یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏11 ص.‏ 7-‏12
  • سب کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑیگا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سب کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑیگا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • فرشتے جوابدہ ہیں
  • خدا کا بیٹا جوابدہ ہے
  • بطور اقوام جوابدہ
  • ذاتی جوابدہی کی مثالیں
  • مسیحی کلیسیا میں جوابدہی
  • دُعا ہے کہ یہوواہ آپکے حساب میں نیکی لکھ دے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • مسیحیوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • سموئیل کی پہلی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • قارئین کے سوال
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏11 ص.‏ 7-‏12

سب کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑیگا

‏”‏ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دیگا۔“‏—‏رومیوں ۱۴:‏۱۲‏۔‏

۱.‏ آدم اور حوا کی آزادی پر کونسی حدبندیاں عائد کی گئی تھیں؟‏

یہوواہ خدا نے ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوا، کو آزاد مرضی کے ساتھ خلق کِیا تھا۔ فرشتوں سے کمتر ہونے کے باوجود، وہ دانشمندانہ فیصلے کرنے کے لائق ذی‌شعور مخلوق تھے۔ (‏زبور ۸:‏۴، ۵‏)‏ تاہم، وہ خداداد آزادی، حقِ‌خوداختیاری کو عمل میں لانے کا اجازت‌نامہ نہیں تھی۔ وہ اپنے خالق کے حضور جوابدہ تھے، اور اِس جوابدہی کا اطلاق اُن کی تمام اولاد پر ہوتا ہے۔‏

۲.‏ یہوواہ جلد ہی کیا حساب لیگا، اور کیوں؟‏

۲ اب جبکہ ہم اس بدکار نظام‌العمل کے انجام کے قریب پہنچ رہے ہیں تو یہوواہ اس زمین پر حساب لیگا۔ (‏مقابلہ کریں رومیوں ۹:‏۲۸‏)‏ جلد ہی، بیدین لوگوں کو زمین کے وسائل کو لوٹنے، انسانی زندگی کی تباہی، اور بالخصوص اُس کے خادموں کی اذیت کے لئے یہوواہ خدا کے حضور حساب دینا پڑیگا۔—‏مکاشفہ ۶:‏۱۰؛‏ ۱۱:‏۱۸‏۔‏

۳.‏ ہم کن سوالات پر غور کرینگے؟‏

۳ اس سنجیدہ تصور کے پیشِ‌نظر، گزشتہ زمانوں میں اپنی مخلوقات کے ساتھ یہوواہ کے راست تعلقات پر غوروفکر کرنا ہمارے لئے مفید ہے۔ صحائف اپنے خالق کو ایک قابلِ‌قبول حساب دینے کے لئے ذاتی طور پر ہماری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ کونسی مثالیں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں اور کن کی نقل کرنے سے ہمیں گریز کرنا چاہئے؟‏

فرشتے جوابدہ ہیں

۴.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ خدا فرشتوں کو اُن کے افعال کے لئے جوابدہ ٹھہراتا ہے؟‏

۴ آسمان میں یہوواہ کی ملکوتی خلائق بالکل ہماری طرح اُس کے حضور جوابدہ ہیں۔ نوح کے زمانے کے طوفان سے قبل، بعض فرشتوں نے نافرمانی کرتے ہوئے عورتوں کے ساتھ جنسی صحبت کرنے کی غرض سے انسانی بدن اختیار کر لئے۔ آزاد مرضی کے مالک ہونے کی حیثیت سے، یہ روحانی خلائق یہ فیصلہ کر سکتی تھیں، لیکن خدا نے اُنہیں جوابدہ ٹھہرایا۔ جب نافرمان فرشتے روحانی قلمرو میں واپس گئے تو یہوواہ نے اُنہیں اُن کے پہلے مرتبے کو حاصل کرنے کی اجازت نہ دی۔ شاگرد یہوداہ ہمیں بتاتا ہے کہ اُنہیں ”‏دائمی قید میں تاریکی کے اندر روزِعظیم کی عدالت تک رکھا“‏ گیا ہے۔—‏یہوداہ ۶‏۔‏

۵.‏ شیطان اور اُس کے شیاطین نے کس زوال کا تجربہ کِیا ہے، اور اُن کی بغاوت کا حساب کیسے چکایا جائیگا؟‏

۵ ان نافرمان فرشتوں یا شیاطین کا حاکم شیطان ابلیس ہے۔ (‏متی ۱۲:‏۲۴-‏۲۶‏)‏ اس شریر فرشتے نے اپنے خالق کیخلاف بغاوت کی اور اُس کی حاکمیت کی راستی کو للکارا۔ شیطان ہمارے پہلے والدین کے گناہ میں پڑ جانے کا سبب بنا، اور انجام‌کار یہ اُن کی موت پر منتج ہوا۔ (‏پیدایش ۳:‏۱-‏۷،‏ ۱۷-‏۱۹‏)‏ اگرچہ اس کے بعد کچھ وقت تک یہوواہ نے شیطان کو آسمانی مقاموں میں آنے‌جانے کی اجازت دی، بائبل کی مکاشفہ کی کتاب نے پیشینگوئی کی کہ خدا کے مقررہ وقت پر اس شریر کو زمین کے گِردونواح میں پھینک دیا جائیگا۔ ثبوت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ۱۹۱۴ میں یسوع مسیح کے بادشاہتی اختیار حاصل کرنے کے تھوڑی دیر بعد رونما ہوا۔ انجام‌کار، ابلیس اور اُس کے تمام شیاطین ابدی ہلاکت میں جائینگے۔ حاکمیت کے مسئلے کو حتمی طور پر حل کر لینے کے ساتھ ہی، اُس وقت بغاوت کا حساب بالکل برابر ہو چکا ہوگا۔—‏ایوب ۱:‏۶-‏۱۲؛‏ ۲:‏۱-‏۷؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۷-‏۹؛‏ ۲۰:‏۱۰‏۔‏

خدا کا بیٹا جوابدہ ہے

۶.‏ یسوع نے اپنے باپ کے حضور اپنی جوابدہی کو کیسا خیال کِیا؟‏

۶ خدا کے بیٹے، یسوع مسیح نے کیا ہی عمدہ مثال قائم کی ہے!‏ آدم کے برابر ایک کامل انسان ہوتے ہوئے، یسوع الہٰی مرضی کو پورا کرنے کے لئے تیار تھا۔ وہ یہوواہ کی شریعت کی اطاعت کرنے کے سلسلے میں جوابدہ ٹھہرائے جانے کے لئے بھی خوش تھا۔ اُس کی بابت، زبورنویس نے موزوں طور پر پیشینگوئی کی:‏ ”‏اَے میرے خدا!‏ میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔“‏—‏زبور ۴۰:‏۸؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۶-‏۹‏۔‏

۷.‏ اپنی موت سے پہلے کی شام دُعا کرتے وقت، یسوع یوحنا ۱۷:‏۴، ۵ میں درج الفاظ کیوں کہہ سکتا تھا؟‏

۷ نفرت‌انگیز اذیت کے باوجود جسکا یسوع نے تجربہ کِیا، اُس نے خدا کی مرضی پوری کی اور دُکھ کی سولی پر موت تک راستی برقرار رکھی۔ یوں اُس نے آدم کے گناہ کے سنگین نتائج سے نوعِ‌انسان کو چھڑانے کے لئے فدیے کی قیمت ادا کی۔ (‏متی ۲۰:‏۲۸‏)‏ لہٰذا، اپنی موت کی شام، یسوع بڑے اعتماد سے دُعا کر سکتا تھا:‏ ”‏جو کام تُو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اُسکو تمام کرکے مَیں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کِیا۔ اور اب اَے باپ!‏ تُو اُس جلال سے جو مَیں دُنیا کی پیدایش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا مجھے اپنے ساتھ جلالی بنا دے۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۴، ۵‏)‏ یسوع اپنے آسمانی باپ سے یہ الفاظ کہہ سکتا تھا کیونکہ وہ جوابدہی کے امتحان پر کامیابی سے پورا اُتر رہا تھا اور خدا کا منظورِنظر تھا۔‏

۸.‏ (‏ا)‏ پولس نے کیسے ظاہر کِیا کہ ہمیں یہوواہ خدا کو اپنا حساب دینا پڑیگا؟ (‏ب)‏ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے میں کونسی چیز ہماری مدد کریگی؟‏

