حقیقی اَمن—کس ماخذ سے؟
”[یہوواہ] زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔“—زبور ۴۶:۹۔
۱. یسعیاہ کی پیشینگوئی میں ہمیں اَمن کا کونسا شاندار وعدہ ملتا ہے؟
”صداقت کا انجام صلح ہوگا اور صداقت کا پھل ابدی آرامواطمینان ہوگا۔ اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بےخطر گھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔“ (یسعیاہ ۳۲:۱۷، ۱۸) کیا ہی دلکش وعدہ! حقیقی اَمن کے اِس وعدے کو خدا پورا کرتا ہے۔
۲، ۳. حقیقی اَمن کو بیان کریں۔
۲ پس حقیقی اَمن کیا ہے؟ کیا یہ محض جنگ کی عدمموجودگی ہے؟ یا کیا یہ محض وہ عرصہ ہے جس کے دوران قومیں آئندہ جنگ کی تیاری کرتی ہیں؟ کیا حقیقی اَمن محض ایک خواب ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جنکے ہمیں قابلِاعتماد جواب چاہئیں۔ اوّل یہ کہ حقیقی اَمن ایک خواب سے کہیں بڑھکر ہے۔ خدا کا موعودہ اَمن ہر اُس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا یہ دُنیا تصور کر سکتی ہے۔ (یسعیاہ ۶۴:۴) یہ اَمن چند سالوں یا چند دہوں کیلئے نہیں ہے۔ یہ دائمی ہے! اور یہ اَمن محض چند متشرف لوگوں کیلئے نہیں ہے—یہ آسمان اور زمین، فرشتوں اور انسانوں سب کیلئے ہے۔ یہ تمام قوموں، نسلیاتی گروہوں، زبانوں اور رنگوں کے لوگوں کیلئے ہے۔ کوئی سرحدیں، رُکاوٹیں اور ناکامیاں اُسے روک نہیں سکتیں۔—زبور ۷۲:۷، ۸؛ یسعیاہ ۴۸:۱۸۔
۳ حقیقی اَمن کا مطلب ہر روز اَمن ہے۔ اسکا مطلب ہر صبح جنگ کے خیال کے بغیر، اپنے مستقبل یا اپنے بچوں کے مستقبل یا اپنے اسباط کے مستقبل کی بابت بِلاتشویش بیدار ہونا ہے۔ اس کا مطلب مکمل ذہنی سکون ہے۔ (کلسیوں ۳:۱۵) اس کا مطلب ہے کہ کوئی جُرم نہیں، کوئی تشدد نہیں، منقسم خاندان نہیں، بےخانماں لوگ نہیں، بھوکے یا سردی سے ہلاک ہونے والے لوگ نہیں اور مایوسی اور محرومی نہیں۔ اس سے بھی بڑھکر، خدا کے اَمن کا مطلب بیماری، درد، دُکھ اور موت کے بغیر دُنیا ہے۔ (مکاشفہ ۲۱:۴) ہم حقیقی اَمن سے ہمیشہ تک لطفاندوز ہونے کی کیا ہی شاندار اُمید رکھتے ہیں! کیا ہم سب اسی قسم کے اَمن اور خوشی کے آرزومند نہیں؟ کیا ہمیں اسی قسم کے اَمن کیلئے دُعا اور کوشش نہیں کرنی چاہئے؟
نوعِانسان کی ناکام کوششیں
۴. قوموں نے اَمن کیلئے کیا کوششیں کی ہیں اور کس نتیجے کیساتھ؟
۴ صدیوں سے انسانوں اور اقوام نے اَمن کی بابت گفتگو کی ہے، اَمن کے سلسلے میں بحثومباحثے کئے ہیں، اَمن کے سینکڑوں معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ نتیجہ کیا رہا ہے؟ گزشتہ ۸۰ سال سے، درحقیقت کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرا جب کوئی نہ کوئی قوم یا گروہ جنگ میں ملوث نہیں رہا۔ واضح طور پر، اَمن نوعِانسان کو جھانسا دے گیا ہے۔ پس، سوال یہ ہے کہ بینالاقوامی اَمن قائم کرنے کی تمامتر انسانی کوششیں ناکام کیوں ہو گئی ہیں اور انسان ہمیشہ تک قائم رہنے والا حقیقی اَمن لانے کے لائق کیوں نہیں ہے؟
۵. اَمن کیلئے نوعِانسان کی کوششیں مسلسل ناکام کیوں ہو گئی ہیں؟
۵ سادہ جواب یہ ہے کہ نوعِانسان نے حقیقی اَمن کیلئے دُرست ماخذ کی طرف رُجوع نہیں کِیا۔ شیطان کے زیرِاثر، انسانوں نے ایسی تنظیمیں تشکیل دی ہیں جو اُنکی کمزوریوں اور بُرائیوں—اپنے لالچ اور حرص اور اقتدار اور ممتاز ہونے کی شدید خواہش—کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا رُخ کِیا ہے اور ایسی تنظیمیں اور اصلاحی ادارے قائم کئے ہیں جنہوں نے صرف استبداد اور بربادی کے مزید ذرائع تلاش کئے ہیں۔ انسانوں کی کس ماخذ کی طرف راہنمائی کی گئی ہے؟ اُنہوں نے کس پر آس لگائی ہے؟
۶، ۷. (ا) لیگ آف نیشنز نے اپنے لئے کیسا ریکارڈ قائم کِیا؟ (ب) اقوامِمتحدہ کا کیا ریکارڈ ہے؟
۶ پیچھے ۱۹۱۹ میں دائمی اَمن قائم کرنے کیلئے قوموں نے اپنا بھروسہ لیگ آف نیشنز پر رکھا۔ جب میسولینی کے لشکروں نے ۱۹۳۵ میں ایتھیوپیا پر حملہ کِیا اور ۱۹۳۶ میں سپین میں خانہجنگی شروع ہونے کیساتھ ہی وہ اُمید ٹوٹ گئی۔ ۱۹۳۹ میں دوسری عالمی جنگ کے چھڑنے سے لیگ آف نیشنز ناکام ہو گئی۔ نامنہاد اَمن ۲۰ سال بھی قائم نہ رہا۔
۷ اقوامِمتحدہ کی بابت کیا ہے؟ کیا اس نے پوری زمین پر دائمی اَمن کی کوئی اُمید پیش کی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ۱۹۴۵ میں اسکے آغاز سے لیکر ۱۵۰ سے زیادہ جنگیں اور مسلح لڑائیاں لڑی گئی ہیں! اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ جنگ اور اُس کی ابتدا کے ایک کینیڈین محقق گین ڈائر نے یواین کو ”مُقدسین کی جماعت کی بجائے، غیرقانونی شکار کھیلنے والوں کی تنظیم کے میرِشکار بن جانے“ اور ”بڑی حد تک زبانی جمع خرچ کرنے والے ادارے“ کے طور پر بیان کِیا۔—مقابلہ کریں یرمیاہ ۶:۱۴؛ ۸:۱۵۔
۸. اَمن کی بابت اپنے مذاکرات کے باوجود، قومیں کیا کرتی رہی ہیں؟ (یسعیاہ ۵۹:۸)
۸ اَمن کی بابت اپنے مذاکرات کے باوجود، قومیں جدید اسلحہ ایجاد کرتی اور بناتی رہتی ہیں۔ جو مُلک اَمن کانفرنسوں کا بندوبست کرتے ہیں اکثر وہی ہتھیار بنانے میں پیشپیش ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں زبردست تجارتی مفادات مُہلک جنگی اسلحے سمیت، جانلیوا زمیندوز سرنگیں تیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جو ہر سال ۲۶،۰۰۰ شہری بالغوں اور بچوں کو ہلاک یا اپاہج کر دیتی ہیں۔ لالچ اور بدعنوانی قوتِمتحرکہ ہیں۔ رشوت اور کالادھن اسلحے کی بینالاقوامی تجارت کا جزوِلازم ہیں۔ بعض سیاستدان اس طریقے سے خود کو دولتمند بناتے ہیں۔
۹، ۱۰. جنگوں اور انسانی کاوشوں کے سلسلے میں دُنیاوی ماہرین نے کیا مشاہدہ کِیا ہے؟
۹ دسمبر ۱۹۹۵ میں، پُرتگالی ماہرِطبیعات اور اَمن کا نوبل پرائز جیتنے والے جوزف راٹبلاٹ نے اقوام سے اسلحے کی دوڑ کو ختم کرنے کی استدعا کی۔ اُس نے کہا: ”[اسلحے کی نئی دوڑ] کو روکنے کا واحد طریقہ جنگ کو یکسر ختم کر دینا ہے۔“ آپکے خیال میں کیا ایسا ممکن ہے؟ ۱۹۲۸ سے لیکر، ۶۲ اقوام نے کیلاگ برائنڈ معاہدے کی توثیق کی جس کے ذریعے اُنہوں نے اختلافات نپٹانے کے ایک طریقۂکار کے طور پر جنگ کی مذمت کی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ معاہدہ کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
۱۰ ناقابلِتردید طور پر، جنگ تاریخ کے دوران ہمیشہ سے نوعِانسان کے راستے کا پتھر بنی رہی ہے۔ جیساکہ گین ڈائر نے لکھا، ”جنگ انسانی تہذیب کا ایک اہم دستور ہے اور یہ اُتنی ہی پُرانی ہے جتنی انسانی تہذیب۔“ جیہاں، درحقیقت ہر تہذیب اور سلطنت کی اپنی عقیدتمند عظیم فوجی شخصیات، اپنی باقاعدہ افواج، اپنی مشہور جنگیں، اپنی مُقدس عسکری تربیتگاہیں اور اپنا ہتھیاروں کا ذخیرہ رہا ہے۔ تاہم، تباہی اور جانی نقصان دونوں اعتبار سے ہماری صدی جنگ کے معاملے میں کسی بھی دوسری صدی کی نسبت زیادہ نمایاں رہی ہے۔
۱۱. اَمن کی تلاش میں دُنیاوی راہنماؤں نے کس بنیادی عنصر کو نظرانداز کِیا ہے؟
۱۱ یہ بات واضح ہے کہ دُنیا کے راہنماؤں نے یرمیاہ ۱۰:۲۳ کی بنیادی حکمت کو نظرانداز کر دیا ہے: ”اَے خداوند! مَیں جانتا ہوں کہ انسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ خدا کے بغیر حقیقی اَمن حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، کیا اس سب کا یہ مطلب ہے کہ ایک مہذب معاشرے میں جنگ ناگزیر ہے؟ کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ اَمن—حقیقی اَمن—محض ایک خواب ہے؟
جڑ تک پہنچنا
۱۲، ۱۳. (ا) جنگ کے بنیادی، نادیدہ سبب کی بابت بائبل کیا آشکارا کرتی ہے؟ (ب) شیطان نے دُنیا کے مسائل کے حقیقی حل سے نوعِانسان کی توجہ کو کیسے ہٹایا ہے؟
۱۲ ان سوالات کا جواب دینے کیلئے، ہمیں جنگ کے اسباب کو جاننے کی ضرورت ہے۔ بائبل صاف طور پر بیان کرتی ہے کہ باغی فرشتہ شیطان شروع ہی سے ”خونی“ اور ”جھوٹا“ ہے اور یہ کہ ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (یوحنا ۸:۴۴؛ ۱-یوحنا ۵:۱۹) اُس نے اپنے منصوبوں کو فروغ دینے کیلئے کیا کچھ کِیا ہے؟ ہم ۲-کرنتھیوں ۴:۳، ۴ میں پڑھتے ہیں: ”اگر ہماری خوشخبری پر پردہ پڑا ہے تو ہلاک ہونے والوں ہی کے واسطے پڑا ہے۔ یعنی اُن بےایمانوں کے واسطے جنکی عقلوں کو اس جہان کے خدا نے اندھا کر دیا ہے تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اُسکے جلال کی خوشخبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔“ شیطان دُنیا کے مسائل کے حل کے طور پر انسانوں کی توجہ خدا کی بادشاہت سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ وہ منقسم کرنے والے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی تنازعات کے ذریعے لوگوں کو اندھا کرتا اور غلط راہ پر ڈالتا ہے تاکہ یہ خدا کی حکمرانی کی نسبت زیادہ اہم دکھائی دیں۔ حالیہ قومپرستی کی عالمگیر لہر اِسکی ایک مثال ہے۔
۱۳ شیطان قومپرستی اور قبائلپرستی یعنی ایک قوم، نسل یا قبیلے کے دوسروں پر برتری کے اعتقاد کو فروغ دیتا ہے۔ پُرانی نفرتیں جو صدیوں سے دبی ہوئی تھیں زیادہ جنگوں اور جھگڑوں کو بھڑکانے کیلئے ازسرِنو تازہ ہو رہی ہیں۔ یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل، فیڈریکو میئر، نے یہ کہتے ہوئے اس میلان سے آگاہ کِیا: ”جہاں کبھی نرممزاجی روزانہ کا معمول ہوا کرتی تھی وہاں غیرملکیوں سے خائف ہونے کا میلان زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے اور اندھادھند وطنپرست اور نسلپرست اظہارات جو گئی گزری باتیں تھے اب اکثر سننے میں آتے ہیں۔“ نتیجہ کیا رہا ہے؟ سابقہ یوگوسلاویہ میں خوفناک قتلوغارت اور روانڈا میں قبائیلی خونریزی دو ایسے واقعات ہیں جو عالمی خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔
۱۴. مکاشفہ ۶:۴ ہمارے زمانے میں جنگ اور اسکے اثرات کی تصویرکشی کیسے کرتی ہے؟
۱۴ بائبل نے پیشگوئی کی تھی کہ اس نظام کے خاتمے کے وقت، جنگ کی علامت کے طور پر، ایک لال رنگ کا گھوڑا ساری زمین پر سرپٹ دوڑیگا۔ ہم مکاشفہ ۶:۴ میں پڑھتے ہیں: ”پھر ایک اَور گھوڑا نکلا جسکا رنگ لال تھا۔ اُسکے سوار کو یہ اختیار دیا گیا کہ زمین پر سے صلح [”اَمن،“ اینڈبلیو] اُٹھا لے تاکہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں اور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔“ ۱۹۱۴ سے لیکر ہم نے اس علامتی گُھڑسوار کو ”صلح [”اَمن،“ اینڈبلیو] اُٹھاتے“ دیکھا ہے اور قوموں نے لڑنا اور جنگ کرنا جاری رکھا ہے۔
۱۵، ۱۶. (ا) جنگوں اور قتلوغارت میں مذہب کا کیا کردار رہا ہے؟ (ب) مذہب نے جوکچھ کِیا ہے یہوواہ اُسے کیسا خیال کرتا ہے؟
۱۵ جس چیز کو نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا وہ ان جنگوں اور قتلوغارت میں مذہب کا کردار ہے؟ نوعِانسان کی خونآلودہ تاریخ کو کافی حد تک جھوٹے مذہب کے گمراہکُن اثرورسوخ سے منسوب کِیا جا سکتا ہے۔ کیتھولک عالمِدین ہانز کونگ نے لکھا: ”اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ مذہب نوعِانسان پر منفی اور تباہکُن اثر ڈالتا ہے اور ابھی تک ڈال رہا ہے۔ اتنی زیادہ آویزشیں، خونین جھگڑے، بِلاشُبہ، وہ ’مذہبی جنگوں‘ کیلئے جوابدہ ہیں؛ اور دو عالمی جنگوں کی بابت بھی . . . یہ بات سچ ہے۔“
۱۶ قتلوغارت اور جنگوں میں جھوٹے مذہب کے کردار کی بابت یہوواہ خدا کیسا محسوس کرتا ہے؟ خدا کا جھوٹے مذہب پر فردِجُرم عائد کرنے کو مکاشفہ ۱۸:۵ میں یوں بیان کِیا گیا ہے: ”اُسکے گناہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں اور اُسکی بدکاریاں خدا کو یاد آ گئی ہیں۔“ دُنیا کے سیاسی حکمرانوں کے ساتھ جھوٹے مذہب کا الحاق ایسے قتلوغارت، گناہوں کے ایسے بڑے انبار پر منتج ہوا ہے جسے خدا قطعاً نظرانداز نہیں کر سکتا۔ وہ جلد ہی حقیقی اَمن کی راہ میں حائل اس پتھر کو مکمل طور پر ہٹا دیگا۔—مکاشفہ ۱۸:۲۱۔
اَمن کی راہ
۱۷، ۱۸. (ا) دائمی اَمن کے ممکن ہونے پر ایمان رکھنا محض ایک غیرحقیقی خواب کیوں نہیں ہے؟ (ب) اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ حقیقی اَمن ضرور آئیگا یہوواہ نے پہلے ہی سے کیا کِیا ہے؟
۱۷ اگر انسان اقوامِمتحدہ جیسی ایجنسیوں کے ذریعے حقیقی اور دائمی اَمن نہیں لا سکتا توپھر حقیقی اَمن کس ماخذ سے آئیگا اور کیسے؟ کیا یہ یقین کرنا محض ایک غیرحقیقی خواب ہے کہ دائمی اَمن ممکن ہے؟ اگر ہم اَمن کے صحیح ماخذ کی طرف رُجوع کرتے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔ اور وہ کون ہے؟ زبور ۴۶:۹ یہ بیان کرتے ہوئے ہمیں سوال کا جواب دیتی ہے کہ یہوواہ ”زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“ نیز یہوواہ نے پہلے ہی سے جنگوں کو موقوف اور حقیقی اَمن کو قائم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے! کیسے؟ ۱۹۱۴ میں، مسیح یسوع کو اُسکے جائز بادشاہتی تخت پر مسندنشین کرنے اور نوعِانسان کی تاریخ میں اَمن کیلئے سب سے بڑی تعلیمی مہم کو فروغ دینے سے۔ یسعیاہ ۵۴:۱۳ کے نبوّتی الفاظ یقیندہانی کراتے ہیں: ”تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] کامل ہوگی۔“
۱۸ یہ پیشینگوئی علتومعلول کے اُصول کو بیان کرتی ہے یعنی ہر عمل کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہوواہ کی تعلیم—علت—جنگجو لوگوں کو پُراَمن لوگوں میں تبدیل کر دیتی ہے جو خدا کیساتھ صلح رکھتے ہیں۔ معلول دل کی تبدیلی ہے جو لوگوں کو اَمنپسند بنا دیتی ہے۔ لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو بدلنے والی یہ تعلیم اب بھی پوری دُنیا میں پھیل رہی ہے جب لاکھوں لوگ ”سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] کے شہزادے“ یسوع مسیح کے نمونے کی پیروی کرتے ہیں۔—یسعیاہ ۹:۶۔
۱۹. یسوع نے حقیقی اَمن کی بابت کیا تعلیم دی؟
۱۹ اور یسوع نے حقیقی اَمن کی بابت کیا سکھایا؟ اُس نے نہ صرف قوموں کے درمیان اَمن کا بلکہ لوگوں کے درمیان اُنکے تعلقات میں اَمن اور باطنی اطمینان کا ذکر کِیا جو نیک ضمیر سے حاصل ہوتا ہے۔ یوحنا ۱۴:۲۷ میں، ہم یسوع کے پیروکاروں کیلئے اُس کے الفاظ پڑھتے ہیں: ”مَیں تمہیں اطمینان دئے جاتا ہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ جسطرح دُنیا دیتی ہے مَیں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔“ یسوع کا اطمینان دُنیا کے اطمینان سے کیسے فرق تھا؟
۲۰. یسوع کس ذریعے سے حقیقی اَمن لائیگا؟
۲۰ پہلی بات تو یہ کہ یسوع کے اطمینان کا اُس کے بادشاہتی پیغام سے گہرا تعلق تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یسوع اور اُسکے ۱۴۴،۰۰۰ ساتھی حکمرانوں پر مشتمل، راست آسمانی حکومت، جنگ اور جنگ کو تحریک دینے والوں کو ختم کریگی۔ (مکاشفہ ۱۴:۱، ۳) وہ جانتا تھا کہ یہ پُرسکون فردوسی حالتیں لائیگی جنکی اُس نے اُس شریر آدمی کو پیشکش کی جو اُس کیساتھ مرا تھا۔ یسوع نے اُسے آسمانی بادشاہت میں جگہ دینے کی پیشکش نہیں کی تھی بلکہ اُس نے فرمایا: ”مَیں آج تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ تُو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“—لوقا ۲۳:۴۳، اینڈبلیو۔
۲۱، ۲۲. (ا) حقیقی اَمن میں حیرتانگیز طور پر کونسی حوصلہافزا اُمید شامل ہے؟ (ب) ہمیں اس برکت کے شاہد ہونے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
۲۱ یسوع یہ بھی جانتا تھا کہ اُسکی بادشاہت اُن تمام غمزدہ لوگوں کیلئے تسلی کا باعث ہوگی جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اُسکے اطمینان میں قیامت کی حیرتانگیز طور پر حوصلہافزا اُمید شامل ہے۔ یوحنا ۵:۲۸، ۲۹ میں پائے جانے والے اُسکے حوصلہافزا الفاظ کو یاد رکھیں: ”اِس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اُسکی آواز سن کر نکلینگے۔ جنہوں نے نیکی کی ہے زندگی کی قیامت کے واسطے اور جنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔“
۲۲ کیا آپ اُس وقت کے منتظر ہیں؟ کیا آپ کے عزیز موت کا لقمہ بن چکے ہیں؟ کیا آپ اُنہیں دوبارہ دیکھنے کے آرزومند ہیں؟ توپھر اُس اطمینان کو قبول کریں جو یسوع پیش کرتا ہے۔ لعزر کی بہن مرتھا جیسا ایمان رکھیں، جس نے یسوع سے کہا: ”مَیں جانتی ہوں کہ قیامت میں آخری دن جی اُٹھے گا۔“ لیکن یسوع کے ہیجانخیز جواب پر غور کریں جو اُس نے مرتھا کو دیا: ”قیامت اور زندگی مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تَوبھی زندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مریگا۔ کیا تُو اس پر ایمان رکھتی ہے؟“—یوحنا ۱۱:۲۴-۲۶۔
۲۳. حقیقی اَمن حاصل کرنے کیلئے خدا کے کلام کا صحیح علم کیوں ضروری ہے؟
۲۳ آپ بھی اس وعدے پر ایمان رکھ سکتے اور اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ کیسے؟ خدا کے کلام کا صحیح علم حاصل کرنے سے۔ غور کریں کے پولس رسول نے صحیح علم کی اہمیت پر کیسے زور دیا: ”ہم بھی تمہارے واسطے یہ دُعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تُم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اُس کی مرضی کے [”صحیح،“ اینڈبلیو] علم سے معمور ہو جاؤ۔ تاکہ تمہارا چالچلن خداوند کے لائق ہو اور اُس کو ہر طرح سے پسند آئے اور تُم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان [”صحیح علم،“ اینڈبلیو] میں بڑھتے جاؤ۔“ (کلسیوں ۱:۹، ۱۰) یہ صحیح علم آپکو باور کرائیگا کہ یہوواہ خدا حقیقی اَمن کا ماخذ ہے۔ یہ آپ کو یہ بھی بتائیگا کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے تاکہ آپ زبورنویس کیساتھ ملکر یہ کہہ سکیں: ”مَیں سلامتی سے لیٹ جاؤنگا اور سو رہونگا کیونکہ اَے خداوند! فقط تُو ہی مجھے مطمئن رکھتا ہے۔“—زبور ۴:۸۔
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ اَمن کیلئے انسانی کوششیں کیوں مسلسل ناکام رہی ہیں؟
▫ جنگ کا بنیادی سبب کیا ہے؟
▫ دائمی اَمن ایک غیرحقیقی خواب کیوں نہیں ہے؟
▫ حقیقی اَمن کا ماخذ کیا ہے؟
[صفحہ 8 پر تصویر]
حقیقی اَمن خواب نہیں ہے۔ یہ خدا کا وعدہ ہے
[صفحہ 10 پر تصویر]
۱۹۱۴ سے لیکر لال رنگ کے گھوڑے کے سوار نے زمین سے صلح اُٹھا لی ہے