ماہرین خون کے متبادلات پر غور کر تے ہیں
اکتوبر ۷، ۱۹۹۵، بروز ہفتہ، پورے ریاستہائے متحدہ سے تقریباً ۲۰۰ ماہرین، کلیولینڈ، اوہائیو میں، طبّی میدان کیلئے بڑھتی ہوئی دلچسپی کے موضوع: بِلاخون طب اور جراحی پر بحث کرنے کیلئے جمع ہوئے۔
متعدد چیلنج خیز حالات زیرِبحث آئے۔ مثال کے طور پر، کیا ہو اگر مریض شدید خون کی کمی سے دوچار ہے؟ وقت سے کافی پہلے پیدا ہونے والے بچے کا خون کے بغیر کیسے علاج کِیا جا سکتا ہے؟ کیا ہارٹ سرجری خون کے بغیر کامیابی کیساتھ کی جا سکتی ہے؟ دلچسپی کی بات ہے کہ بِلاخون سرجری کو اکثر ایسی تکنیکیں استعمال کرتے ہوئے جو اپنی خون کی سپلائی کو بڑھانے میں جسم کی مدد کرتی ہیں—پہلے ہی سے ان حالات میں اچھے نتائج کے ساتھ عمل میں لایا جا چکا ہے۔a
انتقالِخون کے متبادلات کی کیوں ضرورت ہے؟ کلیولینڈ میں سینٹ وِنسنٹ چیرٹی ہاسپٹل میں سینٹر فار بلڈلیس میڈیسن اینڈ سرجری کی ڈائریکٹر شارون ورنون نے کہا، ”ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ انتقالِخون اکثر مختلف بیماریاں منتقل کرتا ہے، بالخصوص ہیپاٹائٹس۔“ وہ مزید کہتی ہے: ”جب خون کسی بیماری کے جراثیم منتقل نہیں کرتا تو بھی یہ مریض کے دفاعی نظام کے ردِعمل کو کم کر سکتا ہے۔“ اگرچہ سکریننگ کے ذریعے ایڈز کی منتقلی کم ہو گئی ہے، پھر بھی بہت سی بیماریاں ہیں جنہیں ایسے ٹیسٹوں کے ذریعے دریافت نہیں کِیا جا سکتا۔ اور بہت زیادہ تیاری کی ضرورت کے باوجود، بِلاخون جراحی ہسپتالوں کیلئے کمخرچ ثابت ہوئی ہے، چونکہ یہ قانونی مسائل کو ختم کر دیتی ہے جو مریض کو ناقص خون ملنے کے نتیجے میں پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہوواہ کے گواہوں کیلئے، خون لینے سے گریز کرنے کی ایک نہایت اہم وجہ ہے: خدا کی شریعت اسے ممنوع قرار دیتی ہے۔ (اعمال ۱۵:۲۹) تاہم، وہ بہترین ممکنہ طبّی علاج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اُن ڈاکٹروں کے ساتھ تعاون کِیا ہے جو بِلاخون طبّی علاج کی تحقیق میں پیشقدمی کر رہے ہیں۔ ایسا طریقۂعلاج نہ صرف یہوواہ کے گواہوں کو بلکہ بہتیرے دوسرے افراد کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے جو انتقالِخون کے خطرات کے لئے فکرمند ہیں۔ (۳۲ ۰۸/۱۵ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a نومبر۲۲، ۱۹۹۳، صفحات ۲۴-۲۷ اور جنوری ۲۲، ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱ کے اویک! کے شماروں کو دیکھیں۔
[صفحہ 32 پر تصویر کا حوالہ]
WHO photo by P. Almasy