یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏6 ص.‏ 21-‏26
  • خود کو پڑھائی کیلئے وقف کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خود کو پڑھائی کیلئے وقف کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏پڑھنے والا .‏ .‏ .‏ مبارک“‏ ہے
  • مستعدی سے سوچیں اور غوروخوض کریں
  • نئے نکات کو پُرانوں کیساتھ ملائیں
  • صحیفائی واقعات کا تصور کریں
  • انمول اسباق سیکھنا
  • بطور خاندان بائبل پڑھنے سے مستفید ہوں
  • پڑھائی اور مسیحی خدمتگزاری
  • روزانہ کی بائبل پڑھائی سے فائدہ اُٹھانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • بائبل پڑھائی—‏بااجر اور پُرلطف
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ‏’‏زندگی کے کلام‘‏ پر قائم رہیں
    سچے خدا کی عبادت کریں
  • آپ بائبل سے بھرپور فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏6 ص.‏ 21-‏26

خود کو پڑھائی کیلئے وقف کریں

‏”‏جب تک مَیں نہ آؤں پڑھنے اور نصیحت کرنے اور تعلیم دینے کی طرف متوجہ رہ۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۳‏۔‏

۱.‏ ہم بائبل پڑھنے سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟‏

یہوؔواہ خدا نے نوعِ‌انسان کو پڑھنا اور لکھنا سیکھنے کی حیرت‌انگیز صلاحیت سے نوازا ہے۔ اُس نے اپنا کلام، بائبل، بھی فراہم کِیا ہے تاکہ ہم خوب تعلیم حاصل کر سکیں۔ (‏یسعیاہ ۳۰:‏۲۰، ۲۱‏)‏ علامتی طور پر، اسکے صفحات ہمیں اؔبرہام، اضحاؔق، اور یعقوؔب جیسے خداترس آبائی بزرگوں کیساتھ ساتھ ”‏چلنے“‏ کے قابل بناتے ہیں۔ ہم ساؔرہ، رِؔبقہ، اور وفادار موآبی رؔوت جیسی خداپرست عورتوں کو ”‏دیکھ“‏ سکتے ہیں۔ جی‌ہاں، اور ہم یسوؔع مسیح کو اپنا پہاڑی وعظ پیش کرتے ہوئے ”‏سُن“‏ سکتے ہیں۔ اگر ہم اچھے قارئین ہیں تو پاک صحائف سے یہ ساری خوشی اور عظیم تعلیم ہماری ہو سکتی ہے۔‏

۲.‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یسوؔع اور اُسکے رسول اچھی طرح پڑھ سکتے تھے؟‏

۲ بِلاشُبہ، کامل انسان یسوؔع مسیح پڑھائی کی عمدہ لیاقت رکھتا تھا، اور یقینی طور پر وہ عبرانی صحائف سے بخوبی واقف تھا۔ اسلئے، جب ابلیس سے آزمایا گیا تو یسوؔع نے بارہا انکا حوالہ دیا اور کہا، ”‏لکھا ہے۔“‏ (‏متی ۴:‏۴،‏ ۷،‏ ۱۰‏)‏ ایک موقعہ پر ناؔصرۃ کے عبادتخانہ میں، اُس نے عوام کے سامنے یسعیاؔہ کی پیشینگوئی کا ایک اقتباس پڑھا اور خود پر اطلاق کِیا۔ (‏لوقا ۴:‏۱۶-‏۲۱‏)‏ یسوؔع کے رسولوں کی بابت کیا ہے؟ اپنی تحریروں میں، اُنہوں نے اکثر عبرانی صحائف سے حوالہ دیا۔ اگرچہ یہودی حکام پطرؔس اور یوؔحنا کو اَن‌پڑھ اور معمولی خیال کرتے تھے کیونکہ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم کے عبرانی مدارس میں تعلیم نہیں پائی تھی، اُنکے الہٰی طور پر مُلہَم خطوط واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح پڑھ اور لکھ سکتے تھے۔ (‏اعمال ۴:‏۱۳‏)‏ لیکن کیا پڑھنے کی لیاقت واقعی اہم ہے؟‏

‏”‏پڑھنے والا .‏ .‏ .‏ مبارک“‏ ہے

۳.‏ صحائف اور مسیحی مطبوعات کو پڑھنا اسقدر اہم کیوں ہے؟‏

۳ صحائف کا درست علم حاصل کرنا اور اسکا اطلاق کرنا ابدی زندگی پر منتج ہو سکتا ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ اسلئے یہوؔواہ کے گواہ جانتے ہیں کہ پاک صحائف اور ممسوح مسیحیوں کی دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کے ذریعے خدا کی طرف سے مہیاکردہ مسیحی مطبوعات کا پڑھنا اور مطالعہ کرنا نہایت اہم ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ درحقیقت، خاص طور پر مرتب‌کردہ واچ‌ٹاور مطبوعات کو استعمال کرنے سے، ہزاروں لوگوں کو پڑھنااور یوں خدا کے کلام کازندگی‌بخش علم حاصل کرنا سکھایا گیا ہے۔‏

۴.‏ (‏ا)‏ خدا کے کلام کو پڑھنے، مطالعہ کرنے، اور اطلاق کرنے سے کیوں خوشی حاصل ہوتی ہے؟ (‏ب)‏ پڑھائی کے سلسلے میں، پولسؔ نے تیمتھیسؔ سے کیا کہا؟‏

۴ خدا کے کلام کا پڑھنا، مطالعہ کرنا، اور عائد کرنا خوشی کا باعث بنتا ہے۔ یہ اسلئے ہے کیونکہ اسطرح ہم خدا کو خوش کرتے اور اُسکا احترام کرتے ہیں، اُسکی برکت حاصل کرتے اور شادمانی کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہوؔواہ چاہتا ہے کہ اُسکے خادم خوش ہوں۔ پس، اُس نے کاہنوں کو قدیم اسرائیل کی قوم کے سامنے اپنی شریعت پڑھنے کا حکم دیا۔ (‏استثنا ۳۱:‏۹-‏۱۲)‏ جب عزؔرا فقیہ اور دیگر نے یرؔوشلیم میں جمع ہونے والے لوگوں کے سامنے شریعت کو پڑھا تو اسکے مفہوم کو واضح کِیا گیا، اور نتیجہ ”‏بڑی خوشی“‏ ہوا۔ (‏نحمیاہ ۸:‏۶-‏۸،‏ ۱۲‏)‏ مسیحی رسول پولسؔ نے بعد میں اپنے ہمخدمت تیمتھیسؔ کو بتایا:‏ ”‏جب تک مَیں نہ آؤں پڑھنے اور نصیحت کرنے اور تعلیم دینے کی طرف متوجہ رہ۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۳‏)‏ ایک دوسرا ترجمہ اس طرح پڑھا جاتا ہے:‏ ”‏صحائف کی عوامی پڑھائی کیلئے خود کو وقف کر دے۔“‏—‏نیو انٹرنیشنل ورشن۔‏

۵.‏ مکاشفہ ۱:‏۳ خوشی کو پڑھائی سے کیسے جوڑتی ہے؟‏

۵ مکاشفہ ۱:‏۳ میں واضح کِیا گیا ہے کہ ہماری خوشی کا انحصار خدا کا کلام پڑھنے اور عائد کرنے پر ہے۔ وہاں ہمیں بتایا گیا ہے:‏ ”‏اِس نبوّت کی کتاب کا پڑھنے والا اُسکے سننے والے اور جوکچھ اِس میں لکھا ہے اُس پر عمل کرنے والے مبارک ہیں۔“‏ جی‌ہاں، ہمیں مکاشفہ اور تمام صحائف میں خدا کے نبوّتی الفاظ کو پڑھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت مبارک آدمی وہ ہے جسکی ”‏خداوند کی شریعت میں .‏ .‏ .‏ خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دن رات اُسکا دھیان رہتا [‏”‏اُسکو باآواز پڑھتا،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہے۔“‏ نتیجہ؟ ”‏جوکچھ وہ کرے بارور ہوگا۔“‏ (‏زبور ۱:‏۱-‏۳‏)‏ اسلئے، اچھی وجوہ ہی سے، یہوؔواہ کی تنظیم ہم میں سے ہر ایک کی اُسکے کلام کو انفرادی طور پر، خاندانوں کے طور پر، اور دوست‌واحباب کیساتھ ملکر پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی تاکید کرتی ہے۔‏

مستعدی سے سوچیں اور غوروخوض کریں

۶.‏ یشوؔع کو کیا پڑھنے کی ہدایت کی گئی تھی، اور یہ کیسے فائدہ‌مند تھا؟‏

۶ آپ خدا کے کلام اور مسیحی مطبوعات کی اپنی پڑھائی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ قدیم اسرائیل کے ایک خداترس پیشوا، یشوؔع نے جوکچھ کِیا غالباً آپ وہی کچھ کرنا مفید پائینگے۔ اُسے حکم دیا گیا تھا:‏ ”‏شریعت کی یہ کتاب تیرے مُنہ سے نہ ہٹے بلکہ تجھے دن اور رات اسی کا دھیان ہو [‏”‏تُو دن اور رات باآواز اسے ضرور پڑھنا،“‏ این‌ڈبلیو]‏ تاکہ جوکچھ اس میں لکھا ہے اُس پر تُو احتیاط کر کے عمل کر سکے کیونکہ تب ہی تجھے اقبالمندی کی راہ نصیب ہوگی اور تُو خوب کامیاب ہوگا۔“‏ (‏یشوع ۱:‏۸)‏ ’‏باآواز پڑھائی‘‏ کا مطلب ہلکی آواز میں خود سے باتیں کرنا ہے۔ یاد کرنے کیلئے یہ ایک مدد ہے، کیونکہ یہ مواد کو ذہن میں نقش کر دیتی ہے۔ یشوؔع کو ”‏دن اور رات،“‏ یا باقاعدگی سے خدا کی شریعت پڑھنا تھی۔ یہ خداداد ذمہ‌داریوں کو دانشمندی سے پورا کرنے اور کامیاب ہونے کا طریقہ تھا۔ خدا کے کلام کی ایسی ہی باقاعدہ پڑھائی اسی طرح آپکی بھی مدد کر سکتی ہے۔‏

۷.‏ جب ہم خدا کے کلام کو پڑھتے ہیں تو ہمیں تیزرفتاری کے نظریے کو غالب آنے کی اجازت کیوں نہیں دینی چاہئے؟‏

۷ خدا کے کلام کو پڑھتے وقت تیزرفتاری کے نظریے کو غالب نہ آنے دیں۔ اگر آپ نے بائبل یا کوئی مسیحی اشاعت پڑھنے میں وقت صرف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تو شاید آپ آہستہ آہستہ پڑھنا چاہیں۔ یہ اُس وقت خاص طور پر ضروری ہے جب آپ اہم نکات یاد رکھنے کے مقصد کیساتھ مطالعہ کر رہے ہیں۔ اور جب آپ پڑھتے ہیں تو مستعدی سے سوچیں۔ بائبل نویس کے بیانات کا جائزہ لیں۔ خود سے پوچھیں، ’‏اُسکا مقصد کیا ہے؟ مجھے ان معلومات کیساتھ کیا کرنا چاہئے؟‘‏

۸.‏ صحائف کو پڑھتے وقت غوروخوض کرنا کیوں مفید ہے؟‏

۸ پاک صحائف کو پڑھتے وقت سوچ‌بچار کرنے کیلئے وقت نکالیں۔ یہ بائبل واقعات کو یاد رکھنے اور صحیفائی اصولوں کا اطلاق کرنے کیلئے آپ کی مدد کریگا۔ خدا کے کلام پر سوچ‌بچار کرنا اور یوں نکات کو اپنے ذہن میں نقش کرنا، خلوصدل سوال پوچھنے والوں سے کوئی ایسی بات کہنے کی بجائے جس پر بعد میں شاید آپکو پچھتانا پڑے درست جوابات دیتے ہوئے، دل سے کلام کرنے کے قابل بھی بنائیگا۔ ایک الہٰی طور پر مُلہَم امثال کہتی ہے:‏ ”‏صادق کا دل سوچ کر جواب دیتا ہے۔“‏—‏امثال ۱۵:‏۲۸‏۔‏

نئے نکات کو پُرانوں کیساتھ ملائیں

۹، ۱۰.‏ اُن نکات کیساتھ جو آپ پہلے سے جانتے ہیں نئے صحیفائی نکات ملانے سے آپکی بائبل پڑھائی کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟‏

۹ بیشتر مسیحیوں کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ایک وقت تھا جب وہ خدا، اُسکے کلام، اور اُسکے مقاصد کی بابت بہت کم جانتے تھے۔ تاہم، آجکل، یہ مسیحی خادم، تخلیق اور انسان کے گناہ میں پڑنے سے شروع کر کے، مسیح کی قربانی کے مقصد کی وضاحت کر سکتے ہیں، اس بدکار نظام‌العمل کی تباہی کی بابت بتا سکتے ہیں، اور یہ واضح کر سکتے ہیں کہ کیسے فرمانبردار نوعِ‌انسان کو ایک فردوسی زمین پر ابدی زندگی کی برکت سے نوازا جائے گا۔ بڑی حد تک یہ اس لئے ممکن ہوا ہے کیونکہ یہوؔواہ کے ان خادموں نے بائبل اور مسیحی مطبوعات کا مطالعہ کر کے ”‏خدا کی معرفت“‏ کو حاصل کر لیا ہے۔ (‏امثال ۲:‏۱-‏۵‏)‏ اُنہوں نے پہلے ہی سے سمجھے ہوئے پُرانے نکات کیساتھ بتدریج نئے سیکھے ہوئے نکات کو ملایا ہے۔‏

۱۰ نئے صحیفائی نکات کو اُن سے ملانا جو آپ پہلے سے جانتے ہیں مفید اور بااجر ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏)‏ جب بائبل قوانین، اصول، یا کسی حد تک مبہم خیالات بھی پیش کئے جاتے ہیں تو انہیں اُن سے ملائیں جو آپ پہلے سے جانتے ہیں۔ ”‏صحیح باتوں“‏ کی بابت جوکچھ آپ سیکھ چکے ہیں معلومات کو اُن سے ہم‌آہنگ کریں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۱۳‏)‏ ایسی معلومات کی تلاش میں رہیں جو خدا کیساتھ اپنے رشتے کو مضبوط بنانے، اپنی مسیحی شخصیت کو بہتر بنانے کیلئے آپکی مدد کر سکتی ہیں، یا دوسروں کو بائبل سچائیوں میں شریک کرنے کیلئے آپکی اعانت کر سکتی ہیں۔‏

۱۱.‏ جب آپ کوئی ایسی بات پڑھتے ہیں جو بائبل چال‌چلن کی بابت بیان کرتی ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ مثال دیں۔‏

۱۱ جب کوئی ایسی بات پڑھیں جو بائبل چال‌چلن کی بابت بیان کرتی ہے تو اس میں شامل اصول کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس پر سوچ‌بچار کریں، اور فیصلہ کریں کہ ایسے ہی حالات کے تحت آپ کیا کرینگے۔ یعقوؔب کے بیٹے یوؔسف نے یہ پوچھتے ہوئے فوؔطیفار کی بیوی کیساتھ جنسی بداخلاقی میں ملوث ہونے سے مسلسل انکار کِیا:‏ ”‏مَیں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گنہگار بنوں؟“‏ (‏پیدایش ۳۹:‏۷-‏۹‏)‏ اس اثرآفرین واقعہ میں، آپ ایک بنیادی اصول پاتے ہیں—‏جنسی بداخلاقی خدا کیخلاف گناہ ہے۔ آپ ذہنی طور پر اس اصول کو خدا کے کلام میں دیگر بیانات سے جوڑ سکتے ہیں، اور اگر ایسی ہی غلط‌کاری میں ملوث ہونے کی آزمائش میں پڑیں تو آپ اس علم سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹-‏۱۱‏۔‏

صحیفائی واقعات کا تصور کریں

۱۲.‏ جب آپ بائبل سرگزشتیں پڑھتے ہیں تو اُنکا تصور کیوں کریں؟‏

۱۲ جب آپ پڑھتے ہیں تو نکات کو اپنے ذہن‌نشین کرنے کیلئے جوکچھ واقع ہو رہا ہے اُسکا تصور کریں ۔ ذہنی طور پر علاقے، گھروں، لوگوں کو دیکھیں۔ اُنکی آوازیں سنیں۔ تنور میں پکنے والی روٹی کی خوشبو سونگھیں۔ مناظر میں پھر سے جان ڈال دیں۔ پھر آپکی پڑھائی اثرآفرین تجربہ ہوگی کیونکہ آپ ایک قدیم شہر کو دیکھ سکتے، ایک بلند پہاڑ پر چڑھ سکتے، تخلیق کے کرشموں پر متحیر ہو سکتے، یا عظیم ایمان والے مردوں اور عورتوں کیساتھ رفاقت رکھ سکتے ہیں۔‏

۱۳.‏ جوکچھ قضاۃ ۷:‏۱۹-‏۲۲ میں درج ہے آپ اُسے کیسے بیان کرینگے؟‏

۱۳ فرض کریں کہ آپ قضاۃ ۷:‏۱۹-‏۲۲ پڑھ رہے ہیں۔ جوکچھ واقع ہو رہا ہے اُس کی ذہنی تصویر بنائیں۔ قاضی جدعوؔن اور تین سو بہادر اسرائیلی مرد مدیانی لشکرگاہ کی حد پر اپنی جگہیں سنبھال چکے ہیں۔ یہ رات کے کوئی دس بجے، ”‏بیچ کے پہر“‏ کا وقت ہے۔ مدیانی پہریداروں کو ابھی مقرر ہی کِیا گیا ہے اور تاریکی نے اسرائیل کے خوابیدہ دشمنوں کی لشکرگاہ کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ دیکھیں!‏ جدعوؔن اور اُسکے جوانوں کے پاس نرسنگے ہیں۔ اُنکے پاس پانی کے بڑے بڑے گھڑے ہیں جنہوں نے اُنکے بائیں ہاتھوں میں پکڑی ہوئی مشعلوں کو ڈھانپا ہوا ہے۔ اچانک، ایک ایک سو کے تین غول نرسنگے پھونکتے، گھڑوں کو توڑتے اور مشعلوں کو بلند کرتے، اور پکارتے ہیں:‏ ”‏یہوؔواہ کی اور جدعوؔن کی تلوار!‏“‏ آپ لشکرگاہ کو دیکھتے ہیں۔ مدیانی بھاگنے اور چلّانے لگے ہیں!‏ جبکہ تین سو مرد اپنے نرسنگے پھونکنا جاری رکھتے ہیں، خدا مدیانیوں کی تلواریں ایکدوسرے کے خلاف چلوا دیتا ہے۔ مدؔیان کو بھگا دیا گیا ہے، اور یہوؔواہ نے اسرائیل کو فتح بخشی ہے۔‏

انمول اسباق سیکھنا

۱۴.‏ ایک بچے کو فروتن ہونے کی ضرورت کی بابت سکھانے کیلئے قضاۃ ۹ باب کو کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے؟‏

۱۴ خدا کا کلام پڑھنے سے ہم بہت سے اسباق سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، شاید آپ اپنے بچوں پر فروتن بننے کی ضرورت کو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ جدعوؔن کے بیٹے یوتاؔم کی بابت پیشینگوئی میں جوکچھ کہا گیا تھا اُس کا ذہنی نقشہ بنانا اور اہمیت کو سمجھنا آسان ہونا چاہئے۔ قضاۃ ۹:‏۸ سے پڑھنا شروع کریں۔ ”‏ایک زمانہ میں،“‏ یوتاؔم نے کہا، ”‏درخت چلے تاکہ کسی کو مسح کر کے اپنا بادشاہ بنائیں۔“‏ زیتون کے درخت، انجیر کے درخت، اور انگور کی بیل نے حکمرانی کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن کمتر اونٹکٹارا حکمران بننے میں خوش تھا۔ اپنے بچوں کے سامنے آواز سے اس بیان کو پڑھنے کے بعد، آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ قیمتی پودوں نے لائق اشخاص کی نمائندگی کی جو اپنے ساتھی اسرائیلیوں پر حکومتی مرتبے کے خواہاں نہیں تھے۔ اونٹکٹارے نے، جو صرف آگ جلانے کیلئے کارآمد تھا، متکبر ابیؔ‌ملک کی حکومت کی نمائندگی کی، ایک قاتل جو دوسروں کو محکوم بنانا چاہتا تھا لیکن یوتاؔم کی پیشینگوئی کی تکمیل میں اپنے انجام کو پہنچا۔ (‏قضاۃ، ۹ باب)‏ کونسا بچہ بڑا ہوکر اونٹکٹارے کی مانند بننا چاہیگا؟‏

۱۵.‏ رؔوت کی کتاب میں وفاداری کی اہمیت کو کیسے اُجاگر کِیا گیا ہے؟‏

۱۵ وفاداری کی اہمیت کو بائبل کی کتاب روت میں واضح کِیا گیا ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے خاندان کے افراد باآواز اُس بیان کو باری باری پڑھ رہے اور جوکچھ یہ بیان کرتا ہے اُسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ موآبی رؔوت کو اپنی بیوہ ساس، نعوؔمی، کے ساتھ بیتؔ‌لحم کے سفر پر جاتے ہوئے دیکھتے ہیں، اور آپ رؔوت کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں:‏ ”‏تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا ہوگا۔“‏ (‏روت ۱:‏۱۶‏)‏ محنتی رؔوت بوؔعز کے کھیت میں کاٹنے والوں کے پیچھے خوشہ چینی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ آپ ان الفاظ میں اُسے اُس کی تعریف کرتے ہوئے سنتے ہیں:‏ ”‏میری قوم کا تمام شہر جانتا ہے کہ تُو پاکدامن عورت ہے۔“‏ (‏روت ۳:‏۱۱‏)‏ جلد ہی، بوؔعز رؔوت سے شادی کر لیتا ہے۔ دیور سے شادی کے انتظام کے مطابق، وہ بوؔعز سے ”‏نعوؔمی کے لئے “‏ ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ رؔوت، داؔؤد اور بالآخر یسوؔع مسیح کی اُم‌الاسلاف بنتی ہے۔ یوں اُس نے ”‏پورا اجر“‏ حاصل کِیا۔ مزیدبرآں، جو صحیفائی سرگزشت پڑھتے ہیں وہ قابلِ‌قدر سبق سیکھتے ہیں:‏ یہوؔواہ کے وفادار رہیں، اور آپ بکثرت برکت پائینگے۔—‏روت ۲:‏۱۲؛‏ ۴:‏۱۷-‏۲۲؛‏ امثال ۱۰:‏۲۲؛‏ متی ۱:‏۱،‏ ۵، ۶‏۔‏

۱۶.‏ تین عبرانیوں کو کس امتحان سے گزرنا پڑا، اور یہ سرگزشت کیسے ہماری مدد کر سکتا ہے؟‏

۱۶ سدؔرک، میسکؔ، اور عبدؔنجو نامی عبرانیوں کی سرگزشت امتحان کی گھڑیوں میں خدا کے وفادار رہنے کیلئے ہماری مدد کر سکتا ہے۔ جب دانی‌ایل ۳ باب کو باآواز پڑھا جاتا ہے تو واقعہ کی ذہنی تصویر بنائیں۔ ایک بہت بڑی سونے کی مورت دوؔرا کے میدان میں کھڑی ہے جہاں بابلی اہلکار جمع ہیں۔ موسیقی کے سازوں کی آواز پر، وہ جھکتے اور اُس مورت کو سجدہ کرتے ہیں جو بادشاہ نبوکدؔنضر نے نصب کرائی ہے۔ سدؔرک، میسکؔ، اور عبدؔنجو کے سوا سب ایسا کرتے ہیں۔ احترام سے، مگر مضبوط مؤقف کیساتھ، وہ بادشاہ کو بتاتے ہیں کہ وہ اُسکے معبودوں کی خدمت اور سونے کی مورت کی پرستش نہیں کرینگے۔ ان جوان عبرانیوں کو تپتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا واقع ہوتا ہے؟ اندر دیکھتے ہوئے، بادشاہ چار زورآور آدمیوں کو دیکھتا ہے، اُن میں سے ایک کی ”‏صورت اِلہٰ‌زادہ کی سی ہے۔“‏ (‏دانی‌ایل ۳:‏۲۵‏)‏ تین عبرانیوں کو بھٹی سے نکال لیا جاتا ہے، اور نبوکدؔنضر اُنکے خدا کو مبارک کہتا ہے۔ واقعہ کی ذہنی تصویر بنانا بااجر رہا ہے۔ اور یہ آزمائش کے تحت یہوؔواہ کیلئے وفاداری کے سلسلے میں کیا خوب سبق فراہم کرتا ہے!‏

بطور خاندان بائبل پڑھنے سے مستفید ہوں

۱۷.‏ مختصراً بعض ایسی مفید باتوں کا ذکر کریں جو آپکا خاندان اکٹھے بائبل پڑھنے سے سیکھ سکتا ہے۔‏

۱۷ اگر آپ باقاعدگی سے اکٹھے بائبل پڑھنے میں وقت صرف کرتے ہیں تو آپ کا خاندان بہت سے فوائد کا تجربہ کریگا۔ پیدایش سے شروع کرکے، آپ تخلیق کا تصور کر سکتے اور انسان کے اصلی فرودسی گھر کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ آپ وفادار آبائی بزرگوں اور اُنکے خاندانوں کے تجربات میں شریک ہو سکتے ہیں اور اسرائیلیوں کے پیچھے چل سکتے ہیں جب وہ بحرِقلزم سے سوکھے پاؤں گزرتے ہیں۔ آپ نوجوان چرواہے داؔؤد کو فلسطینی سورما جولیتؔ کو مات دیتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کا خاندان یرؔوشلیم میں یہوؔواہ کی ہیکل کی تعمیر پر غور کر سکتا ہے، بابلی لشکروں کے ہاتھوں اسکی تباہی کو دیکھ سکتا ہے، اور گورنر زُربابلؔ کے تحت اسکی ازسرِنو تعمیر کا نظارہ کر سکتا ہے۔ بیتؔ‌لحم کے قریب ادنیٰ چرواہوں کیساتھ، آپ یسوؔع کی پیدائش کے بارے میں ملکوتی اعلان کو سن سکتے ہیں۔ آپ اُسکے بپتسمے اور اُسکی خدمتگزاری کی بابت تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں، اُسے فدیے کے طور پر اپنی انسانی زندگی قربان کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، اور اُسکی قیامت کی خوشی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اسکے بعد، آپ پولسؔ رسول کیساتھ سفر کر سکتے ہیں اور مسیحیت کے پھیلاؤ کیساتھ کلیسیاؤں کے قائم ہونے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد، مکاشفہ کی کتاب میں، آپ کا خاندان مسیح کے ہزار سالہ عہدِحکومت سمیت، مستقبل کی بابت یوؔحنا رسول کی عظیم‌الشان رویا سے لطف‌اندوز ہو سکتا ہے۔‏

۱۸، ۱۹.‏ خاندانی بائبل پڑھائی کے سلسلے میں کیا تجاویز پیش کی گئی ہیں؟‏

۱۸ اگر آپ خاندان کے طور پر باآواز بائبل پڑھ رہے ہیں تو اسے فصاحت اور جوش کیساتھ پڑھیں۔ صحائف کے بعض حصوں کو پڑھتے وقت، خاندان کا ایک فرد—‏غالباً والد—‏سرگزشت پڑھ سکتا ہے۔ آپ میں سے دوسرے، موزوں احساس کے ساتھ اپنے حصوں کو پڑھتے ہوئے، بائبل شخصیات کے کردار ادا کر سکتے ہیں۔‏

۱۹ جب آپ بطور خاندان بائبل پڑھائی میں حصہ لیتے ہیں تو آپ کی پڑھنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔ یقیناً، خدا کی بابت آپکا علم بڑھیگا، اور اُسے آپکو اُسکے قریب لانا چاہئے۔ آؔسف نے گیت گایا:‏ ”‏میرے لئے یہی بھلا ہے کہ خدا کی نزدیکی کو حاصل کروں مَیں نے خداوند خدا کو اپنی پناہ‌گاہ بنا لیا ہے تاکہ تیرے سب کاموں کا بیان کروں۔“‏ (‏زبور ۷۳:‏۲۸‏)‏ یہ موسیٰؔ کی مانند بننے کیلئے آپکے خاندان کی مدد کریگا، جو ”‏اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت‌قدم رہا۔“‏—‏عبرانیوں ۱۱:‏۲۷‏۔‏

پڑھائی اور مسیحی خدمتگزاری

۲۰، ۲۱.‏ ہماری منادی کرنے کی تفویض پڑھنے کی لیاقت کیساتھ کیسے منسلک ہے؟‏

۲۰ ہماری ”‏اندیکھے“‏ کی پرستش کرنے کی خواہش کو ہمیں اچھے قاری بننے کیلئے محنت کرنے کی تحریک دینی چاہئے۔ اچھی طرح پڑھنے کی لیاقت خدا کے کلام سے گواہی دینے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ یہ یقیناً بادشاہتی منادی کے کام کو پورا کرنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے جس کیلئے یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا جب اُس نے کہا:‏ ”‏جاکر .‏ .‏ .‏ سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنکو باپ اور بیٹے اور روح‌القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور اُنکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تم کو حکم دیا۔“‏ (‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰؛‏ اعمال ۱:‏۸‏)‏ گواہی دینا یہوؔواہ کے لوگوں کا اہم کام ہے، اور پڑھنے کی لیاقت اسے سرانجام دینے میں ہماری مدد کرتی ہے۔‏

۲۱ اچھا قاری اور خدا کے کلام کا ماہر اُستاد بننے کے لئے کوشش درکار ہے۔ (‏افسیوں ۶:‏۱۷‏)‏ پس، ’‏حق کے کلام کو درستی سے استعمال میں لاتے ہوئے، اپنے آپ کو خدا کی نظر میں پسندیدہ بنانے کی پوری کوشش کریں۔‘‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۵‏)‏ یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر خود کو پڑھائی کیلئے وقف کر دینے سے صحیفائی سچائی کی بابت اپنے علم میں اور اپنی لیاقت میں اضافہ کریں۔ (‏۱۰ ۰۵/۱۵ w۹۶)‏

آپکے جوابات کیا ہیں؟‏

▫ خوشی کا دارومدار خدا کے کلام کی پڑھائی پر کیسے ہے؟‏

▫ جوکچھ آپ بائبل سے پڑھتے ہیں اُس پر سوچ‌بچار کیوں کریں؟‏

▫ صحائف کو پڑھتے وقت باہمی تعلق اور ذہنی نقشہ کھینچنے کو کیوں استعمال کریں؟‏

▫ بائبل پڑھائی سے سیکھے جانے والے بعض اسباق کونسے ہیں؟‏

▫ بطور خاندان آواز سے بائبل کیوں پڑھیں، اور پڑھائی مسیحی خدمتگزاری سے کیا تعلق رکھتی ہے؟‏

‏[‏تصویریں]‏

بطور خاندان بائبل پڑھتے وقت، واقعات کی ذہنی تصویر بنائیں اور اُنکی اہمیت پر غوروخوض کریں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں