یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏10 ص.‏ 4-‏6
  • کیا بائبل تقدیر پر یقین کی تعلیم دیتی ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا بائبل تقدیر پر یقین کی تعلیم دیتی ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کسے الزام دیا جائے؟‏
  • ‏”‏وقت اور حادثہ“‏
  • ناکاملیت کی تباہ‌کاریاں
  • تقدیر پر یقین—‏اسکے مُضر اثرات
  • خدا کیساتھ ہمارے رشتے میں ایک رُکاوٹ؟‏
  • تقدیر کے تسلط سے آزاد ہو گئے
  • کیا آپکی زندگی تقدیر کے اختیار میں ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • حادثات تقدیر یا حالات؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • کیا آپ کے مستقبل کا تعین تقدیر سے ہوتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ہر چیز کا ایک وقت ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏10 ص.‏ 4-‏6

کیا بائبل تقدیر پر یقین کی تعلیم دیتی ہے؟‏

توہین‌آمیز تحریر!‏ تہمت!‏ جب علاقے کے کسی معزز شخص کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اُسکے نام اور شہرت کو ایک غلط بیانی کی وجہ سے نقصان پہنچایا گیا ہے تو وہ معاملات کی تصحیح کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ اس ہتک کے ذمہ‌دار اشخاص کیخلاف قانونی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔‏

طے‌شُدہ مقدر پر یقین قادرِمطلق خدا کیخلاف تہمت سے کم نہیں ہے۔ یہ نظریہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا ذاتی طور پر اُن تمام مصائب اور حادثات کا ذمہ‌دار ہے جو نوعِ‌انسان کو دُکھ پہنچاتے ہیں۔ اگر آپ تقدیر پر یقین رکھتے ہیں تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کائنات کے حاکم نے ایک ایجنڈا ترتیب دے رکھا ہے جس میں کچھ اس طرح کی بات درج ہے:‏ ’‏آج، جان کار کے حادثے میں زخمی ہوگا، فاتو پر ملیریہ کا حملہ ہوگا، میماڈو کا گھر طوفان میں تباہ ہو جائیگا‘‏!‏ کیا آپ واقعی ایسے خدا کی خدمت کرنے کی تحریک پائینگے؟‏

تقدیر پر یقین رکھنے والے استفسار کرتے ہیں ’‏لیکن اگر خدا ہمارے دُکھوں کا ذمہ‌دار نہیں تو پھر کون ہے؟‘‏ پچھلے مضمون میں مذکورہ جوان شخص، عثمان خود اسکی بابت حیران تھا۔ لیکن اُسے سچائی تک پہنچنے کیلئے اندازے لگانے یا قیاس‌آرائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اُس نے سیکھا کہ خدا نے اپنے الہامی کلام، بائبل میں پائی جانے والی تعلیمات کے ذریعے خود کو اس تہمت سے آزاد کر لیا ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ پس، آئیے دیکھیں کہ بائبل اس موضوع پر کیا بیان کرتی ہے۔‏

کسے الزام دیا جائے؟‏

سیلاب، طوفان، زلزے—‏ایسی آفات کو اکثر خدا کے کام کہا جاتا ہے۔ تاہم بائبل یہ ظاہر نہیں کرتی کہ خدا ایسی تباہیوں کا سبب بنتا ہے۔ ایک مصیبت پر غور کریں جو صدیوں پہلے مشرقِ‌وسطیٰ میں آئی۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اس آفت سے واحد بچنے والے شخص نے بیان کِیا:‏ ”‏خدا کی آگ [‏عبرانی اصطلا‌ح جس کا مطلب اکثر بجلی ہے]‏ آسمان سے نازل ہوئی اور بھیڑوں اور نوکروں کو جلا کر بھسم کر دیا۔“‏—‏ایوب ۱:‏۱۶‏۔‏

اگرچہ ممکن ہے کہ اس خوفزدہ شخص نے سوچا ہوگا کہ خدا اس آگ کا ذمہ‌دار تھا، تاہم بائبل وضاحت کرتی ہے کہ وہ ذمہ‌دار نہیں تھا۔ ایوب ۱:‏۷-‏۱۲ کو آپ خود پڑھیں، اور آپ جان جائینگے کہ بجلی گِرنے کا سبب خدا نہیں، بلکہ اُسکا دشمن—‏شیطان ابلیس تھا!‏ اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمام افسوسناک حادثات براہِ‌راست شیطان کے کام ہوتے ہیں۔ لیکن صاف طور پر، خدا پر الزام لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‏

دراصل، جب حالات بگڑتے ہیں تو اکثر لوگ موردِالزام ٹھہرتے ہیں۔ سکول، جائے‌ملازمت، یا سماجی تعلقات میں ناکامیاں کوشش اور اچھی تربیت کے فقدان یا شاید دوسروں کے لئے پاس‌ولحاظ کی کمی کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح، بیماریاں، حادثات، اور اموات غفلت کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ گاڑی چلاتے وقت محض سیٹ بیلٹ پہننا کار حادثے میں کسی شخص کے ہلاک ہونے کے امکان کو کافی حد تک کم کرتا ہے۔ اگر ناقابلِ‌تغیر ”‏تقدیر“‏ مصروفِ‌عمل ہو تو ایک سیٹ بیلٹ سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔ مناسب طبّی نگہداشت اور صفائی بھی پیش‌ازوقت اموات کی تعداد کو ڈرامائی حد تک کم کرتی ہے۔ بعض ایسی تباہیاں جن پر عموماً ”‏خدا کا کام“‏ ہونے کی مہر لگا دی جاتی ہے، درحقیقت، انسان کے کام ہوتے ہیں—‏زمین کے ناقص انسانی انتظام کا افسوسناک ورثہ۔—‏مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۱:‏۱۸‏۔‏

‏”‏وقت اور حادثہ“‏

سچ ہے کہ بہت سے ایسے افسوسناک واقعات ہوتے ہیں جنکے اسباب صاف ظاہر نہیں ہوتے۔ تاہم، غور کریں کہ بائبل واعظ ۹:‏۱۱ میں کیا بیان کرتی ہے:‏ ”‏پھر مَیں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دُنیا میں نہ تو دوڑ میں تیز رفتار کو سبقت ہے نہ جنگ میں زورآور کو فتح اور نہ روٹی دانشمند کو ملتی ہے نہ دولت عقلمندوں کو اور نہ عزت اہلِ‌خرد کو بلکہ اُن سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔“‏ اس لئے یہ یقین رکھنے کی کوئی وجہ نہیں کہ حادثات کے پسِ‌پردہ خالق کا ہاتھ ہے یا یہ کہ حادثات کا شکار ہونے والے کسی نہ کسی طریقے سے سزا پا رہے ہیں۔‏

خود یسوع مسیح نے تقدیر پر یقین سے متعلق استدلال کیخلاف بحث کی۔ ایک ایسے المیے کا حوالہ دیتے ہوئے جو اُسکے سامعین کیلئے خوب جاناپہچانا تھا، یسوع نے پوچھا:‏ ”‏کیا وہ اٹھارہ آدمی جن پر شیلوؔخ کا بُرج گِرا اور دب کر مرگئے تمہاری دانست میں یرؔوشلیم کے اَور سب رہنے والوں سے زیادہ قصوروار تھے؟ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ نہیں۔“‏ (‏لوقا ۱۳:‏۴، ۵‏)‏ یسوع نے واضح طور پر اس تباہی کو، خدا کی مداخلت سے نہیں، بلکہ ”‏وقت اور حادثہ“‏ سے منسوب کِیا تھا۔‏

ناکاملیت کی تباہ‌کاریاں

تاہم، بِلاوجہ اموات اور بیماریوں کی بابت کیا ہے؟ بائبل انسانی حالت کی بابت یہ واضح بیان دیتی ہے:‏ ”‏آؔدم میں سب مرتے ہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۲‏)‏ جب سے ہمارے جد آدم نے نافرمانی کی راہ پر قدم رکھا اُس وقت سے موت نے نوعِ‌انسان کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ جیسے‌کہ خدا آگاہ کر چکا تھا، آدم نے اپنی اولاد کیلئے موت کا ورثہ چھوڑا۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷؛‏ رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ لہٰذا، انجام‌کار، تمام بیماریوں کا سراغ ہمارے مشترکہ جدِامجد آدم سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہماری موروثی کمزوریوں کا بھی اُن مایوسیوں اور ناکامیوں سے گہرا تعلق ہے جنکا ہم زندگی میں تجربہ کرتے ہیں۔—‏زبور ۵۱:‏۵‏۔‏

غربت کے مسئلے پر غور کریں۔ تقدیر پر یقین نے اکثر متاثرین کی اپنی دشوارگزار زندگی سے خود کو دستبردار کرنے کی حوصلہ‌افزائی کی ہے۔ ’‏یہ ہمارا مُقدر ہے،‘‏ وہ یقین رکھتے ہیں۔ تاہم، بائبل آشکارا کرتی ہے کہ تقدیر نہیں بلکہ انسانی ناکاملیت ذمہ‌دار ہے۔ بعض اُسوقت غربت کا شکار ہو جاتے ہیں جب وہ سُستی یا وسائل کے خراب انتظام کے ذریعے ’‏جوکچھ اُنہوں نے بویا ہے وہی کاٹتے ہیں۔‘‏ (‏گلتیوں ۶:‏۷؛‏ امثال ۶:‏۱۰، ۱۱‏)‏ بے‌شمار لاکھوں لوگ اسلئے غربت کی زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ وہ برسرِاقتدار حریص انسانوں کے ظلم‌وستم کا نشانہ بنتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں یعقوب ۲:‏۶‏۔)‏ ”‏ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر بلا لاتا ہے،“‏ بائبل بیان کرتی ہے۔ (‏واعظ ۸:‏۹‏)‏ تمام‌تر غربت کو خدا یا تقدیر سے منسوب کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔‏

تقدیر پر یقین—‏اسکے مُضر اثرات

تاہم تقدیر پر یقین کیخلاف قائل کرنے والی ایک اَور دلیل وہ اثر ہے جو طے‌شُدہ مُقدر کے معتقدین پر ڈالا جا سکتا ہے۔ یسوع مسیح نے فرمایا:‏ ”‏ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔“‏ (‏متی ۷:‏۱۷‏)‏ آئیے طے‌شُدہ مُقدر کے ایک ”‏پھل“‏ پر غور کریں—‏ایک طریقہ جس سے یہ لوگوں کے احساسِ‌ذمہ‌داری پر اثرانداز ہوتا ہے۔‏

ذاتی ذمہ‌داری کا دانشمندانہ احساس بہت ضروری ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو والدین کو اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے کی، کارکنوں کو فرض‌شناسی سے اپنے کام انجام دینے کی، صنعتکاروں کو معیاری مصنوعات فراہم کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ تقدیر پر یقین اس احساس کو بے‌حس کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، تصور کریں کہ ایک شخص کی کار کے سٹیرنگ کے نظام میں نقص ہے۔ اگر وہ گہرا احساسِ‌ذمہ‌داری رکھتا ہے تو وہ خود اپنی زندگی اور اپنے مسافروں کی زندگیوں کیلئے فکرمندی دکھاتے ہوئے وہ اسکی مرمت کراتا ہے۔ دوسری جانب، ممکن ہے تقدیر پر یقین رکھنے والا ایک شخص یہ استدلال کرتے ہوئے شاید خطرے کو نظرانداز کر دے کہ حادثہ صرف اسی صورت میں واقع ہو گا اگر یہ ’‏خدا کی مرضی‘‏ ہے!‏

جی‌ہاں، تقدیر پر یقین بڑی آسانی سے ایک شخص کے اپنے افعال کے لئے ذمہ‌داری قبول کرنے میں ناکامی، کاہلی، غفلت اور متعدد دیگر منفی خصائل کو فروغ دے سکتا ہے۔‏

خدا کیساتھ ہمارے رشتے میں ایک رُکاوٹ؟‏

سب سے زیادہ نقصاندہ بات، تقدیر پر یقین خدا کے لئے ایک شخص کے احساسِ‌ذمہ‌داری، یا فرض کو دبا سکتا ہے۔ (‏واعظ ۱۲:‏۱۳‏)‏ زبورنویس تمام نوعِ‌انسان کو تاکید کرتا ہے کہ ”‏آزما کر دیکھو کہ خداوند کیسا مہربان ہے۔“‏ (‏زبور ۳۴:‏۸‏)‏ خدا اُن لوگوں کیلئے چند تقاضے وضع کرتا ہے جو اُسکی نیکی سے استفادہ کریں گے۔—‏زبور ۱۵:‏۱-‏۵‏۔‏

ایک ایسا تقاضا توبہ ہے۔ (‏اعمال ۳:‏۱۹؛‏ ۱۷:‏۳۰‏)‏ اس میں ہمارا اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا اور ضروری تبدیلیاں پیدا کرنا شامل ہے۔ ناکامل انسانوں کے طور پر، ہم سب نے بہت سی غلطیاں کی ہیں جن سے ہمیں توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یقین رکھتا ہے کہ وہ تقدیر کا بے‌بس شکار ہے تو توبہ کی ضرورت کو محسوس کرنا یا اپنی خطاؤں کیلئے ذمہ‌داری قبول کرنا مشکل ہے۔‏

زبورنویس نے خدا کی بابت کہا:‏ ”‏تیری شفقت زندگی سے بہتر ہے۔“‏ (‏زبور ۶۳:‏۳‏)‏ پھربھی، تقدیر پر یقین نے لاکھوں لوگوں کو اس بات کا قائل کر لیا ہے کہ خدا اُنکی بدحالی کا باعث ہے۔ قدرتی طور پر، انکے خالق کیساتھ ایک حقیقی قریبی رشتہ رکھنے کے دروازے کو بند کرتے ہوئے، اُس چیز نے اُس کیلئے اُنہیں تلخی سے بھر دیا ہے۔ بہرصورت، آپ کسی ایسے شخص کیلئے محبت کا احساس کیسے رکھ سکتے ہیں جسے آپ اپنی تمام مشکلات اور آزمائشوں کا ذمہ‌دار سمجھتے ہیں؟ یوں طے‌شُدہ مُقدر پر یقین خدا اور انسان کے مابین ایک دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔‏

تقدیر کے تسلط سے آزاد ہو گئے

شروع میں متذکرہ جوان عثمان، ایک وقت میں تقدیر پر یقین کا غلام تھا۔ تاہم، جب یہوواہ کے گواہوں نے بائبل کی روشنی میں اپنی سوچ کا جائزہ لینے کیلئے اُسکی مدد کی تو عثمان نے تقدیر پر اپنے یقین کو ترک کر دینے کی تحریک پائی۔ نتائج گہرا احساسِ‌تسکین اور زندگی کی بابت ایک نیا، مثبت نقطۂ‌نظر تھے۔ سب سے بڑھکر، وہ یہوواہ کو ایک ایسے خدا کے طور پر جاننے لگا ہے جو ”‏رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی“‏ ہے۔—‏خروج ۳۴:‏۶۔‏

عثمان یہ بھی محسوس کرنے لگا ہے کہ خدا، اگرچہ ہماری زندگیوں کی ہر تفصیل کی منصوبہ‌سازی تو نہیں کرتا مگر مستقبل کیلئے ایک مقصد ضرور رکھتا ہے۔‏a ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اُسکے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“‏ یہوواہ کے گواہوں نے اس موعودہ ”‏نئی زمین“‏ کے ایک حصے کے طور پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید کو فروغ دینے میں لاکھوں لوگوں کی مدد کی ہے۔ وہ آپ کی بھی مدد کرنا پسند کرینگے۔‏

جب آپ بائبل کے صحیح علم میں ترقی کرتے ہیں، تو آپ اس بات کو سمجھنے لگیں گے کہ آپ کے مستقبل کا انحصار پہلے سے طے‌شُدہ کسی تقدیر پر نہیں ہے جس پر آپکا کوئی اختیار نہیں۔ قدیم اسرائیل سے موسیٰ کے الفاظ کا خوب اطلاق ہوتا ہے:‏ ”‏مَیں آج کے دن آسمان اور زمین کو تمہارے برخلاف گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تُو زندگی کو اختیار کر کہ تُو بھی جیتا رہے اور تیری اَولاد بھی۔ تاکہ تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور اُسکی بات سنے اور اُسی سے لپٹا رہے۔“‏ (‏استثنا ۳۰:‏۱۹، ۲۰)‏ جی‌ہاں، آپ اپنے مستقبل کا انتخاب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ تقدیر کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ (‏۴ ۰۹/۰۱ w۹۶)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a خدا کے علمِ‌سابق کی بابت مفصل بحث کے لئے، دی واچ‌ٹاور، جولائی ۱۵، ۱۹۸۴، صفحات ۳-‏۷ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں