یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏9 ص.‏ 8-‏12
  • کیا آپ نے صحیح مذہب پا لیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ نے صحیح مذہب پا لیا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہم خدا کے نقطۂ‌نظر کو کیسے جان سکتے ہیں؟‏
  • کیا بائبل کو استعمال‌کرنے والے سب صحیح ہیں؟‏
  • سچے مذہب کے شناختی نشانات
  • خدا کو کس قسم کی عبادت قبول ہے؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • بقا کے لئے خالص مذہب پر چلنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • مَیں سچے مذہب کی پہچان کیسے کر سکتا ہوں؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • جھوٹے مذہب سے آزاد ہونا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏9 ص.‏ 8-‏12

کیا آپ نے صحیح مذہب پا لیا ہے؟‏

‏”‏ہمارے خدا اور باپ کے نقطۂ‌نظر سے پاک اور غیرآلودہ طرزِعبادت یہ ہے۔“‏—‏یعقوب ۱:‏۲۷‏، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ بہتیرے لوگوں کی سوچ میں، کیا چیز اس بات کا تعیّن کرتی ہے کہ آیا اُنکا مذہب صحیح ہے؟ (‏ب)‏ مذہب کو پرکھنے کے سلسلے میں کس چیز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے؟‏

ہم ایک ایسے دوَر میں رہتے ہیں جب بہتیرے لوگ مذہب کو اپنی زندگیوں میں نسبتاً کم اہمیت دینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ شاید وہ بعض مذہبی عبادات میں حاضر ہوتے ہوں، لیکن بہت کم باقاعدگی سے ایسا کرتے ہیں۔ زیادہ‌تر لوگ یہ نظریہ نہیں رکھتے کہ دیگر تمام مذاہب غلط ہیں اور یہ کہ ان ہی کا صحیح ہے۔ وہ صرف یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ انکا مذہب ان ہی کیلئے صحیح ہے۔‏

۲ اسکے پیشِ‌نظر، کیا اس سوال کا، کیا آپ نے صحیح مذہب پا لیا ہے؟ صرف یہ مطلب ہے کہ کیا آپ نے اپنی پسند کا مذہب پا لیا ہے؟ کونسی چیز یہ تعیّن کرتی ہے کہ آپ کیا پسند کرتے ہیں؟ آپکا خاندان؟ آپکے ساتھی؟ آپکے ذاتی احساسات؟ اس معاملے میں خدا کے نظریے پر آپ نے کتنی سنجیدگی سے غور کیا ہے؟‏

ہم خدا کے نقطۂ‌نظر کو کیسے جان سکتے ہیں؟‏

۳.‏ (‏ا)‏ اگر ہمیں خدا کے نقطۂ‌نظر کو معلوم کرنا ہے تو ہمارے پاس کونسی چیز دستیاب ہونی چاہئے؟ (‏ب)‏ اس سلسلے میں ہمیں خود سے کونسے سوال پوچھنے چاہیں کہ کیوں ہم ذاتی طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ بائبل خدا کی طرف سے ہے؟‏

۳ اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ خدا خود کیا سوچتا ہے تو پھر اسکی طرف سے کوئی انکشاف ضرور ہونا چاہئے۔ بائبل خدا کی طرف سے الہامی ہونے کا دعویٰ کرنے والی سب سے زیادہ قدیم کتاب ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ لیکن کیا صداقت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیگر تمام کے مقابلے میں اس کتاب کے اندر تمام نوعِ‌انسانی کے لئے خدا کا پیغام پایا جاتا ہے؟ آپ اس سوال کا جواب کیسے دینگے، اور کیوں؟ کیا یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ آپکے والدین بھی یہی نظریہ رکھتے تھے؟ کیا یہ آپکے ساتھیوں کے رویے کی وجہ سے ہے؟ کیا آپ نے بذاتِ‌خود شہادت کا جائزہ لیا ہے؟ کیوں نہ شہادت کے مندرجہ ذیل چار پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے اب ایسا کریں؟‏

۴.‏ جہاں تک دستیابی کا تعلق ہے، کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ کسی دوسری کتاب کی نسبت بائبل خدا کی طرف سے ہے؟‏

۴ دستیابی:‏ ایک پیغام جو واقعی خدا کی طرف سے ہے اور جو تمام انسانی خاندان کیلئے ہے اسے انکے لئے دستیاب ہونا چاہئے۔ کیا یہ بائبل کے سلسلے میں سچ ہے؟ اس پر غور کریں:‏ بائبل، پوری یا اسکے کچھ حصے، اب ۲،۰۰۰ سے زیادہ زبانوں میں شائع کی گئی ہے۔ امریکن بائبل سوسائٹی کے مطابق، کوئی ایک عشرہ قبل جن زبانوں میں بائبل شائع کی گئی تھی انہوں نے اسے دنیا کی آبادی کے تقریباً ۹۸ فیصد کیلئے ممکن‌الحصول بنا دیا۔ جیسا کہ گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے ذریعے ظاہر کیا گیا، بائبل نمایاں طور پر ”‏دنیا کی سب سے زیادہ تقسیم ہونے والی کتاب ہے۔“‏ اسی بات کی توقع ہم خدا کی طرف سے آنے والے پیغام سے کرینگے جو تمام نسلوں اور قوموں کے لوگوں اور اہلِ‌زبان کیلئے ہے۔ (‏مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۴:‏۶‏۔)‏ دنیا میں اور کوئی ایسی کتاب نہیں جو اس طرح کا کوئی ریکارڈ رکھتی ہو۔‏

۵.‏ بائبل کی تاریخی بنیاد کیوں نہایت اہم ہے؟‏

۵ تاریخی حقیقت:‏ بائبل کی سرگزشتوں کا محتاط جائزہ ایک اور طریقے پر روشنی ڈالتا ہے جس سے بائبل دیگر ایسی کتابوں سے ممتاز ہو جاتی ہے جو مقدس ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ بائبل میں تاریخی حقائق پائے جاتے ہیں، نہ کہ ناقابلِ‌توثیق داستانیں۔ ارؔوِن لنٹن، جو بطور ایک وکیل کے اس بات کا تجزیہ کرنے کا عادی تھا جسکا تقاضا بطور ثبوت کے شرعی عدالت میں کیا جاتا ہے، اُس نے لکھا:‏ ”‏جبکہ رومانی حکایات، داستانیں اور جھوٹی شہادت بیان‌کردہ واقعات کو کسی دورافتادہ مقام اور کسی غیرمعین وقت پر مُتعیّن کرنے میں محتاط ہوتی ہیں، .‏ .‏ .‏ بائبل سرگزشتیں ہمیں بڑی صحت کیساتھ مبیّنہ واقعات کی تاریخ اور مقام بتاتی ہیں۔“‏ (‏مثالوں کیلئے، دیکھیں ۱-‏سلاطین ۱۴:‏۲۵؛‏ یسعیاہ ۳۶:‏۱؛‏ لوقا ۳:‏۱، ۲‏۔)‏ ان لوگوں کیلئے جو مذہب کی جانب حقیقت سے فرار حاصل کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ سچائی کی خاطر رجوع کرتے ہیں، یہ ایک اہم رعایت ہے۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ زندگی کے مسائل کے سلسلے میں بائبل واقعی کیسے ایک شخص کی مدد کرتی ہے؟ (‏ب)‏ تلخ حقائق سے نپٹنے کیلئے بائبل کن تین طریقوں سے ایک شخص کی مدد کرتی ہے؟‏

۶ عملی صورت:‏ وہ جو سنجیدگی سے بائبل کا جائزہ لیتے ہیں جلد ہی یہ پہچان لیتے ہیں کہ اسکے احکام اور قوانین ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے وضع نہیں کئے گئے ہیں۔ اسکی بجائے، یہ زندگی کی ایک ایسی روش کی خاکہ‌کشی کرتے ہیں جو ان لوگوں کیلئے فائدے لاتی ہے جو انکی احتیاط سے پیروی کرتے ہیں۔ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷، ۱۸‏)‏ غم میں مبتلا لوگوں کو جو تسلی یہ دیتی ہے وہ مصنوعی، کھوکھلی فیلسوفیوں پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ، یہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کیساتھ نپٹنے میں لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ کسطرح؟ تین طریقوں سے:‏ (‏۱)‏ اس بات پر پُختہ مشورت دینے سے کہ مشکلات کیساتھ کیسے نپٹا جائے، (‏۲)‏ یہ وضاحت کرنے سے کہ کیسے اس پُرمحبت حمایت کو حاصل کیا جائے جو خدا اب اپنے خادموں کو عنایت کرتا ہے، اور (‏۳)‏ اس شاندار مستقبل کو آشکارہ کرنے سے جو خدا نے اپنی خدمت کرنے والوں کیلئے اپنے وعدوں پر اعتماد رکھنے کی ٹھوس وجوہات دیتے ہوئے محفوظ کر رکھا ہے۔‏

۷.‏ (‏ا)‏ فٹ‌نوٹ میں حوالہ شدہ صحائف کو استعمال کرتے ہوئے، آجکل لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کرنے والے بڑے مسائل میں سے کسی ایک کی بابت بائبل کے جواب کی وضاحت کریں۔ (‏ب)‏ واضح کریں کہ کیسے بائبل کی مشورت ہمیں ایک تکلیف‌دہ حالت سے محفوظ رکھتی یا اس سے نپٹنے میں ہماری مدد کرتی ہے؟‏

۷ اگرچہ بائبل کی مشورت اکثر ان لوگوں کے درمیان اتنی مقبول نہیں ہوتی جو اختیار کو رد کرتے اور تن‌پرور زندگی کی جستجو کرتے ہیں، تو بھی بہتیروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایسی زندگی انکے لئے حقیقی خوشی نہیں لائی ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۷، ۸‏)‏ بائبل اسقاطِ‌حمل، طلاق، اور ہم‌جنس پسندی کی بابت سوالات کے بالکل صاف جواب دیتی ہے۔ اسکی مشورت منشیات اور الکحل کے غلط استعمال کے خلاف اور کثیف خون یا آزادانہ جنسی تعلقات کے ذریعے لگنے والی ایڈز کے خلاف ایک تحفظ ہے۔ یہ ہم پر واضح کرتی ہے کہ کیسے خاندانوں کو خوشحال رکھیں۔ یہ ایسے جوابات فراہم کرتی ہے جو کسی شخص کو زندگی کی زیادہ تکلیف‌دہ حالتوں کیساتھ نپٹنے کے قابل بناتے ہیں جس میں خاندان کے قریبی ممبروں کے ذریعے رد کیا جانا، شدید علالت، اور کسی عزیز کی موت شامل ہو سکتی ہے۔ یہ ہماری مدد کرتی ہے کہ اپنی ترجیحات کی شناخت کریں تاکہ ہماری زندگیاں کسی پچھتاوے کی بجائے مقصد سے پُر ہوں۔‏a

۸، ۹.‏ (‏ا)‏ بائبل کے الہامی ہونے کے ثبوت کے طور پر کونسی پیشینگوئی آپکو ذاتی طور پر متاثر کرتی ہے؟ (‏ب)‏ بائبل کی پیشینگوئیاں اپنے مصدر کی بابت کس بات کو ثابت کرتی ہیں؟‏

۸ پیشینگوئی:‏ بائبل پیشینگوئی کی کتاب ہونے کے طور پر بھی منفرد ہے یعنی ایک ایسی کتاب جو بتاتی ہے کہ مستقبل میں کیا رونما ہوگا، اور یہ تفصیل سے ایسا کرتی ہے۔ اس نے قدیم صوؔر کی تباہی، باؔبل کے زوال، یرؔوشلیم کی ازسرنو تعمیر، ماؔدی فاؔرس اور یوؔنان کے بادشاہوں کے عروج اور زوال، اور یسوؔع مسیح کی زندگی کے بہت سے واقعات کو پیش‌ازوقت بیان کیا۔ اس نے تفصیل کے ساتھ ان عالمی حالتوں کی بھی پیشینگوئی کی جو اس صدی میں پیدا ہوئی ہیں، اور یہ انکی اہمیت کی بھی وضاحت کرتی ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ کیسے ان مسائل کو حل کیا جائیگا جو انسانی حکمرانوں کے سر پر سوار ہیں، اور یہ اس حکمران کی شناخت بھی کراتی ہے جو نوعِ‌انسانی کیلئے ابدی امن اور حقیقی سلامتی لائے گا۔‏b‏—‏یسعیاہ ۹:‏۶، ۷؛‏ ۱۱:‏۱-‏۵،‏ ۹؛‏ ۵۳:‏۴-‏۶‏۔‏

۹ معنی‌خیز انداز میں، بائبل درستگی کیساتھ مستقبل کی بابت پیشینگوئی کرنے کی لیاقت کو معبودیت کے امتحان کے طور پر پیش کرتی ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۱:‏۱–‏۴۶:‏۱۳‏)‏ وہ جو ایسا کر سکتا ہے یا جو دوسروں کو ایسا کرنے کا الہام دے سکتا ہے وہ محض ایک بے‌جان بُت نہیں ہے۔ وہ صرف ایک پُرخلوص انسان نہیں ہے۔ وہ سچا خدا ہے، اور ایسی پیشینگوئی والی کتاب اسکا کلام ہے۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۱۳‏۔‏

کیا بائبل کو استعمال‌کرنے والے سب صحیح ہیں؟‏

۱۰، ۱۱.‏ جیسا کہ یسوؔع نے ظاہر کیا، اگرچہ ایک پادری شاید بائبل کو استعمال کرے، تو بھی جس مذہب کی وہ حمایت کرتا ہے اُسے کونسی چیز بے‌کار بنا سکتی ہے؟‏

۱۰ تو پھر، کیا یہ نتیجہ اخذ کرنا معقول—‏اس سے بھی اہم، کیا یہ صحیفائی بات—‏ہے کہ تمام مذہبی گروہ جو بائبل کو استعمال کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ سچے مذہب کی تعلیم دیتے ہیں؟ کیا ہر کوئی جو بائبل کو اٹھائے پھرتا ہے یا اُسکا حوالہ دیتا ہے صحیح مذہب پر عمل کر رہا ہے؟‏

۱۱ بہتیرے پادری، اگرچہ انکے پاس بائبل ہے، وہ خود کو عزت دینے کے لئے مذہب کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ روایات اور انسانی فیلسوفیوں کی ملاوٹ کرکے خالص سچائیوں کو کمزور کرتے ہیں۔ کیا انکی پرستش خدا کے نزدیک قابلِ‌قبول ہے؟ پہلی صدی کے یروشلیم میں مذہبی راہنماؤں پر جو بالکل ایسے ہی کر رہے تھے، یسوؔع مسیح نے موزوں طور پر یہ کہتے ہوئے یسعیاؔہ نبی کے ذریعے خدا کے اس اظہار کا اطلاق کیا:‏ ”‏یہ امت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر انکا دل مجھ سے دُور ہے۔ اور یہ بے‌فائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں۔“‏ (‏متی ۱۵:‏۸، ۹؛‏ ۲۳:‏۵-‏۱۰‏)‏ صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کا مذہب سچا مذہب نہیں ہے۔‏

۱۲، ۱۳.‏ (‏ا)‏ چرچ کے ممبروں کا چال‌چلن اس بات کا تعیّن کرنے میں کیسے ایک شخص کی مدد کر سکتا ہے کہ آیا اُنکا مذہب صحیح ہے؟ (‏ب)‏ خدا ہماری پرستش کو کیسا خیال کریگا اگر ہم بطور ساتھیوں کے اُن لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں جنہیں وہ رد کرتا ہے؟ (‏۲-‏تواریخ ۱۹:‏۲‏)‏

۱۲ کیا ہو اگر بعض مذاہب کی تعلیمات کے پیدا کردہ پھل سڑے ہوئے ہوں، جیسا کہ اُنکے ممبروں کی زندگیوں سے ظاہر ہوتا ہے جو اچھی حیثیت کے مالک ہیں؟ اپنے پہاڑی وعظ میں یسوؔع نے آگاہ کیا:‏ ”‏جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو .‏ .‏ .‏ اُنکے پھلوں سے تم اُنکو پہچان لوگے۔ .‏ .‏ .‏ ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔“‏ (‏متی ۷:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ یہ سچ ہے کہ ہر فرد سے غلطی ہو سکتی ہے اور اِصلاح کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیکن اُسوقت صورتحال فرق ہوتی ہے جب چرچ کے ممبر، حتیٰ‌کہ پادری، حرامکاری اور زناکاری، دنگا فساد، شراب نوشی، لالچ، جھوٹ، ارواح پرستی، بُتوں کی پرستش—‏ان کاموں میں سے کسی ایک میں یا تمام میں—‏جی بھر کے حصہ لیتے ہیں، لیکن پھر بھی کوئی تادیب نہیں کی جاتی، اور وہ جو اس روش پر چلتے رہتے ہیں اُنہیں کلیسیا میں سے خارج بھی نہیں کیا جاتا۔ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ وہ جو ایسے کام کرتے ہیں انہیں کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہئے؛ انہیں خدا کی بادشاہت میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ (‏گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ اُنکی پرستش خدا کے حضور پسندیدہ نہیں ہے، نہ ہی ہماری پرستش خدا کو خوش کرے گی اگر ہم اُن لوگوں کو اپنے ساتھیوں کے طور پر چنتے ہیں جنہیں وہ رد کرتا ہے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۱-‏۱۳؛‏ ۶:‏۹، ۱۰؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۸‏۔‏

۱۳ یہ بات تو واضح ہے کہ بائبل کو استعمال کرنے کا دعویٰ کرنے والے تمام گروہ اُس سچے مذہب پر نہیں چلتے جسکو یہ بیان کرتی ہے۔ پس کن باتوں کو بائبل سچے مذہب کے شناختی نشانات کے طور پر بیان کرتی ہے؟‏

سچے مذہب کے شناختی نشانات

۱۴.‏ (‏ا)‏ سچے مذہب کی تمام تعلیمات کس چیز پر مبنی ہوتی ہیں؟ (‏ب)‏ خدا اور جان کے سلسلے میں مسیحی دنیا کی تعلیمات اس امتحان پر کیسے پوری اترتی ہیں؟‏

۱۴ اسکی تعلیمات مضبوطی سے الہامی صحائف پر مبنی ہیں۔ ”‏ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور اِلزام اور اِصلاح .‏ .‏ .‏ کے لئے فائدہ‌مند بھی ہے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ لیکن مقدس بائبل مسیحی دنیا کی تثلیث کا ذکر کہاں پر کرتی ہے؟ اور کہاں پر بائبل سکھاتی ہے جیسے کہ پادری سکھاتے ہیں کہ انسان ایک جان رکھتے ہیں جو مادی جسم کی موت سے بچ جاتی ہے؟ کیا آپ نے کبھی کسی پادری سے پوچھا ہے کہ وہ ان تعلیمات کو آپکی بائبل میں سے دکھائے؟ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا بیان کرتا ہے:‏ ”‏نئے عہدنامہ میں نہ تو لفظ تثلیث اور نہ ہی صریح عقیدہ نظر آتا ہے۔“‏ (‏۱۹۹۲، مائیکروپیڈیا، جلد ۱۱، صفحہ ۹۲۸)‏ اور نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا تسلیم کرتا ہے:‏ ”‏پہلی یا دوسری صدی کی کلیسیا کے رسولی راہبوں کے درمیان ایسی ذہنیت یا نقطۂ‌نظر کا نام‌ونشان بھی نہیں پایا جاتا تھا۔“‏ (‏۱۹۶۷، جلد XIV، صفحہ ۲۹۹)‏ جہاں تک موت کے وقت جسم سے جان کے جدا ہو جانے کی بابت مسیحی دنیا کے نظریے کا تعلق ہے تو چرچ کے علماء مانتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ نظریہ یونانی فلسفے سے اپنایا ہے۔ تاہم، سچا مذہب انسانی فیلسوفی کی وجہ سے بائبل سچائی کی تحقیر نہیں کرتا۔—‏پیدایش ۲:‏۷؛‏ استثنا ۶:‏۴؛ حزقی‌ایل ۱۸:‏۴؛‏ یوحنا ۱۴:‏۲۸‏۔‏

۱۵.‏ (‏ا)‏ جس واحد شخص کی پرستش کی جانی ہے بائبل اُسکی شناخت کیسے کراتی ہے؟ (‏ب)‏ سچے پرستار یہوؔواہ کی قربت حاصل کرنے کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

۱۵ سچا مذہب صرف واحد سچے خدا، یہوؔواہ ہی کی پرستش کی حمایت کرتا ہے۔ (‏استثنا ۴:‏۳۵؛‏ یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ استثنا ۵:‏۹ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے، یسوؔع مسیح نے بڑے عزم کیساتھ کہا:‏ ”‏خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔“‏ (‏متی ۴:‏۱۰‏)‏ اسکی مطابقت میں، یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو اپنے باپ کے نام سے واقف کرایا۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۲۶‏)‏ کیا آپ کے مذہب نے آپ کو یہوؔواہ کی پرستش کرنا سکھایا ہے؟ کیا آپ نے اُس شخص کو—‏اُسکے مقاصد کو، اُسکی کارگزاریوں کو، اُسکی خوبیوں کو—‏جان لیا ہے جسکی شناخت اس نام کے ذریعے ہوتی ہے تاکہ آپکو احساس ہو کہ آپ اعتماد کیساتھ اُسکے قریب جا سکتے ہیں؟ اگر آپ کا مذہب سچا ہے تو جواب ہاں ہے۔—‏لوقا ۱۰:‏۲۲؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۱۴‏۔‏

۱۶.‏ وہ جو سچے مذہب پر چلتے ہیں اُنکے لئے مسیح پر ایمان رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏

۱۶ خدا کی پسندیدہ پرستش کا ایک اہم حصہ اُسکے بیٹے، یسوؔع مسیح پر ایمان ہے۔ (‏یوحنا ۳:‏۳۶؛‏ اعمال ۴:‏۱۲‏)‏ اسکا مطلب صرف یہ ایمان رکھنا نہیں کہ وہ ہو گزرا یا یہ کہ وہ ایک ممتاز شخص تھا۔ اس میں یسوؔع کی کامل انسانی زندگی کی قربانی کی قدروقیمت اور آجکل بطور آسمانی بادشاہ کے اُسکے مرتبے کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں جو کچھ بائبل تعلیم دیتی ہے اُسکی قدردانی کرنا شامل ہے۔ (‏زبور ۲:‏۶-‏۸؛‏ یوحنا ۳:‏۱۶؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۱۰‏)‏ اگر آپ کی رفاقت اُنکے ساتھ ہے جو سچے مذہب پر چلتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ روزمرہ زندگی میں وہ یسوؔع کی اطاعت کرنے، اُسکے نمونے کی نقل کرنے، اور اُس کام میں ذاتی طور پر اور گرمجوشی کیساتھ حصہ لینے کی ایماندارانہ کوشش کرتے ہیں جو اُس نے اپنے شاگردوں کو سونپا تھا۔ (‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰؛‏ یوحنا ۱۵:‏۱۴؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏)‏ جن کیساتھ مل کر آپ عبادت کرتے ہیں اگر اُنکے حق میں یہ بات سچ نہیں تو آپکو کسی اور جگہ پر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‏

۱۷.‏ سچے پرستار دنیا سے بیداغ رہنے کیلئے کیوں محتاط ہیں، اور اس میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

۱۷ سچی پرستش سیاست اور دنیاوی جھگڑوں میں اُلجھنے سے دغدار نہیں ہوتی۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ کیوں نہیں؟ کیونکہ یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کے متعلق کہا تھا:‏ ”‏جس طرح میں دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۶‏)‏ یسوؔع نے کبھی سیاست میں دخل اندازی نہ کی، اور اُس نے اپنے پیروکاروں کو بھی جسمانی ہتھیاروں کی طرف رجوع کرنے سے روکا۔ (‏متی ۲۶:‏۵۲‏)‏ جو لوگ خدا کے کلام کی بات پر دل لگاتے ہیں وہ ’‏پھر کبھی جنگ کرنا نہیں سیکھتے۔‘‏ (‏یسعیاہ ۲:‏۲-‏۴‏)‏ اگر کوئی مذہب جسکے ساتھ آپ کا تعلق خواہ برائے نام ہی ہو اس بیان پر پورا نہیں اُترتا تو اسکے ساتھ تمام تعلقات کو ختم کرنے کا اب وقت ہے۔—‏یعقوب ۴:‏۴؛‏ مکاشفہ ۱۸:‏۴، ۵‏۔‏

۱۸.‏ (‏ا)‏ یوحنا ۱۳:‏۳۵ سچے مذہب کی امتیازی خصوصیت کے طور پر کس چیز کی شناخت کراتی ہے؟ (‏ب)‏ اس بات کا تعیّن کرنے میں آپ کسی شخص کی مدد کیسے کر سکتے ہیں کہ کونسا گروہ یوحنا ۱۳:‏۳۵ کی تعمیل کرتا ہے؟‏

۱۸ سچا مذہب بے‌لوث محبت کی تعلیم دیتا اور اُسے عمل میں لاتا ہے۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۵؛‏ ۱-‏یوحنا ۳:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ ایسی محبت کا صرف مذہبی تقاریر میں ہی ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ واقعی تمام نسلوں، تمام معاشی گروہوں، تمام زبانوں، تمام قوموں کے لوگوں کو حقیقی برادری میں اِکٹھا کر دیتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹، ۱۰‏)‏ یہ سچے مسیحیوں کو انکے اردگرد کی دنیا سے جدا کر دیتی ہے۔ اگر آپ نے پہلے ہی سے ایسا نہیں کیا تو یہوؔواہ کے گواہوں کے کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر اور اُنکی بڑی کنونشنوں پر حاضر ہوں۔ اُنہیں دیکھیں جب وہ اپنے کنگڈم ہالوں میں سے ایک کو تعمیر کرنے کیلئے ملکر کام کرتے ہیں۔ مشاہدہ کریں کہ وہ عمررسیدہ (‏بشمول بیواؤں)‏ اور نوجوان لوگوں (‏بشمول اُنکے جنکا صرف باپ یا ماں یا کوئی بھی نہیں ہے)‏ دونوں کیساتھ کسطرح پیش آتے ہیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ آپ جو مشاہدہ کرتے ہیں اُسکا مقابلہ آپ اُس کیساتھ کریں جو آپ کسی دوسرے مذہب میں دیکھ چکے ہیں۔ پھر خود سے پوچھیں، ’‏کون سچے مذہب پر چلتا ہے؟‘‏

۱۹.‏ (‏ا)‏ سچا مذہب نوعِ‌انسانی کی مشکلات کے کس حل کی تائید کرتا ہے؟ (‏ب)‏ سچے مذہب کی پیروی کرنے والے گروہ کے ممبروں کو کیا کرتے ہونا چاہئے؟‏

۱۹ سچا مذہب نوعِ‌انسانی کی مشکلات کے دائمی حل کے طور پر خدا کی بادشاہت کی تائید کرتا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴؛‏ ۷:‏۱۳، ۱۴؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۴، ۵‏)‏ کیا مسیحی دنیا کے چرچوں میں سے کوئی بھی ایسا کرتا ہے؟ آخری بار کب آپ نے کسی پادری کو خدا کی بادشاہت اور صحائف کی مطابقت میں جو کام یہ سرانجام دے گی اُسکی وضاحت کرتے ہوئے سنا؟ جس تنظیم کیساتھ آپ کا تعلق ہے کیا وہ دوسروں کے ساتھ خدا کی بادشاہت کی بابت گفتگو کرنے کیلئے آپ کی حوصلہ‌افزائی کرتی ہے، اگر ایسا ہے تو کیا مجموعی طور پر تمام رکن اس کام میں شریک ہوتے ہیں؟ یسوؔع نے ایسی گواہی دی؛ اُسکے ابتدائی شاگردوں نے دی۔ آپ بھی اس کارگزاری میں حصہ لینے کا شرف حاصل کر سکتے ہیں۔ آجکل زمین پر کیا جانے والا یہ سب سے زیادہ اہم کام ہے۔—‏متی ۲۴:‏۱۴‏۔‏

۲۰.‏ صحیح مذہب کی شناخت کرنے کے علاوہ ہمیں اور کیا کرنا چاہئے؟‏

۲۰ اگرچہ ہزاروں مذاہب موجود ہیں لیکن سچے مذہب کی شناخت کرنے کی غرض سے ہر طرح کی ابتری کو دُور کرنے کیلئے بائبل بڑی تیزی سے ہماری مدد کرتی ہے۔ لیکن ہمیں اسکی شناخت کر لینے سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ یہ نہایت اہم ہے کہ ہم اس پر عمل بھی کریں۔ اس میں کیا کچھ شامل ہے اس بات پر ہمارے اگلے مضمون میں بڑی تفصیل سے غوروخوض کیا جائے گا۔(‏۸ ۶/۱ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اسقاطِ‌حمل:‏ اعمال ۱۷:‏۲۸؛‏ زبور ۱۳۹:‏۱،‏ ۱۶؛‏ خروج ۲۱:‏۲۲، ۲۳۔ طلاق:‏ متی ۱۹:‏۸، ۹؛‏ رومیوں ۷:‏۲، ۳‏۔ ہم‌جنس‌پسندی:‏ رومیوں ۱:‏۲۴-‏۲۷؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹-‏۱۱‏۔ منشیات اور الکحل کا غلط استعمال:‏ ۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱؛‏ لوقا ۱۰:‏۲۵-‏۲۷؛‏ امثال ۲۳:‏۲۰، ۲۱؛‏ گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏۔ خون اور جنسی تعلقات کی آزادی:‏ اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹؛‏ امثال ۵:‏۱۵-‏۲۳؛‏ یرمیاہ ۵:‏۷-‏۹‏۔ خاندان:‏ افسیوں ۵:‏۲۲–‏۶:‏۴؛‏ کلسیوں ۳:‏۱۸-‏۲۱‏۔ استرداد:‏ زبور ۲۷:‏۱۰؛‏ ملاکی ۲:‏۱۳-‏۱۶؛‏ رومیوں ۸:‏۳۵-‏۳۹‏۔ علالت:‏ مکاشفہ ۲۱:‏۴، ۵؛‏ ۲۲:‏۱، ۲؛‏ ططس ۱:‏۲؛‏ زبور ۲۳:‏۱-‏۴‏۔ موت:‏ یسعیاہ ۲۵:‏۸؛‏ اعمال ۲۴:‏۱۵‏۔ ترجیحات:‏ متی ۶:‏۱۹-‏۳۴؛‏ لوقا ۱۲:‏۱۶-‏۲۱؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۶-‏۱۲‏۔‏

b ایسی پیشینگوئیوں اور انکی تکمیل کی مثالوں کے لئے، ان کتابوں کو دیکھیں بائبل—‏خدا کا کلام یا کہ انسان کا؟، (‏انگریزی)‏ صفحات ۱۱۷-‏۱۶۱؛ اور صحائف سے دلیل دینا، (‏انگریزی)‏ صفحات ۶۰-‏۶۲، ۲۲۵-‏۲۳۲، ۲۳۴-‏۲۴۰۔ دونوں واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹیڈ کی شائع کردہ ہیں۔‏

آپ کیسے جواب دینگے‏؟‏

▫ صحیح مذہب کی شناخت کرنے میں کس کا نقطۂ‌نظر نہایت اہم ہے؟‏

▫ شہادت کے کونسے چار پہلو بائبل کی خدا کے کلام کے طور پر نشاندہی کرتے ہیں؟‏

▫ کیوں بائبل کو استعمال کرنے والے تمام مذاہب خدا کے حضور قابلِ‌قبول نہیں ہیں؟‏

▫ واحد صحیح مذہب کے چھ شناختی نشانات کونسے ہیں؟‏

‏[‏بکس]‏

یہوؔواہ کے گواہ .‏ .‏ .‏

◆ اپنی تمام تعلیمات کی بنیاد بائبل پر رکھتے ہیں۔‏

◆ واحد سچے خدا، یہوؔواہ کی پرستش کرتے ہیں۔‏

◆ یسوؔع مسیح پر اپنے ایمان کے مطابق زندگی گذارتے ہیں۔‏

◆ سیاست اور دنیاوی جھگڑوں میں نہیں الجھتے۔‏

◆ روزمرہ زندگی میں بے‌لوث محبت کا مظاہرہ کرنے کے طالب ہوتے ہیں۔‏

◆ نوعِ‌انسانی کی مشکلات کے دائمی حل کے طور پر خدا کی بادشاہت کی تائید کرتے ہیں۔‏

‏[‏تصویر]‏

بائبل—‏کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ اس میں تمام نوعِ‌انسانی کیلئے خدا کا پیغام پایا جاتا ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں