کیا آپکی زندگی تقدیر کے اختیار میں ہے؟
”آلا نو ڈون۔“ مغربی افریقہ، میں مالی کی زبان بمبارا میں، اس اصطلاح کا مطلب ہے، ”یہ خدا کا کام ہے۔“ دُنیا کے اِس خطے میں اِس طرح کے بیان بہت عام ہیں۔ ولوف زبان میں، کہاوت یوں ہے، ”یالا مو کو ڈیف“ (یہ خدا نے کِیا)۔ اور ایک ڈوگون (افریقی قبیلہ) کی دیہاتی بولی میں، وہ کہتے ہیں، ”آما بائرے“ (یہ سب خدا کی وجہ سے ہوا)۔
یہ اظہارات دیگر ممالک میں اپنے مماثل رکھتے ہیں۔ جب موت یا مصیبت آتی ہے تو ”اُس کا وقت آ چکا تھا“ اور، ”یہ خدا کی مرضی تھی“ جیسی کہاوتیں اکثر سننے میں آتی ہیں۔ مغربی افریقہ میں، ”تدبیر کُند بندہ، تقدیر کُند خندہ“ جیسے بیانات عموماً عوامی نقلوحمل کی گاڑیوں پر لکھے جاتے اور دُکانوں میں اشتہارات کے طور پر چسپاں کئے جاتے ہیں۔ بہتیرے لوگوں کیلئے یہ محض استعارے ہیں۔ اگرچہ، بعضاوقات، وہ طےشُدہ مُقدر پر پُختہ یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔
طےشُدہ مقدر کیا ہے؟ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا اسے یوں بیان کرتا ہے ”یہ یقین کہ واقعات ایسی قوتوں کی طرف سے مُتعیّن ہیں جن پر انسان قابو نہیں پا سکتے۔“ یہ ”قوتیں“ کیا ہیں؟ ہزاروں سال قبل، بابلی یہ مانتے تھے کہ ایک شخص کی تقدیر اُسکی پیدائش پر ستاروں کی ترتیب سے بڑے زبردست طریقے سے متاثر ہوتی ہے۔ (مقابلہ کریں یسعیاہ ۴۷:۱۳۔) یونانیوں کا یہ یقین تھا کہ تقدیر تین طاقتور دیوئیوں کے ہاتھوں میں تھی جو زندگی کے دھاگے کو کاتتی، ماپتی، اور کاٹ ڈالتی تھیں۔ تاہم، یہ دُنیائےمسیحیت کے مذہبی علماء تھے جنہوں نے اس نظریے کو رواج دیا کہ خدا خود کسی شخص کی تقدیر کا تعیّن کرتا ہے!
مثال کے طور پر، ”مُقدس“ آگسٹین نے نجومیوں کی ”جھوٹی اور نقصاندہ آراء“ کو مسترد کِیا۔ اسکی دوسری جانب، اُس نے دلیل پیش کی کہ ”یہ اقرار کرنا کہ خدا موجود ہے، اور اسکے ساتھ ہی ساتھ اس بات سے انکار کرنا کہ وہ مستقبل کے واقعات کی بابت علمِسابق کا مالک ہے، نہایت ہی واضح حماقت ہے۔“ اُس نے دعویٰ کِیا کہ خدا کے واقعی قادرِمطلق ہونے کیلئے، لازم ہے کہ اُسے ”ہر ایک چیز کو ازل سے مُعیّن“ ہونے کی اجازت دیتے ہوئے ”تمام چیزوں کا اُنکے وقوعپذیر ہونے سے پہلے علم ہونا چاہیے۔“ تاہم، آگسٹین نے پُرجوش انداز میں استدلال کِیا کہ جوکچھ واقع ہوتا ہے اُسکی بابت خدا کے پہلے سے جاننے کے باوجود، انسان پھربھی آزاد مرضی کے مالک ہیں۔—دی سٹی آف گاڈ، کتاب V، ابواب۷-۹۔
صدیوں بعد، پروٹسٹنٹ مذہبی عالم جان کیلون نے یہ استدلال کرتے ہوئے معاملات کو ایک قدم اَور آگے بڑھایا کہ جب بعض لوگوں کے ”مُقدر میں [خدا کی طرف سے] آسمانی بادشاہت کے فرزندگان اور ورثاء ہونا لکھ دیا گیا ہے،“ تو دیگر کے مُقدر میں ”اُسکے غضب کے تحت ہونا“ لکھ دیا گیا ہے!
آجکل، دُنیا کے بہتیرے حصوں میں تقدیر پر ایمان کو بہت سنجیدہ خیال کِیا جاتا ہے۔ مغربی افریقہ میں ایک جوان شخص، عثمان کے تجربے پر غور کریں۔ وہ اپنے سکول کے لائقترین طالبعلموں میں سے ایک تھا، لیکن جب اُس نے اپنے فائنل امتحانات دئیے تو وہ فیل ہو گیا! اسکا مطلب نہ صرف دوبارہ اُسی جماعت میں بیٹھنا بلکہ اپنے خاندان اور دوستوں کے سامنے شرمندگی اُٹھانا بھی تھا۔ ایک دوست نے اُسے یہ کہتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کی کہ یہ خدا کی مرضی تھی۔ اسی طرح عثمان کی ماں نے اُسکے فیل ہونے کا الزام تقدیر پر لگایا۔
پہلےپہل عثمان ہمدردی کرنے کی اُنکی کوششوں کو قبول کرکے خوش ہوا۔ بہرصورت، اگر اُسکا فیل ہونا واقعی خدا کی مرضی تھی تو وہ اِسے روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اُسکے باپ نے معاملات کو مختلف نقطۂنظر سے دیکھا۔ اُس نے عثمان کو بتایا کہ امتحانات میں فیل ہونا اُسکی اپنی غلطی تھی—نہ کہ خدا کی۔ عثمان محض اسلئے فیل ہو گیا تھا کیونکہ اُس نے اپنی پڑھائی سے غفلت برتی تھی۔
تقدیر پر اپنے ایمان کو لڑکھڑاتا ہوا دیکھ کر، عثمان نے خود معاملات کی تفتیش کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اب ہم آپ کو بھی اگلے مضمون پر غوروفکر کرنے سے ایسا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ (۳ ۰۹/۰۱ w۹۶)