سچے پیامبروں کی شناخت کرنا
”مَیں . . . اپنے خادم کے کلام کو ثابت کرتا اور اپنے رسولوں [”پیامبروں،“ اینڈبلیو] کی مصلحت کو پورا کرتا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۴:۲۵، ۲۶۔
۱. یہوواہ سچے پیامبروں کی شناخت کیسے کراتا ہے اور وہ جھوٹوں کو کس طرح بےنقاب کرتا ہے؟
یہوواہ اپنے سچے پیامبروں کی شناخت کرنے میں عظیم ہے۔ وہ اپنے سچے پیامبروں کی شناخت اُنکے پیغام کو سچ ثابت کرنے سے کراتا ہے۔ یہوواہ جھوٹے پیامبروں کو بےنقاب کرنے میں بھی عظیم ہے۔ وہ اُنہیں کیسے بےنقاب کرتا ہے؟ وہ اُنکے شگون اور پیشینگوئیوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اِس طریقے سے وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خودساختہ پیشینگوئی کرنے والے ہیں جنکے پیغامات درحقیقت اُنکے اپنے باطل استدلال—جیہاں، اُنکی حماقت، خودغرضانہ سوچ—سے جنم لیتے ہیں!
۲. اسرائیل کے زمانے میں برپا ہونے والے پیامبروں میں کیا اختلاف تھا؟
۲ یسعیاہ اور حزقیایل دونوں نے یہوواہ خدا کے پیامبر ہونے کا دعویٰ کِیا۔ کیا وہ تھے؟ آیئے دیکھیں۔ یسعیاہ نے یروشلیم میں تقریباً ۷۷۸ ق.س.ع. سے لیکر ۷۳۲ ق.س.ع. کے بعد تک نبوّت کی تھی۔ حزقیایل ۶۱۷ ق.س.ع. میں بابل میں اسیر تھا اُس نے وہاں اپنے یہودی بھائیوں کے درمیان نبوّت کی۔ دونوں نبیوں نے دلیری سے یہ اعلان کِیا کہ یروشلیم تباہوبرباد کر دیا جائیگا۔ دوسرے نبیوں نے کہا کہ خدا ایسا واقع نہیں ہونے دیگا۔ کون سچے پیامبر ثابت ہوئے؟
یہوواہ جھوٹے نبیوں کو بےنقاب کرتا ہے
۳، ۴. (ا) بابل میں اسرائیلیوں کے پاس کونسے دو مختلف پیغام بھیجے گئے اور یہوواہ نے جھوٹے پیامبر کو کیسے بےنقاب کِیا؟ (ب) یہوواہ نے جھوٹے نبیوں کے انجام کی بابت کیا بتایا؟
۳ یروشلیم میں جوکچھ واقع ہو رہا تھا اُسکی بابت حزقیایل کو اسیری کے دوران رویا دی گئی۔ مشرقی پھاٹک کے مدخل پر ۲۵ اشخاص تھے۔ ان کے درمیان دو اُمرا یازنیاہ اور فلطیاہ تھے۔ یہوواہ نے اُنہیں کیسا خیال کِیا؟ حزقیایل ۱۱:۲، ۳ جواب دیتی ہیں: ”اَے آدمزاد یہ وہ لوگ ہیں جو اس شہر میں بدکرداری کی تدبیر اور بُری مشورت کرتے ہیں جو کہتے ہیں گھر بنانا نزدیک نہیں ہے۔“ اَمن کے یہ شوخچشم پیامبر یہ کہہ رہے تھے کہ ’یروشلیم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جلد ہی ہم اس کے اندر اَور زیادہ گھر بنانے والے ہیں!‘ لہٰذا حزقیایل کو ان جھوٹے پیامبروں کے برعکس پیشینگوئی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ۱۱ باب کی ۱۳ آیت میں حزقیایل ہمیں بتاتا ہے کہ اُن میں سے ایک کیساتھ کیا واقع ہوا: ”جب مَیں نبوّت کر رہا تھا تو یوں ہوا کہ فلطیاؔہ بن بنایاؔہ مر گیا۔“ ایسا غالباً اسلئے واقع ہوا کیونکہ فلطیاہ نہایت ممتاز اور بااثر شہزادہ تھا اور اوّل درجے کا بُتپرست تھا۔ اُسکی فوری موت نے ظاہر کر دیا کہ وہ جھوٹا نبی تھا!
۴ یہوواہ کی طرف سے فلطیاہ کی موت نے دوسرے جھوٹے نبیوں کو خدا کے نام سے جھوٹ بولنے سے نہ روکا۔ ان دھوکےبازوں نے خدا کی مرضی کے خلاف پیشگوئی کرنے سے اپنی احمقانہ روش کو جاری رکھا۔ لہٰذا یہوواہ نے حزقیایل سے کہا: ”احمق نبیوں پر افسوس جو اپنی ہی روح کی پیروی کرتے ہیں اور اُنہوں نے کچھ نہیں دیکھا۔“ فلطیاہ کی طرح وہ بھی ”نہ رہیں“ گے کیونکہ اُنہوں نے سرکشی سے یروشلیم کیلئے رویا دیکھی، ”سلامتی کی رویا . . . حالانکہ سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] نہیں ہے۔“—حزقیایل ۱۳:۳، ۱۵، ۱۶۔
۵، ۶. تمام جھوٹے پیامبروں کے باوجود، یسعیاہ کو سچے نبی کے طور پر کیسے سرفراز کِیا گیا تھا؟
۵ جہاں تک یسعیاہ کا تعلق ہے تو یروشلیم کی بابت اُسکے تمام الہٰی پیغامات سچ ثابت ہوئے۔ ۶۰۷ ق.س.ع. کے موسمِگرما میں بابلیوں نے شہر کو تباہوبرباد کر دیا اور یہودی بقیے کو اسیر کر کے بابل لے گئے۔ (۲-تواریخ ۳۶:۱۵-۲۱؛ حزقیایل ۲۲:۲۸؛ دانیایل ۹:۲) کیا ان آفات نے جھوٹے نبیوں کو خدا کے لوگوں پر بیہودہ باتوں کی بوچھاڑ کرنے سے روکا؟ ہرگز نہیں، وہ جھوٹے پیامبر اس کام میں مصروف رہے!
۶ اسکے علاوہ، اسیر اسرائیلی بابل کے شیخیباز رمالوں، فالگیروں اور نجومیوں کی زد میں بھی تھے۔ تاہم، یہوواہ نے چیزوں کا رُخ موڑنے سے، ان تمام جھوٹے پیامبروں کو نامُراد احمق ثابت کِیا۔ وقت آنے پر اُس نے ظاہر کر دیا کہ یسعیاہ کی طرح حزقیایل بھی اُسکا سچا پیامبر تھا۔ یہوواہ نے اپنے وعدہ کے مطابق ان تمام باتوں کو پورا کِیا جو اُس نے اُن کی معرفت کہیں تھیں: ”مَیں جھوٹوں کے نشانوں کو باطل کرتا اور فالگیروں کو دیوانہ بناتا ہوں اور حکمت والوں کو رد کرتا اور اُنکی حکمت کو حماقت ٹھہراتا ہوں۔ اپنے خادم کے کلام کو ثابت کرتا اور اپنے رسولوں کی مصلحت کو پورا کرتا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۴:۲۵، ۲۶۔
بابل اور یروشلیم کی بابت حیرانکُن پیغامات
۷، ۸. یسعیاہ کے پاس بابل کیلئے کونسا الہامی پیغام تھا اور اُسکی باتوں کا مطلب کیا تھا؟
۷ یہوداہ اور یروشلیم کو ۷۰ سال تک انسانی باشندوں کے بغیر ویران رہنا تھا۔ تاہم، یہوواہ نے یسعیاہ اور حزقیایل کی معرفت فرمایا کہ یہوواہ کے مقررہ وقت پر شہر کو ازسرِنو تعمیر کِیا جائیگا اور مُلک آباد ہوگا! یہ ایک حیرانکُن پیشینگوئی تھی۔ کیوں؟ اسلئےکہ بابل اپنے قیدیوں کو کبھی بھی آزاد نہ کرنے کیلئے مشہور تھا۔ (یسعیاہ ۱۴:۴، ۱۵-۱۷) پس ممکنہ طور پر ان اسیروں کو کون آزاد کروا سکتا تھا؟ کون بڑی بڑی فصیلوں اور دریا کے دفاعی نظام والے مضبوط بابل کو نیست کر سکتا تھا؟ قادرِمطلق یہوواہ کر سکتا تھا! اور اُس نے کہا کہ وہ ضرور ایسا کریگا: ”مَیں . . . جو سمندر کو کہتا ہوں کہ سوکھ جا اور مَیں تیری ندیاں سکھا ڈالونگا۔ جو خوؔرس کے حق میں کہتا ہوں کہ وہ میرا چرواہا ہے اور میری مرضی بالکل پوری کریگا اور یرؔوشلیم کی بابت کہتا ہوں کہ وہ تعمیر کِیا جائیگا اور ہیکل کی بابت کہ اُسکی بنیاد ڈالی جائیگی۔“—یسعیاہ ۴۴:۲۵، ۲۷، ۲۸۔
۸ ذرا سوچئے! دریائےفرات انسانوں کیلئے ایک ناقابلِعبور رُکاوٹ تھا لیکن یہوواہ کے نزدیک گرم زمین پر پانی کی ایک بوند کی مانند! جلد ہی، یہ بخارات بن جائیگا! بابل گر پڑیگا! اگرچہ یہوواہ نے فارس خورس کی پیدائش سے ۱۵۰ سال پہلے یسعیاہ کی معرفت پیشینگوئی کرائی کہ یہ بادشاہ بابل پر قبضہ کریگا اور یہودی اسیروں کو آزاد کر کے اُنہیں یروشلیم اور اُسکی ہیکل دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دیگا۔
۹. یہوواہ نے بابل کو سزا دینے کیلئے اپنے نمائندے کے طور پر کس کا نام لیا؟
۹ یہ پیشینگوئی ہمیں یسعیاہ ۴۵:۱-۳ میں ملتی ہے: ”خداوند اپنے ممسوح خوؔرس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ مَیں نے اُسکا دہنا ہاتھ پکڑا کہ اُمتوں کو اُس کے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اور دروازوں کو اس کے لئے کھول دُوں اور پھاٹک بند نہ کئے جائینگے۔ مَیں تیرے آگے آگے چلونگا اور ناہموار جگہوں کو ہموار بنا دونگا۔ مَیں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرونگا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالونگا۔ اور مَیں ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دونگا تاکہ تُو جانے کہ مَیں خداوند اؔسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لیکر بلایا ہے۔“
۱۰. کس لحاظ سے خورس ایک ”ممسوح“ تھا اور اُسکی پیدائش سے سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے یہوواہ اُس سے کیسے بات کر سکتا تھا؟
۱۰ غور کریں کہ یہوواہ خورس سے ایسے بات کرتا ہے جیسےکہ وہ پہلے ہی سے موجود ہے۔ یہ بات پولس کے بیان کے مطابق ہے کہ یہوواہ ”جو چیزیں نہیں ہیں اُنکو اس طرح بلا لیتا ہے کہ گویا وہ ہیں۔“ (رومیوں ۴:۱۷) نیز، خدا خورس کی شناخت اپنے ”ممسوح“ کے طور پر کراتا ہے۔ اُس نے ایسا کیوں کِیا؟ کبھی بھی یہوواہ کے سردار کاہن نے مسح کرنے والے پاک تیل سے خورس کو مسح نہیں کِیا تھا۔ سچ ہے، لیکن یہ ایک نبوّتی مسح ہے۔ یہ کسی خاص عہدے پر فائز کئے جانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہٰذا خدا خورس کی اس پیشگی تقرری کو مسح کا نام دے سکتا تھا۔—مقابلہ کریں ۱-سلاطین ۱۹:۱۵-۱۷؛ ۲-سلاطین ۸:۱۳۔
خدا اپنے پیامبروں کی باتیں پوری کرتا ہے
۱۱. بابل کے باشندے کیوں محفوظ محسوس کرتے تھے؟
۱۱ جب خورس بابل کے خلاف حرکت میں آیا تو اسکے باشندوں نے محسوس کِیا کہ وہ محفوظ اور بےخطر ہیں۔ اُنکا شہر دریائےفرات کے ذریعے بننے والی ایک گہری اور چوڑی حفاظتی خندق سے گِھرا ہوا تھا۔ دریا کے مشرقی کنارے کیساتھ جو شہر کے درمیان بہتا تھا، ایک غیرمنقطع گھاٹی تھی۔ اسے شہر سے علیٰحدہ کرنے کیلئے نبوکدنضر نے ایک ”عظیم دیوار“ بنوائی ”جو پہاڑ کی طرح ہلائی نہیں جا سکتی تھی . . . جسکی چوٹی کو [اس نے] پہاڑ تک بلند“ کِیا تھا۔a اس دیوار کے پھاٹک پر تانبے کے دروازے تھے۔ اُن سے داخل ہونے کیلئے ایک شخص کو دریا کے کنارے سے ڈھلوان کے اُوپر چڑھنا پڑتا تھا۔ کچھ عجب نہیں کہ بابل کے قیدی کبھی بھی آزاد ہونے کی اُمید نہیں رکھتے تھے!
۱۲، ۱۳. جب بابل کو خورس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو یسعیاہ کی معرفت یہوواہ کے الفاظ کیسے سچ ثابت ہوئے؟
۱۲ تاہم، یہوواہ پر ایمان رکھنے والے یہودی قیدی مایوس نہیں تھے! وہ ایک روشن اُمید رکھتے تھے۔ اپنے نبیوں کے ذریعے خدا نے اُنہیں رہائی دلانے کا وعدہ کِیا تھا۔ خدا نے کیسے اپنا وعدہ پورا کِیا؟ خورس نے اپنی فوجوں کو حکم دیا کہ دریائےفرات کا رُخ شہر سے میلوں دُور بابل کے شمال کی طرف موڑ دیں۔ یوں، بابل کا سب سے بڑا دفاع نسبتاً ایک خشک دریائی گزرگاہ بن گیا۔ اُس بحرانی رات کو بابل میں رنگرلیاں منانے والوں نے غفلت میں فرات کے پانی کی طرف کھلنے والے دو پٹ والے دروازوں کو کھلا چھوڑ دیا۔ یہوواہ نے تانبے کے دروازوں کو سچمچ ٹکڑے ٹکڑے نہیں کِیا تھا؛ نہ ہی اُس نے پھاٹکوں کو بند کرنے والی لوہے کی سلاخیں کاٹی تھیں لیکن اُنہیں کھلا رکھنے کی یہوواہ کی شاندار تدبیر کا بھی ویسا ہی اثر ہوا۔ بابل کی دیواریں بیکار تھیں۔ خورس کی فوجوں کو اندر داخل ہونے کیلئے اُن پر چڑھنا نہیں پڑا تھا۔ ”ناہموار جگہوں“ کو ہموار بنانے اور تمام رُکاوٹیں دُور کرنے کیلئے یہوواہ خورس کے آگے آگے گیا۔ یسعیاہ خدا کا سچا پیامبر ثابت ہوا۔
۱۳ جب خورس کی فوج نے شہر پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا تو اس کے سارے خزانے، پوشیدہ مکانوں کے دفینے بھی، قدرتی طور پر خورس کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ یہوواہ خدا نے خورس کی خاطر یہ سب کچھ کیوں کِیا؟ اسلئے کہ وہ جان لے کہ یہوواہ جو ’اُسے بنام بلاتا ہے‘ سچی پیشینگوئی کرنے والا خدا اور کائنات کا حاکمِاعلیٰ ہے۔ وہ جان جائیگا کہ اپنی قوم، اسرائیل کو آزاد کرانے کیلئے خدا نے اُسے طاقت بخشی ہے۔
۱۴، ۱۵. ہم کیسے جانتے ہیں کہ بابل پر خورس کی فتح کا سہرا یہوواہ کے سر تھا؟
۱۴ خورس کیلئے یہوواہ کے الفاظ کو سنیں: ”مَیں نے اپنے خادم یعقوؔب اور اپنے برگزیدہ اؔسرائیل کی خاطر تجھے نام لیکر بلایا۔ مَیں نے تجھے ایک لقب بخشا۔ اگرچہ تُو مجھکو نہیں جانتا۔ مَیں ہی خداوند [”یہوؔواہ“، اینڈبلیو] ہوں اور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ مَیں نے تیری کمر باندھی اگرچہ تُو نے مجھے نہ پہچانا۔ تاکہ مشرق سے مغرب تک لوگ جان لیں کہ میرے سوا کوئی نہیں۔ مَیں ہی خداوند [”یہوؔواہ“، اینڈبلیو] ہوں میرے سوا کوئی دوسرا نہیں۔ مَیں ہی روشنی کا موجد اور تاریکی کا خالق ہوں۔ مَیں [اپنے اسیر لوگوں کیلئے] سلامتی [”اَمن،“ اینڈبلیو] کا بانی اور [بابل کے لئے] بلا کو پیدا کرنے والا ہوں۔ مَیں ہی خداوند [”یہوؔواہ“، اینڈبلیو] یہ سب کچھ کرنے والا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۵:۴-۷۔
۱۵ خورس کی فتح یہوواہ کی بدولت تھی کیونکہ اُسی نے اُس بدکار شہر کے خلاف اور اپنے اسیر لوگوں کیلئے خدا کی مرضی کو پورا کرنے کیلئے اُسے استحکام بخشا۔ ایسا کرنے کیلئے اُس نے اپنے آسمانوں سے راست اثرات یا قوتوں کو نازل کِیا۔ اُس نے اپنی زمین کو کھول دیا تاکہ راست واقعات اور اُسکے اسیر لوگوں کیلئے نجات کا باعث بنے۔ اور اُسکے علامتی آسمان اور زمین نے اُسکے حکم کے مطابق عمل کِیا۔ (یسعیاہ ۴۵:۸) یسعیاہ کی موت کے سو سال بعد بھی اُسے یہوواہ کا سچا پیامبر ثابت کِیا گیا تھا!
صیون کیلئے پیامبر کی خوشخبری
۱۶. جب بابل کو شکست ہوئی تو یروشلیم کے ویران شہر میں کس خوشخبری کا اعلان کِیا جا سکتا تھا؟
۱۶ مگر کچھ اَور بھی ہے۔ یسعیاہ ۵۲:۷ یروشلیم کے لئے خوشخبری کا اعلان کرتی ہے: ”اُسکے پاؤں پہاڑوں پر کیا ہی خوشنما ہیں جو خوشخبری لاتا ہے اور سلامتی کی منادی کرتا ہے اور خیریت کی خبر اور نجات کا اشتہار دیتا ہے۔ جو صیوؔن سے کہتا ہے تیرا خدا سلطنت کرتا ہے۔“ تصور کریں ایک پیامبر کو پہاڑوں سے یروشلیم کی جانب آتے دیکھنا کس قدر ہیجانخیز ہوگا! اُسکے پاس ضرور کوئی خبر ہوگی۔ وہ کیا ہے؟ وہ صیون کیلئے گرمجوش خبر ہے۔ اَمن کی خبر، جیہاں، خدا کی طرف سے خیرسگالی کی خبر ہے۔ یروشلیم اور اسکی ہیکل کو ازسرِنو تعمیر کِیا جانا ہے! اور پیامبر نے اپنی آواز میں فاتحانہ خوشی کیساتھ اعلان کِیا: ”تیرا خدا سلطنت کرتا ہے!“
۱۷، ۱۸. خورس کے ہاتھوں بابل کی شکست سے یہوواہ کے نام پر کیسا اثر ہوا؟
۱۷ جب یہوواہ نے اپنے علامتی تخت کو جس پر داؤد کی نسل سے بادشاہ بیٹھتے تھے، اُلٹنے کیلئے بابلیوں کو اجازت دی تو اُس وقت ایسا دکھائی دینے لگا کہ اب سے وہ بادشاہ نہیں۔ اسکی بجائے بابل کا سب سے بڑا معبود، مردُوک بادشاہ تھا۔ تاہم، جب صیون کے خدا نے بابل کا تختہ اُلٹ دیا تو اُس نے اپنی عالمگیر حاکمیت کا مظاہرہ کِیا تھا—کہ وہ عظیمترین بادشاہ ہے۔ اور اس حقیقت کو نمایاں کرنے کیلئے اب یروشلیم، ”بزرگ بادشاہ کا شہر،“ ہیکل سمیت دوبارہ تعمیر کِیا ہونے والا تھا۔ (متی ۵:۳۵) جہاں تک اُس پیامبر کا تعلق ہے جو ایسی خوشخبری لایا تھا اگرچہ اُس کے پاؤں گردآلود، گندے اور زخمی تھے، تَوبھی وہ صیون سے محبت رکھنے والوں اور اُس کے خدا کی نظروں میں کسقدر خوشنما تھے!
۱۸ نبوّتی مفہوم میں، سقوطِبابل کا مطلب تھا کہ خدا کی بادشاہت قائم ہو چکی تھی اور یہ کہ خوشخبری لانے والا سقوطِبابل کا اعلان کرنے والا تھا۔ مزیدبرآں، اس قدیمی پیامرساں نے، جسکی پیشینگوئی یسعیاہ کی معرفت کی گئی تھی، عظیمترین خوشخبری کے پیامبر کا عکس پیش کِیا—تمام ایماندار لوگوں کیلئے شاندار نتائج کیساتھ، اپنے پُرجلال نفسِمضمون اور بادشاہتی پیغام کی بدولت عظیمترین۔
۱۹. حزقیایل کی معرفت یہوواہ نے اسرائیل کے ملک کی بابت کیا پیغام دیا؟
۱۹ حزقیایل کو بھی بحالی کی شاندار پیشینگوئیاں دی گئی تھیں۔ اُس نے پیشینگوئی کی: ”خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جس دن مَیں تُم کو تمہاری تمام بدکرداری سے پاک کرونگا اُسی دن تُم کو تمہارے شہروں میں بساؤنگا اور تمہارے کھنڈر تعمیر ہو جائینگے۔ اور وہ کہینگے کہ یہ سرزمین جو خراب پڑی تھی باغِعدؔن کی مانند ہو گئی۔“—حزقیایل ۳۶:۳۳، ۳۵۔
۲۰. یسعیاہ نبوّتی طور پر یروشلیم کیلئے کونسی خوشکُن فہمائش کرتا ہے؟
۲۰ بابلی اسیری میں، خدا کے لوگ صیون پر ماتم کِیا کرتے تھے۔ (زبور ۱۳۷:۱) اب وہ خوش ہو سکتے تھے۔ یسعیاہ نے فہمائش کی: ”اے یرؔوشلیم کے ویرانو! خوشی سے للکارو۔ ملکر نغمہسرائی کرو کیونکہ خداوند نے اپنی قوم کو دلاسا دیا۔ اُس نے یرؔوشلیم کا فدیہ دیا۔ خداوند نے اپنا پاک بازو تمام قوموں کی آنکھوں کے سامنے ننگا کِیا ہے اور زمین سراسر ہمارے خدا کی نجات کو دیکھے گی۔“—یسعیاہ ۵۲:۹، ۱۰۔
۲۱. بابل کی شکست کے بعد یسعیاہ ۵۲:۹، ۱۰ کے الفاظ کیسے پورے ہوئے تھے؟
۲۱ جیہاں، یہوواہ کے برگزیدہ لوگوں کے پاس خوش ہونے کی بڑی وجہ تھی۔ اب وہ اُن تباہحال علاقوں کو دوبارہ آباد کرنے اور اُنہیں باغِعدن کی طرح بنانے جا رہے تھے۔ یہوواہ نے اُنکے لئے ”اپنا پاک بازو ننگا“ کِیا۔ اُس نے علامتی طور پر اپنی آستین اُوپر چڑھا لی تاکہ وہ اُنہیں اُنکے عزیز وطن میں واپس لانے کے لئے کام کرے۔ یہ تاریخ کا کوئی معمولی، غیراہم واقعہ نہیں تھا۔ نہیں، اُس وقت کے تمام لوگوں نے خدا کے ’ننگے بازو‘ کو ایک قوم کی حیرانکُن نجات کے لئے انسانی معاملات میں سرگرمِعمل دیکھا تھا۔ اُنہیں ناقابلِاعتراض شہادت فراہم کر دی گئی کہ یسعیاہ اور حزقیایل واقعی یہوواہ کے سچے پیامبر تھے۔ اس بات پر کوئی بھی شک نہیں کر سکتا تھا کہ صیون کا خدا ساری زمین پر واحد زندہ اور برحق خدا ہے۔ یسعیاہ ۳۵:۲ میں ہم پڑھتے ہیں: ”وہ خداوند کا جلال اور ہمارے خدا کی حشمت دیکھینگے۔“ جنہوں نے یہوواہ کی معبودیت کے اس ثبوت کو تسلیم کِیا وہ اُسکی پرستش کی طرف راغب ہوئے۔
۲۲. (ا) آجکل ہم کس چیز کیلئے شکرگزار ہو سکتے ہیں؟ (ب) ہمیں بالخصوص اس بات کیلئے کیوں مشکور ہونا چاہئے کہ یہوواہ جھوٹے پیامبروں کو بےنقاب کرتا ہے؟
۲۲ ہمیں کسقدر شکرگزار ہونا چاہئے کہ یہوواہ اپنے سچے پیامبروں کی شناخت کراتا ہے! یقیناً وہی ہے جو ”اپنے خادم کے کلام کو ثابت کرتا اور اپنے رسولوں [”پیامبروں،“ اینڈبلیو] کی مصلحت کو پورا کرتا“ ہے۔ (یسعیاہ ۴۴:۲۶) اُس نے یسعیاہ اور حزقیایل کو جو بحالی کی پیشینگوئیاں دیں وہ اپنے خادموں کیلئے اُسکی بےپناہ محبت، غیرمستحق فضل اور رحم کی بڑائی کرتی ہیں۔ یقیناً، اس سب کیلئے یہوواہ ہماری تمامتر ستائش کا مستحق ہے! اور ہم آجکل خاص طور پر شکرگزار ہیں کہ وہ جھوٹے پیامبروں کو بےنقاب کرتا ہے۔ یہ اسلئے ہے کیونکہ آجکل دُنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں۔ اُنکے پُرفریب پیغامات یہوواہ کے بیانکردہ مقاصد کو پسِپُشت ڈالتے ہیں۔ اگلا مضمون ہمیں اُن جھوٹے پیامبروں کی شناخت کرنے میں مدد دیگا۔
[فٹنوٹ]
a دی مونیومینٹس اینڈ دی اولڈ ٹسٹامنٹ، از آئرا مورائس پرائس، ۱۹۲۵۔
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ یہوواہ اپنے سچے پیامبروں کی شناخت کیسے کراتا ہے؟
▫ بابل کو شکست دینے کیلئے اپنے نمائندے کے طور پر یہوواہنے یسعیاہ کی معرفت کس کا نام لیا؟
▫ بابل کی شکست کو بیان کرنے والی یسعیاہ کی پیشینگوئیاں کیسے پوری ہوئیں؟
▫ بابل کی شکست کا یہوواہ کے نام پر کیا اچھا اثر پڑا تھا؟