۸ کامل انسان یسوع مسیح کے برعکس، ہم ناکامل ہیں۔ پھربھی، ہم خدا کے حضور جوابدہ ہیں۔ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏تُو اپنے بھائی پر کس لئے الزام لگاتا ہے؟ یا تُو بھی کس لئے اپنے بھائی کو حقیر جانتا ہے؟ ہم تو سب خدا کے تختِ‌عدالت کے آگے کھڑے ہونگے۔ چنانچہ یہ لکھا ہے کہ خداوند فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ہر ایک گھٹنا میرے آگے جھکے گا اور ہر ایک زبان خدا کا اقرار کرے گی۔ پس ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دے گا۔“‏ (‏رومیوں ۱۴:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ ایسا کرنے اور یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے، اُس نے بڑی محبت سے ہمارے قول‌وفعل میں ہماری رہبری کے لئے ضمیر اور اپنا الہامی کلام، بائبل دونوں ہمیں عطا کئے ہیں۔ (‏رومیوں ۲:‏۱۴، ۱۵؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ یہوواہ کی روحانی فراہمیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانے اور بائبل سے تربیت‌یافتہ اپنے ضمیر کی پیروی کرنے سے ہماری مدد ہوگی کہ خدا کی مقبولیت حاصل کریں۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ یہوواہ کی پاک روح، یا سرگرم قوت، طاقت اور راہنمائی کا ایک اضافی ذریعہ ہے۔ اگر ہم روح کی ہدایت اور بائبل سے تربیت‌یافتہ اپنے ضمیر کی راہنمائی کی مطابقت میں عمل کرتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اُس ’‏خدا کو نظرانداز‘‏ نہیں کرتے جسے ہمیں اپنے تمام افعال کا حساب دینا پڑے گا۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۳-‏۸؛‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۱۶،‏ ۲۱‏۔‏

بطور اقوام جوابدہ

۹.‏ ادومی کون تھے، اور اسرائیل کے ساتھ اُن کے سلوک کی وجہ سے اُن کے ساتھ کیا واقع ہوا؟‏

۹ یہوواہ اقوام سے بھی حساب لیتا ہے۔ (‏یرمیاہ ۲۵:‏۱۲-‏۱۴؛‏ صفنیاہ ۳:‏۶، ۷)‏ ادوم کی قدیم بادشاہت پر غور کریں جو بحیرۂ‌مُردار کے جنوب اور خلیج عقبہ کے شمال میں واقع تھی۔ ادومی سامی‌النسل لوگ تھے، جنکا اسرائیلیوں سے بہت قریبی رشتہ تھا۔ اگرچہ ادومیوں کا جد ابرہام کا پوتا عیسو تھا تو بھی ملکِ‌موعود جاتے وقت اسرائیلیوں کو ادوم کی ”‏شاہراہ“‏ سے گزرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ (‏گنتی ۲۰:‏۱۴-‏۲۱)‏ صدیوں کے دوران ادوم کی دشمنی اسرائیل کے لئے سخت نفرت میں بدل گئی۔ انجام‌کار، ۶۰۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں یروشلیم کو تباہ‌وبرباد کرنے کے لئے بابلیوں کو اپنی طرف سے شہ دینے کے نتیجے میں ادومیوں کو حساب دینا پڑا تھا۔ (‏زبور ۱۳۷:‏۷‏)‏ چھٹی صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں، نبوندیس بادشاہ کی زیرِکمان بابلی فوجوں نے ادوم کو فتح کر لیا، اور، جیسے‌کہ یہوواہ نے حکم دیا تھا، یہ تباہ‌وبرباد ہو گیا۔—‏یرمیاہ ۴۹:‏۲۰؛‏ عبدیاہ ۹-‏۱۱‏۔‏

۱۰.‏ موآبیوں نے اسرائیلیوں کے ساتھ کیسا سلوک کِیا، اور خدا نے موآب سے کیسے حساب لیا؟‏

۱۰ موآب کے ساتھ بھی ایسا ہی واقع ہوا۔ موآبی بادشاہت ادوم کے شمال اور بحیرۂ‌مُردار کے مشرق میں تھی۔ اس سے پیشتر کہ اسرائیلی ملکِ‌موعود میں داخل ہوتے، موآبیوں نے اُن کے لئے کسی قسم کا پاس‌ولحاظ نہ دکھایا، بدیہی طور پر صرف مالی نفع کے لئے اُنہیں روٹی اور پانی فراہم کِیا۔ (‏استثنا ۲۳:‏۳، ۴)‏ موآب کے بادشاہ بلق نے بلعام نبی کو اسرائیل پر لعنت کرنے کے لئے اُجرت دی، اور اسرائیلی مردوں کو بداخلاقی اور زناکاری پر اُکسانے کے لئے موآبی عورتوں کو استعمال کِیا گیا تھا۔ (‏گنتی ۲۲:‏۲-‏۸؛ ۲۵:‏۱-‏۹)‏ تاہم، یہوواہ نے اسرائیل کے لئے موآب کی نفرت کو نظرانداز نہ کِیا۔ پیشینگوئی کے مطابق، موآب بابلیوں کے ہاتھوں تباہ‌وبرباد ہوا۔ (‏یرمیاہ ۹:‏۲۵، ۲۶؛‏ صفنیاہ ۲:‏۸-‏۱۱)‏ جی‌ہاں، خدا نے موآب سے حساب لیا۔‏

۱۱.‏ موآب اور عمون کن شہروں کی مانند ہو گئے، اور بائبل پیشینگوئیاں موجودہ بدکار نظام‌العمل کے سلسلے میں کیا ظاہر کرتی ہیں؟‏

۱۱ صرف موآب کو ہی نہیں بلکہ عمون کو بھی خدا کے حضور حساب دینا پڑا تھا۔ یہوواہ پیشینگوئی کر چکا تھا:‏ ”‏موآؔب سدؔوم کی مانند ہوگا اور بنی‌عمون عموؔرہ کی مانند۔ وہ پُرخار اور نمکزار اور ابدالآباد برباد رہینگے۔“‏ (‏صفنیاہ ۲:‏۹)‏ موآب اور عمون کے ملک تباہ‌وبرباد کر دئیے گئے تھے، جیسے خدا نے سدوم اور عمورہ کے شہروں کو برباد کر دیا تھا۔ جیالوجیکل سوسائٹی آف لنڈن کے مطابق، محققین بحیرۂ‌مُردار کے مشرقی ساحل پر تباہ‌شُدہ سدوم اور عمورہ کے مقامات کو ڈھونڈ نکالنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی بھی قابلِ‌اعتماد ثبوت جو شاید سامنے آئے اس بات کو ظاہر کرنے والی بائبل پیشینگوئیوں کی حمایت کر سکتا ہے کہ موجودہ بدکار نظام‌العمل کو بھی یہوواہ خدا کے حضور حساب دینا پڑیگا۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۶-‏۱۲‏۔‏

۱۲.‏ اگرچہ اسرائیل کو خدا کے حضور اپنے گناہوں کا حساب دینا تھا توبھی یہودی بقیے کی بابت قبل‌ازوقت کیا بتا دیا گیا تھا؟‏

۱۲ اگرچہ اسرائیل پر یہوواہ کی بڑی نظرِکرم تھی توبھی اسے اپنے گناہوں کے لئے خدا کو حساب دینا پڑا تھا۔ جب یسوع مسیح اُمتِ‌اسرائیل کے پاس آیا تو اکثریت نے اُسے رد کر دیا۔ صرف تھوڑے ہی لوگ اُس پر ایمان لائے اور اُس کے پیروکار بنے۔ پولس نے اس یہودی بقیے پر کچھ پیشینگوئیوں کا اطلاق کِیا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏گو بنی اسرائیل کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہو توبھی اُن میں سے تھوڑے ہی بچیں گے۔ کیونکہ خداوند اپنے کلام کو تمام اور منقطع کرکے اُس کے مطابق زمین پر عمل کرے گا۔ چنانچہ یسعیاؔہ نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر ربُ‌الافواج ہماری کچھ نسل باقی نہ رکھتا تو ہم سدؔوم کی مانند اور عموؔرہ کے برابر ہو جاتے۔“‏ (‏رومیوں ۹:‏۲۷-‏۲۹؛‏ یسعیاہ ۱:‏۹؛‏ ۱۰:‏۲۲، ۲۳‏)‏ رسول نے ایلیاہ کے زمانے سے اُن ۷۰۰۰ کی مثال دی جو بعل کے آگے نہ جھکے، اور پھر اُس نے کہا:‏ ”‏پس اسی طرح اِس وقت بھی فضل سے برگزیدہ ہونے کے باعث کچھ باقی ہیں۔“‏ (‏رومیوں ۱۱:‏۵‏)‏ بقیہ ایسے افراد پر مشتمل تھا جو ذاتی طور پر خدا کے حضور جوابدہ تھے۔‏

ذاتی جوابدہی کی مثالیں

۱۳.‏ اپنے بھائی ہابل کو قتل کرنے کے لئے جب خدا نے قائن سے حساب مانگا تو اُس کیساتھ کیا واقع ہوا؟‏

۱۳ بائبل یہوواہ خدا کے حضور ذاتی جوابدہی کے بہت سے معاملات کا حوالہ دیتی ہے۔ آدم کے پہلوٹھے بیٹے، قائن پر ایک نمونے کے طور پر غور کریں۔ اُس نے اور اُس کے بھائی ہابل دونوں نے یہوواہ کے لئے قربانیاں چڑھائیں۔ ہابل کی قربانی خدا کے نزدیک قابلِ‌قبول تھی، لیکن قائن کی نہیں تھی۔ جب اپنے بھائی کو درندگی سے قتل کرنے پر حساب مانگا گیا تو قائن نے بڑے ہی کٹھورپن سے خدا سے کہا:‏ ”‏کیا مَیں اپنے بھائی کا محافظ ہوں؟“‏ اُس کے گناہ کی وجہ سے، قائن کو ”‏عدؔن کے مشرق کی طرف نوؔد کے علاقہ“‏ میں مُلک‌بدر کر دیا گیا۔ اُس نے اپنے جُرم کے لئے حقیقی پشیمانی کا اظہار نہ کِیا، صرف اپنی جائز سزا پر افسوس تھا۔—‏پیدایش ۴:‏۳-‏۱۶‏۔‏

۱۴.‏ سردار کاہن عیلی اور اُس کے بیٹوں کے معاملے میں خدا کے حضور ذاتی جوابدہی کو کیسے واضح کِیا گیا ہے؟‏

۱۴ خدا کے حضور کسی کی ذاتی جوابدہی کی مثال اسرائیل کے سردار کاہن عیلی کے معاملے سے بھی ملتی ہے۔ اُسکے بیٹے، حُفنی اور فینحاس، کاہنوں کے مرتبے پر خدمت انجام دیتے تھے لیکن ”‏انسانوں سے ناانصافی کرنے، اور خدا کی بے‌حُرمتی کرنے، اور کسی بھی طرح کی بدکاری سے باز نہ رہنے کے مجرم تھے،“‏ مؤرخ جوزیفس بیان کرتا ہے۔ یہ ”‏شریر“‏ یہوواہ کو نہیں مانتے تھے، مُقدس چیزوں کی تحقیر کرنے والے طرزِعمل میں ملوث تھے اور سنگین بداخلاقی کے قصوروار تھے۔ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۳؛‏ ۲:‏۱۲-‏۱۷،‏ ۲۲-‏۲۵‏)‏ اسرائیل کا سردار کاہن اور اُن کا باپ ہونے کی وجہ سے، اُن کی تربیت کرنا عیلی کا فرض تھا، لیکن اُس نے اُنہیں معمولی سی سرزنش کی تھی۔ عیلی ’‏اپنے بیٹوں کی یہوواہ کی نسبت زیادہ عزت کرتا رہا۔‘‏ (‏۱-‏سموئیل ۲:‏۲۹‏)‏ عیلی کے گھرانے پر سزا نازل ہوئی۔ دونوں بیٹے اپنے باپ کی طرح اُسی دن مر گئے، اور اُن کا کہانتی سلسلہ بالآخر مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ یوں حساب چکتا ہو گیا تھا۔—‏۱-‏سموئیل ۳:‏۱۳، ۱۴؛‏ ۴:‏۱۱،‏ ۱۷، ۱۸‏۔‏

۱۵.‏ ساؤل بادشاہ کے بیٹے یونتن کو کیوں اجر ملا تھا؟‏

۱۵ ساؤل بادشاہ کے بیٹے یونتن نے ایک بہت ہی مختلف مثال قائم کی۔ داؤد کے جولیت کو ہلاک کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد، ”‏یونتنؔ کا دل داؔؤد کے دل سے .‏ .‏ .‏ مِل گیا،“‏ اور اُنہوں دوستی کا ایک عہد کِیا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱۸:‏۱،‏ ۳‏)‏ غالباً، یونتن نے بھانپ لیا تھا کہ خدا کی روح ساؤل سے جُدا ہو گئی تھی، لیکن سچی پرستش کے لئے اُس کا اپنا جذبہ ماند نہ پڑا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱۶:‏۱۴‏)‏ داؤد کے خداداداختیار کے لئے یونتن کی قدرافزائی میں کبھی کمی نہ آئی۔ یونتن نے خدا کے حضور اپنی جوابدہی کو محسوس کِیا، اور یہوواہ نے یہ یقین کرنے سے کہ اُس کا خاندانی سلسلہ پُشت‌درپُشت چلتا رہے گا اُس کی قابلِ‌احترام روش کا اُسے اَجر دیا۔—‏۱-‏تواریخ ۸:‏۳۳-‏۴۰‏۔‏

مسیحی کلیسیا میں جوابدہی

۱۶.‏ ططس کون تھا، اور یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے خدا کو اپنا اچھا حساب دیا؟‏

۱۶ مسیحی یونانی صحائف بہتیرے مردوں اور عورتوں کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے اپنا اچھا حساب پیش کِیا۔ مثال کے طور پر، ططس نامی ایک یونانی مسیحی تھا۔ یہ رائے‌زنی کی گئی ہے کہ وہ کُپرس کے پولس کے پہلے مشنری دَورے کے دوران مسیحی بنا تھا۔ ۳۳ س.‏ع.‏ کے دوران چونکہ کُپرس سے یہودی اور نومرید یروشلیم میں موجود ہوں گے اس لئے مسیحیت اس کے فوراً بعد اس جزیرے میں پہنچ گئی ہوگی۔ (‏اعمال ۱۱:‏۱۹‏)‏ تاہم، ططس پولس کے وفادار ساتھی کارندوں میں سے ایک تھا۔ جب ختنے کی بابت اہم مسئلے کو حل کِیا گیا تھا تو وہ ۴۹ س.‏ع.‏ کے قریب پولس اور برنباس کے ہمراہ یروشلیم کے سفر پر گیا۔ ططس کے نامختون ہونے کی حقیقت نے پولس کے بیان کو مزید تقویت بخشی کہ مسیحیت اختیار کرنے والوں کو موسوی شریعت کے تابع نہیں ہونا چاہئے۔ (‏گلتیوں ۲:‏۱-‏۳‏)‏ صحائف میں ططس کی عمدہ خدمتگزاری کی تصدیق کی گئی ہے، اور پولس نے تو الہٰی طور پر مُلہَم خط کو بھی اُس سے منسوب کِیا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۶؛‏ ططس ۱:‏۱-‏۴‏)‏ بدیہی طور پر اپنی زمینی زندگی کے خاتمے تک، ططس نے خدا کو اپنا اچھا حساب دینا جاری رکھا۔‏

۱۷.‏ تیمتھیس نے کیسا حساب دیا، اور یہ مثال ہم پر کیسے اثرانداز ہو سکتی ہے؟‏

۱۷ تیمتھیس ایک اَور گرمجوش شخص تھا جس نے یہوواہ خدا کے حضور اپنا قابلِ‌قبول حساب پیش کِیا۔ اگرچہ تیمتھیس کو صحت کا کچھ مسئلہ درپیش تھا توبھی اُس نے ’‏ریاکاری سے پاک ایمان‘‏ ظاہر کِیا اور ’‏خوشخبری کو پھیلانے میں پولس کے ساتھ خدمت کی۔‘‏ اسلئے رسول فلپی کے ساتھی مسیحیوں کو بتا سکتا تھا:‏ ”‏کوئی ایسا [‏تیمتھیس جیسا]‏ ہم‌خیال میرے پاس نہیں جو صاف‌دلی سے تمہارے لئے فکرمند ہو۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۵؛‏ فلپیوں ۲:‏۲۰،‏ ۲۲؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲۳‏)‏ انسانی کمزوریوں اور دیگر آزمائشوں کے پیشِ‌نظر، ہم بھی بے‌ریا ایمان رکھ سکتے ہیں اور خدا کو اپنی بابت قابلِ‌قبول حساب دے سکتے ہیں۔‏

۱۸.‏ لدیہ کون تھی، اور اُس نے کیسا جذبہ دکھایا؟‏

۱۸ لدیہ ایک خداپرست خاتون تھی جس نے بدیہی طور پر خدا کو اپنا عمدہ حساب دیا۔ یورپ میں وہ اور اُس کا گھرانہ پہلے اشخاص میں سے تھے جنہوں نے ۵۰ س.‏ع.‏ میں فلپی کے اندر پولس کی کارگزاری کے باعث مسیحیت کو قبول کِیا۔ تھواتیرہ کی رہنے والی، لدیہ غالباً ایک نومُرید یہودن تھی، البتہ کچھ یہودی وہاں تھے مگر فلپی میں کوئی عبادتخانہ نہیں تھا۔ وہ اور دیگر عقیدتمند خواتین اُس وقت ندی کے کنارے جمع تھیں جب پولس اُن سے ہمکلام ہوا۔ نتیجتاً، لدیہ مسیحی بن گئی اور پولس اور اُس کے ساتھیوں سے منت کی کہ اس کے ہاں قیام کریں۔ (‏اعمال ۱۶:‏۱۲-‏۱۵‏)‏ لدیہ نے جو مہمان‌نوازی دکھائی وہ سچے مسیحیوں کا امتیازی نشان رہی ہے۔‏

۱۹.‏ کن اچھے کاموں کی بِنا پر ہرنی نے خدا کو اپنا اچھا حساب دیا؟‏

۱۹ ہرنی ایک اَور عورت تھی جس نے یہوواہ کے حضور اپنا اچھا حساب پیش کِیا۔ جب وہ مر گئی تو یافا میں رہنے والے شاگردوں کی درخواست پر پطرس وہاں گیا۔ دو آدمی جو پطرس سے ملے ”‏اُسے بالاخانہ میں لے گئے اور سب بیوائیں روتی ہوئی اُس کے پاس آ کھڑی ہوئیں اور جو کُرتے اور کپڑے ہرنی نے اُن کے ساتھ میں رہ کر بنائے تھے دکھانے لگیں۔“‏ ہرنی کو زندہ کر دیا گیا۔ لیکن کیا اُسے محض اُس کے فراخدلانہ جذبے کے لئے ہی یاد رکھا جانا چاہئے؟ نہیں۔ وہ ”‏شاگرد“‏ تھی اور یقیناً خود بھی شاگرد بنانے کے کام میں شامل رہی ہوگی۔ اسی طرح آجکل بھی مسیحی عورتیں ’‏نیک کاموں اور رحم کی بخششوں سے معمور ہوتی ہیں۔‘‏ وہ بھی بادشاہت کی خوشخبری کا اعلان کرنے اور شاگرد بنانے میں سرگرمی سے حصہ لیکر خوش ہوتی ہیں۔—‏اعمال ۹:‏۳۶-‏۴۲؛‏ متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

۲۰.‏ ہم خود سے کونسے سوالات پوچھ سکتے ہیں؟‏

۲۰ بائبل صاف طور پر بتاتی ہے کہ اقوام اور اشخاص کو حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ کے حضور حساب دینا پڑیگا۔ (‏صفنیاہ ۱:‏۷)‏ اگر ہم خدا کے لئے مخصوص ہیں توپھر ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں، ’‏مَیں اپنے خداداد استحقاقات اور ذمہ‌داریوں کو کیسا خیال کرتا ہوں؟ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کو مَیں اپنی بابت کس قسم کا حساب دے رہا ہوں؟‘‏ (‏۱۰ ۰۹/۱۵ w۹۶)‏

آپ کے جوابات کیا ہیں؟‏

▫ آپ کیسے ثابت کرینگے کہ فرشتے اور خدا کا بیٹا یہوواہ کے حضور جوابدہ ہیں؟‏

▫ بائبل میں کونسی مثالیں موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ خدا اقوام کو جوابدہ ٹھہراتا ہے؟‏

▫ خدا کے حضور ذاتی جوابدہی کی بابت بائبل کیا کہتی ہے؟‏

▫ بائبل ریکارڈ میں بعض ایسے اشخاص کون تھے جنہوں نے یہوواہ خدا کو اچھا حساب دیا؟‏

‏[‏تصویر]‏

یسوع مسیح نے اپنے آسمانی باپ کے حضور اپنا اچھا حساب پیش کِیا

‏[‏تصویر]‏

ہرنی کی مانند، آجکل مسیحی عورتیں یہوواہ خدا کو اپنا اچھا حساب دیتی ہیں

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Dover/‏The Doré Bible Illustrations‏/The Death of Abel

‏.Publications, Inc

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں