یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏5 ص.‏ 27-‏31
  • خدائی اَمن کے پیامبروں کو مبارک کہا جاتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدائی اَمن کے پیامبروں کو مبارک کہا جاتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آجکل خدا کے پیامبروں کی شناخت کرنا
  • خدا کے پیامبروں کی خوشحالی
  • یہوواہ کی رواں‌دواں تنظیم
  • سچے پیامبروں کی شناخت کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • حزقی‌ایل کی کتاب سے اہم نکات—‏حصہ اوّل
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوواہ مُنادی کرتے رہنے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • یہوؔواہ امن اور سچائی بکثرت بخشتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏5 ص.‏ 27-‏31

خدائی اَمن کے پیامبروں کو مبارک کہا جاتا ہے

‏”‏جنکو خداوند نے مخلصی بخشی لوٹینگے اور صیوؔن میں گاتے ہوئے آئینگے اور ابدی سرور اُنکے سروں پر ہوگا۔“‏—‏یسعیاہ ۳۵:‏۱۰‏۔‏

۱.‏ دُنیا کو کس چیز کی اشد ضرورت ہے؟‏

آجکل نوعِ‌انسان کو خوشخبری کے پیامبر کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ خدا اور اُسکے مقاصد کی بابت سچائی بیان کرنے کیلئے کسی شخص کی اشد ضرورت ہے، ایک ایسا شخص جو نڈر گواہ ہو اور شریر کو آنے والی تباہی سے آگاہ کرے اور راستدل اشخاص کو خدائی اَمن حاصل کرنے میں مدد دے۔‏

۲، ۳.‏ اسرائیل کے معاملے میں، یہوواہ نے عاموس ۳:‏۷ میں درج اپنا وعدہ کیسے پورا کِیا؟‏

۲ اسرائیل کے زمانے میں، یہوواہ نے اس قسم کے پیامبر برپا کرنے کا وعدہ کِیا۔ نویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ کے اختتام پر، عاموس نبی نے کہا:‏ ”‏یقیناً خداوند خدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت‌گذار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کرے۔“‏ (‏عاموس ۳:‏۷)‏ اس اعلان کے بعد آنے والی صدیوں میں، یہوواہ نے بہت سے زبردست کام انجام دئے۔ مثال کے طور پر، ۶۰۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں اُس نے اپنی برگزیدہ قوم پر اپنا قہر نازل کِیا کیونکہ وہ سرکش اور خون کی مجرم تھی۔ اُس نے اِردگرد کی قوموں پر بھی سزا نازل کی جو اسرائیل کی تکلیف سے خوش ہوئی تھیں۔ (‏یرمیاہ ۴۶-‏۴۹ ابواب)‏ اسکے بعد، ۵۳۹ ق.‏س.‏ع.‏ میں یہوواہ بابل کی زبردست عالمی طاقت کے زوال کا سبب بنا—‏جس کے نتیجے میں ۵۳۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں، اسرائیل کا بقیہ ہیکل کی ازسرِنو تعمیر کیلئے اپنے وطن واپس آیا۔—‏۲-‏تواریخ ۳۶:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

۳ یہ زمین کو ہلا دینے والے واقعات تھے اور عاموس کے الفاظ کی مطابقت میں، یہوواہ نے اُنہیں پیشتر ہی سے اُن نبیوں پر آشکارا کر دیا تھا جنہوں نے واقع ہونے والی باتوں کی بابت اسرائیل کو آگاہ کرتے ہوئے پیامبروں کے طور پر خدمت انجام دی تھی۔ آٹھویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ کے وسط میں، اُس نے یسعیاہ کو برپا کِیا۔ ساتویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ کے وسط میں، اُس نے یرمیاہ کو برپا کِیا۔ بعدازاں اُسی صدی کے اختتام پر، اُس نے حزقی‌ایل کو برپا کِیا۔ اِن نبیوں نے اور دیگر وفادار نبیوں نے یہوواہ کے مقاصد کی بابت مکمل گواہی دی۔‏

آجکل خدا کے پیامبروں کی شناخت کرنا

۴.‏ کیا چیز نوعِ‌انسان کیلئے اَمن کے پیامبروں کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے؟‏

۴ آجکل کی بابت کیا ہے؟ انسانی معاشرے کی زوال‌پذیر حالت کے پیشِ‌نظر بہتیرے لوگ کسی بڑی مصیبت کے واقع ہونے کی توقع کرتے ہیں۔ راستبازی سے محبت رکھنے والوں کو دلی افسوس ہوتا ہے جب وہ دُنیائے‌مسیحیت کی ریاکاری اور واضح بدکاری کو دیکھتے ہیں۔ جیسے یہوواہ نے حزقی‌ایل کی معرفت پیشینگوئی کی وہ ”‏اُن سب نفرتی کاموں کے سبب سے جو اُسکے درمیان کئے جاتے ہیں آہیں مارتے اور روتے ہیں“‏۔ (‏حزقی‌ایل ۹:‏۴)‏ تاہم، بہتیرے یہوواہ کے مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ اُنہیں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔‏

۵.‏ یسوع نے کیسے ظاہر کِیا کہ ہمارے زمانے میں پیامبر ہونگے؟‏

۵ کیا آجکل کوئی یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی‌ایل جیسے دلیرانہ جذبے کیساتھ کلام کرتا ہے؟ یسوع نے ظاہر کِیا کہ کوئی ایسا کریگا۔ ہمارے زمانے کے واقعات کی بابت پیشینگوئی کرتے ہوئے، اُس نے فرمایا:‏ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ پیامبر یعنی خوشخبری کے مناد کے طور پر خدمت انجام دیتے ہوئے، آجکل کون اس پیشینگوئی کو پورا کر رہا ہے؟ ہمارے زمانے اور قدیم اسرائیل کے زمانے کے درمیان مماثلتیں اس سوال کا جواب دینے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ پہلی عالمی جنگ کے دوران ”‏خدا کے اسرائیل“‏ کے تجربات کو بیان کریں۔ (‏ب)‏ قدیم اسرائیل کے سلسلے میں حزقی‌ایل ۱۱:‏۱۷ کی تکمیل کیسے ہوئی؟‏

۶ مثال کے طور پر، پہلی عالمی جنگ کے تاریک دَور میں، یہوواہ کے دورِحاضر کے لوگ، ”‏خدا کے اسرائیل“‏ کا ممسوح بقیہ، بابل میں اسرائیلی اسیری کی طرح اسیری میں چلا گیا۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱۶‏)‏ اُنہوں نے بڑے بابل، جھوٹے مذہب کی عالمی تنظیم میں روحانی اسیری کی تکلیف اُٹھائی جسکا نمایاں اور قابلِ‌ملامت حصہ مسیحی دُنیا ہے۔ تاہم، حزقی‌ایل سے یہوواہ کے الفاظ نے ظاہر کِیا کہ اُنہیں ترک نہیں کِیا گیا تھا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں تُم کو اُمتوں میں سے جمع کر لونگا اور اُن ملکوں میں سے جن میں تُم پراگندہ ہوئے تُم کو فراہم کرونگا اور اسرائیل کا مُلک تُم کو دُونگا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۱۱:‏۱۷)‏ قدیم اسرائیل کے حق میں اس وعدے کو پورا کرنے کیلئے، یہوواہ نے خورس کو برپا کِیا، جس نے بابلیوں کی عالمی قوت کو شکست دی اور اسرائیل کے بقیہ کیلئے اپنے مُلک واپس جانے کی راہ کھول دی۔ لیکن آجکل کی بابت کیا ہے؟‏

۷.‏ ۱۹۱۹ میں کس واقعہ نے ظاہر کر دیا کہ یسوع نے بڑے بابل کے خلاف کارروائی کی ہے؟ وضاحت کریں۔‏

۷ اس صدی کے اوائل میں، اس بات کا پُختہ ثبوت مل گیا تھا کہ عظیم خورس سرگرمِ‌عمل تھا۔ وہ کون تھا؟ یسوع مسیح کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جو ۱۹۱۴ سے لیکر آسمانی بادشاہت میں تخت‌نشین ہے۔ اس عظیم بادشاہ نے زمین پر اپنے ممسوح بھائیوں کیلئے خیرخواہی کا مظاہرہ کِیا جب ۱۹۱۹ میں، ممسوح مسیحیوں کو روحانی اسیری سے آزاد کرایا گیا اور اُنکے ”‏مُلک،“‏ اُنکی روحانی مملکت میں واپس لایا گیا۔ (‏یسعیاہ ۶۶:‏۸؛‏ مکاشفہ ۱۸:‏۴‏)‏ یوں حزقی‌ایل ۱۱:‏۱۷ کی جدید تکمیل ہوئی۔ قدیم وقتوں میں سقوطِ‌بابل اسرائیلیوں کے اپنے مُلک واپس لوٹنے کی راہ کھول دینے کا باعث بنا۔ پس دورِحاضر کے خدا کے اسرائیل کی بحالی اس بات کا ثبوت تھی کہ بڑے بابل نے عظیم خورس کے ہاتھوں شکست کھائی ہے۔ اس شکست کا اعلان مکاشفہ ۱۴ باب کے دوسرے فرشتے کے ذریعے کِیا گیا تھا جب اُس نے کہا:‏ ”‏بڑا .‏ .‏ .‏ بابلؔ گر پڑا جس نے اپنی حرامکاری کی غضبناک مے تمام قوموں کو پلائی ہے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۴:‏۸‏)‏ بڑے بابل، بالخصوص مسیحی دُنیا کی کیا ہی شکست!‏ اور سچے مسیحیوں کیلئے کیا ہی برکت!‏

۸.‏ حزقی‌ایل کی کتاب ۱۹۱۹ میں اپنی آزادی کے بعد خدا کے لوگوں کی خوشی کو کیسے بیان کرتی ہے؟‏

۸ حزقی‌ایل ۱۱:‏۱۸-‏۲۰ میں، ہم نبی کی معرفت خدا کے لوگوں کی بحالی کے بعد اُنکی خوشی کی بابت بیان کو پڑھتے ہیں۔ اُسکے الفاظ کی پہلی تکمیل کا مطلب عزرا اور نحمیاہ کے دنوں میں اسرائیل کی صفائی تھا۔ جدید زمانے کی تکمیل کا بھی کچھ ایسا مطلب تھا۔ آیئے دیکھیں کیسے۔ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ وہاں (‏اپنے مُلک میں)‏ آئینگے اور اُسکی تمام نفرتی اور مکروہ چیزوں کو اس سے دُور کرینگے۔“‏ جیسے پیشینگوئی کی گئی تھی، ۱۹۱۹ سے شروع کر کے، یہوواہ نے اپنے لوگوں کو پاک‌صاف کِیا اور اُنہیں اپنی خدمت کرنے کے لئے ازسرِنو تقویت بخشی۔ اُنہوں نے اپنے روحانی گِردوپیش سے تمام بابلی کاموں اور عقائد کو ہٹانا شروع کر دیا جو اُنہیں اُسکی نظروں میں آلودہ کرتے تھے۔‏

۹.‏ ۱۹۱۹ سے لیکر، یہوواہ نے اپنے لوگوں کو کونسی نمایاں برکات عطا کیں؟‏

۹ پھر ۱۹ آیت کے مطابق یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُنکو نیا دل دُونگا اور نئی روح تمہارے باطن میں ڈالونگا اور سنگین دل اُنکے جسم سے خارج کرونگا اور اُنکو گوشتین دل عنایت کرونگا۔“‏ ان الفاظ کی مطابقت میں، ۱۹۱۹ میں، یہوواہ نے اپنے ممسوح خادموں کو متحد کِیا، گویا اُنہیں ”‏ایک دل“‏ عطا کِیا تاکہ وہ ”‏ایک دل ہو کر [‏”‏شانہ‌بشانہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏“‏ اُسکی خدمت کریں۔ (‏صفنیاہ ۳:‏۹)‏ اسکے علاوہ، گواہی دینے کے کام میں تقویت بخشنے اور گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳ میں درج رُوح کے عمدہ پھل پیدا کرنے کیلئے یہوواہ نے اپنے لوگوں کو رُوح‌اُلقدس عطا کی۔ اور ایک بے‌حس، سخت‌دل کی بجائے، یہوواہ نے اُنہیں نرم، اثرپذیر، اطاعت‌شعار دل عطا کِیا، ایسا دل جو اُسکی مرضی کے موافق عمل کریگا۔‏

۱۰.‏ ۱۹۱۹ سے لیکر یہوواہ نے اپنے بحال‌شُدہ لوگوں کو کیوں برکت بخشی ہے؟‏

۱۰ اُس نے ایسا کیوں کِیا؟ یہوواہ خود اس کی وضاحت کرتا ہے۔ ہم حزقی‌ایل ۱۱:‏۲۰ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏تاکہ وہ میرے آئین پر چلیں اور میرے احکام پر عمل کریں اور اُن پر کاربند ہوں اور وہ میرے لوگ ہونگے اور مَیں اُنکا خدا ہونگا۔“‏ خدا کے اسرائیل نے اپنے خیالات کی پیروی کرنے کی بجائے یہوواہ کے آئین کی فرمانبرداری کرنا سیکھ لیا۔ اُنہوں نے انسان کے خوف کے بغیر خدا کی مرضی پوری کرنا سیکھ لیا۔ یوں وہ مسیحی دُنیا کے نقلی مسیحیوں سے فرق دکھائی دینے لگے۔ وہ یہوواہ کے لوگ تھے۔ اس طرح، یہوواہ اُنہیں اپنے پیامبروں، اپنے ”‏وفادار اور دیانتدار نوکر“‏ کے طور پر استعمال کرنے کیلئے تیار تھا۔—‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏۔‏

خدا کے پیامبروں کی خوشحالی

۱۱.‏ یسعیاہ کی کتاب یہوواہ کے لوگوں کی خوشی کو کیسے بیان کرتی ہے؟‏

۱۱ جب اُنہیں یہ احساس ہوا کہ اُنہیں کیسا متشرف مقام حاصل ہے تو کیا آپ اُنکی خوشی کا تصور کر سکتے ہیں؟ بطور ایک جماعت، اُنہوں نے یسعیاہ ۶۱:‏۱۰ کے الفاظ دہرائے:‏ ”‏مَیں خداوند اپنے خدا سے بہت شادمان ہونگا۔ میری جان میرے خدا میں مسرور ہوگی۔“‏ اُن کے سلسلے میں، یسعیاہ ۳۵:‏۱۰ کے وعدے کی تکمیل ہوئی:‏ ”‏جنکو خداوند نے مخلصی بخشی لوٹیں گے اور صیوؔن میں گاتے ہوئے آئینگے اور ابدی سرور اُن کے سروں پر ہوگا۔ وہ خوشی اور شادمانی حاصل کرینگے اور غم‌واندوہ کافور ہو جائینگے۔“‏ ماضی میں ۱۹۱۹ میں یہوواہ کے خدائی اَمن کے پیامبروں کی خوشی ایسی ہی تھی جب وہ تمام نوعِ‌انسان کو خوشخبری کی منادی کرنے کیلئے نکلے تھے۔ اُس وقت سے لیکر آج تک، اُنہوں نے اِس کام کو بند نہیں کِیا اور اُنکی خوشی دوبالا ہوئی ہے۔ اپنے پہاڑی وعظ میں، یسوع نے بیان کِیا:‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے [‏”‏اَمن لاتے،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائینگے۔“‏ (‏متی ۵:‏۹‏)‏ اس اعلان کی صداقت کا تجربہ ”‏خدا کے بیٹوں،“‏ ممسوح بقیے نے ۱۹۱۹ سے لیکر آج تک کِیا ہے۔‏

۱۲، ۱۳.‏ (‏ا)‏ یہوواہ کی خدمت کرنے میں خدا کے اسرائیل کے ساتھ کون شامل ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے خود کو کس کام میں مشغول کر لیا ہے؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے ممسوح خادموں نے کس بڑی خوشی کا تجربہ کِیا ہے؟‏

۱۲ برسوں بعد، ۱۹۳۰ کے دہے تک جبتک‌کہ ممسوحوں کے بقیے کا جمع کِیا جانا مکمل نہ ہوا، خدا کے اسرائیل کی تعداد بڑھتی ہی گئی۔ کیا اُس وقت خوشخبری کے منادوں کی تعداد میں اضافہ رُک گیا تھا؟ ہرگز نہیں۔ زمینی اُمید والے مسیحیوں کی ایک بڑی بِھیڑ نے پہلے ہی منظرِعام پر آنا شروع کر دیا تھا اور وہ اپنے ممسوح بھائیوں کیساتھ منادی کے کام میں شریک ہو گئے تھے۔ یوحنا رسول نے اس بڑی بِھیڑ کو رویا میں دیکھا اور جس طریقے سے وہ اُنہیں بیان کرتا ہے وہ قابلِ‌غور ہے۔ ”‏اسی سبب سے یہ خدا کے تخت کے سامنے ہیں اور اُسکے مقدِس میں رات دن اُسکی عبادت کرتے ہیں۔“‏ (‏مکاشفہ ۷:‏۱۵‏)‏ جی‌ہاں، بڑی بِھیڑ خدا کی خدمت بجا لانے میں مصروف ہو گئی۔ نتیجتاً، ۱۹۳۵ کے بعد جب ممسوحوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی تو ان وفادار ساتھیوں کے ذریعے گواہی کا یہ کام اضافی قوت کیساتھ آگے بڑھنے لگا۔‏

۱۳ اس طریقے سے یسعیاہ ۶۰:‏۳، ۴ کی تکمیل ہوئی:‏ ”‏قومیں تیری روشنی کی طرف آئینگی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلینگے۔ اپنی آنکھیں اُٹھا کر چاروں طرف دیکھ وہ سب کے سب اکٹھے ہوتے ہیں اور تیرے پاس آتے ہیں۔ تیرے بیٹے دُور سے آئینگے اور تیری بیٹیوں کو گود میں اُٹھا کر لائینگے۔“‏ یہ انکشافات خدا کے اسرائیل کیلئے جس خوشی کا باعث ہوئے، یسعیاہ ۶۰:‏۵ میں اُنہیں بڑی دلکشی کیساتھ بیان کِیا گیا ہے، جہاں ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏تب تُو دیکھے گی اور منور ہوگی ہاں تیرا دل اُچھلے گا اور کشادہ ہوگا کیونکہ سمندر کی فراوانی تیری طرف پھریگی اور قوموں کی دولت تیرے پاس فراہم ہوگی۔“‏

یہوواہ کی رواں‌دواں تنظیم

۱۴.‏ (‏ا)‏ حزقی‌ایل نے آسمانی چیزوں کی کونسی رویا دیکھی اور اُسے کونسا حکم دیا گیا؟ (‏ب)‏ اس جدید دَور میں یہوواہ کے لوگ کیا سمجھتے ہیں اور وہ کونسی ذمہ‌داری محسوس کرتے ہیں؟‏

۱۴ ۶۱۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں، حزقی‌ایل نے رویا میں، یہوواہ کی رتھ‌نما آسمانی تنظیم کو حرکت میں دیکھا۔ (‏حزقی‌ایل ۱:‏۴-‏۲۸)‏ بعدازاں، یہوواہ نے اُس سے کہا:‏ ”‏اَے آدمزاد تو بنی‌اسرائیل کے پاس جا اور میری یہ باتیں اُن سے کہہ۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳:‏۴)‏ ۱۹۹۷ کے اس سال میں، ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے یہوواہ کی آسمانی تنظیم ابھی تک بِلاروک‌ٹوک رواں‌دواں ہے۔ لہٰذا ہم ابھی تک ان مقاصد کی بابت لوگوں کو آگاہ کرنے کی تحریک محسوس کرتے ہیں۔ اپنے زمانے میں، حزقی‌ایل نے وہی باتیں کہیں جنکا یہوواہ نے اُسے براہِ‌راست الہام بخشا تھا۔ آجکل ہم یہوواہ کے الہامی کلام، بائبل سے گفتگو کرتے ہیں۔ اور نوعِ‌انسان کیلئے اس کتاب میں کیا ہی شاندار پیغام ہے!‏ اگرچہ بہتیرے لوگ مستقبل کی بابت پریشان ہیں تَوبھی بائبل ظاہر کرتی ہے کہ حالتیں اُنکے تصور سے بھی بدتر—‏اور اسکے ساتھ ہی ساتھ کہیں بہتر،—‏بھی ہیں۔‏

۱۵.‏ آجکل حالات بہتیرے لوگوں کے تصور سے بھی زیادہ خراب کیوں ہیں؟‏

۱۵ حالات اس لئے خراب ہیں کیونکہ جیسے ہم نے پچھلے مضامین سے سیکھا، جلد ہی مسیحی دُنیا اور دیگر تمام جھوٹے مذاہب بالکل ویسے ہی مکمل طور پر نیست‌ونابود ہو جائینگے جیسے ۶۰۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں یروشلیم ہوا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ تمام عالمی سیاسی وجود جسکی تصویرکشی مکاشفہ کی کتاب میں سات سر اور دس سینگوں والے جنگلی حیوان سے کی گئی ہے بہت جلد نیست ہونے والا ہے جیسے یروشلیم کے بہت سے بُت‌پرست ہمسایہ ممالک ہو گئے تھے۔ (‏مکاشفہ ۱۳:‏۱، ۲؛‏ ۱۹:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ حزقی‌ایل کے زمانے میں یہوواہ نے واضح طور پر یروشلیم کی قریب آتی ہوئی بربادی سے پیدا ہونے والے خوف کو بیان کِیا۔ لیکن اُس کے الفاظ اَور زیادہ پُرمطلب ہو جائینگے جب لوگ قریب آتی ہوئی اس دُنیا کی بربادی کو دیکھتے ہیں۔ یہوواہ نے حزقی‌ایل سے فرمایا:‏ ”‏پس اَے آدمزاد کمر کی شکستگی سے آہیں مار اور تلخ کلامی سے اُنکی آنکھوں کے سامنے ٹھنڈی سانس بھر۔ اور جب وہ پوچھیں کہ تُو کیوں ہائے ہائے کرتا ہے؟ تو یوں جواب دینا کہ اُسکی آمد کی افواہ کے سبب سے ہر ایک دل پگھل جائیگا اور سب ہاتھ ڈھیلے ہو جائینگے اور ہر ایک جی ڈوب جائیگا اور سب گھٹنے پانی کی مانند کمزور ہو جائینگے خداوند خدا فرماتا ہے۔ اُسکی آمد آمد ہے۔ یہ وقوع میں آئیگا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۲۱:‏۶، ۷؛‏ متی ۲۴:‏۳۰‏)‏ ہولناک واقعات بالکل قریب ہیں۔ ساتھی انسانوں کیلئے ہماری گہری فکر ہمیں آگاہی دینے، یہوواہ کے آنے والے غضب کی ”‏خبر“‏ دینے کی تحریک دیتی ہے۔‏

۱۶.‏ حلیم لوگوں کیلئے حالات بہتیروں کے وہم‌وگمان سے زیادہ بہتر کیوں ہیں؟‏

۱۶ تاہم، خلوصدل لوگوں کیلئے حالات بہتیرے لوگوں کے وہم‌وگمان سے بھی زیادہ بہتر ہیں۔ کس لحاظ سے؟ اسلئے کہ یسوع مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر مؤا اور اب خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرتا ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۱:‏۱۵؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۵‏)‏ نوعِ‌انسان کے مسائل جو انسانی نقطۂ‌نظر سے ناقابلِ‌حل ہیں، جلد ہی آسمانی بادشاہت کے ذریعے ان پر قابو پا لیا جائیگا۔ موت، بیماری، بدعنوانی، بھوک، جُرم اور ماحول کی آلودگی گئی گزری باتیں ہونگی اور خدا کی بادشاہت بغیر کسی مخالفت کے فردوسی زمین پر حکومت کریگی۔ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏)‏ نوعِ‌انسان خدائی اَمن—‏یہوواہ خدا کیساتھ اور ایک دوسرے کیساتھ ایک پُرامن، پُرمحبت رشتے سے لطف‌اندوز ہوگا۔—‏زبور ۷۲:‏۷‏۔‏

۱۷.‏ کونسی ترقیاں خدائی اَمن کے پیامبروں کے دلوں کو خوشی سے لبریز کرتی ہیں؟‏

۱۷ دُنیا کے بعض حصوں میں، حلیم لوگوں کی بڑی بِھیڑ خدائی اَمن کے پیغام کیلئے جوابی‌عمل دکھا رہی ہے۔ چند مثالیں یہ ہیں، گزشتہ سال یوکرائن نے پبلشروں میں ۱۷ فیصد اضافے کی رپورٹ دی۔ موزمبیق نے ۱۷ فیصد اضافے کی، لیتھونیا نے ۲۹ فیصد اضافے کی رپورٹ دی۔ روس میں ۳۱ فیصد اضافہ ہوا جبکہ البانیہ نے پبلشروں میں ۵۲ فیصد اضافے کا تجربہ کِیا۔ یہ اضافے لاکھوں خلوصدل اشخاص کی نمائندگی کرتے ہیں جو خدائی اَمن سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور جنہوں نے راستبازی کیلئے اپنا مؤقف اختیار کِیا ہے۔ ایسی تیز ترقی تمام مسیحی برادری کیلئے خوشی کا باعث بنتی ہے۔‏

۱۸.‏ خواہ لوگ سنیں یا نہ سنیں، ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟‏

۱۸ کیا آپ کے علاقے میں لوگ فوراً جوابی‌عمل دکھاتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم آپ کے ساتھ خوش ہیں۔ تاہم، بعض علاقوں میں، ایک دلچسپی لینے والے شخص کو تلاش کرنے سے پہلے، کئی گھنٹے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ کیا ایسے علاقوں میں خدمت کرنے والے اپنے ہاتھ ڈھیلے کر لیتے ہیں یا بے‌دل ہو جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہوواہ کے گواہ حزقی‌ایل سے کہے گئے خدا کے الفاظ کو یاد رکھتے ہیں جب اُس نے پہلی مرتبہ نوجوان نبی کو اپنے یہودی ہم‌وطنوں کو منادی کرنے کا حکم دیا تھا:‏ ”‏پس خواہ وہ سنیں یا نہ سنیں کیونکہ وہ تو سرکش خاندان ہیں تَوبھی اتنا تو ہوگا کہ وہ جانینگے کہ اُن میں ایک نبی برپا ہوا ہے۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۲:‏۵)‏ حزقی‌ایل کی مانند، ہم بھی لوگوں کو خدائی اَمن کے متعلق بتاتے رہتے ہیں خواہ وہ سنتے ہیں یا نہیں۔ جب وہ سنتے ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ ہماری طرف سے اپنی پیٹھ پھیر لیتے ہیں، ہمارا تمسخر اُڑاتے ہیں، حتیٰ‌کہ ہمیں اذیت دیتے ہیں تَوبھی ہم برداشت کرتے ہیں۔ ہم یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏محبت .‏ .‏ .‏ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴،‏ ۷‏)‏ چونکہ ہم صبر سے منادی کرتے ہیں، لوگ جانتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہ کون ہیں۔ وہ ہمارے پیغام کو جانتے ہیں۔ جب خاتمہ آتا ہے تو وہ جان جائینگے کہ یہوواہ کے گواہوں نے اُنہیں خدائی اَمن سے استفادہ کرنے میں مدد دینے کی کوشش کی تھی۔‏

۱۹.‏ سچے خدا کے خادموں کی حیثیت سے، ہم کس عظیم شرف کو عزیز رکھتے ہیں؟‏

۱۹ کیا یہوواہ کی خدمت کرنے سے بڑا کوئی اَور استحقاق ہے؟ ہرگز نہیں!‏ ہمیں سب سے زیادہ خوشی خدا کیساتھ اپنے رشتے اور اس علم سے حاصل ہوتی ہے کہ ہم اُس کی مرضی پوری کر رہے ہیں۔ ”‏مبارک ہے وہ قوم جو خوشی کی للکار کو پہچانتی ہے۔ وہ اَے خداوند!‏ جو تیرے چہرے کے نور میں چلتے ہیں۔“‏ (‏زبور ۸۹:‏۱۵‏)‏ دُعا ہے کہ ہم ہمیشہ نوعِ‌انسان کیلئے خدا کے اَمن کے پیامبر بننے کی خوشی کو عزیز رکھیں۔ خدا کرے کہ ہم مستعدی سے اُس وقت تک اِس کام میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں جبتک یہوواہ نہیں کہتا کہ تمام ہوا۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

▫ آجکل خدا کے اَمن کے پیامبر کون ہیں؟‏

▫ ہم کیسے جانتے ہیں کہ ۱۹۱۹ میں بڑے بابل کو زوال کا تجربہ ہوا؟‏

▫ ”‏بڑی بِھیڑ“‏ کا اوّلین مقصد کیا ہے؟‏

▫ مستقبل آجکل بہتیرے لوگوں کی سوچ سے بھی زیادہ مایوس‌کُن کیوں ہے؟‏

▫ راستدل لوگوں کیلئے مستقبل اُنکی سوچ سے بڑھکر بہتر کیوں ہو سکتا ہے؟‏

‏[‏صفحہ 29 پر تصویریں]‏

انسانی معاشرے کی زوال‌پذیر حالت کے پیشِ‌نظر بہتیرے لوگ کسی بڑی مصیبت کے واقع ہونے کی توقع کرتے ہیں

‏[‏صفحہ 31 پر تصویریں]‏

خدائی اَمن کے پیامبر آجکل زمین پر سب سے زیادہ مبارک لوگ ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں