یسوع کی آمد یا یسوع کی موجودگی—کیا؟
”تیرے آنے [”تیری موجودگی،“ اینڈبلیو] اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا۔“—متی ۲۴:۳۔
۱. یسوع کی خدمتگزاری میں سوالات نے کیا کردار ادا کِیا؟
یسوع کے سوالات کے ماہرانہ استعمال نے اُسکے سامعین کو سوچنے، حتیٰکہ معاملات پر نئے انداز سے غور کرنے کی ترغیب دی۔ (مرقس ۱۲:۳۵-۳۷؛ لوقا ۶:۹؛ ۹:۲۰؛ ۲۰:۳، ۴) ہم شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ اُس نے سوالات کا جواب بھی دیا۔ اُسکے جوابات نے اُن سچائیوں کو آشکارہ کر دیا جنہیں ہم نے شاید بصورتِدیگر جانا یا سمجھا نہ ہوتا۔—مرقس ۷:۱۷-۲۳؛ ۹:۱۱-۱۳؛ ۱۰:۱۰-۱۲؛ ۱۲:۱۸-۲۷۔
۲. ہمیں اب اپنی توجہ کس سوال پر مبذول کرنی چاہیے؟
۲ متی ۲۴:۳ میں، ہم نہایت اہم سوالات میں سے ایک پاتے ہیں جنکا یسوع نے کبھی جواب دیا۔ اپنی زمینی زندگی کے اختتام کے قریب، یسوع نے تھوڑی دیر پہلے آگاہ کِیا تھا کہ یہودی نظام کے خاتمے کی نشاندہی کرتے ہوئے، یروشلیم کی ہیکل، برباد کر دی جائے گی۔ متی کا بیان اضافہ کرتا ہے: ”جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اُس کے شاگردوں نے الگ اُس کے پاس آکر کہا ہمکو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے [”تیری موجودگی،“ اینڈبلیو] اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“—متی ۲۴:۳۔
۳، ۴. متی ۲۴:۳ میں پائے جانے والے کلیدی لفظ کو بائبلیں جس طریقے سے پیش کرتی ہیں اُس میں کیا نمایاں فرق ہے؟
۳ لاکھوں بائبل قارئین نے یہ جاننے کی خواہش کی ہے کہ ’شاگردوں نے یہ سوال کیوں پوچھا تھا، اور یسوع کے جواب کو مجھے کیسے متاثر کرنا چاہیے؟‘ اپنے جواب میں یسوع نے پتوں کے نمودار ہونے کا ذکر کِیا جو ظاہر کرتے ہیں کہ موسمِگرما ”نزدیک ہے۔“ (متی ۲۴:۳۲، ۳۳) لہٰذا، بہت سے چرچ تعلیم دیتے ہیں کہ رسول یسوع کے ”آنے،“ کے نشان کی بابت پوچھ رہے تھے، نشان جو ثابت کرے کہ اُسکی واپسی قریب تھی۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ”آنا“ وہ وقت ہوگا جب وہ مسیحیوں کو آسمان پر لے جاتا اور پھر دُنیا کو ختم کر دیتا ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ دُرست ہے؟
۴ بعض بائبل ترجمے، بشمول نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز ترجمہ ”آنے“ کرنے کی بجائے، لفظ ”موجودگی“ استعمال کرتے ہیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ جس چیز کی بابت شاگردوں نے پوچھا تھا اور جوکچھ یسوع نے جواب میں کہا وہ اُس سے فرق ہے جو گرجے میں سکھایا جاتا ہے؟ درحقیقت کیا پوچھا گیا تھا؟ اور یسوع نے کیا جواب دیا تھا؟
وہ کیا پوچھ رہے تھے؟
۵، ۶. ہم رسولوں کی سوچ کی بابت کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں جب اُنہوں نے وہ سوال پوچھا جسے ہم متی ۲۴:۳ میں پڑھتے ہیں؟
۵ جوکچھ یسوع نے مقدِس کی بابت کہا اُس کے پیشِنظر، جب اُنہوں نے ’اُسکی موجودگی [یا، آنے ] اور دُنیا [لفظی طور پر، ”زمانے“] کے آخر ہونے کے نشان‘ کی بابت پوچھا تو شاگرد غالباً یہودی نظام کی بابت سوچ رہے تھے۔‘—۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱ میں ”زمانہ،“ اور گلتیوں ۱:۴ میں ”جہان“ سے مقابلہ کریں۔
۶ اِس وقت تک رسول یسوع کی تعلیمات کی بہت تھوڑی سمجھ رکھتے تھے۔ اِس سے پہلے انہیں گمان تھا کہ ”خدا کی بادشاہی ابھی ظاہر ہوا چاہتی ہے۔“ (لوقا ۱۹:۱۱؛ متی ۱۶:۲۱-۲۳؛ مرقس ۱۰:۳۵-۴۰) حتیٰکہ زیتون کے پہاڑ پر باتچیت کے بعد، لیکن روحالقدس سے مسح کئے جانے سے پہلے، اُنہوں نے پوچھا کہ آیا یسوع اسی وقت اسرائیل کی بادشاہی بحال کر رہا تھا۔—اعمال ۱:۶۔
۷. رسول یسوع سے اُسکے آئندہ کردار کی بابت کیوں سوال کرینگے؟
۷ تاہم، وہ یہ ضرور جانتے تھے کہ وہ چلا جائیگا، کیونکہ اُس نے تھوڑی دیر پہلے کہا تھا: ”تھوڑی دیر تک نور تمہارے درمیان ہے۔ جب تک نور تمہارے ساتھ ہے چلے چلو۔“ (یوحنا ۱۲:۳۵؛ لوقا ۱۹:۱۲-۲۷) اِسلئے غالباً اُنہوں نے سوچا ہوگا، ’اگر یسوع جانے والا ہے، تو ہم اُسکی واپسی کو کیسے پہچانیں گے؟‘ جب وہ مسیحا کے طور پر ظاہر ہوا تو بہتوں نے اُسے نہیں پہچانا تھا۔ اور تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصہ بعد، بحث چل رہی تھی کہ آیا وہ اُن تمام کاموں کو انجام دیگا جنہیں مسیحا نے کرنا تھا۔ (متی ۱۱:۲، ۳) پس رسولوں کے پاس مستقبل کی بابت دریافت کرنے کی وجہ تھی۔ لیکن، کیا وہ دوبارہ اس بات کی بابت کہ وہ جلد آئیگا یا کسی فرق چیز کی بابت نشان طلب کر رہے تھے؟
۸. رسول یسوع کیساتھ غالباً کونسی زبان بول رہے تھے؟
۸ تصور کریں کہ آپ زیتون کے پہاڑ پر گفتگو سننے والا ایک پرندہ تھے۔ (مقابلہ کریں واعظ ۱۰:۲۰۔) غالباً آپ نے یسوع اور رسولوں کو عبرانی میں باتچیت کرتے سنا ہو گا۔ (مرقس ۱۴:۷۰؛ یوحنا ۵:۲؛ ۱۹:۱۷، ۲۰؛ اعمال ۲۱:۴۰) تاہم، غالباً وہ یونانی زبان بھی جانتے تھے۔
جوکچھ متی نے—یونانی میں لکھا
۹. متی کے بیشتر جدید ترجمے کس پر مبنی ہیں؟
۹ دوسری صدی س.ع. کے ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ متی نے اپنی انجیل کو پہلے عبرانی میں لکھا۔ بدیہی طور پر اُس نے بعدازاں یونانی میں لکھا۔ یونانی میں متعدد مسودے آج تک موجود ہیں اور اُنہوں نے اُسکی انجیل کا آجکل کی زبانوں میں ترجمہ کرنے میں کلیدی کام انجام دیا ہے۔ زیتون کے پہاڑ پر اُس گفتگو کی بابت متی نے یونانی میں کیا لکھا؟ اُس نے ”آنے“ یا ”موجودگی“ کے متعلق کیا لکھا جسکی بابت شاگردوں نے پوچھا تھا اور جسکی یسوع نے وضاحت کی تھی؟
۱۰. (ا) متی نے ”آنے“ کیلئے اکثر کونسا یونانی لفظ استعمال کِیا، اور اسکے کیا مطالب ہو سکتے ہیں؟ (ب) کونسا دوسرا یونانی لفظ دلچسپی کا حامل ہے؟
۱۰ متی کے پہلے ۲۳ ابواب میں، ہم ۸۰ سے زائد مرتبہ ”آنے“ کیلئے ایک عام یونانی فعل پاتے ہیں، جوکہ ایرخومے ہے۔ یہ اکثر نزدیک آنے یا قریب آنے کے خیال کو پیش کرتا ہے، جیسے یوحنا ۱:۴۷ میں: ”یسوع نے نتنایل کو اپنی طرف آتے [دیکھا]۔“ استعمال پر انحصار کرتے ہوئے، فعل ایرخومے کا مطلب ”آنا،“ ”جانا،“ ”شروع کرنا،“ ”پہنچنا،“ یا ”اپنی راہ لینا“ ہو سکتا ہے۔ (متی ۲:۸، ۱۱؛ ۸:۲۸؛ یوحنا ۴:۲۵، ۲۷، ۴۵؛ ۲۰:۴، ۸؛ اعمال ۸:۴۰؛ ۱۳:۵۱) لیکن متی ۲۴:۳، ۲۷، ۳۷، ۳۹ میں متی نے فرق لفظ استعمال کِیا، ایک اسم جو اناجیل میں اَور کہیں نہیں ملتا: پیروسیا۔ چونکہ خدا نے بائبل کو لکھنے کا الہام بخشا لہٰذا اُس نے متی کو یونانی میں اپنی انجیل کو لکھتے وقت ان آیات میں اِس یونانی لفظ کا انتخاب کرنے کی تحریک کیوں دی؟ اِسکا کیا مطلب ہے، اور ہمیں کیوں جاننا چاہیے؟
۱۱. (ا) پیروسیا کا مفہوم کیا ہے؟ (ب) جوزیفس کی تحریر سے مثالیں پیروسیا کی بابت ہماری سمجھ کو کس طرح واضح کرتی ہیں؟ (دیکھیں فٹنوٹ۔)
۱۱ خاص طور پر پیروسیا کا مطلب ”موجودگی“ ہے۔ وائن کی ایکسپوزیٹری ڈکشنری آف نیو ٹسٹامنٹ ورڈز بیان کرتی ہے: ”پیروسیا، . . . واقعی موجودگی ہے، پیرا، کیساتھ، اور اوسیا، (ایمی سے، ہونا)، آمد اور نتیجتاً موجود ہونا دونوں کا مفہوم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک پائپرسی خط میں ایک خاتون اپنی جائیداد سے متعلق معاملات کو نپٹانے کی غرض سے ایک مخصوص جگہ پر اپنے پیروسیا کی ضرورت کا ذکر کرتی ہے۔“ دیگر لغات وضاحت کرتی ہیں کہ پیروسیا ’کسی حاکم کے دَورے‘ کا مفہوم دیتا ہے۔ لہٰذا، یہ محض آمد کا وقت نہیں ہے، بلکہ آمد کے بعد دیر تک موجود رہنا ہے۔ جس طریقے سے رسولوں کے ہمعصر یہودی مؤرخ جوزیفس نے پیروسیا کو کیسے استعمال کِیا وہ دلچسپی کا حامل ہے۔a
۱۲. پیروسیا کے معنی کی تصدیق کرنے کیلئے خود بائبل ہماری کیسے مدد کرتی ہے؟
۱۲ قدیم علموادب نے ”موجودگی“ کے مطلب کی واضح طور پر تصدیق کی ہے، تاہم مسیحی بالخصوص اِس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ خدا کا کلام پیروسیا کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ جواب وہی ہے—موجودگی۔ ہم اِسکی مثالیں پولس کے خطوط سے دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اُس نے فلپیوں کو لکھا: ”جس طرح تم ہمیشہ سے فرمانبرداری کرتے آئے ہو اُسی طرح اب بھی نہ صرف میری حاضری [موجودگی] میں بلکہ اس سے بہت زیادہ میری غیرحاضری [غیرموجودگی] میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام کئے جاؤ۔“ اُس نے اُنکے ساتھ رہنے کا بھی ذکر کِیا تاکہ ”وہ [اُسکے] پھر [اُنکے] پاس آنے [”موجودگی،“ اینڈبلیو] [پیروسیا] سے“ خوش ہو سکیں۔ (فلپیوں ۲:۱۲؛ ۱:۲۵، ۲۶) دیگر ترجمے یہ کہتے ہیں ”میرے پھر سے تمہارے ساتھ ہونے سے“ (ویماؤتھ؛ نیو انٹرنیشنل ورشن)؛ ”جب مَیں دوبارہ تمہارے ساتھ ہوں“ (جیروضلم بائبل؛ نیو انگلش بائبل)؛ اور ”جب مَیں پھر سے تمہارے درمیان ہونگا۔“ (ٹونٹیایتھ سنچری نیو ٹسٹامنٹ) ۲-کرنتھیوں ۱۰:۱۰، ۱۱ میں، پولس نے ”اپنی بنفسنفیس موجودگی“ کا ”غیرموجود“ ہونے سے موازنہ کِیا۔ اِن مثالوں میں وہ محض اپنے پہنچنے یا آنے کی بات نہیں کر رہا تھا؛ اُس نے پیروسیا کو موجود ہونے کے مفہوم میں استعمال کِیا۔b (مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۷۔) البتہ، یسوع کے پیروسیا سے متعلق حوالہجات کی بابت کیا ہے؟ کیا وہ اُسکے ”آنے“ کا مفہوم رکھتے ہیں، یا وہ اُسکی طویل موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں؟
۱۳، ۱۴. (ا) ہمیں یہ نتیجہ کیوں اخذ کرنا چاہئے کہ پیروسیا طویل عرصے پر محیط ہے؟ (ب) یسوع کے پیروسیا کی طوالت کی بابت کیا کہا جانا چاہئے؟
۱۳ پولس کے دنوں میں روح سے مسحشُدہ مسیحی یسوع کے پیروسیا میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لیکن پولس نے اُنہیں آگاہ کِیا کہ اُنکی ’عقل دفعتہً پریشان نہ ہو جائے۔‘ ضرور ہے کہ پہلے ”گناہ کا شخص“ ظاہر ہو، جو مسیحی دُنیا کا پادری طبقہ ثابت ہوا ہے۔ پولس نے لکھا کہ ”گناہ [کے] شخص. . .کا ظاہر [”موجود،“ اینڈبلیو]“ ہونا ”شیطان کی تاثیر کے موافق ہر طرح کی جھوٹی قدرت اور نشانوں اور عجیب کاموں کے ساتھ [ہوگا]۔“ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۲، ۳، ۹) واضح طور پر، ”گناہ کے شخص“ کا پیروسیا، یا موجودگی، محض تھوڑی دیر کی آمد نہیں تھی؛ یہ کچھ دیر تک رہیگی، جسکے دوران جھوٹے نشان ظاہر ہونگے۔ یہ اہمیت کی حامل کیوں ہے؟
۱۴ اِس سے پہلے کی آیت پر غور کریں: ”اُس وقت وہ بےدین ظاہر ہوگا جِسے خداوند یسوؔع اپنے مُنہ کی پھونک سے ہلاک اور اپنی آمد [موجودگی] کی تجلی سے نیست کریگا۔“ جس طرح ”گناہ کے شخص“ کی موجودگی کچھ عرصہ تک رہیگی، اسی طرح یسوع کی موجودگی بھی کچھ دیر کی ہوگی اور اُس بےدین ”ہلاکت کے فرزند“ کی بربادی کیساتھ عروج کو پہنچے گی۔—۲-تھسلنیکیوں ۲:۸۔
عبرانی زبان کی خصوصیات
۱۵، ۱۶. (ا) عبرانی میں متی کے بہتیرے ترجموں میں کونسا مخصوص لفظ استعمال کِیا گیا ہے؟ (ب) صحائف میں بھو کیسے استعمال کِیا گیا ہے؟
۱۵ جیسےکہ بیان کِیا گیا، متی نے اپنی انجیل کو پہلے عبرانی زبان میں لکھا۔ لہٰذا، متی ۲۴:۳، ۲۷، ۳۷، ۳۹ میں اُس نے کونسا عبرانی لفظ استعمال کِیا؟ جدید عبرانی میں کئے گئے متی کے ترجموں میں، رسولوں کے سوال اور یسوع کے جواب دونوں میں، فعل بھو کی قسم استعمال ہوئی ہے۔ یہ اِس طرح پڑھنے میں رہنمائی کر سکتا ہے: ”تیرے آنے [بھو] اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“ اور ”جیسا نوؔح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابنِآدم کے آنے [بھو] کے وقت ہوگا۔“ بھو کا کیا مطلب ہے؟
۱۶ مختلف مفہوم رکھنے کے باوجود، عبرانی فعل بھو کا بنیادی طور پر مطلب ”آنا“ ہے۔ تھیولاجیکل ڈکشنری آف دی اولڈ ٹسٹامنٹ بیان کرتی ہے: ۲،۵۳۲ مرتبہ، ظاہر ہونے والا بھو عبرانی صحائف میں اکثروبیشتر استعمال ہونے والے افعال میں سے ایک ہے اور حرکت کے معنی دینے والے افعال میں سرِفہرست ہے۔‘ (پیدایش ۷:۱، ۱۳؛ خروج ۱۲:۲۵؛ ۲۸:۳۵؛ ۲-سموئیل ۱۹:۳۰؛ ۲-سلاطین ۱۰:۲۱؛ زبور ۶۵:۲؛ یسعیاہ ۱:۲۳؛ حزقیایل ۱۱:۱۶؛ دانیایل ۹:۱۳؛ عاموس ۸:۱۱) اگر یسوع اور رسولوں نے وسیع معنی والا لفظ استعمال کِیا ہوتا تو مفہوم نزاع کا باعث بن سکتا تھا۔ لیکن کیا اُنہوں نے استعمال کِیا؟
۱۷. (ا) کیوں ضروری طور پر متی کے جدید ترجمے جوکچھ یسوع اور رسولوں نے کہا اُسے واضح نہیں کر سکتے؟ (ب) اَور کس جگہ پر ہمیں اس بات کا اشارہ مل سکتا ہے کہ یسوع اور رسولوں نے کونسا لفظ استعمال کِیا تھا، اور کس دوسری وجہ سے یہ ماخذ ہمارے لئے دلچسپی کا باعث ہے؟ (دیکھیں فٹنوٹ۔)
۱۷ یاد رکھیں کہ جدید عبرانی ترجمے ایسے ترجمے ہیں جو شاید جوکچھ متی نے عبرانی میں لکھا اُسے دُرست طور پر پیش نہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ یسوع بھو کے علاوہ کوئی اَور لفظ استعمال کر سکتا تھا، کوئی ایسا لفظ جو پیروسیا کے مفہوم کے مطابق ہو۔ ہم اِس چیز کو پروفیسر جارج ہاورڈ کی ۱۹۹۵ کی کتاب ہیبریو گاسپل آف میتھیو سے دیکھتے ہیں۔ کتاب نے مسیحیت کیخلاف یہودی طبیب شم-طوب بن آئزک ابنِشاپرت کے ۱۴ویں صدی کے مناظرے پر روشنی ڈالی۔ اُس دستاویز نے متی کی انجیل کے ایک عبرانی متن کو پیش کِیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شم-طوب کے زمانے میں لاطینی یا یونانی سے ترجمہ کئے جانے کی بجائے، متی کا یہ متن کافی پُرانا تھا اور دراصل عبرانی میں مرتب کِیا گیا تھا۔c تاہم جوکچھ زیتون کے پہاڑ پر کہا گیا تھا یہ ہمیں اُس کے قریبتر لے آتا ہے۔
۱۸. شم-طوب کونسا دلچسپ عبرانی لفظ استعمال کرتا ہے، اور اسکا کیا مطلب ہے؟
۱۸ متی ۲۴:۳، ۲۷، ۳۹ میں، شم-طوب کا متی کا متن فعل بھو کو استعمال نہیں کرتا۔ اسکی بجائے، یہ متعلقہ اسم بائیایے استعمال کرتا ہے۔ یہ اسم عبرانی صحائف میں صرف حزقیایل ۸:۵ میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں اس کا مطلب ہے ”مدخل۔“ آمد کے عمل کو ظاہر کرنے کی بجائے، وہاں بائیایے کسی عمارت کے شروع کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ جب آپ دروازے یا دہلیز پر ہوتے ہیں تو عمارت میں ہوتے ہیں۔ نیز، بحرِمُردار کے طوماروں میں غیربائبلی مذہبی دستاویزات اکثر آمد یا کہانتی مرتبوں کے آغاز کے سلسلے میں بائیایے کو استعمال کرتی ہیں۔ (دیکھیں ۱-تواریخ ۲۴:۳-۱۹؛ لوقا ۱:۵، ۸، ۲۳۔) اور قدیم شامی (یا، ارامی) پیشیتو کا ۱۹۸۶ کا عبرانی ترجمہ متی ۲۴:۳، ۲۷، ۳۷، ۳۹ میں بائیایے استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شہادت ہے کہ قدیم زمانے میں اسم بائیایے شاید ایسا مفہوم رکھتا تھا جو بائبل میں استعمال ہونے والے فعل بھو سے کسی حد تک مختلف تھا۔ یہ دلچسپی کی بات کیوں ہے؟
۱۹. اگر یسوع اور رسولوں نے بائیایے استعمال کِیا تھا تو ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟
۱۹ ممکن ہے کہ رسولوں نے اپنے سوال اور یسوع نے اپنے جواب میں اس اسم بائیایے کو استعمال کِیا ہو۔ اگر رسولوں کے ذہن میں محض یسوع کی آئندہ آمد کا خیال تھا تو ہو سکتا ہے کہ جوکچھ وہ سوچ رہے تھے مسیح نے اُس سے زیادہ سمجھنے کیلئے بائیایے استعمال کِیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ یسوع نئے مرتبے کے آغاز کیلئے اپنی آمد کی طرف اشارہ کر رہا ہو؛ اُسکی آمد اُسکے نئے کردار کا آغاز ہوگا۔ یہ پیروسیا کے مفہوم سے ہمآہنگ ہوگا، جسے متی نے مسلسل استعمال کِیا۔ قابلِفہم طور پر، بائیایے کے ایسے استعمال کو اس بات کی حمایت کرنی ہوگی جسکی تعلیم یہوواہ کے گواہ عرصۂدراز سے دے رہے ہیں کہ جو مرکب ”نشان“ یسوع نے دیا اُس نے ظاہر کرنا تھا کہ وہ موجود تھا۔
اُسکی موجودگی کے نقطۂعروج کا انتظار کرنا
۲۰، ۲۱. نوح کے دنوں کی بابت ہم یسوع کے بیان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲۰ یسوع کی موجودگی کی بابت ہمارے مطالعے کو ہماری زندگی اور ہماری توقعات پر براہِراست اثرانداز ہونا چاہیے۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو ہوشیار رہنے کی تاکید کی تھی۔ اُس نے اسلئے نشان فراہم کِیا تاکہ اُسکی موجودگی کو پہچانا جا سکے، اگرچہ زیادہتر لوگ اس پر دھیان نہیں دینگے: ”جیسا نوؔح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابنِآدم کے آنے کے وقت ہوگا۔ کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اُس دن تک کہ نوؔح کشتی میں داخل ہوا۔ اور جب تک طوفان آکر اُن کو بہا نہ لے گیا اُن کو خبر نہ ہوئی اُسی طرح ابنِآدم کا آنا ہوگا۔“—متی ۲۴:۳۷-۳۹۔
۲۱ نوح کے زمانے میں، اُس نسل کے بیشتر لوگ اپنے معمول کے کام کرتے رہے۔ یسوع نے پیشینگوئی کی کہ ”ابنِآدم کے آنے کے وقت“ بھی ایسا ہی ہوگا۔ نوح کے اِردگِرد کے لوگوں نے شاید یہ محسوس کیا ہو کہ کچھ بھی واقع نہیں ہوگا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ درحقیقت کیا واقع ہوا۔ وہ ایّام، جو طویل عرصے پر مشتمل تھے، نقطۂعروج تک پہنچے، ”طوفان آکر اُن سب کو بہا . . . لے گیا۔“ لوقا بھی اسی طرح کا ایک بیان پیش کرتا ہے جس میں یسوع نے ” نوؔح کے دنوں“ کا ”ابنِآدم کے دنوں“ کیساتھ موازنہ کِیا تھا۔ یسوع نے نصیحت کی: ”ابنِآدم کے ظاہر ہونے کے دن بھی ایسا ہی ہوگا۔“—لوقا۱۷:۲۶:۳۰۔
۲۲. ہمیں متی ۲۴ باب میں یسوع کی پیشینگوئی میں خاص طور پر کیوں دلچسپی رکھنی چاہیے؟
۲۲ یہ سب کچھ ہمارے لئے خاص مطلب رکھتا ہے کیونکہ ہم ایک ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جب ہم اُن واقعات کو جنکی یسوع نے پیشینگوئی کی تھی پہچانتے ہیں—جنگیں، بھونچال، وبائیں، خوراک کی کمیابی، اور اُسکے شاگردوں کا ستایا جانا۔ (متی ۲۴:۷-۹؛ لوقا ۲۱:۱۰-۱۲) یہ تمام باتیں تاریخ میں انقلابی فساد کے وقت سے نمایاں رہی ہیں جسے موزوں طور پر پہلی عالمی جنگ کا نام دیا گیا، اگرچہ بیشتر لوگ انہیں تاریخ کے عام حصے خیال کرتے ہیں۔ تاہم، سچے مسیحی ان اہم واقعات کے مطلب کو سمجھتے ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے عقلمند لوگ انجیر کے درخت کی کونپلیں نکلنے سے سمجھ لیتے ہیں کہ موسمِگرما قریب ہے۔ یسوع نے نصیحت کی: ”اسی طرح جب تم ان باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لو کہ خدا کی بادشاہی نزدیک ہے۔“—لوقا ۲۱:۳۱۔
۲۳. متی ۲۴ باب میں یسوع کے الفاظ کن کیلئے خاص مطلب رکھتے ہیں اور کیوں؟
۲۳ یسوع نے زیتون کے پہاڑ پر اپنی باتچیت کا رُخ زیادہتر اپنے پیروکاروں کی طرف رکھا۔ وہ ایسے لوگ تھے جنہوں نے خاتمہ آنے سے پہلے تمام زمین پر زندگی بچانے والی خوشخبری کی منادی کے کام میں شریک ہونا تھا۔ یہی وہ لوگ ہونگے جو ”اُجاڑنے والی مکروہ چیز کو . . . مُقدس مقام میں کھڑا ہوا“ دیکھ سکیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بڑی مصیبت سے پہلے ”بھاگ“ جانے سے جوابی قدم اُٹھائیں گے۔ اور یہی وہ لوگ ہونگے جو اِن اگلے الفاظ سے بالخصوص متاثر ہونگے: ”اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائینگے۔“ (متی ۲۴:۹، ۱۴-۲۲) لیکن ان سنجیدہ الفاظ کا کیا مطلب ہے، اور یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اب ہمارے لئے اضافی خوشی، اعتماد، اور جوشوجذبہ حاصل کرنے کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں؟ متی ۲۴:۲۲ کا اگلا مطالعہ جوابات فراہم کرے گا۔ (۹ ۰۸/۱۵ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a جوزیفس کی طرف سے مثالیں: سینا کے پہاڑ پر بجلی کی چمک اور بادل کی گرج نے ”خدا کے وہاں موجود [پیروسیا] ہونے کا اعلان کِیا۔“ ہیکل میں معجزانہ ظہور نے ”خدا کی موجودگی [پیروسیا] کو ظاہر کِیا۔“ الیشع کے خادم کو چاروں طرف رتھ دکھا کر، خدا نے ”اپنے خادم پر اپنی قوت اور موجودگی [پیروسیا] کا اظہار کِیا۔“ جب رومی اہلکار پیٹرونیایس نے یہودیوں کے جوشوولوے کو کم کرنے کی کوشش کی، تو جوزیفس بیان کرتا ہے کہ ’خدا نے بارش بھیجنے سے پیٹرونیایس پر اپنی موجودگی [پیروسیا] کا اظہار کِیا۔‘ جوزیفس نے [پیروسیا] کا اطلاق محض آنے یا عارضی آمد پر نہیں کِیا۔ اِسکا مطلب ایک مسلسل، حتیٰکہ نادیدہ، موجودگی سے تھا۔ (خروج ۲۰:۱۸-۲۱؛ ۲۵:۲۲؛ احبار ۱۶:۲؛ ۲-سلاطین ۶:۱۵-۱۷)—مقابلہ کریں اینٹیکیوٹیز آف دی جیوز، کتاب ۳، باب ۵، پیراگراف ۲ [۸۰]؛ باب ۸، پیراگراف ۵ [۲۰۲]؛ کتاب ۹، باب ۴، پیراگراف ۳ [۵۵]؛ کتاب ۱۸، باب ۸، پیراگراف ۶، [۲۸۴]۔
b اے کریٹیکل لیکسیکن اینڈ کانکورڈنس ٹو دی انگلش اینڈ گریک نیو ٹسٹامنٹ میں، ای. ڈبلیو۔ بولنگر اُجاگر کرتا ہے کہ پیروسیا کا مطلب ’ہونا یا موجود ہونا، لہٰذا، موجودگی، آمد ہے؛ آمد جس میں آنے کے بعد مستقل بودوباش کرنے کا خیال شامل ہے۔‘
c ایک ثبوت یہ ہے کہ اس میں عبرانی اصطلاح ”نام،“ ۱۹ مرتبہ، لکھا ہوا یا اختصار کی صورت میں، آتا ہے۔ پروفیسر ہاورڈ لکھتا ہے: ”مسیحی دستاویز میں ایک یہودی مناظر کی طرف سے حوالہشُدہ الہٰی نام کا پڑھا جانا حیرانکُن ہے۔ اگر یہ یونانی یا لاطینی مسیحی دستاویز کا عبرانی ترجمہ تھا تو کوئی شخص متن میں ایڈونائی [خداوند] دیکھنے کی توقع کریگا، نہ کہ ناقابلِبیان الہٰی نام وائیایچڈبلیوایچ کے لئے کوئی علامت نہیں۔ . . . اُس کے لئے ناقابلِبیان نام کا اضافہ کرنا ناقابلِتوجیہ بات ہے۔ ثبوت پُرزور استدلال کرتا ہے کہ شم-طوب نے متن کے اندر پہلے ہی سے موجود الہٰی نام سمیت اپنے متی کے مسودے کو حاصل کر لیا تھا اور غالباً اُس نے اسے خارج کرنے کا قصوروار بننے کا خطرہ مول لینے کی بجائے اسے بحال رکھا۔“ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز—وِید ریفرنسز مسیحی یونانی صحائف میں الہٰی نام کو استعمال کرنے کیلئے بطور حمایت شم-طوب کے متی (J2) کو استعمال کرتا ہے۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ جس طریقے سے بائبلیں متی ۲۴:۳ کو پیش کرتی ہیں اُنکے درمیان فرق دیکھنا کیوں اہم ہے؟
▫ پیروسیا کا کیا مطلب ہے اور یہ کیوں تشویش کا باعث ہے؟
▫ یونانی اور عبرانی میں متی ۲۴:۳ کے اندر کونسا ممکنہ مماثل موجود ہو سکتا ہے؟
▫ متی ۲۴ باب کو سمجھنے کیلئے ہمیں وقت کی بابت کس عنصر سے واقف ہونے کی ضرورت ہے؟