کریں جیسے کہ ”‏آپ تو ہمیشہ.‏ .‏ .‏!‏“‏ یا ”‏آپ تو کبھی نہیں.‏ .‏ .‏!‏“‏ ایسی مبالغہ‌آمیز باتیں ہو سکتا ہے کہ اُسے اپنا دفاع کرنے پر مجبور کر دیں۔ اسکے برعکس، آپکے لہجے اور چہرے کے تاثرات سے یہ عیاں ہونا چاہئے کہ آپ اس معاملے کو جس نے آپ کو گہری چوٹ پہنچائی ہے حل کرنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ واقع ہوا آپ اُسکی بابت جو بھی محسوس کرتے ہیں اُسکو صاف صاف بیان کریں۔ دوسرے شخص کو اپنے افعال کی وضاحت کرنے کا موقع دیں۔ اُسے جو کچھ کہنا ہے اُسے سنیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۹‏)‏ اس سے کیا بہتری آئیگی؟ امثال ۱۹:‏۱۱ وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏آدمی کی تمیز اُسکو قہر کرنے میں دھیما بناتی ہے اور خطا سے درگذر کرنے میں اُسکی شان ہے۔“‏ دوسرے شخص کے احساسات اور اُسکے افعال کی وجوہات کو سمجھنا اُسکے لئے منفی خیالات اور احساسات کو شاید دور کر دے۔ جب ہم صلح کرنے کے نصب‌العین کے ساتھ معاملے پر بات‌چیت کرتے ہیں اور ایسے رُجحان کو قائم رکھتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ کسی بھی طرح کی غلط‌فہمی دُور ہو جائے، موزوں طور پر معذرت کر لی جائے اور معاف کر دیا جائے۔‏

۱۴.‏ جب ہم دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو ہمیں کس مفہوم میں بھول جانا چاہئے؟‏

۱۴ کیا دوسروں کو معاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جوکچھ واقع ہوا ہے اُسے ہم واقعی بھول جائیں؟ اس ضمن میں یہوواہ کی اپنی مثال کو یاد کریں جیسا کہ پچھلے مضمون میں بات‌چیت کی گئی تھی۔ جب بائبل یہ کہتی ہے کہ یہوواہ ہمارے گناہوں کو بھلا دیتا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اُنکو یاد کرنے کے قابل نہیں ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۲۵‏)‏ اسکے برعکس، وہ اس مفہوم میں بھلا دیتا ہے کہ ایک دفعہ جب وہ معاف کر دیتا ہے تو وہ مستقبل میں کسی بھی کارروائی کیلئے اِن گناہوں کو ہمارے خلاف استعمال نہیں کرتا۔ (‏حزقی‌ایل ۳۳:‏۱۴-‏۱۶)‏ اسی طرح، ساتھی انسانوں کو معاف کر دینے کا ضروری طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ جوکچھ اُنہوں نے کِیا ہم اُسے یاد کرنے کے قابل نہیں ہونگے۔ تاہم، ہم اس مفہوم میں بھول سکتے ہیں کہ ہم اُنہیں مستقبل میں قصوروار کے خلاف استعمال نہ کریں یا اُنہیں دوبارہ سامنے نہ لائیں۔ یوں معاملے کو نپٹانے کے بعد، اسکی بابت فضول‌گوئی کرنا مناسب نہیں ہوگا؛ نہ ہی یہ پُرمحبت بات ہوگی کہ ہم قصوروار سے قطعی طور پر گریز کریں اور اُس سے ایسے برتاؤ کریں جیسے‌کہ وہ خارج‌شُدہ ہے۔ (‏امثال ۱۷:‏۹‏)‏ یہ سچ ہے کہ اُسکے ساتھ ہمارے رشتے کو بحال ہونے میں شاید کچھ وقت لگے؛ شاید ہم اسکے ساتھ پہلے جیسی قربت سے لطف‌اندوز نہ ہوں۔ لیکن ہم اب بھی اُس سے اپنے مسیحی بھائی کے طور پر محبت کرتے ہیں اور پُراَمن تعلقات برقرار رکھنے کی حتی‌الوسع کوشش کرتے ہیں۔—‏مقابلہ کریں لوقا ۱۷:‏۳‏۔‏

جب معاف کرنا ناممکن دکھائی دے

۱۵، ۱۶.‏ (‏ا)‏ کیا مسیحیوں سے کسی غیرتائب خطاکار کو معاف کرنے کا تقاضا کِیا جاتا ہے؟ (‏ب)‏ ہم زبور ۳۷:‏۸ میں بائبل کی نصیحت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۱۵ تاہم، اگر دوسرے ہمارے خلاف اسطرح سے گناہ کرتے ہیں جو گہرے زخموں پر نمک چھڑک دے اور پھر گناہ کا اعتراف بھی نہ کِیا جائے، کوئی توبہ نہ ہو اور قصوروار کوئی معافی بھی نہ مانگے تو کیا ہو؟ (‏امثال ۲۸:‏۱۳‏)‏ صحائف صاف طور پر بیان کرتے ہیں کہ یہوواہ غیرتائب، سنگدل گنہگاروں کو معاف نہیں کرتا۔ (‏عبرانیوں ۶:‏۴-‏۶؛‏ ۱۰:‏۲۶، ۲۷‏)‏ ہماری بابت کیا ہے؟ انسائٹ آن دی سکرپچرز کہتی ہے:‏ ”‏مسیحیوں سے اُن لوگوں کو معاف کرنے کا تقاضا نہیں کِیا جاتا جو کسی معافی کے بغیر کینہ‌پرور، قصداً گناہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے دشمن بن جاتے ہیں۔“‏ (‏جِلد ۱، صفحہ ۸۶۲)‏ انتہائی غیرمنصفانہ، نفرت‌انگیز یا ظالمانہ سلوک کا شکار ہونے والے مسیحی کو کسی بھی ایسے خطاکار کو معاف کرنے یا بخش دینے کا پابند محسوس نہیں کرنا چاہئے جو تائب نہیں ہے۔—‏زبور ۱۳۹:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۱۶ قابلِ‌فہم طور پر، جو وحشیانہ سلوک کا شکار ہوئے ہیں وہ غصہ اور ناراضگی محسوس کر سکتے ہیں۔ تاہم، یاد رکھیں کہ غصے اور آزردگی کو برقرار رکھنا ہمارے لئے کافی نقصان‌دہ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ایسے اعتراف یا معذرت کے منتظر رہتے ہیں جو کبھی ظاہر نہیں ہوتی تو ہمیں محض زیادہ سے زیادہ پریشانی ہوگی۔ ناانصافی سے مغلوب ہو جانے سے غصہ ہمارے اندر سرایت کر جاتا ہے جس کے ہماری روحانی، جذباتی اور جسمانی صحت پر تباہ‌کن اثرات پڑتے ہیں۔ عملاً، جس نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے ہم اسے خود کو نقصان پہنچاتے رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ دانشمندی سے، بائبل نصیحت کرتی ہے:‏ ”‏قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۸‏)‏ اسلئے، بعض مسیحیوں نے یہ دیکھ لیا ہے کہ تھوڑے عرصے کے بعد وہ—‏جوکچھ اُن کیساتھ ہوا اُسے معاف کرنے سے نہیں بلکہ غصے سے جل‌بھن جانے سے انکار کرنے سے آزردگی کو قائم رکھنے کی حالت پر قابو پانے کے لحاظ سے معاف کرنے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔ معاملے کو مکمل طور پر عادل خدا کے ہاتھ میں سونپتے ہوئے، اُنہوں نے کافی اطمینان کا تجربہ کِیا اور اپنی زندگیوں کو معمول کے مطابق گذارنے کے قابل ہوئے۔—‏زبور ۳۷:‏۲۸‏۔‏

۱۷.‏ مکاشفہ ۲۱:‏۴ میں درج یہوواہ کا وعدہ کیا تسلی‌بخش یقین‌دہانی کراتا ہے؟‏

۱۷ جب ایک زخم بہت گہرا ہوتا ہے تو شاید ہم اُسے کم‌ازکم اِس نظام‌العمل میں تو اپنے ذہن سے بالکل مٹا دینے کے قابل نہ ہوں۔ لیکن یہوواہ ایک نئی دُنیا کا وعدہ کرتا ہے جس میں ”‏وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۴‏)‏ اُس وقت جوکچھ بھی ہمیں یاد ہوگا وہ ہمارے لئے گہرے صدمے یا درد کا باعث نہیں ہوگا جو اب ہمارے دلوں پر بوجھ ڈالتا ہے۔—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

۱۸.‏ (‏ا)‏ اپنے بھائیوں اور بہنوں کیساتھ اپنے برتاؤ میں معاف کرنے والا ہونا کیوں ضروری ہے؟ (‏ب)‏ جب دوسرے ہمارے خلاف گناہ کرتے ہیں تو کس مفہوم میں ہم معاف کرکے بھول سکتے ہیں؟ (‏پ)‏ یہ ہمیں کیسے فائدہ پہنچاتا ہے؟‏

۱۸ دریں اثنا، ہمیں بھائیوں اور بہنوں کے طور پر رہنا اور کام کرنا ہے جو ناکامل، گنہگار انسان ہیں۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔ وقتاًفوقتاً، ہم ایک دوسرے کو مایوس کرتے اور ایک دوسرے کو دُکھ بھی پہنچاتے ہیں۔ یسوع خوب جانتا تھا کہ ہمیں دوسروں کو ”‏سات بار بلکہ سات دفعہ کے ستر بار تک“‏ معاف کرنے کی ضرورت ہوگی!‏ (‏متی ۱۸:‏۲۲‏)‏ سچ ہے کہ ہم یہوواہ کی طرح پورے طور پر معاف نہیں کر سکتے۔ تاہم بیشتر معاملات میں جب ہمارے بھائی ہمارے خلاف گناہ کرتے ہیں تو ہم آزردگی پر قابو پانے کے لحاظ سے معاف کر سکتے ہیں اور ہم مستقبل میں کبھی بھی اُنکے خلاف اس معاملے کو قائم نہ رکھنے کے مفہوم میں بھول سکتے ہیں۔ جب ہم اس طرح معاف کرتے اور بھول جاتے ہیں تو ہم نہ صرف کلیسیا کا اَمن بلکہ اپنے ذہنی اور قلبی اطمینان کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھکر، ہم ایسے اطمینان سے لطف‌اندوز ہونگے جو صرف ہمارا پُرمحبت خدا، یہوواہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔—‏فلپیوں ۴:‏۷‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بابلی تالمود کے مطابق، ربّیوں کی ایک روایت بیان کرتی ہے:‏ ”‏اگر ایک شخص ایک، دو یا تین بار خطا کرتا ہے تو اُسے معاف کِیا جاتا ہے مگر چوتھی بار اُسے معاف نہیں کِیا جاتا۔“‏ (‏یوما ۸۶بی)‏ یہ بات جزوی طور پر عاموس ۱:‏۳؛ ۲:‏۶؛ اور ایوب ۳۳:‏۲۹ جیسی آیات کی غلط سمجھ پر مبنی تھی۔‏

b واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ۔‏

سوالات برائے اعادہ

◻ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کیلئے تیار کیوں ہونا چاہئے؟‏

◻کس قسم کی حالتیں ہم سے ”‏ایک دوسرے کی برداشت“‏ کرنے کا تقاضا کرتی ہیں؟‏

◻جب ہمیں دوسروں کے گناہوں سے گہرا صدمہ پہنچتا ہے تو ہم پُرامن طریقے سے معاملے کو طے کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

◻جب ہم دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو ہمیں کس مفہوم میں بھول جانا چاہئے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں