جھوٹے پیامبروں کیلئے کوئی اَمن نہیں!
”بدکردار کاٹ ڈالے جائینگے . . . لیکن حلیم مُلک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“—زبور ۳۷:۹، ۱۱۔
۱. ”آخری وقت“ میں، ہمیں سچے اور جھوٹے دونوں طرح کے پیامبروں کے موجود ہونے کی توقع کیوں کرنی چاہئے؟
پیامبر—جھوٹے یا سچے؟ بائبل وقتوں میں دونوں قسم کے موجود تھے۔ لیکن ہمارے زمانے کی بابت کیا ہے؟ دانیایل ۱۲:۹، ۱۰ میں، ہم پڑھتے ہیں کہ ایک آسمانی پیامبر نے خدا کے نبی کو بتایا: ”یہ باتیں آخری وقت تک بندوسربُمہر رہینگی۔ اور بہت لوگ پاک کئے جائینگے اور صافوبراق ہونگے لیکن شریر شرارت کرتے رہینگے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے۔“ ہم اب اُس ”آخری وقت“ میں رہ رہے ہیں۔ کیا ہم ”شریروں“ اور ”دانشوروں“ کے درمیان واضح فرق دیکھتے ہیں؟ یقیناً ہم دیکھتے ہیں!
۲. آجکل یسعیاہ ۵۷:۲۰، ۲۱ کی تکمیل کیسے ہو رہی ہے؟
۲ باب ۵۷ اور ۲۰ اور ۲۱ آیات میں ہم خدا کے پیامبر یسعیاہ کے الفاظ پڑھتے ہیں: ”شریر تو سمندر کی مانند ہیں جو ہمیشہ موجزن اور بےقرار ہے۔ جسکا پانی کیچڑ اور گندگی اُچھالتا ہے۔ میرا خدا فرماتا ہے کہ شریروں کیلئے سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] نہیں۔“ یہ الفاظ اس دُنیا کو کسقدر موزوں طور پر بیان کرتے ہیں جب یہ ۲۱ویں صدی میں داخل ہونے والی ہے! بعض تو شاید یہ بھی پوچھیں، ’کیا ہم کبھی اس صدی تک پہنچ پائینگے؟‘ ہمیں بتانے کیلئے دانشور پیامبروں کے پاس کیا ہے؟
۳. (ا) ۱-یوحنا ۵:۱۹ میں کس فرق کو ظاہر کِیا گیا ہے؟ (ب) مکاشفہ ۷ باب میں ”دانشوروں“ کو کیسے بیان کِیا گیا ہے؟
۳ یوحنا رسول الہٰی طور پر مُلہَم بصیرت رکھتا تھا۔ ۱-یوحنا ۵:۱۹ میں یہ بیان کِیا گیا ہے: ”ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا سے ہیں اور ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ اس دُنیا کے برعکس، ۱۴۴،۰۰۰ روحانی اسرائیلیوں کا عمررسیدہ بقیہ ہے جو ابھی تک ہمارے ساتھ ہے۔ آجکل ”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک بڑی بھیڑ“ اُنکے ساتھ مِل گئی ہے جنکی تعداد اب پانچ ملین سے زیادہ ہے یہ بھی بصیرت رکھتے ہیں۔ ”یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔“ اور اُنہیں اجر کیوں حاصل ہوتا ہے؟ اسلئے کہ یسوع کے فدیہ کی قربانی پر ایمان لاتے ہوئے اُنہوں نے بھی ”اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں۔“ نور کے پیامبروں کے طور پر وہ بھی ”رات دن [خدا] کی عبادت کرنے“ میں مصروف ہیں۔—مکاشفہ ۷:۴، ۹، ۱۴، ۱۵۔
اَمن کے نامنہاد پیامبر
۴. (ا) ناکامی شیطان کی دُنیا میں اَمن کے نامنہاد پیامبروں کا مقدر کیوں بن چکی ہے؟ (ب) آجکل افسیوں ۴:۱۸، ۱۹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟
۴ تاہم، شیطان کے دُنیاوی نظام میں نامنہاد اَمن کے پیامبروں کی بابت کیا ہے؟ یسعیاہ ۳۳ باب، ۷ آیت میں، ہم پڑھتے ہیں: ”دیکھ اُنکے بہادر باہر فریاد کرتے ہیں اور صلح [”اَمن،“ اینڈبلیو] کے ایلچی [”پیامبر،“ اینڈبلیو] پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں۔“ یہ بات اُنکے حق میں کسقدر سچ ثابت ہوتی ہے جو اَمن لانے کی کوششوں میں بےچینی کیساتھ دُنیا کے ایک دارالحکومت سے دوسرے دارالحکومت کا دَورہ کرتے ہیں۔ کسقدر لاحاصل! ایسا کیوں؟ اسلئےکہ وہ اسباب کی جڑ کو پکڑنے کی بجائے دُنیا کی خرابیوں کی علامات سے نبردآزما ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ شیطان کے وجود سے بےبہرہ ہیں، جسے پولس رسول ”اس جہان کے خدا“ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) شیطان نے نوعِانسان کے اندر شرارت کے بیج بوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اکثریت متعدد حکمرانوں سمیت، اب افسیوں ۴:۱۸، ۱۹ کے بیان پر پورا اُترتی ہے: ”اُنکی عقل تاریک ہو گئی ہے اور وہ اس نادانی کے سبب سے جو اُن میں ہے اور اپنے دلوں کی سختی کے باعث خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔ اُنہوں نے سُن ہو کر شہوتپرستی کو اختیار کِیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حرص سے کریں۔“
۵. (ا) اَمن لانے والوں کے طور پر انسانی ایجنسیاں کیوں ناکام ہو جاتی ہیں؟ (ب) زبور ۳۷ کونسا تسلیبخش پیغام دیتا ہے؟
۵ ناکامل انسانوں کی کوئی بھی ایجنسی انسانی دِلوں سے لالچ، خودغرضی اور نفرت ختم نہیں کر سکتی جو آجکل بہت عام ہیں۔ صرف ہمارا خالق، حاکمِاعلیٰ، یہوواہ ایسا کر سکتا ہے! نیز، نوعِانسان میں بہت کم لوگ حلیم ہیں جو اُسکی راہنمائی کی اطاعت کرنے کیلئے رضامند ہیں۔ ان کا اور دُنیا کے بدکار لوگوں کے انجام کا موازنہ زبور ۳۷:۹-۱۱ میں کِیا گیا ہے: ”بدکردار کاٹ ڈالے جائینگے لیکن جنکو خداوند کی آس ہے مُلک کے وارث ہونگے۔ کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا . . . لیکن حلیم مُلک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“
۶، ۷. دُنیا کے مذاہب کا کونسا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اَمن کے پیامبروں کے طور پر خدمت انجام دینے میں ناکام ہو گئے ہیں؟
۶ تاہم، کیا اس دُکھی دُنیا کے مذاہب کے اندر، اَمن کے پیامبر مل سکتے ہیں؟ اس وقت مذہب کا ریکارڈ کیا ہے؟ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ صدیوں کے دوران مذہب زیادہتر قتلوغارت میں ملوث رہا ہے، جیہاں، اسکی ترغیب بھی دیتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، اگست ۳۰، ۱۹۹۵ کے ہفتے کے کرسچین سنچری نے سابقہ یوگوسلاویہ میں گڑبڑ کی خبر دیتے ہوئے بیان کِیا: ”سرب قبضہ کے تحت بوسنیا میں، خودساختہ پارلیمنٹ میں پادری اگلی نشستوں پر بیٹھتے ہیں اور ایسی جگہوں پر بھی پیش پیش ہوتے ہیں جہاں فوجی یونٹوں اور اسلحے کو جنگوں سے پہلے برکت دی جاتی ہے۔“
۷ افریقہ میں مسیحی دُنیا کے ایک صدی کے مشنری کام سے بھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا جسکی عمدہ مثال روانڈا کا مُلک ہے جہاں ۸۰ فیصد آبادی کیتھولک ہے۔ جولائی ۷، ۱۹۹۵ کے دی نیو یارک ٹائمز نے بیان کِیا: ”لائیونز [فرانس] میں شائع ہونے والا ایک آزاد، عوامی کیتھولک جریدہ گولایا، روانڈا کے مزید ۲۷ کیتھولک پادریوں اور چار راہباؤں کی شناخت کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے جنہوں نے گزشتہ سال روانڈا میں قتل کئے یا قتلوغارت کی پُشتپناہی کی۔“ افریقن رائٹس، لندن میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے یہ تبصرہ کِیا: ”اپنی خاموشی سے زیادہ، کلیسیاؤں کو اپنے بعض پادریوں، پاسٹروں اور راہباؤں کے نسلکشی میں فعال کردار ادا کرنے کیلئے جواب دینا پڑیگا۔“ یہ اسرائیل کی حالت سے مشابہ ہے جب یہوواہ کے سچے پیامبر یرمیاہ نے، اسرائیل کی اُسکے حکمرانوں، اُسکے پیشواؤں اور نبیوں سمیت ”رسوائی“ کو بیان کرتے ہوئے اضافہ کِیا: ”تیرے ہی داَمن پر بےگناہ مسکینوں کا خون بھی پایا گیا۔“—یرمیاہ ۲:۲۶، ۳۴۔
۸. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ یرمیاہ اَمن کا پیامبر تھا؟
۸ یرمیاہ کو اکثر سزا کا حکم سنانے والا نبی کہا جاتا ہے لیکن اسے موزوں طور پر اَمن کا پیامبر بھی کہا جا سکتا ہے۔ اُس نے اُتنی ہی بار اَمن کا حوالہ دیا جتناکہ اُس سے پہلے یسعیاہ نے دیا تھا۔ یہوواہ نے یہ کہتے ہوئے یرمیاہ کو یروشلیم پر سزا سنانے کیلئے استعمال کِیا: ”یہ شہر جس دن سے اُنہوں نے اسے تعمیر کِیا آج کے دن تک میرے قہر اور غضب کا باعث ہو رہا ہے تاکہ مَیں اسے اپنے سامنے سے دُور کروں۔ بنی اسرائیل اور بنی یہوداہ کی تمام بدی کے باعث جو اُنہوں نے اور اُنکے بادشاہوں اور اُمرا اور کاہنوں اور نبیوں نے اور یہوؔداہ کے لوگوں اور یرؔوشلیم کے باشندوں نے کی تاکہ مجھے غضبناک کریں۔“ (یرمیاہ ۳۲:۳۱، ۳۲) اس نے آجکل مسیحی دُنیا کے حکمرانوں اور پادری طبقے پر سزا کا عکس پیش کِیا۔ حقیقی اَمن کے قیام کیلئے، بدی اور تشدد کی ترغیب دینے والوں کو ختم کِیا جانا چاہئے! وہ یقیناً اَمن کے پیامبر نہیں ہیں۔
یواین اَمن قائم کرنے والے کے کردار میں؟
۹. یواین نے اَمن کے پیامبر ہونے کا دعویٰ کیسے کِیا ہے؟
۹ کیا اقوامِمتحدہ اَمن کا حقیقی پیامبر نہیں بن سکتا؟ بہرصورت، ہیروشیما کو ایٹم بم سے تباہوبرباد کرنے سے صرف ۴۱ دن پہلے، جون ۱۹۴۵ میں پیش کئے جانے والے اس کے منشور نے اسکے مقصد کو بیان کِیا: ”آئندہ نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانا۔“ اقوامِمتحدہ کے ۵۰ امکانی ارکان کو ”بینالاقوامی اَمنوسلامتی کو قائم رکھنے کیلئے اپنی قوت کو متحد کرنا“ تھا۔ آج ۱۸۵ ممالک یواین کے رُکن ہیں جو مبیّنہ طور پر اسی مقصد کے لئے وقف ہیں۔
۱۰، ۱۱. (ا) مذہبی پیشواؤں نے یواین کی کیسے حمایت کی ہے؟ (ب) پوپ صاحبان نے ”خدا کی بادشاہت کی خوشخبری“ کو غلط طریقے سے کیسے پیش کِیا ہے؟
۱۰ ان تمام سالوں کے دوران، مذہبی پیشواؤں نے خاص طور پر یواین کی پُرزور تائید کی ہے۔ اپریل ۱۱، ۱۹۶۳ میں، پوپ جان XXIII نے اپنے مراسلے بعنوان ”پیکم ان ٹیرس“ (زمین پر اَمن) پر دستخط کئے، جس میں اُس نے بیان کِیا: ”یہ ہماری دلی خواہش ہے کہ اقوامِمتحدہ کی تنظیم—اپنی ساخت اور اپنے اغراضومقاصد میں—اہمیت اور اپنے نیک کاموں کے شایانِشان ثابت ہو سکے۔“ بعدازاں، جون ۱۹۶۵ میں، مذہبی پیشواؤں نے سانفرانسسکو میں یواین کی ۲۰ویں سالگرہ پر مبیّنہ طور پر دُنیا کی نصف آبادی کی نمائندگی کی۔ نیز ۱۹۶۵ میں، پوپ پال VI نے یواین کے ایک دَورے پر اسے ”اتحاد اور اَمن کی آخری اُمید“ کے طور پر بیان کِیا۔ ۱۹۸۶ میں، پوپ جان پال II نے یواین کے بینالاقوامی سالِاَمن کی تائید کرنے میں حصہ لیا۔
۱۱ ایک بار پھر، اکتوبر ۱۹۹۵ میں اپنے دَورے کے دوران، پوپ نے بیان کِیا: ”آج ہم خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کا جشن منا رہے ہیں۔“ لیکن کیا وہ درحقیقت بادشاہتی خوشخبری کیلئے خدا کا پیامبر ہے؟ دُنیا کے مسائل پر باتچیت کرتے ہوئے اُس نے مزید بیان کِیا: ”جب ہمیں ان بیشمار چیلنجوں کا سامنا ہے تو ہم اقوامِمتحدہ کی تنظیم کے کردار کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے؟“ خدا کی بادشاہت کی بجائے، پوپ کا انتخاب یواین ہے۔
’پھوٹ پھوٹ کر رونے‘ کی وجہ
۱۲، ۱۳. (ا) یواین نے یرمیاہ ۶:۱۴ میں بیانکردہ طریقے پر کیسے عمل کِیا ہے؟ (ب) یسعیاہ ۳۳:۷ کے بیان میں یواین قیادت کیوں شامل ہے؟
۱۲ یواین کی ۵۰ویں سالگرہ کی تقریب ”زمین پر اَمن“ کے کسی حقیقی امکان کو آشکارا کرنے میں ناکام ہو گئی۔ کینیڈا کے دی ٹرانٹو سٹار کے مصنف نے ایک وجہ کی نشاندہی کی، جس نے لکھا: ”یو.این. ایک ایسا شیر ہے جس کے دانت نہیں اور جو انسانی وحشیپن کے سامنے گرجتا ہے لیکن کاٹنے کیلئے اُسے اپنے ارکان کا انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ اُسکے مُنہ میں مصنوعی دانت لگائیں۔“ اکثر کاٹنے کا یہ عمل بڑا معمولی اور تاخیر سے ہوتا ہے۔ اس موجودہ دُنیاوی نظام میں اَمن کے پیامبر اور بالخصوص وہ جو مسیحی دنیا میں ہیں یرمیاہ ۶:۱۴ کے الفاظ کو دہراتے رہے ہیں: ”وہ میرے لوگوں کے زخم کو یوں ہی سلامتی سلامتی [”اَمن اَمن،“ اینڈبلیو] کہہ کر اچھا کرتے ہیں حالانکہ سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] نہیں ہے“۔
۱۳ یواین کے سیکرٹری جرنل یکےبعددیگرے یواین کو کامیاب بنانے کیلئے بِلاشُبہ خلوصدلی سے سخت محنت کرتے رہے ہیں۔ لیکن کثیرالمقاصد رکھنے والے ۱۸۵ ارکان کے مابین جنگ روکنے، پالیسی تشکیل دینے اور مالی معاملات کی دیکھبھال کرنے کی بابت مسلسل جھگڑوں نے کامیابی کے امکانات کی راہ میں رُکاوٹ ڈال دی ہے۔ ۱۹۹۵ کی اپنی سالانہ رپورٹ میں، موجودہ سیکرٹری جنرل نے ”عالمگیر نیوکلیئر انقلابی طوفان کے اندیشے“ کے کم ہونے کی بابت لکھا جس سے ”تمام نوعِانسان کیلئے معاشی اور معاشرتی ترقی کی جانب قوموں کیلئے باہم ملکر کام کرنے“ کی راہ کھل گئی ہے۔ لیکن اُس نے مزید بیان کِیا: ”افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ چند سال سے دُنیا کے معاملات کے ریکارڈ نے بڑی حد تک ان پُراُمید توقعات پر پانی پھیر دیا ہے۔“ واقعی نامنہاد اَمن کے پیامبر ’پھوٹ پھوٹ کر رو‘ رہے ہیں۔
۱۴. (ا) یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ یواین معاشی اور اخلاقی طور پر کنگال ہے؟ (ب) یرمیاہ ۸:۱۵ کی تکمیل کیسے ہو رہی ہے؟
۱۴ کیلیفورنیا کے دی اورنج کاؤنٹی رجسٹر کی شہسُرخی بیان کرتی ہے: ”یو.این. مالی اَور، اخلاقی طور پر کنگال ہے۔“ مضمون نے بیان کِیا کہ ۱۹۴۵ اور ۱۹۹۰ کے دوران، ۸۰ سے زیادہ جنگیں لڑی گئیں، جن میں ۳۰ ملین سے زیادہ زندگیاں ضائع ہوئیں۔ اس نے اکتوبر ۱۹۹۵ کے ریڈرز ڈائجسٹ کے ایک مصنف کا حوالہ دیا جو ”یو.این. کی فوجی نقلوحمل کو ’نااہل کمانڈروں، غیرتربیتیافتہ سپاہیوں، جارحیتپسندوں کے ساتھ معاہدوں، سفاکیوں کو روکنے میں ناکامی اور بعضاوقات دہشت کا سبب بننے سے منسوب کرتا ہے۔‘ مزیدبرآں، ’نقصان، دھوکے اور ناجائز استعمال کی حد بہت زیادہ ہے۔‘“ ایک حصے بعنوان ”یو.این. کے ۵۰ سال،“ میں دی نیو یارک ٹائمز کی ایک سُرخی یہ تھی ”بدنظمی اور نقصان یو.این. کے بہترین مقاصد کو تباہوبرباد کرتے ہیں۔“ لندن، انگلینڈ، کے دی ٹائمز نے ایک مضمون کی سرخی ان الفاظ کے ساتھ لگائی، ”پچاس سال پر کمزور—یواین کو اپنی اصل حالت میں واپس آنے کیلئے ورزش کے پروگرام کی ضرورت ہے۔“ درحقیقت، یہ ویسے ہی ہے جیسے ہم یرمیاہ ۸ باب کی ۱۵ آیت میں پڑھتے ہیں: ”سلامتی کا انتظار تھا پر کچھ فائدہ نہ ہوا اور شفا کے وقت کا پر دیکھو دہشت!“ اور نیوکلیئر تباہی کا خطرہ ابھی تک نوعِانسان کے سر پر منڈلا رہا ہے۔ واضح طور پر، یواین اُس اَمن کی پیامبر نہیں جسکی نوعِانسان کو ضرورت ہے۔
۱۵. قدیم بابل اور اُس کی مذہبی نسل کیسے تباہکُن اور حواسباختہ کرنے والی ثابت ہوئی ہے؟
۱۵ اس سب کا انجام کیا ہوگا؟ یہوواہ کا نبوّتی کلام شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا چیز دُنیا کے جھوٹے مذاہب کی منتظر ہے جو اکثر یواین کیساتھ بڑی دوستی رکھتے ہیں؟ یہ ایک ہی ماخذ، قدیم بابل کی اصل سے ہیں۔ موزوں طور پر اُنہیں مکاشفہ ۱۷:۵ میں ”بڑے بابلؔ، کسبیوں کی ماں اور زمین کی مکروہات“ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے۔ یرمیاہ نے اس ریاکار تنظیم کی بربادی کو بیان کِیا۔ اس نے کسبی کی طرح یواین کی خوشامد کرتے ہوئے اور اس کی رُکن سیاسی قوتوں کیساتھ ناجائز تعلقات پیدا کرتے ہوئے، زمین کے سیاستدانوں کو بہکایا ہے۔ اِسکا تاریخی جنگوں میں بڑا حصہ رہا ہے۔ انڈیا میں مذہبی جنگ کے حوالے سے ایک مفکر نے بیان کِیا: ”کارل مارکس نے مذہب کا حوالہ عوام کیلئے افیون کے طور پر دیا۔ لیکن یہ بیان بالکل درست نہیں ہو سکتا کیونکہ افیون وہ رسواکُن چیز ہے، جو لوگوں کو مدہوش کر دیتی ہے۔ جبکہ مذہب کافی حد تک کریک کوکین کی طرح ہے۔ یہ بہت زیادہ تشدد کی راہ کھولتا ہے اور انتہائی تباہکُن قوت ہے۔“ یہ مصنف بھی بالکل درست نہیں ہے۔ جھوٹا مذہب تباہکُن بھی ہے اور حواسباختہ کرنے والا بھی۔
۱۶. خلوصدل لوگوں کو اب بڑے بابل سے کیوں بھاگ جانا چاہئے؟ (نیز دیکھیں مکاشفہ ۱۸:۴، ۵۔)
۱۶ پس، خلوصدل لوگوں کو کیا کرنا چاہئے؟ خدا کا پیامبر یرمیاہ ہمیں جواب فراہم کرتا ہے: ”بابل سے نکل بھاگو اور ہر ایک اپنی جان بچائے۔ . . . کیونکہ یہ خداوند کے انتقام کا وقت ہے۔“ ہم خوش ہیں کہ لاکھوں لوگ بڑے بابل، جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کی قید سے نکل بھاگے ہیں۔ کیا آپ ان میں سے ایک ہیں؟ تو آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ بڑے بابل نے کیسے زمین کی قوموں کو متاثر کِیا ہے: ”قوموں نے اُسکی مے پی۔ اسلئے وہ دیوانہ ہیں۔“—یرمیاہ ۵۱:۶، ۷۔
۱۷. بڑے بابل پر کونسی سزا آنے والی ہے اور اس کارروائی کے بعد کیا واقع ہوگا؟
۱۷ بہت جلد، یواین کے ”دیوانے“ ارکان یہوواہ کی کارروائی کے ذریعے، جھوٹے مذہب پر حملہ کرنے کی ترغیب پائینگے جیساکہ مکاشفہ ۱۷:۱۶ میں بیان کِیا گیا ہے: ”وہ کسبی سے عداوت رکھینگے اور اُسے بیکس اور ننگا کر دینگے اور اُسکا گوشت کھا جائینگے اور اُسکو آگ میں جلا ڈالینگے۔“ یہ اُس بڑی مصیبت کے آغاز کا نشان ہوگا جس کا ذکر متی ۲۴:۲۱ میں کِیا گیا ہے اور جس کا عروج قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی جنگ، ہرمجِدّون پر ہوگا۔ قدیم بابل کی طرح بڑا بابل یرمیاہ ۵۱:۱۳، ۲۵ میں بیانکردہ سزا پائیگا: ”اَے نہروں پر سکونت کرنے والی جسکے خزانے فراوان ہیں تیری تمامی کا وقت آ پہنچا اور تیری غارتگری کا پیمانہ پُر ہو گیا۔ خداوند فرماتا ہے اَے ہلاک کرنے والے پہاڑ جو تمام رویِزمین کو ہلاک کرتا ہے! مَیں تیرا مخالف ہوں اور مَیں اپنا ہاتھ تجھ پر بڑھاؤنگا اور چٹانوں پر سے تجھے لڑھکاؤنگا اور تجھے جلا ہوا پہاڑ بنا دونگا۔“ جب یہوواہ کے انتقام کا دن اُن پر بھی آ پڑتا ہے تو جھوٹے مذہب کے بعد بدعنوان، جنگجو قومیں بھی تباہوبرباد ہو جائینگی۔
۱۸. یسعیاہ ۴۸:۲۲ کی تکمیل کب اور کیسے ہونا باقی ہے؟
۱۸ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۳ میں، شریر کی بابت یہ کہا گیا ہے: ”جس وقت لوگ کہتے ہونگے سلامتی اور اَمن ہے اُس وقت اُن پر اس طرح ناگہاں ہلاکت آئیگی جس طرح حاملہ کو درد لگتے ہیں اور وہ ہرگز نہ بچیں گے۔“ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بابت یسعیاہ نے کہا تھا: ”دیکھ . . .صلح [”اَمن،“ اینڈبلیو] کے ایلچی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۷) واقعی، جیسے ہم یسعیاہ ۴۸:۲۲ میں پڑھتے ہیں، ”خداوند فرماتا ہے کہ شریروں کیلئے سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] نہیں“۔ لیکن خدائی اَمن کے پیامبروں کا مستقبل کیسا ہے؟ ہمارا اگلا مضمون جواب دیگا۔
سوالات برائے اعادہ
▫ کن زوردار الفاظ سے خدا کے نبیوںنے جھوٹے پیامبروں کوبےنقاب کِیا؟
▫ انسانی ایجنسیاں دائمی اَمن لانے کی کوشش میں کیوں ناکام ہو گئی ہیں؟
▫ اَمن کے سچے پیامبر یواین کے حمایتیوں سے کیسے فرق ہیں؟
▫ حلیم لوگوں کو یہوواہ کے موعودہ اَمن سے لطف اُٹھانے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
[صفحہ 24 پر تصویریں]
یسعیاہ، یرمیاہ اور دانیایل سب نے اَمن کیلئے انسانی کاوشوں کے ناکام ہو جانے کی پیشینگوئی کی تھی
[صفحہ 25 پر تصویر]
”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“—یوحنا رسول
[صفحہ 26 پر تصویر]
”اُن کی عقل تاریک ہو گئی ہے۔“—پولس رسول