حادثات تقدیر یا حالات؟
جبکہ پرکشش نوجوان ماڈل، کرسٹینا، برازیل میں، ساؤ پالو کی مصروفترین نوی ڈی جلہو ایونیو کو پار کر رہی تھی تو اس نے آتی ہوئی بس کو نہ دیکھا۔ ڈرائیور نے اپنی گاڑی کو روکنے کی جان توڑ کوشش کی، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ کرسٹینا بس کے نیچے آکر مر گئی۔
یہ شدید حادثہ برازیلین اخبار او استادو دی ایس۔ پالو۔ (جولائی ۲۹، ۱۹۹۰) میں صفحہءاول کی خبر بن گیا۔ تاہم، یہ ان ۵۰،۰۰۰ ٹریفک کے حادثات میں سے محض ایک تھا جو کہ ہر سال برازیل میں رونما ہوتے ہیں۔ اور جبکہ کئی ہزاروں ایسے حادثوں کی بدولت معذور ہو جاتے ہیں، کئی دوسرے باکل صاف بچ جاتے ہیں۔ تو پھر، یہ نوجوان لڑکی کیوں نہ بچ سکی؟ کیا اسی دن مر جانا اس کا مقدر ہو چکا تھا؟
بیشمار لوگ یہی بحث کریں گے کہ یہ ایسے ہی ہونا تھا۔ وہ تقدیر پر یقین رکھتے ہیں، یعنی یہ کہ خاص واقعات، جیسے کسی کی موت کا وقت، پہلے سے معین ہوتے ہیں۔ اس اعتقاد نے اس طرح کے اظہارات کو جنم دیا ہے جیسے ”کوئی تقدیر کا مقابلہ نہیں کر سکتا،“ ”اس کا وقت پورا ہو گیا ہے،“ ”جو ہونا ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا۔“ کیا اس طرح کی مشہور کہاوتوں میں کوئی سچائی بھی پائی جاتی ہے؟ کیا ہم تقدیر کے ہاتھوں میں محض کٹپتلیوں کی طرح ہیں؟
تقدیر پر ایمان، یا یہ نظریہ کہ تمام واقعات کا پہلے ہی تعین ہو جاتا ہے، قدیم یونانیوں اور رومیوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ نظر یہ آج بھی بہتیرے مذاہب کے اندر مضبوطی سے قائم ہے۔ مثال کے طور پر، اسلام، قرآن کے ان الفاظ پر یقین کرتا ہے: ”کوئی بشر اللہ کی مرضی کے بغیر اور مقررہ وقت سے پہلے کبھی نہیں مر سکتا۔“ تقدیر پر ایمان مسیحیت کے اندر بھی کافی مقبول ہے اور اسے جان کیلون، کے سکھائے ہوئے تقدیر کے عقیدے نے بڑا فروغ دیا ہے۔ اس لیے، مذہبی راہنماؤں کا غمزدہ رشتہ داروں سے، یہ کہنا بڑا عام ہے کہ فلاں حادثہ ”خدا کی مرضی“ تھی۔
تاہم، یہ نظریہ کہ حادثات مقدر کا کھیل ہیں، فہم وفراست، تجربے، اور منطق کے برعکس ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ موٹر کار کے حادثے بمشکل ہی الہی مداخلت کا نتیجہ ہو سکتے ہیں کیونکہ جامع تفتیش عام طور پر ایک مکمل طور پر منطقی وجہ فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ، اعدادوشمار واضح طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مناسب احتیاط برتنے سے جیسے سیٹ بیلٹ کا پہننا بڑی حد تک مہلک حادثات کے رونما ہونے کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔ کیا کسی بھی طرح سے احتیاطی تدابیر خدا کی پہلے سے طےشدہ مرضی کو درحقیقت ناکام بنا سکتی ہیں؟
تاہم، تقدیر پر ایمان اس کے ماننے والے پر ناموافق اثر ڈالتا ہے۔ کیا یہ احمقانہ حرکات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، جیسے رفتار کی حدود اور ٹریفک کے اشاروں کو نظرانداز کرنا یا الکحل یا منشیات کے زیراثر گاڑی چلانا؟ اس سے بھی سنگین بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو جب کوئی حادثہ متأ ثر کرتا ہے تو تقدیر پر ایمان ان کو خدا پر الزام لگانے کی تحریک دیتا ہے۔ تقدیر پر ایمان بعض لوگوں کو خدا پر الزام لگانے کی تحریک دیتا ہے جب بھی کوئی حادثہ ان کو متأ ثر کرتا ہے۔ خفگی اور مایوسی کے احساس کے ساتھ، اور اس یقین کی وجہ سے کہ خدا ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، وہ ایمان بھی کھو سکتے ہیں۔ شاعر ایمرسن نے کیا ہی خوب کہا: ”ظالم قسمت یا تقدیر پر ایمان کا عنصر ہی زندگی کا تلخ ترین المیہ ہے۔“
لیکن بائبل بدبختیوں اور حادثات کی بابت کیا کہتی ہے؟ کیا یہ واقعی یہ تعلیم دیتی ہے کہ یہ سب کچھ قسمت کے کام ہیں؟ علاوہ ازیں، یہ ہماری نجات کے امکانات کی بابت کیا کہتی ہے؟ کیا اس معاملے میں ہمارا کوئی عملدخل ہے؟ (۳ ۱۰/۱۵ w۹۱)
[صفحہ 4 پر عبارت]
”ظالم قسمت یا تقدیر پر ایمان کا عنصر ہی زندگی کا تلخ ترین المیہ ہے۔“ رالف والڈو ایمرسن