یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م‌ع16 نمبر 1 ص.‏ 15
  • دل سے معاف کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دل سے معاف کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • معاف کرنے والے کیوں بنیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • کیا آپ اُسی طرح معاف کرتے ہیں جیسے یہوؔواہ کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
م‌ع16 نمبر 1 ص.‏ 15

قدیم اصول جدید دَور میں

دل سے معاف کریں

پاک کلام کا اصول:‏ ”‏اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے [‏یہوواہ خدا]‏ نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تُم بھی کرو۔“‏—‏کُلسّیوں 3:‏13‏۔‏

ایک عورت دوسری عورت سے ناراض ہو کر جا رہی ہے۔‏

تشریح:‏ خدا کے کلام میں گُناہ کو قرض سے اور معاف کرنے کو قرض کی معافی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (‏لُوقا 11:‏4‏)‏ ایک لغت کے مطابق جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏معاف کرنا“‏ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب ہے:‏ ”‏قرض‌دار سے قرض واپس کرنے کا تقاضا نہ کرنا۔“‏ لہٰذا کسی شخص کو معاف کرتے وقت بدلے میں اُس سے کسی طرح کی تلافی کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اُس تکلیف سے نظریں چُرا رہے ہیں جو دوسرے شخص نے ہمیں پہنچائی ہے یا اُس کے غلط کام کو صحیح قرار دے رہے ہیں۔ دراصل اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے دل سے رنجش کو بالکل مٹا دیں، چاہے ہماری شکایت جائز ہی کیوں نہ ہو۔‏

آج بھی فائدہ‌مند:‏ عیب‌دار ہونے کی وجہ سے ہم سب گُناہ کرتے ہیں۔ (‏رومیوں 3:‏23‏)‏ لہٰذا دوسروں کو معاف کرنا سمجھ‌داری کی بات ہے کیونکہ کبھی نہ کبھی ہمیں بھی دوسروں سے معافی چاہیے ہوتی ہے۔ دوسروں کو معاف کرنے سے ہمیں اَور بھی فائدے ہوتے ہیں۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏

دو عورتیں گلے مل رہی ہیں۔‏

جب ہم دوسروں کو معاف نہیں کرتے اور اپنے دل میں غصے اور رنجش کو پلنے دیتے ہیں تو ہم خود کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ اِن احساسات کی وجہ سے ہم اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں اور ہماری خوشیوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ اِن سے ہماری صحت کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک طبی جریدے میں لکھا ہے:‏ ”‏حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ غصے اور نفرت میں اور دل کی بیماریوں میں گہرا تعلق ہے۔“‏‏—‏جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیولوجی۔‏

اِس کے برعکس جب ہم دل سے دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو ہم امن اور اِتحاد کو فروغ دیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے رہتے ہیں۔ اِس طرح ہم خدا کو بھی خوش کرتے ہیں جو ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہم دوسروں کو دل سے معاف کریں، ویسے ہی جیسے وہ توبہ کرنے والے لوگوں کو معاف کرتا ہے۔—‏مرقس 11:‏25؛‏ اِفسیوں 4:‏32؛‏ 5:‏1‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں