یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏6 ص.‏ 26-‏31
  • خدا کا کلام پڑھیں اور راستی سے اُسکی خدمت کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کا کلام پڑھیں اور راستی سے اُسکی خدمت کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دائمی فوائد
  • سب کیلئے نہایت اہم
  • خدا کا کلام باآواز پڑھیں
  • مطالعہ کا موضوعاتی طریقہ
  • ہمیشہ سچائی میں چلیں
  • روزانہ کی بائبل پڑھائی سے فائدہ اُٹھانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • خود کو پڑھائی کیلئے وقف کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • شاہانہ نمونے کی پیروی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • بائبل درحقیقت جو کچھ ہے اُسے ویسے ہی قبول کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏6 ص.‏ 26-‏31

خدا کا کلام پڑھیں اور راستی سے اُسکی خدمت کریں

‏”‏اَے خداوند!‏ مجھکو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ مَیں تیری راستی میں چلونگا۔“‏—‏زبور ۸۶:‏۱۱‏۔‏

۱.‏ بنیادی طور پر، اس رسالے کے پہلے شمارے نے سچائی کی بابت کیا بیان کِیا تھا؟‏

یہوؔواہ نور اور سچائی بھیجتا ہے۔ (‏زبور ۴۳:‏۳‏)‏ وہ ہمیں اپنے کلام، بائبل، کو پڑھنے اور سچائی سیکھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے۔ اس جریدے کے پہلے شمارے—‏جولائی ۱۸۷۹—‏نے بیان کِیا:‏ ”‏زندگی کے جنگل میں ایک ننھے سے پھول کی مانند، سچائی کو دروغگوئی کے کانٹوں کی کثیر افزائش سے گھیر لیا جاتا یا تقریباً دبا دیا جاتا ہے۔ اگر آپ اسے حاصل کر لیتے ہیں تو آپکو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے۔ اگر آپ کو اس کی خوبصورتی کو دیکھنا ہے تو آپکو دروغگوئی کے کانٹوں اور تعصّب کی خاردار جھاڑیوں کو صاف کر دینا چاہئے۔ اگر آپ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے پانے کے لئے جھکنا پڑیگا۔ سچائی کے ایک ہی پھول پر قناعت نہ کریں۔ اگر ایک ہی کافی ہوتا تو اَور پیدا ہی نہ کئے جاتے۔ جمع کرتے رہیں، زیادہ کی تلاش کرتے رہیں۔“‏ خدا کے کلام کی پڑھائی اور مطالعہ ہمیں صحیح علم حاصل کرنے اور اُس کی راستی میں چلنے کے قابل بناتا ہے۔—‏زبور ۸۶:‏۱۱‏۔‏

۲.‏ قدیم یرؔوشلیم میں جب عزؔرا اور دیگر نے یہودیوں کے سامنے خدا کی شریعت کو پڑھا تو کیا واقع ہوا؟‏

۲ ۴۵۵ ق.‏س.‏ع.‏ میں یرؔوشلیم کی فصیلوں کی ازسرِنو تعمیر کے بعد، عزؔرا کاہن اور دیگر لوگوں نے یہودیوں کے سامنے خدا کی شریعت کو پڑھا۔ اسکے بعد پُرمسرت عیدِخیام ہوئی، گناہوں کا اعتراف کِیا گیا، اور ایک ”‏سچا عہد“‏ کرنے سے اسکا اختتام ہوا۔ (‏نحمیاہ ۸:‏۱–‏۹:‏۳۸‏)‏ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏اُنہوں نے اُس کتاب یعنی خدا کی شریعت میں سے صاف آواز سے پڑھا۔ پھر اُسکے معنی بتائے اور اُن کو عبارت سمجھا دی۔“‏ (‏نحمیاہ ۸:‏۸‏)‏ بعض کا خیال ہے کہ یہودی عبرانی اچھی طرح نہیں سمجھتے تھے اور اسلئے ارامی میں مفہوم کو بیان کِیا گیا تھا۔ لیکن اقتباس محض زبان‌دانی کی اصطلا‌حات کی وضاحت کا اشارہ نہیں کرتا۔ عزؔرا اور دیگر نے شریعت کی تشریح کی تاکہ لوگ اسکے اصولوں کو سمجھ سکیں اور اُنکا اطلاق کر سکیں۔ مسیحی مطبوعات اور اجلاس بھی خدا کے کلام کے ’‏معنی بیان کرنے‘‏ کا کام دیتے ہیں۔ مقررکردہ بزرگ بھی، جو ”‏تعلیم دینے کے لائق“‏ ہوتے ہیں، ایسا کرتے ہیں۔—‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۱، ۲؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۴‏۔‏

دائمی فوائد

۳.‏ بائبل پڑھائی سے حاصل ہونے والے بعض فوائد کیا ہیں؟‏

۳ جب مسیحی خاندان اکٹھے بائبل پڑھتے ہیں تو یقینی طور پر وہ دائمی فوائد کا تجربہ کرتے ہیں۔ وہ خدا کے قوانین سے واقف ہو جاتے ہیں اور عقائد، نبوّتی معاملات، اور دیگر موضوعات کی بابت سچائی سیکھتے ہیں۔ بائبل کا ایک حصہ پڑھ لینے کے بعد، گھرانے کا سردار پوچھ سکتا ہے:‏ یہ ہم پر کیسے اثرانداز ہوگا؟ کس طریقے سے یہ دیگر بائبل تعلیمات سے مربوط ہے؟ ہم ان نکات کو خوشخبری کی منادی کرنے میں کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ جب ایک خاندان بائبل پڑھائی کرتا ہے تو کافی بصیرت حاصل کرتا ہے بشرطیکہ وہ واچ‌ٹاور پبلیکیشنز انڈیکس یا دیگر انڈیکسوں کو استعمال کرتے ہوئے تحقیق کرتے ہیں۔ فوائد حاصل کرنے کیلئے انسائٹ آن دی سکرپچرز کی دونوں جِلدیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔‏

۴.‏ یشوع ۱:‏۸ میں درج ہدایت کا یشوؔع نے کیسے اطلاق کرنا تھا؟‏

۴ صحائف سے حاصل ہونے والے اصول زندگی میں ہماری راہنمائی کر سکتے ہیں۔ مزیدبرآں، ’‏پاک نوشتوں‘‏ کی پڑھائی اور مطالعہ کرنا ’‏ہمیں نجات کیلئے دانائی بخش سکتا ہے۔‘‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۵‏)‏ اگر ہم خدا کے کلام کو اپنی راہنمائی کرنے دیتے ہیں تو ہم اُسکی سچائی میں چلتے رہینگے اور ہماری درست خواہشات پوری ہونگی۔ (‏زبور ۲۶:‏۳؛‏ ۱۱۹:‏۱۳۰‏)‏ تاہم، ہمیں موسیٰؔ کے جانشین، یشوؔع کی طرح فہم کے خواہاں ہونے کی ضرورت ہے۔ ”‏شریعت کی کتاب“‏ کو اُسکے مُنہ سے علیٰحدہ نہیں ہونا تھا، اور اُسے دن اور رات اِسے پڑھنا تھا۔ (‏یشوع ۱:‏۸)‏ ”‏شریعت کی کتاب“‏ کو مُنہ سے علیٰحدہ نہ ہونے دینے کا مطلب یہ تھا کہ یشوؔع نے روشن‌خیالی عطا کرنے والی ان باتوں کی بابت دوسروں کو بتانے سے باز نہیں آنا تھا جو اس نے بیان کی تھیں۔ دن اور رات شریعت کو پڑھنے کا مطلب تھا کہ یشوؔع نے اس پر سوچ‌بچار کرنا، اسکا مطالعہ کرنا تھا۔ اسی طرح پولسؔ رسول نے تیمتھیسؔ کو اپنے چال‌چلن، خدمتگزاری، اور تعلیم کی ”‏فکر“‏ رکھنے—‏سوچ‌بچار کرنے—‏کی تاکید کی۔ ایک مسیحی بزرگ کی حیثیت سے، تیمتھیسؔ کو بالخصوص محتاط رہنے کی ضرورت تھی کہ اُسکی زندگی مثالی ہو اور یہ کہ وہ صحیفائی سچائی کی تعلیم دے۔—‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۵‏۔‏

۵.‏ اگر ہم نے خدا کی سچائی کو حاصل کرنا ہے تو کیا درکار ہے؟‏

۵ خدا کی سچائی ایک انمول خزانہ ہے۔ اسے حاصل کرنا صحائف کی کھدائی، متواتر تحقیق کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ عظیم مُعلم کے معصوم صفت شاگردوں کے طور پر ہم حکمت حاصل کرتے ہیں اور یہوؔواہ کے مؤدبانہ خوف کو سمجھنے لگتے ہیں۔ (‏امثال ۱:‏۷؛‏ یسعیاہ ۳۰:‏۲۰، ۲۱‏)‏ بِلاشُبہ، ہمیں صحیفائی طور پر، چیزوں کو پرکھنا چاہئے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱، ۲‏)‏ بیرؔیہ کے یہودی ”‏تھسلنیکےؔ کے یہودیوں سے نیک ذات تھے کیونکہ اُنہوں نے بڑے شوق سے کلام کو قبول کِیا اور روزبروز کتابِ‌مُقدس میں تحقیق کرتے تھے کہ آیا [‏پولس کی کہی ہوئی]‏ یہ باتیں اسی طرح ہیں۔“‏ اُس نے ملامت کرنے کی بجائے ایسا کرنے کیلئے بیرؔیہ کے لوگوں کی تعریف کی۔—‏اعمال ۱۷:‏۱۰، ۱۱‏۔‏

۶.‏ یسوؔع کیوں یہ دلالت کر سکتا تھا کہ صحائف کی تحقیق نے بعض یہودیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا تھا؟‏

۶ یسوؔع نے بعض یہودیوں کو بتایا:‏ ”‏تم کتابِ‌مُقدس میں ڈھونڈتے ہو کیونکہ سمجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زندگی تمہیں ملتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔ پھربھی تم زندگی پانے کے لئے میرے پاس آنا نہیں چاہتے۔“‏ (‏یوحنا ۵:‏۳۹، ۴۰‏)‏ اُنہوں نے صحیح نظریے کیساتھ صحائف کی تحقیق کی یعنی یہ اُنکی زندگی کی طرف راہنمائی کر سکتے تھے۔ یقیناً، صحائف میں وہ مسیحائی پیشینگوئیاں شامل تھیں جنہوں نے زندگی کے وسیلے کے طور پر یسوؔع کی نشاندہی کی تھی۔ لیکن یہودیوں نے اُسے رد کر دیا۔ اسلئے، صحائف کی تحقیق کرنے کا اُنہیں کچھ فائدہ نہ ہوا۔‏

۷.‏ بائبل کی سمجھ میں ترقی کرنے کیلئے کس چیز کی ضرورت ہے، اور کیوں؟‏

۷ بائبل کی اپنی سمجھ کو بڑھانے کیلئے، ہمیں خدا کی روح، یا سرگرم قوت کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ ”‏روح سب باتیں بلکہ خدا کی تہ کی باتیں بھی دریافت کر لیتا ہے“‏ تاکہ اُن کے معنی بیان کرے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۰‏)‏ تھسلنیکےؔ کے مسیحیوں کو اُن پیشینگوئیوں کی ”‏سب باتوں کو [‏آزمانا]‏“‏ تھا جو اُنہوں نے سنی تھیں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۲۰، ۲۱‏)‏ جب پولسؔ نے تھسلنیکیوں کو (‏تقریباً ۵۰ س.‏ع.‏ میں)‏ خط لکھا تو یونانی صحائف کا تحریرشُدہ دستیاب حصہ صرف متیؔ کی انجیل تھی۔ لہٰذا تھسلنیکےؔ اور بیرؔیہ کے لوگ غالباً عبرانی صحائف کے یونانی سپچوجنٹ میں سے جانچ‌پڑتال کر کے، سب باتوں کا یقین کر سکتے تھے۔ اُنہیں صحائف کو پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی ضرورت تھی، اور اسی طرح ہمیں بھی ہے۔‏

سب کیلئے نہایت اہم

۸.‏ مقررشُدہ بزرگوں کو بائبل علم میں فضیلت کیوں حاصل ہونی چاہئے؟‏

۸ مقررشُدہ بزرگوں کو بائبل علم میں فضیلت رکھنی چاہئے۔ اُنہیں ”‏تعلیم دینے کے لائق“‏ ہونا چاہئے اور ’‏ایمان کے کلام کو مضبوطی سے تھامے‘‏ رہنا چاہئے۔ نگہبان تیمتھیسؔ کو ’‏حق کے کلام کو درستی سے عمل میں لانا‘‏ تھا۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۲؛‏ ططس ۱:‏۹؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۵‏)‏ اگرچہ اُسکا باپ ایک بے‌ایمان شخص تھا، اُسکے دل میں ’‏بے‌ریا ایمان‘‏ کو نقش کرتے ہوئے، اُسکی ماں، یونیکےؔ، اور اُسکی نانی لوئیسؔ نے بچپن سے اُسے پاک نوشتوں کی تعلیم دی تھی۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۵؛‏ ۳:‏۱۵‏)‏ ایماندار والدوں کو ”‏خداوند میں تربیت اور نصیحت دے دے کر“‏ اپنی اولاد کی پرورش کرنا ہے اور بالخصوص بزرگوں کو ایسے کرنا چاہئے جو ایسے ’‏ایماندار بچوں‘‏ کے باپ ہیں ’‏جو بدچلنی یا سرکشی کے الزام سے پاک ہیں۔‘‏ (‏افسیوں ۶:‏۴؛‏ ططس ۱:‏۶‏)‏ پس، ہمارے حالات سے قطع‌نظر، ہمیں خدا کے کلام کو پڑھنے، مطالعہ کرنے، اور اطلاق کرنے کی ضرورت کو بہت سنجیدہ خیال کرنا چاہئے۔‏

۹.‏ ساتھی مسیحیوں کی رفاقت میں بائبل کا مطالعہ کیوں کریں؟‏

۹ ہمیں ہم‌ایمانوں کی رفاقت میں بھی بائبل کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ پولسؔ چاہتا تھا کہ تھسلنیکےؔ کے مسیحی ایک دوسرے کیساتھ اُسکی مشورت پر گفتگو کریں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۸‏)‏ سچائی کی بابت اپنی سمجھ کو تیز کرنے کیلئے، اس سے بہتر طریقہ اَور کوئی نہیں کہ صحائف کی جانچ کرنے میں دیگر وفاشعار طالبعلموں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ یہ مثل سچ ہے:‏ ”‏جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چہرہ کی آب اُسی سے ہے۔“‏ (‏امثال ۲۷:‏۱۷‏)‏ لوہے کا ہتھیار زنگ‌آلود ہو سکتا ہے اگر اسے استعمال اور تیز نہ کِیا جائے۔ اسی طرح، ہمیں باقاعدگی سے ملنے اور اُس علم کو بانٹتے ہوئے ایک دوسرے کو تیز کرنے کی ضرورت ہے جسے ہم نے خدا کے کلام کی سچائی کو پڑھنے، مطالعہ کرنے، اور اُس پر سوچ‌بچار کرنے سے حاصل کِیا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ مزیدبرآں، یہ اس بات کا یقین کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ ہم روحانی نور کی کرنوں سے مستفید ہوتے ہیں۔—‏زبور ۹۷:‏۱۱؛‏ امثال ۴:‏۱۸‏۔‏

۱۰.‏ سچائی میں چلنے کا کیا مطلب ہے؟‏

۱۰ صحائف کے اپنے مطالعے میں ہم موزوں طور پر خدا سے دُعا کر سکتے ہیں جیسے‌کہ زبورنویس نے کی تھی:‏ ”‏اپنے نور اور اپنی سچائی کو بھیج۔ وہی میری رہبری کریں۔“‏ (‏زبور ۴۳:‏۳‏)‏ اگر ہم خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو ہمیں اُسکی راستی میں چلنا چاہئے۔ (‏۳-‏یوحنا ۳، ۴‏)‏ اس میں اُسکے تقاضوں پر پورا اُترنا اور ایمانداری اور خلوص سے اُسکی خدمت کرنا شامل ہے۔ (‏زبور ۲۵:‏۴، ۵؛‏ یوحنا ۴:‏۲۳، ۲۴‏)‏ جیساکہ اُسکے پاک کلام میں آشکارا کِیا گیا ہے اور ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کی مطبوعات سے عیاں ہے، ہمیں راستی سے یہوؔواہ کی خدمت کرنی چاہئے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ اس کیلئے صحائف کا صحیح علم درکار ہے۔ لہٰذا، ہمیں خدا کے کلام کی پڑھائی اور مطالعہ کیسے کرنا چاہئے؟ کیا ہمیں اسکی پڑھائی پیدایش ۱ باب، ۱ آیت سے شروع کرکے، ساری ۶۶ کتابوں تک کرنی چاہئے؟ جی‌ہاں، ہر مسیحی کو جسکے پاس مکمل بائبل اپنی زبان میں موجود ہے اسے پیدایش سے مکاشفہ تک پڑھنا چاہئے۔ اور بائبل اور مسیحی مطبوعات کو پڑھنے میں ہمارا مقصد خدا کی طرف سے ’‏دیانتدار نوکر‘‏ کے ذریعے فراہم‌کردہ صحیفائی سچائی کی بڑی مقدار کی بابت اپنی سمجھ میں اضافہ کرنا ہونا چاہئے۔‏

خدا کا کلام باآواز پڑھیں

۱۱، ۱۲.‏ اجلاسوں پر بائبل کا باآواز پڑھا جانا کیوں فائدہ‌مند ہے؟‏

۱۱ جب ہم تنہا ہوں تو ہم خاموشی سے پڑھ سکتے ہیں۔ تاہم، قدیم وقتوں میں، ذاتی پڑھائی بآواز کی جاتی تھی۔ جب ایتھیوؔپیا کا خواجہ‌سرا اپنے رتھ پر سوار جا رہا تھا تو مبشر فلپسؔ نے اُسے یسعیاؔہ کی پیشینگوئی میں سے پڑھتے ہوئے سنا۔ (‏اعمال ۸:‏۲۷-‏۳۰‏)‏ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ”‏پڑھنا“‏ کِیا گیا ہے اُسکا بنیادی مطلب ”‏پکارنا“‏ ہے۔ لہٰذا وہ جو پہلے ہی خاموشی سے پڑھنے اور پڑھائی کی سمجھ حاصل کرنے کے قابل نہیں اُنہیں اونچی آواز میں ہر لفظ کا تلفظ کرنے سے روکنا نہیں چاہئے۔ اوّلین چیز خدا کے تحریری کلام کی پڑھائی سے سچائی سیکھنا ہے۔‏

۱۲ مسیحی اجلاسوں پر بائبل کا باآواز پڑھا جانا فائدہ‌مند ہے۔ پولسؔ نے اپنے ہمخدمت تیمتھیسؔ کو تاکید کی:‏ ”‏پڑھنے [‏”‏دوسروں کے سامنے پڑھنے،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اور نصیحت کرنے اور تعلیم دینے کی طرف متوجہ رہ۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۳‏)‏ پولسؔ نے کلسیوں کو بتایا:‏ ”‏جب یہ خط تم میں پڑھ لیا جائے تو ایسا کرنا کہ لوؔدیکیہ کی کلیسیا میں بھی پڑھا جائے اور اُس خط کو جو لوؔدیکیہ سے آئے تم بھی پڑھنا۔“‏ (‏کلسیوں ۴:‏۱۶‏)‏ اور مکاشفہ ۱:‏۳ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اس نبوّت کی کتاب کا پڑھنے والا [‏”‏باآواز پڑھنے والا،“‏]‏ اور اُس کے سننے والے اور جوکچھ اس میں لکھا ہے اُس پر عمل کرنے والے مبارک ہیں کیونکہ وقت نزدیک ہے۔“‏ اس لئے، ایک عوامی مقرر کو چاہئے کہ جوکچھ وہ کلیسیا کے سامنے بیان کرتا ہے اُس کی حمایت کے لئے بائبل سے آیات پڑھے۔‏

مطالعہ کا موضوعاتی طریقہ

۱۳.‏ بائبل سچائیاں سیکھنے کا سب سے زیادہ ترقی‌پسندانہ طریقہ کونسا ہے، اور کونسی چیز صحائف کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

۱۳ موضوعاتی مطالعہ صحیفائی سچائیوں کو سیکھنے کا نہایت ترقی‌پسندانہ طریقہ ہے۔ بامعنی اشاریے، بائبل الفاظ کی کتاب، باب، اور آیت کے مطابق اُنکے سیاق‌وسباق کے لحاظ سے ابجدی ترتیب سے فہرست بنانا، خاص موضوع سے متعلق آیات کو تلاش کرنا آسان بناتا ہے۔ اور ایسے صحائف ایکدوسرے کیساتھ ہم‌آہنگ کئے جا سکتے ہیں کیونکہ بائبل کا مصنف اپنی تردید نہیں کرتا۔ روح‌القدس کی مدد سے، اُس نے ۱۶ صدیوں سے زیادہ عرصے میں بائبل کو تحریر کرنے کیلئے کوئی ۴۰ اشخاص کو الہام بخشا، اور موضوعاتی طور پر اسکا مطالعہ کرنا سچائی کو سیکھنے کا ایک آزمودہ طریقہ ہے۔‏

۱۴.‏ کیوں عبرانی اور مسیحی یونانی صحائف کا اکٹھے مطالعہ کریں؟‏

۱۴ بائبل سچائی کیلئے ہماری قدردانی کو ہمیں عبرانی صحائف کیساتھ مسیحی یونانی صحائف کو پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی تحریک دینی چاہئے۔ یہ اس بات کو ظاہر کریگا کہ یونانی صحائف کیسے خدا کے مقصد سے منسلک ہیں اور عبرانی صحائف کی پیشینگوئیوں پر روشنی ڈالیگا۔ (‏رومیوں ۱۶:‏۲۵-‏۲۷؛‏ افسیوں ۳:‏۴-‏۶؛‏ کلسیوں ۱:‏۲۶‏)‏ اس سلسلے میں نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز بہت مددگار ہے۔ اسے خدا کے مخصوص‌شُدہ خادموں نے تیار کِیا جنہوں نے بائبل کے اصلی متن اور اسکے پس‌منظر اور محاوراتی اصطلا‌حات کے متعلق دستیاب اضافی علم سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ بائبل مطالعے کی امدادی کُتب بھی نہایت اہم ہیں جو یہوؔواہ نے ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کے ذریعے فراہم کر رکھی ہیں۔‏

۱۵.‏ آپ کیسے ثابت کرینگے کہ بائبل میں اِدھراُدھر سے حوالہ دینا موزوں ہے؟‏

۱۵ بعض شاید کہیں، ’‏آپ کی مطبوعات بائبل سے ہزاروں حوالے پیش کرتی ہیں، لیکن آپ انہیں اِدھراُدھر سے کیوں لیتے ہیں؟‘‏ بائبل کی ۶۶ کتابوں میں سے اِدھراُدھر سے حوالے دینے سے، مطبوعات تعلیم کی صداقت کو ثابت کرنے کیلئے کئی مُلہَم گواہوں پر توجہ مبذول کراتی ہیں۔ خود یسوؔع نے تعلیم دینے کے اس طریقے کو استعمال کِیا۔ جب اُس نے اپنا پہاڑی وعظ پیش کیا تو اُس نے عبرانی صحائف سے ۲۱ حوالہ‌جات پیش کئے۔ اس تقریر میں خروج سے تین، احبار سے دو، گنتی سے ایک، استثنا سے چھ، دوسرا سلاطین سے ایک، زبور سے ۴، یسعیاہ سے تین، اور یرمیاہ سے ایک حوالہ شامل ہے۔ ایسا کرنے سے، کیا یسوؔع ’‏محض کچھ بھی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا‘‏؟ نہیں، کیونکہ ’‏اُس نے صاحبِ‌اختیار کی طرح تعلیم دی، نہ کہ فقیہوں کی طرح۔‘‏ ایسا اسلئے تھا کیونکہ یسوؔع نے خدا کے تحریری کلام کی مستند تحریر سے اپنی تعلیم کی پُشت‌پناہی کی۔ (‏متی ۷:‏۲۹‏)‏ اسی طرح پولسؔ رسول نے بھی کِیا۔‏

۱۶.‏ رومیوں ۱۵:‏۷-‏۱۳ میں پولسؔ نے کونسے صحیفائی اقتباسات پیش کئے؟‏

۱۶ رومیوں ۱۵:‏۷-‏۱۳ میں پائے جانے والے صحیفائی اقتباس میں، پولسؔ نے عبرانی صحائف کے تین حصوں—‏شریعت، انبیاء، اور مزامیر—‏سے حوالہ دیا۔ اُس نے ظاہر کِیا کہ یہودی اور غیریہودی خدا کی تمجید کرینگے، اور اسلئے مسیحیوں کو تمام قوموں کے لوگوں کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔ پولسؔ نے کہا:‏ ”‏جس طرح مسیح نے خدا کے جلال کیلئے تم کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے اُسی طرح تم بھی ایک دوسرے کو شامل کر لو۔ مَیں کہتا ہوں کہ مسیح خدا کی سچائی ثابت کرنے کے لئے مختونوں کا خادم بنا تاکہ اُن وعدوں کو پورا کرے جو باپ دادا سے کئے گئے تھے۔ اور غیرقومیں بھی رحم کے سبب سے خدا کی حمد کریں۔ چنانچہ [‏زبور ۱۸:‏۴۹ میں]‏ لکھا ہے کہ اس واسطے مَیں قوموں میں تیرا اقرار کرونگا اور تیرے نام کے گیت گاؤنگا۔ اور پھر وہ [‏استثنا ۳۲:‏۴۳ میں]‏ فرماتا ہے کہ اَے قومو!‏ اُسکی اُمت کے ساتھ خوشی کرو۔ پھر [‏زبور ۱۱۷:‏۱ میں]‏ یہ کہ اَے قومو!‏ سب خداوند کی حمد کرو اور سب اُمتیں اُسکی ستایش کریں۔ اور یسعیاؔہ پھر [‏۱۱:‏۱، ۱۰ میں]‏ کہتا ہے کہ’‏ یسیؔ کی جڑ ظاہر ہوگی یعنی وہ شخص جو غیرقوموں پر حکومت کرنے کو اُٹھیگا اُسی سے غیرقومیں اُمید رکھینگی۔ پس خدا جو اُمید کا چشمہ ہے تمہیں ایمان رکھنے کے باعث ساری خوشی اور اطمینان سے معمور کرے تاکہ روح‌القدس کی قدرت سے تمہاری اُمید زیادہ ہوتی جائے۔“‏ اس موضوعاتی طریقے سے، پولسؔ نے واضح کِیا کہ بائبل سچائیوں کو استوار کرنے کے لئے صحائف کا حوالہ کیسے دیں۔‏

۱۷.‏ کس نمونے کی مطابقت میں مسیحی پوری بائبل میں سے اِدھراُدھر سے حوالہ دیتے ہیں؟‏

۱۷ پطرؔس رسول کے پہلے خط میں شریعت، انبیاء، اور مزامیر کی دس کتابوں میں سے ۳۴ حوالہ‌جات درج ہیں۔ اپنے دوسرے خط میں پطرؔس تینوں کتابوں سے چھ مرتبہ حوالہ دیتا ہے۔ متی کی انجیل میں پیدایش تا ملاکی سے ۱۲۲ حوالہ‌جات ہیں۔ یونانی صحائف کی ۲۷ کتابوں میں، پیدایش تا ملاکی سے ۳۲۰ براہِ‌راست اقتباس پیش کئے گئے ہیں نیز عبرانی صحائف سے دیگر سینکڑوں حوالے موجود ہیں۔ یسوؔع کے قائم‌کردہ نمونے اور اُسکے رسولوں کی پیروی کی مطابقت میں، جب دورِحاضر کے مسیحی کسی صحیفائی مضمون کا موضوعاتی مطالعہ کرتے ہیں تو وہ پوری بائبل میں سے اِدھراُدھر سے حوالہ دیتے ہیں۔ یہ بالخصوص اس ”‏اخیر زمانہ“‏ میں موزوں ہے، جبکہ عبرانی اور یونانی صحائف میں سے زیادہ‌تر تکمیل پا رہے ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏)‏ ’‏دیانتدار نوکر‘‏ اپنی مطبوعات میں بائبل کا ایسا استعمال کرتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی خدا کے کلام میں گھٹاتابڑھاتا نہیں۔—‏امثال ۳۰:‏۵، ۶؛‏ مکاشفہ ۲۲:‏۱۸، ۱۹‏۔‏

ہمیشہ سچائی میں چلیں

۱۸.‏ کیوں ’‏سچائی میں چلیں‘‏؟‏

۱۸ ہمیں بائبل سے کوئی بھی چیز نکالنا نہیں چاہئے، کیونکہ خدا کے کلام میں تمام مسیحی تعلیمات ”‏سچائی“‏ یا ”‏خوشخبری کی سچائی“‏ موجود ہیں۔ اس سچائی سے وابستگی—‏اس پر ”‏چلنا“‏—‏نجات کے لئے نہایت اہم ہے۔ (‏گلتیوں ۲:‏۵؛‏ ۲-‏یوحنا ۴؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۳، ۴‏)‏ چونکہ مسیحیت ”‏راہِ‌حق“‏ ہے اس لئے اس کے مفادات کو فروغ دینے میں دوسروں کی مدد کرنے سے، ہم ”‏حق .‏ .‏ .‏ میں .‏ .‏ .‏ ہمخدمت“‏ بن جاتے ہیں۔—‏۲-‏پطرس ۲:‏۲؛‏ ۳-‏یوحنا ۸‏۔‏

۱۹.‏ ہم کیسے ”‏حق پر چلتے“‏ رہ سکتے ہیں؟‏

۱۹ اگر ہمیں ”‏حق پر چلتے“‏ رہنا ہے تو ہمیں بائبل کو پڑھنا اور اپنے لئے وہ روحانی مدد حاصل کرنی چاہئے جو خدا ’‏دیانتدار نوکر‘‏ کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔ (‏۳-‏یوحنا ۴‏)‏ دُعا ہے کہ ہم اپنے فائدے کیلئے اور یہوؔواہ خدا، یسوؔع مسیح، اور الہٰی مقصد کی بابت دوسروں کو تعلیم دینے کی حالت میں ہونے کیلئے ایسا کریں۔ اور آئیے شکرگزار ہوں کہ یہوؔواہ کی روح اُسکے کلام کو سمجھنے اور سچائی سے اُسکی خدمت کرنے میں کامیاب ہونے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے۔ (‏۱۵ ۰۵/۱۵ w۹۶)‏

آپکے جوابات کیا ہیں؟‏

▫ بائبل پڑھائی کے بعض دائمی فوائد کیا ہیں؟‏

▫ ساتھی مسیحیوں کی رفاقت میں بائبل کا مطالعہ کیوں کریں؟‏

▫ پوری بائبل میں سے مختلف جگہوں سے حوالہ پیش کرنا کیوں موزوں ہے؟‏

▫ ’‏سچائی میں چلنے‘‏ کا کیا مطلب ہے، اور ہم ایسا کسطرح کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

والدین، اپنے بچوں کو صحائف کی تعلیم دیں

‏[‏تصویر]‏

اپنے پہاڑی وعظ میں، یسوؔع نے عبرانی صحائف کے مختلف حصوں سے اقتباس پیش کئے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں