کیا تمام ,مذاہب خدا کو پسند ہیں؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تمام مذاہب خدا کو پسند ہیں؟ غالباً ہر قسم کی پرستش جس سے آپ واقف ہیں کسی حد تک اچھے چالچلن کی حوصلہافزائی کرتی ہے۔ لیکن خدا کو پسند آنے کیلئے کیا یہ کافی ہے؟
بعض کہتے ہیں، ’بس اپنی پرستش میں مخلص ہوں تو خدا پسند فرمائیگا۔ تمام مذاہب میں اچھائی موجود ہے۔‘ مثال کے طور پر، بہائی فرقے نے اس نظریے کو اِس حد تک اپنا لیا ہے کہ دُنیا کے نو بڑے مذاہب کو اپنے اعتقادات میں شامل کر لیا ہے۔ یہ مذہبی گروہ یقین رکھتا ہے کہ یہ سب الہٰی مصدر سے ہیں اور ایک ہی سچائی کے مختلف پہلو ہیں۔ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے؟
علاوہازیں، آپ یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ایک مذہب خدا کو کیسے پسند آ سکتا ہے جب یہ اپنے ارکان کو بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کے امکان کیساتھ، عوامی جگہوں پر زہریلی گیس رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ الزام جاپان میں ایک مذہبی گروہ کیخلاف عائد کِیا گیا ہے۔ یا کیا خدا اُس مذہب کو پسند کرتا ہے جو اپنے ارکان کو خودکُشی کرنے پر مجبور کرتا ہے؟ چند سال پہلے، ایک مذہبی لیڈر جم جونز کے پیروکاروں کیساتھ ایسا واقع ہوا۔
پہلے زمانوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے، ہم پوچھ سکتے ہیں، کیا مذاہب خدا کو خوش کر سکتے ہیں جبکہ وہ جنگوجدل کو ہوا دیتے ہیں، جیسےکہ تیس سالہ جنگ جوکہ ۱۶۱۸ سے ۱۶۴۸ تک لڑی گئی تھی؟ دی یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ کے مطابق، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان وہ مذہبی آویزش ”یورپی تاریخ کی نہایت دہشتناک جنگوں میں سے ایک“ تھی۔
۱۱ویں سے ۱۳ویں صدی تک کی صلیبی جنگیں بھی خوفناک قتلوغارت پر منتج ہوئیں۔ مثال کے طور پر، پہلی صلیبی جنگ میں، صلیبی جنگیں لڑنے والے نامنہاد مسیحیوں نے مسلمانوں اور یروشلیم کے یہودی باشندوں کو بڑی بیدردی سے قتل کِیا۔
اس پر بھی، غور کریں کہ کیتھولک کی مذہبی عدالتی تحقیقات میں کیا واقع ہوا جو ۱۳ویں صدی میں شروع ہوئیں اور تقریباً ۶۰۰ سال تک جاری رہیں۔ ہزاروں لوگوں کو مذہبی پیشواؤں کے حکم پر اذیت دی گئی اور جلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اپنی کتاب وکرز آف کرائسٹ—دی ڈارک سائیڈ آف دی پاپیسی میں، پیٹر ڈی رُوزابیان کرتا ہے: ”پوپ کے نام پر، [مذہبی عدالت کے رُکن] نسلِ[انسانی] کی تاریخ میں انسانی شائستگی پر نہایت سفاکانہ اور دیر تک جاری رہنے والے حملوں کے ذمہدار تھے۔“ سپین کے ڈومینیکن مذہبی عدالتی رُکن ٹورکیوماڈا کی بابت، ڈی رُوزا کہتا ہے: ”۱۴۸۳ میں مقرر ہوکر، اُس نے پندرہ سال تک ظالمانہ حکومت کی۔ اُسکا نشانہ بننے والوں کی تعداد ۱۱۴،۰۰۰ سے زیادہ تھی جن میں سے ۱۰،۲۲۰ کو جلا دیا گیا تھا۔“
بِلاشُبہ، صرف مسیحی دُنیا کے مذاہب ہی خون کے مجرم نہیں ہیں۔ اپنی کتاب پینزا[”خیالات“]میں، فرنچ فلاسفر بلاز پاسکل نے بیان کِیا: ”انسان کبھی بھی اتنی ہمہگیری اور خوشی سے بُرائی نہیں کرتے جتنیکہ وہ مذہبی اعتقاد کی بِنا پر کرتے ہیں۔“
اپنے پھلوں سے پہچانے گئے
خدا کے نقطۂنظر سے مذہب کی قبولیت صرف کسی ایک عنصر پر مبنی نہیں ہے۔ اُسکے حضور کسی مذہب کے منظورِنظر ہونے کیلئے، اسکی تعلیمات اور کارگزاریوں کو اُسکے تحریری کلامِحق، بائبل کے مطابق ہونا چاہئے۔ (زبور ۱۱۹:۱۶۰؛ یوحنا ۱۷:۱۷) خدا کی پسندیدہ پرستش کے پھلوں کو یہوواہ خدا کے معیاروں سے ہمآہنگ ہونا چاہئے۔
اپنے پہاڑی وعظ میں، یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ ایسے نبی اُٹھ کھڑے ہونگے جو دروغگوئی سے خدا کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرینگے۔ یسوع نے کہا: ”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔ اُنکے پھلوں سے تم اُنکو پہچان لوگے۔ کیا جھاڑیوں سے انگور یا اُونٹکٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟ اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔ جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ پس اُنکے پھلوں سے تم اُنکو پہچان لوگے۔“ (متی ۷:۱۵-۲۰) یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں روحانی طور پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم شاید سوچیں کہ کوئی مذہبی پیشوا یا گروہ خدا اور مسیح کو پسند ہے، لیکن ہم غلطی پر ہو سکتے ہیں۔
ہوشیار رہنے کی ضرورت
اگرچہ کوئی مذہب خدا کی پسندیدگی کا دعویٰ کرتا ہے اور اسکے خادم بائبل سے اقتباسات پڑھتے ہیں، تاہم، اسکا مطلب یہ نہیں کہ خدا پرستش کے اس طریقے کو پسند کرتا ہے۔ اسکے پیشوا ایسے اثرآفرین کام بھی کر سکتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ گویا خدا اُنکے ذریعے کام کرتا ہے۔ تاہم، مذہب پھربھی جھوٹا، خدا کے قابلِقبول پھل پیدا نہ کرنے والا ہو سکتا ہے۔ موسیٰ کے زمانے کے جادوگر مصری پیشوا اثرآفرین کام کرنے کے قابل تھے، لیکن اُنہیں خدا کی پسندیدگی ہرگز حاصل نہیں تھی۔—خروج ۷:۸-۲۲۔
ماضی کی طرح آج بھی، بہتیرے مذاہب خدا کے نزدیک سچائی پر کاربند رہنے کی بجائے انسانی نظریات اور فیلسوفیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ لہٰذا، بائبل کی آگاہی خاص طور پر، موزوں ہے: ”خبردار کوئی شخص تم کو اُس فیلسوفی اور لاحاصل فریب سے شکار نہ کرلے جو انسانوں کی روایت اور دُنیوی ابتدائی باتوں کے موافق ہیں نہ کہ مسیح کے موافق۔“—کلسیوں ۲:۸۔
اچھے اور بُرے پھلوں کی بابت کلام کرنے کے بعد یسوع نے فرمایا: ”جو مجھ سے اَے خداوند اَے خداوند! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔ اُس دن بہتیرے مجھ سے کہینگے اَے خداوند اَے خداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے؟ اُس وقت مَیں اُن سے صاف کہہ دونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔“—متی ۷:۲۱-۲۳۔
پھلوں کی جانچ کریں
پس، واضح طور پر، یہ نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے کہ آیا کسی مذہب کو خدا کی مقبولیت حاصل ہے یہ ضروری ہے کہ اُس کے پھلوں کا جائزہ لیا جائے۔ مثلاً، کیا مذہب سیاست میں اُلجھا ہوا ہے؟ لہٰذا یعقوب ۴:۴ میں درج ان الفاظ پر غور کریں: ”جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا کا دشمن بناتا ہے۔“ مزیدبرآں، یسوع نے اپنے سچے پیروکاروں کے حق میں فرمایا: ”جس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۷:۱۶) ایسا مذہب جو خدا کی نظروں میں اچھا ہے وہ اس دُنیا کی سیاست میں نہیں اُلجھتا، جو ”اُس شریر،“ نادیدہ روحانی مخلوق شیطان یعنی ابلیس، ”کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹) اسکی بجائے، وہ مذہب جسے خدا پسند کرتا ہے وفاداری سے یسوع مسیح کے تحت اُسکی بادشاہت کی تائید کرتا ہے اور اُس آسمانی حکومت کی بابت خوشخبری کا اعلان کرتا ہے۔—مرقس ۱۳:۱۰۔
کیا کوئی مذہب خدا کیلئے قابلِقبول ہوتا ہے اگر وہ معاشرتی نافرمانی کو ہوا دیتا ہے؟ اگر ہم پولس رسول کی مشورت پر دھیان دیتے ہیں تو جواب صاف ظاہر ہے: ”اُنکو یاد دلا کہ حاکموں اور اختیار والوں کے تابع رہیں اور اُنکا حکم مانیں اور ہر نیک کام کے لئے مستعد رہیں۔“ (ططس ۳:۱) بِلاشُبہ، یسوع نے ظاہر کِیا کہ اُسکے پیروکاروں کو ”جو قیصرؔکا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا“ کرنا تھا۔—مرقس ۱۲:۱۷۔
فرض کریں کہ ایک مذہب اقوام کی جنگوں میں شمولیت کی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ پہلا پطرس ۳:۱۱ ہمیں ”نیکی کو عمل“ میں لانے کی اور ”صلح کا طالب“ ہونے ”اور اُسکی کوشش میں“ رہنے کی تاکید کرتی ہے۔ کوئی مذہب خدا کو کیسے پسند آ سکتا ہے اگر اُسکے ارکان جنگ میں دوسرے ملک کے اپنے ساتھی پرستاروں کو قتل کرنے کیلئے تیار ہیں؟ ایسے مذہب کے ارکان جسے خدا کی خوشنودی حاصل ہے اُسکی اہمترین خوبی—محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور یسوع نے فرمایا: ”اگر آپس میں محبت رکھوگے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ (یوحنا ۱۳:۳۵) اس محبت کا اقوام کی جنگوں میں فروغ پانے والی متشدّد نفرت کیساتھ کوئی سروکار نہیں ہے۔
سچا مذہب جنگجو لوگوں کو امنپسند بنا دیتا ہے۔ اس کی پیشگوئی ان الفاظ میں کی گئی تھی: ”وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“ (یسعیاہ ۲:۴) نفرت بھری باتیں مُنہ سے نکالنے کی بجائے، سچی پرستش کو عمل میں لانے والے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں: ”اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔“—متی ۲۲:۳۹۔
سچے مذہب پر چلنے والے بداخلاق طرزِزندگی کو اختیار کرنے سے انکار کرتے ہوئے، یہوواہ خدا کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدا کا کلام بیان کرتا ہے: ”کیا تم نہیں جانتے کہ بدکار خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے؟ فریب نہ کھاؤ۔ نہ حرامکار خدا کی بادشاہی کے وارث ہوں گے نہ بُتپرست نہ زناکار نہ عیاش۔ نہ لونڈےباز۔ نہ چور۔ نہ لالچی نہ شرابی۔ نہ گالیاں بکنے والے نہ ظالم۔ اور بعض تم میں ایسے ہی تھے بھی مگر تم خداوند یسوؔع مسیح کے نام سے اور ہمارے خدا کے روح سے دُھل گئے اور پاک ہوئے اور راستباز بھی ٹھہرے۔“—۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱۔
ایک فیصلہکُن کارروائی کا وقت
جھوٹی پرستش اور سچے مذہب کے مابین فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ بائبل کی کتاب مکاشفہ میں، جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کی شناخت ”بڑے بابلؔ،“ ایک علامتی کسبی کے طور پر کرائی گئی ہے ”جسکے ساتھ زمین کے بادشاہوں نے حرامکاری کی تھی۔“ وہ خون کی مجرم ہے اور ”مکروہات یعنی [اپنی] حرامکاری کی ناپاکیوں سے بھرا ہوا“ سونے کا پیالہ تھامے ہوئے ہے۔ (مکاشفہ ۱۷:۱-۶) اُس سے وابستہ کوئی بھی چیز خدا کے لئے قابلِقبول نہیں ہے۔
یہ ایک فیصلہکُن کارروائی کا وقت ہے۔ ابھی تک بڑے بابل میں موجود مخلص لوگوں کو، ہمارا پُرمحبت خالق یہ دعوت دیتا ہے: ”اَے میری اُمت کے لوگو! اُس میں سے نکل آؤ تاکہ تم اُسکے گناہوں میں شریک نہ ہو اور اُسکی آفتوں میں سے کوئی تم پر نہ آ جائے۔“—مکاشفہ ۱۸:۴۔
اگر آپ ایسے مذہب پر چلنا چاہتے ہیں جو خدا کو پسند آتا ہے تو کیوں نہ یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بہتر واقفیت پیدا کریں؟ مشمولہ چارٹ میں صحیفائی وجوہات کے ہمراہ، اُنکے کچھ اعتقادات کی فہرست دی گئی ہے۔ یہ جاننے کیلئے اپنی بائبل کو دیکھیں کہ آیا گواہوں کے اعتقادات خدا کے کلام سے ہمآہنگ ہیں۔ یہ معلوم کرنے کیلئے تحقیق کریں کہ آیا اُنکا مذہب ایسے پھل پیدا کرتا ہے جنکی آپ سچی پرستش سے توقع کرینگے۔ اگر آپ جان لیتے ہیں کہ یہ ایسا کرتا ہے تو پھر آپ نے وہ مذہب پا لیا ہے جسے خدا پسند کرتا ہے۔ (۳ ۰۹/۱۵ w۹۶)
[بکس]
یہوواہ کے گواہ کیا مانتے ہیں
اعتقاد بائبلی بنیاد
خدا کا نام یہوواہ ہے خروج ۶:۳؛ زبور ۸۳:۱۸
بائبل خدا کا کلام ہے یوحنا ۱۷:۱۷؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷
یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے متی ۳:۱۶، ۱۷؛ یوحنا ۱۴:۲۸
نوعِانسان کی ارتقا نہیں پیدایش ۱:۲۷؛ ۲:۷
ہوئی بلکہ تخلیق ہوئی تھی
انسانی موت پہلے انسان رومیوں ۵:۱۲
کے گناہ کی وجہ سے آتی ہے
موت کے وقت جان زندہ نہیں رہتی واعظ ۹:۵، ۱۰؛ حزقیایل ۱۸:۴
دوزخ نوعِانسان کی عام قبر ہے ایوب ۱۴:۱۳؛ مکاشفہ ۲۰:۱۳
مُردوں کیلئے قیامت کی اُمید ہے یوحنا ۵:۲۸، ۲۹؛ ۱۱:۲۵؛ اعمال ۲۴:۱۵
مسیح نے اپنی زمینی زندگی متی ۲۰:۲۸؛ ۱-پطرس ۲:۲۴؛
فرمانبردار انسانوں کیلئے فدیے کے ۱-یوحنا ۲:۱، ۲
طور پردے دی
دُعائیں یسوع کے وسیلے سے متی ۶:۹؛ یوحنا ۱۴:۶، ۱۳، ۱۴
صرف یہوواہ سے کی جانی چاہئیں
اخلاقیات کے سلسلے میں بائبل ۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰
قوانین کی فرمانبرداری کی جانی چاہئے
پرستش میں مورتیں استعمال خروج ۲۰:۴-۶؛ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۴
نہیں کی جانی چاہئیں
ارواحپرستی سے گریز استثنا ۱۸:۱۰-۱۲؛ گلتیوں ۵:۱۹-۲۱
کِیا جانا چاہئے
کسی کو بھی اپنے جسم پیدایش ۹:۳، ۴؛ اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹
میں خون نہیں لینا چاہئے
یسوع کے سچے پرستار یوحنا ۱۵:۱۹؛ ۱۷:۱۶؛ یعقوب ۱:۲۷؛ ۴:۴
دُنیا سے الگ رہتے ہیں
مسیحی خوشخبری کا اعلان یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲؛ متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰
کرنے سے گواہی دیتے ہیں
پانی میں مکمل ڈبکی سے مرقس ۱:۹، ۱۰؛ یوحنا ۳:۲۲؛
بپتسمہ خدا کیلئے مخصوصیت اعمال ۱۹:۴، ۵
کی علامت ہے
مذہبی القاب غیرصحیفائی ہیں ایوب ۳۲:۲۱، ۲۲؛ متی ۲۳:۸-۱۲
ہم ”اخیر زمانہ“ میں دانیایل ۱۲:۴؛ متی ۲۴:۳-۱۴؛
رہ رہے ہیں ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵
مسیح کی آمد نادیدہ ہے متی ۲۴:۳؛ یوحنا ۱۴:۱۹؛
شیطان اِس دُنیا کا نادیدہ یوحنا ۱۲:۳۱؛ ۱-یوحنا ۵:۱۹
حاکم ہے
خدا موجودہ بدکار نظامالعمل کو تباہوبرباد کر دیگا دانیایل ۲:۴۴؛
مسیح کے تحت خدا کی یسعیاہ ۹:۶، ۷؛ دانیایل ۷:۱۳، ۱۴؛
بادشاہت راستبازی سے زمین متی ۶:۱۰
پر حکمرانی کریگی
”چھوٹے گلّے“ کو آسمان میں لوقا ۱۲:۳۲؛ مکاشفہ ۱۴:۱-۴؛ ۲۰:۴
مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنا ہے
دیگر لوگ جنہیں خدا لوقا ۲۳:۴۳؛ یوحنا ۳:۱۶؛
قبول فرماتا ہے زمین پر مکاشفہ ۲۱:۱-۴
ابدی زندگی حاصل کرینگے
[تصویر]
سچا مذہب اپنے اچھے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے
[تصویر کا حوالہ]
Cover: Garo Nalbandian