یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏12 ص.‏ 4-‏7
  • معاف کرنے والے کیوں بنیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • معاف کرنے والے کیوں بنیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • معاف نہ کرنے والے مزاج کا نقصان
  • معاف کرنا سیکھیں
  • توازن کی تلاش کرنا
  • معاف کرنے کے فوائد
  • ‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • کیا آپ اُسی طرح معاف کرتے ہیں جیسے یہوؔواہ کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • یہوواہ—‏معاف کرنے کی بہترین مثال
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏12 ص.‏ 4-‏7

معاف کرنے والے کیوں بنیں؟‏

یہودی اسکالر اور مصنف جوؔزف جیکب نے ایک مرتبہ معافی کو ”‏تمام اخلاقی اسباق میں سے اعلیٰ‌ترین اور مشکل‌ترین [‏سبق]‏“‏ کے طور پر بیان کیا۔ واقعی، بہتیرے یہ الفاظ کہنا بہت مشکل پاتے ہیں کہ ”‏میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔“‏

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معافی کافی حد تک روپے پیسے کے مشابہ ہے۔ اسے بخوشی اور رحمدلی سے دوسروں پر خرچ کیا جا سکتا ہے یا اپنی ذات کیلئے کنجوسی سے اسکا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلا والا خدائی طریقہ ہے۔ جب معافی کی بات آتی ہے تو ہمیں فراخدلی سے خرچ کرنے کی عادات پیدا کرنی چاہئیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ خدا اسکی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے اور اسلئے کہ ایک معاف نہ کرنے والا، انتقام‌پرور جذبہ معاملات کو مزید خراب ہی کر سکتا ہے۔‏

اکثر یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں:‏ ”‏میں پاگل تو نہیں ہو جاتا؛ بس بدلہ چُکاتا ہوں!‏“‏ افسوس کی بات ہے کہ آجکل یہ بیان بہتیروں کی زندگیوں میں راہنما اصول بنا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک عورت نے اپنی بھابی کیساتھ سات سال سے زیادہ عرصہ تک بات کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ، جیسا کہ وہ عورت کہتی ہے، ”‏اس نے مجھ پر حد درجہ کیچڑ اُچھالا تھا۔ اور میں کبھی بھی اسے معاف نہیں کر سکی۔“‏ جب ایسی چپ سادھ لینے کو ملزم سے معذرت کرانے کیلئے یا سزا دینے والے ہتھیار کے طور استعمال کیا جاتا ہے تو بمشکل ہی یہ انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ اس کے برعکس یہ پوری رنجش کو پیدا کرتے ہوئے محض جھگڑے کو طول دیتا ہے۔ اگر ذہنی کوفت کے اس چکر کو توڑا نہ جائے تو انتقام کے یہ زوردار شکنجے تعلقات کو اور حتیٰ‌کہ اس شخص کی صحت کو بھی تباہ کر سکتے ہیں۔‏

معاف نہ کرنے والے مزاج کا نقصان

جب کوئی شخص معاف کرنے والا نہ ہو تو اس کے نتیجے میں نکلنے والی آویزش تناؤ پیدا کرتی ہے۔ اس کے بعد، تناؤ تشویشناک بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ولیمؔ ایس۔ سیڈلر نے لکھا:‏ ”‏ڈاکٹر کی طرح کوئی بھی شخص انسانی بیماری اور تکلیف کے نہایت بڑے حصے کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا جس کا براہِ‌راست تعلق پریشانی، ڈر، اختلاف، .‏ .‏ .‏ غیرصحتمندانہ سوچ اور ناپاک طرزِزندگی سے ہے۔“‏ تاہم، حقیقت میں جذباتی اضطراب کسقدر نقصان کا سبب بنتا ہے؟ ایک طبّی اشاعت جواب دیتی ہے:‏ ”‏اعدادوشمار .‏ .‏ .‏ ظاہر کرتے ہیں کہ فزیشن کے پاس جانے والے مریضوں کا دو تہائی ایسی علامات رکھتا تھا جن کا سبب ذہنی تناؤ تھا یا جن میں اس کی وجہ سے مزید خرابی پیدا ہو گئی تھی۔“‏

جی‌ہاں، تلخی، آزردگی اور کینہ بے‌ضرر ہونے سے بعید ہیں۔ یہ طنزآمیز جذبات زنگ کی مانند ہیں جو دھیرے دھیرے کار کی باڈی کو کھا جاتا ہے۔ کار کی بیرونی سطح شاید خوبصورت دکھائی دے، لیکن پینٹ کے نیچے ایک تباہ‌کن عمل واقع ہو رہا ہوتا ہے۔‏

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رحم کی بنیاد کے ہوتے ہوئے بھی ہمارا معاف کرنے سے انکار کرنا ہمیں روحانی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہوؔواہ خدا کی نظروں میں ہم شاید یسوؔع کی تمثیل والے نوکر کی مانند بن جائیں۔ نوکر کے مالک نے اسے بہت بڑا قرض معاف کر دیا تھا۔ پھر بھی، جب اسکے ساتھی نوکر نے مقابلتاً بہت تھوڑے قرض کو معاف کرنے کی التجا کی تو وہ سخت اور معاف کرنے والا نہیں تھا۔ یسوؔع نے اس چیز کو واضح کیا کہ اگر ہم اسی طرح معاف کرنے کیلئے رضامند نہیں ہونگے تو یہوؔواہ ہمارے گناہوں کو معاف کرنے سے انکار کرے گا۔ (‏متی ۱۸:‏۲۱-‏۳۵‏)‏ لہٰذا، اگر ہم معاف نہ کرنے والے ہیں تو ممکن ہے کہ ہم خدا کے حضور صاف ضمیر کو اور مستقبل کے لئے اُمید کو بھی کھو دیں!‏ (‏مقابلہ کریں ۲-‏تیمتھیس ۱:‏۳‏۔)‏ تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

معاف کرنا سیکھیں

حقیقی معافی دل سے نکلتی ہے۔ اس میں ٹھیس پہنچانے والوں کی غلطی سے درگزر کرنا اور انتقام کی کسی بھی خواہش کو ترک کرنا شامل ہے۔ یوں، حتمی انصاف اور ممکنہ سزا کو یہوؔواہ کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔—‏رومیوں ۱۲:‏۱۹‏۔‏

تاہم، اس بات کو بھی نوٹ کیا جانا چاہئے کہ ”‏دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ‌باز اور لاعلاج ہے،“‏ اس لئے یہ ہمیشہ معافی کی طرف مائل نہیں ہوتا حالانکہ اسے ہونا بھی چاہئے۔ (‏یرمیاہ ۱۷:‏۹‏)‏ یسوؔع نے بذاتِ‌خود کہا:‏ ”‏بُرے خیال۔ خونریزیاں۔ زناکاریاں۔ حرامکاریاں۔ چوریاں۔ جھوٹی گواہیاں۔ بدگوئیاں دل ہی سے نکلتی ہیں۔“‏—‏متی ۱۵:‏۱۹‏۔‏

شکر کی بات ہے کہ جو درست ہے اس کرنے کیلئے ہمارے دلوں کی تربیت کی جا سکتی ہے۔ تاہم، جس تربیت کی ہمیں ضرورت ہے اسے کسی اعلیٰ منبع سے آنا چاہئے۔ ہم تنہا ایسے نہیں کر سکتے۔ (‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳‏)‏ ایک الہٰی مُلہَم زبورنویس نے اس بات کو پہچانا اور خدا کی ہدایت کیلئے دعا کی۔ اس نے دعا میں یہوؔواہ سے منت کی:‏ ”‏مجھے اپنے آئین کی تعلیم دے۔ اپنے قوانین کی راہ مجھے سمجھا دے۔“‏—‏زبور ۱۱۹:‏۲۶، ۲۷‏۔‏

ایک دوسرے زبور کے مطابق، قدیم اسرائیل کا شاہ داؔؤد یہوؔواہ کی ‏”‏راہ [‏کو سمجھا]‏“‏ تھا۔ اس نے براہِ‌راست اس کا تجربہ کیا اور اس سے سیکھا تھا۔ اس لئے وہ یہ کہنے کے قابل ہوا تھا:‏ ”‏خداوند رحیم اور کریم ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی۔ جیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے ویسے ہی خداوند ان پر جو اس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتا ہے۔“‏—‏زبور ۱۰۳:‏۸،‏ ۱۳‏۔‏

ہمیں داؔؤد کی مانند سیکھنے کی ضرورت ہے۔ معاف کرنے کیلئے خدا کے اور اسکے بیٹے کے کامل نمونے کا دعائیہ طور پر مطالعہ کریں۔ یوں ہم دل سے معاف کرنا سیکھ سکتے ہیں۔‏

پھر بھی، بعض خوب پوچھ سکتے ہیں:‏ سنگین گناہوں کی بابت کیا ہے؟ کیا تمام گناہ معاف کر دئے جانے چاہئیں؟‏

توازن کی تلاش کرنا

جب کوئی شخص سنگین گناہ کر لیتا ہے تو درد شدید ہو سکتا ہے۔ یہ بات خاصکر سچ ہوتی ہے اگر معصوم ستم‌رسیدہ کے خلاف سنگین گناہ ہوا ہو۔ بعض تو شاید یہ بھی جاننے کی خواہش کریں، ’‏میں کسی کو کیسے معاف کر سکتا ہوں جس نے بُری طرح سے مجھے دغا دی اور ٹھیس پہنچائی ہے؟‘‏ سنگین گناہ کے معاملے میں جو خارج کر دئے جانے کا مستحق ہے، ستم‌رسیدہ کو متی ۱۸:‏۱۵-‏۱۷ کی مشورت کا اطلاق کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔‏

بہرحال، زیادہ‌تر بات شاید ٹھیس پہنچاننے والے پر منحصر ہو سکتی ہے۔ غلط‌کاری کے وقت سے لیکر کیا مخلصانہ توبہ کی کوئی علامت نظر آئی ہے؟ کیا گنہگار تبدیلی لایا ہے، شاید اس نے حقیقی تلافی کرنے کی بھی کوشش کی ہو؟ یہوؔواہ کی نظروں میں ایسی توبہ حقیقی ہولناک گناہوں کے معاملے میں بھی معافی کی کُنجی ہے۔ مثال کے طور پر، یہوؔواہ نے اسرائیل کی تاریخ میں نہایت ہی شریر بادشاہوں میں سے ایک منسیؔ کو معاف کر دیا۔ کس بنیاد پر؟ خدا نے ایسا کیا کیونکہ منسیؔ نے آخرکار خود کو فروتن بنا لیا اور اپنی بُری روشوں سے توبہ کر لی۔—‏۲-‏تواریخ ۳۳:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

بائبل کے اندر حقیقی توبہ رویے میں مخلصانہ تبدیلی، یعنی سرزد ہونے والی کسی بھی غلطی کی بابت دلی پشیمانی پر مشتمل ہے۔ جہاں مناسب اور ممکن ہو، توبہ کے ساتھ اسکے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی شامل ہوتی ہے جس کے خلاف گناہ ہؤا ہے۔ (‏لوقا ۱۹:‏۷-‏۱۰؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۱‏)‏ جہاں پر ایسی توبہ نہیں ہوتی وہاں پر یہوؔواہ ہرگز معاف نہیں کرتا۔‏a مزیدبرآں، خدا مسیحیوں سے انہیں معاف کرنے کی ہرگز توقع نہیں کرتا جو ایک مرتبہ روحانی طور پر روشن ہو گئے اور اب قصداً، غیرتائب ہو کر غلط کام کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۶-‏۳۱‏)‏ انتہائی حالتوں میں، شاید معافی نامناسب ہو۔—‏زبور ۱۳۹:‏۲۱، ۲۲؛‏ حزقی‌ایل ۱۸:‏۳۰-‏۳۲۔‏

آیا معافی ممکن ہے یا نہیں، سنگین گناہ کا ستم‌رسیدہ ہو سکتا ہے ایک اور سوال پر غور کرے:‏ کیا مجھے بُری طرح ٹھیس اور غصہ محسوس کرتے ہوئے شدید جذباتی اضطراب میں رہنا چاہئے جب تک معاملہ پوری طرح طے نہیں ہو جاتا؟ ایک مثال پر غور کریں شاہ داؔؤد کو اس وقت شدید ٹھیس لگی جب اس کے جرنیل یوآؔب نے اؔبنیر اور عماؔسا کو قتل کر دیا جو ”‏[‏یوآؔب]‏ سے زیادہ راستباز اور اچھے تھے۔“‏ (‏۱-‏سلاطین ۲:‏۳۲‏)‏ داؔؤد نے زبانی ہی اپنے قہر کا اظہار کیا اور بلا‌شُبہ یہوؔواہ کے حضور دُعا میں بھی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ داؔؤد کے احساسات کی سراسر شدت ختم ہو گئی۔ اپنے مرنے کے دن تک اس پر قہر مسلّط نہیں تھا۔ داؔؤد نے یوآؔب کیساتھ کام کرنا بھی جاری رکھا، لیکن اس نے محض غیرتائب خونی کو معاف نہیں کیا تھا۔ داؤد نے اس بات کو دیکھا کہ آخرکار انصاف کیا گیا تھا۔—‏۲-‏سموئیل ۳:‏۲۸-‏۳۹؛‏ ۱-‏سلاطین ۲:‏۵، ۶‏۔‏

شاید اس میں کچھ وقت اور کوشش لگے اس سے پہلے کہ وہ جن کو دوسروں کے سنگین گناہوں سے ٹھیس پہنچی ہو اپنے پہلے غصے پر قابو پائیں۔ زخم بھرنے کا عمل اس وقت بہت آسان ہو سکتا ہے جب ٹھیس پہنچانے والا اپنی غلطی کو تسلیم کرتا اور توبہ کرتا ہے۔ تاہم، ایک بے‌گناہ ستم‌رسیدہ کو قطع‌نظر غلط‌کار کی روش کے، یہوؔواہ کے انصاف اور حکمت کے اپنے علم میں اور مسیحی کلیسیا میں، تسلی اور سکون پانے کے قابل ہونا چاہئے۔‏

اس بات کو بھی پہچانیں کہ جب آپ گنہگار کو معاف کر دیتے ہیں تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آپ گناہ کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ مسیحیوں کیلئے معافی کا مطلب اعتماد کیساتھ معاملے کو یہوؔواہ کے ہاتھوں میں چھوڑنا ہے۔ وہ تمام کائنات کا راست منصف ہے اور صحیح وقت پر انصاف کرے گا۔ اس میں حیلہ‌باز ”‏حرامکاروں اور زانیوں“‏ کی عدالت کرنا بھی شامل ہوگا۔—‏عبرانیوں ۱۳:‏۴‏۔‏

معاف کرنے کے فوائد

زبورنویس نے گیت گایا:‏ ”‏اسلئے کہ تُو یارب!‏ نیک اور معاف کرنے کو تیار ہے اور اپنے سب دعا کرنے والوں پر شفقت میں غنی ہے۔“‏ (‏زبور ۸۶:‏۵‏)‏ کیا آپ یہوؔواہ کی مانند ”‏معاف کرنے کو تیار“‏ ہیں؟ اس کے بہت سارے فائدے ہیں۔‏

اوّل، دوسروں کو معاف کرنا اچھے تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔ بائبل مسیحیوں کو تاکید کرتی ہے:‏ ”‏ایک دوسرے پر مہربان اور نرم دل ہو اور جس طرح خدا نے مسیح میں تمہارے قصور معاف کئے ہیں تم بھی ایک دوسرے کے قصور معاف کرو۔“‏—‏افسیوں ۴:‏۳۲‏۔‏

دوئم، معافی اطمینان کا باعث بنتی ہے۔ یہ فقط ساتھی انسانوں کیساتھ ہی صلح نہیں ہے بلکہ باطنی اطمینان بھی ہے۔—‏رومیوں ۱۴:‏۱۹؛‏ کلسیوں ۳:‏۱۳-‏۱۵‏۔‏

سوئم، دوسروں کو معاف کر دینا یہ یاد رکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ ہمیں بھی معافی کی ضرورت ہے۔ جی‌ہاں، ”‏سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“‏—‏رومیوں ۳:‏۲۳‏۔‏

آخر میں، دوسروں کو معاف کر دینا ہمارے گناہوں کیلئے بھی راہ ہموار کر دیتا ہے کہ یہوؔواہ انہیں معاف فرما دے۔ یسوؔع نے کہا:‏ ”‏اگر تم آدمیوں کے قصور معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تم کو معاف کرے گا۔“‏—‏متی ۶:‏۱۴‏۔‏

ان بہتیری باتوں کا تصور کریں جو یسوؔع کی موت کی سہ‌پہر ضرور اس کے ذہن پر چھائی ہوئی ہونگی۔ وہ اپنے شاگردوں، منادی کے کام اور خاصکر یہوؔواہ کیلئے اپنی راستبازی کی بابت فکرمند تھا۔ پھر بھی، سولی پر شدید تکلیف اُٹھاتے وقت بھی، اس نے کس چیز کے متعلق بات کی؟ اس کے آخری الفاظ میں سے کچھ یوں تھے ”‏اے باپ!‏ انکو معاف کر۔“‏ (‏لوقا ۲۳:‏۳۴‏)‏ ہم ایک دوسرے کو دل سے معاف کرکے یسوؔع کے کامل نمونے کی تقلید کر سکتے ہیں۔ (‏۴ ۹/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a تاہم، یہوؔواہ معاف کر دینے کا فیصلہ کرتے وقت دیگر پہلوؤں کا بھی لحاظ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی خطاکار خدا کے معیاروں سے ناواقف ہو تو ایسی ناواقفیت جرم کے بوجھ کو شاید کم کر دے۔ جب یسوؔع نے اپنے باپ سے درخواست کی کہ اس کے سزا دینے والوں کو معاف فرما دے تو وہ بدیہی طور پر رومی سپاہیوں کے متعلق بات کر رہا تھا جنہوں نے اسے مار ڈالا۔ حقیقت میں یسوؔع جو کچھ تھا اس سے ناواقف ہوتے ہوئے وہ ’‏نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘‏ تاہم، اس قتل کی حمایت کرنے والے مذہبی راہنما بڑے گناہ کے ذمہ‌دار تھے—‏اور ان میں سے بہتیروں کیلئے معافی ممکن نہیں تھی۔—‏یوحنا ۱۱:‏۴۵-‏۵۳‏؛ مقابلہ کریں اعمال ۱۷:‏۳۰‏۔‏

‏[‏تصویریں]‏

کیا آپ معاف نہ کر نے والے نوکر کی یسوؔع کی تمثیل کا نکتہ سمجھ گئے ہیں؟‏

‏[‏تصویریں]‏

دوسروں کو معاف کرنا اچھے تعلقات کو فروغ دیتا ہے اور خوشی کا باعث ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں