روزانہ کی بائبل پڑھائی سے فائدہ اُٹھانا
”مبارک ہے وہ آدمی . . . خداوند کی شریعت میں [جسکی] خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دن رات اُسکا دھیان رہتا ہے۔“—زبور ۱:۱، ۲۔
۱. (ا) کونسا نمایاں نشان واچٹاور سوسائٹی کے عالمی ہیڈکواٹر کی فیکٹری بلڈنگ کی ایک جانب آویزاں نظر آتا ہے؟ (ب) اگر ہم ذاتی طور پر اس فہمائش پر دل لگائیں تو ہم کونسا فائدہ حاصل کریں گے؟
”خدا کے کلام مُقدس بائبل کو روزانہ پڑھیں۔“ جلی حروف میں، یہ الفاظ بروکلن، نیویارک میں، اس بلڈنگ کی ایک جانب آویزاں نظر آتے ہیں، جہاں واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے ذریعے بائبلوں اور بائبل لٹریچر کی چھپائی کی جاتی ہے۔ یہ فہمائش اس نشان کو دیکھنے والے دنیاوی لوگوں کیلئے ہی نہیں ہے۔ یہوؔواہ کے گواہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُنہیں بھی اس پر دل لگانے کی ضرورت ہے۔ وہ اشخاص جو بائبل کو باقاعدگی سے پڑھتے اور اسکا ذاتی اطلاق کرتے ہیں جو تعلیم، ملامت، اصلاح، اور راستبازی میں تربیت یہ فراہم کرتی ہے اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷۔
۲. بھائی رسلؔ نے بائبل پڑھائی کی اہمیت پر کس طرح زور دیا؟
۲ یہوؔواہ کے گواہ مینارِنگہبانی سمیت بائبل مطالعے کی اپنی امدادی چیزوں کی بڑی قدر کرتے اور وہ ان کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی بذاتِخود بائبل کی جگہ نہیں لیتی۔ ۱۹۰۹ میں، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے پہلے صدر چارلسؔ ٹیز رسل نے مینارِنگہبانی کے قارئین کو لکھا: ”کبھی بھی نہ بھولیں کہ بائبل ہمارا معیار ہے اور ہمارے لئے خداداد امدادی چیزیں خواہ کیسی بھی ہوں یہ ’امدادی چیزیں‘ ہی ہیں نہ کہ بائبل کے متبادل۔“
۳. (ا) جو ”خدا کے کلام“ کے لئے خود کو قابلِرسائی رکھتے ہیں ان پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟ (ب) بیرؔیہ کے لوگ کتنی مرتبہ صحائف کو پڑھا اور ان کا مطالعہ کیا کرتے تھے؟
۳ الہامی صحائف وہ گہرائی اور قوت رکھتے ہیں جو کوئی دوسری کتاب نہیں رکھتی۔ ”خدا کا کلام زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بند بند اور گودے کو جُدا کرکے گذر جاتا ہے اور دِل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔“ (عبرانیوں ۴:۱۲) شاگرد لوؔقا نے بیرؔیہ کے لوگوں کو ”نیک ذات“ کہتے ہوئے ان کی گرمجوشی سے تعریف کی۔ جب رسول پولسؔ اور اس کے ساتھی سیلاؔس نے منادی کی تو انہوں نے نہ صرف بڑے شوق سے کلام کو قبول کیا بلکہ جن باتوں کی تعلیم پائی تھی اس کی بنیاد کا تعیّن کرنے کیلئے ’روز بروز صحائف کی احتیاط سے جانچ کی۔‘—اعمال ۱۷:۱۱۔
اسے روزانہ پڑھنا
۴. صحائف کیا ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں کتنی مرتبہ بائبل کو پڑھنا چاہئے؟
۴ بائبل قطعی طور پر تو بیان نہیں کرتی کہ ہمیں اسے کتنی مرتبہ پڑھنا چاہئے۔ تاہم، یہ یشوؔع کو دی جانے والی یہوؔواہ کی نصیحت مرقوم کرتی ہے کہ ’شریعت کی کتاب کو دن رات دھیمی آواز کیساتھ‘ پڑھے اس طرح وہ دانشمندی سے کام کرے گا اور اپنی خداداد تفویض کو پورا کرنے میں کامیابی حاصل کرے گا۔ (یشوع ۱:۸) یہ ہمیں بتاتی ہے کہ قدیم اسرائیل میں بادشاہ کے طور پر کسی بھی حکمرانی کرنے والے کو ”اپنی ساری عمر“ صحائف کو پڑھنا تھا۔ (استثنا ۱۷:۱۹) یہ مزید بیان کرتی ہے: ”مبارک ہے وہ آدمی جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا . . . بلکہ خداوند کی شریعت میں اسکی خوشنودی ہے اور اسی کی شریعت پر دن رات اس کا دھیان رہتا ہے۔“ (زبور ۱:۱، ۲) نیز، متیؔ کی مرقوم انجیل ہمیں بتاتی ہے کہ جب یسوؔع نے اسکو آزمانے کی شیطان کی کوششوں کو مسترد کیا تو اس نے یہ کہتے ہوئے الہامی عبرانی صحائف کا حوالہ دیا: ”لکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“ (متی ۴:۴) ہمیں جسمانی خوراک کی کتنی مرتبہ ضرورت ہوتی ہے؟ ہر روز! روزانہ روحانی خوراک کھانا اس سے بھی نہایت اہم ہے کیونکہ یہ ہمارے ابدی زندگی کے امکانات پر اثرانداز ہوتی ہے۔—استثنا ۸:۳؛ یوحنا ۱۷:۳۔
۵. جب ہمارے اُوپر ایمان کی آزمائشیں آ پڑتی ہیں تو روزانہ بائبل پڑھائی کس طرح ہماری مدد کر سکتی ہے کہ ”یہوؔواہ . . . کے لائق چال چلیں“؟
۵ ہم میں سے ہر ایک کو خدا کے کلام کے ذریعے روزانہ مستحکم ہونے کی ضرورت ہے۔ ہر روز—گھر پر، جائے ملازمت پر، اسکول میں، گلی کوچوں میں، خریداری کرتے وقت، اپنی خدمتگزاری میں—ہمارے ایمان کے چیلنج ہم پر آ پڑتے ہیں۔ ہم ان کیساتھ کیسے نپٹیں گے؟ کیا بائبل احکام اور اصول بآسانی ہمارے ذہن میں آئیں گے؟ خود پر تکیہ کرنے کے احساس کے برعکس بائبل خبردار کرتی ہے: ”جو کوئی اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۲) بائبل کی روزانہ پڑھائی ہماری مدد کرے گی کہ دنیا کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی اجازت دینے کی بجائے ”یہوؔواہ کو پوری طرح خوش کرنے کیلئے اسکے لائق چال چلیں۔“—کلسیوں ۱:۹، ۱۰، اینڈبلیو؛ رومیوں ۱۲:۲۔
بائبل کو بار بار پڑھنے کی ضرورت
۶. بائبل کو بار بار پڑھنا کیوں فائدہمند ہے؟
۶ بائبل پڑھنا افسانوی کتاب پڑھنے سے بہت مختلف ہے۔ زیادہ مقبولِعام افسانہ ایک ہی مرتبہ پڑھنے کیلئے ترتیب دیا جاتا ہے؛ جب کوئی شخص کہانی کو اور جس طرح اسکا اختتام ہوتا ہے اسے جان لیتا ہے تو پھر اسکا مقصد باقی نہیں رہتا۔ اسکے برعکس، قطعنظر اسکے کہ ہم نے کتنی مرتبہ بائبل کو پڑھا ہے، ہم دوبارہ پڑھنے سے کافی حد تک فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ (امثال ۹:۹) ایک صاحبِفہم کیلئے صحائف مسلسل اضافی معنی رکھتے ہیں۔ آخری ایام کے متعلق پیشینگوئیاں جو کچھ اس نے دیکھا، سنا، یا جس کا حالیہ مہینوں میں ذاتی طور پر تجربہ کیا ہے اسکی روشنی میں اس کیلئے اور زیادہ اثرآفرین بن جاتی ہیں۔ (دانیایل ۱۲:۴) جُوں جُوں زندگی میں وہ اپنا ذاتی تجربہ وسیع کرتا اور مسائل سے نپٹتا ہے تو صاحبِفہم بائبل قاری اس مشورے کی بھرپور قدردانی کرتا ہے جو شاید اس نے پہلے محض سرسری طور پر ہی پڑھا ہو۔ (امثال ۴:۱۸) اگر اس پر سنگین بیماری آ جاتی ہے تو درد کے ختم ہونے اور صحت کی بحالی کے متعلق بائبل کے وعدے پہلے کی نسبت گہرا مفہوم اختیار کر جاتے ہیں۔ جب قریبی دوست اور خاندانی افراد وفات پاتے ہیں تو قیامت کا وعدہ اور زیادہ گراںبہا بن جاتا ہے۔
۷. جب ہم زندگی میں کوئی نئی ذمہداری اُٹھاتے ہیں تو کیا چیز ہماری مدد کرے گی، اور کیوں؟
۷ آپ نے شاید ذاتی طور پر بائبل کو پڑھا اور کئی سال سے اسکا اطلاق کیا ہو۔ مگر اب آپ شاید زندگی میں نئی ذمہداری اُٹھا رہے ہیں۔ کیا آپ شادی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں؟ کیا آپ اچھے والد یا والدہ ہونگے؟ کیا آپ کو کلیسیا میں بزرگ یا خدمتگزار خادم کے طور ذمہداری سونپی گئی ہے؟ کیا آپ منادی کرنے اور تعلیم دینے کے اضافی مواقع کے ساتھ کُلوقتی مبشر بن گئے ہیں؟ ان نئی ذمہداریوں کو ذہن میں رکھنے کے ساتھ ساتھ ساری بائبل کو پھر سے پڑھنا کسقدر مفید ہوگا!—افسیوں ۵:۲۴، ۲۵؛ ۶:۴؛ ۲-تیمتھیس ۴:۱، ۲۔
۸. کس طرح تبدیلشُدہ حالات ان باتوں کی بابت مزید سیکھنے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں جنہیں ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم پہلے ہی جانتے ہیں؟
۸ ماضی میں شاید آپ نے روح کے پھلوں کو ظاہر کرنے میں خوب کام کیا ہے۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) تاہم ہو سکتا ہے کہ تبدیلشُدہ حالات آپکے سامنے اس ضرورت کو لے آئے ہیں کہ ان خدائی خوبیوں کی بابت مزید سیکھیں۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۵:۸۔) ایک سابق سفری نگہبان جس نے اپنے بوڑھے والدین کی دیکھبھال کرنے کی خاطر اپنی خاص خدمت کو چھوڑ دینا ضروری سمجھا اس نے کہا: ”مَیں سوچا کرتا تھا کہ مَیں روح کے پھلوں کو ظاہر کرنے میں معقول طور پر اچھا کر رہا تھا۔ اب مَیں محسوس کرتا ہوں کہ لگتا ہے مَیں پھر سے شروع کر رہا ہوں۔“ اسطرح ایسے شوہر اور بیویاں جنکے بیاہتا ساتھی شدید جسمانی یا جذباتی تکلیف اُٹھاتے ہیں ایسا پا سکتے ہیں کہ ذاتی نگہداشت فراہم کرنے میں تناؤ کبھی کبھار ایسے ردِعمل کو ہوا دیتا ہے جو انہیں بےحوصلہ کرتا ہے۔ بائبل کی باقاعدہ پڑھائی بہت بڑی تسلی اور مدد کا ذریعہ ہے۔
جس وقت بائبل پڑھائی کی جا سکتی ہے
۹. (ا) کونسی چیز ایک مصروفترین شخص کی مدد کر سکتی ہے کہ روزانہ بائبل پڑھائی کیلئے وقت نکال سکے؟ (ب) بزرگوں کیلئے خدا کے کلام کی پڑھائی کرنا خاصکر کیوں اہم ہے؟
۹ بیشک، ان لوگوں کیلئے جو پہلے ہی بہت مصروف ہیں باقاعدہ بنیاد پر کسی اضافی کام کو کرنے کیلئے وقت نکالنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ تو بھی، ہم یہوؔواہ کے نمونے سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ بائبل آشکارا کرتی ہے کہ وہ کاموں کو ’مقررہ اوقات‘ پر کرتا ہے۔ (پیدایش ۲۱:۲؛ خروج ۹:۵؛ لوقا ۲۱:۲۴؛ گلتیوں ۴:۴) خدا کے کلام کو باقاعدہ پڑھنے کی اہمیت کی قدردانی اپنے روزانہ کے جدوَل میں وقت مقرر کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ (افسیوں ۵:۱۵-۱۷) بائبل کی باقاعدہ پڑھائی کیلئے بزرگوں کو خاصکر وقت مختص کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو مشورہ وہ دیں وہ واضح طور پر بائبل اصولوں پر مبنی ہو اور اس طرح جو جذبہ وہ دکھائیں گے اس سے وہ ”حکمت جو اُوپر سے آتی ہے“ ظاہر ہوگی۔—یعقوب ۳:۱۷؛ ططس ۱:۹۔
۱۰. وہ جو بائبل کو روزانہ پڑھنے والے ہیں پڑھنے کیلئے کب وقت نکالتے ہیں؟
۱۰ بہتیرے جو ذاتی بائبل پڑھائی کے پروگرام کیساتھ کامیاب ہوئے ہیں وہ دن بھر کی سرگرمیوں کا آغاز کرنے سے پیشتر صبح سویرے ہی اپنی پڑھائی کرتے ہیں۔ دیگر یہ پاتے ہیں کہ وہ کسی اور وقت پر مستقلمزاجی کیساتھ ایسا کرنے کے زیادہ قابل ہیں۔ بائبل کیسٹیں (جہاں دستیاب ہیں) کمیوٹروں (باقاعدہ طور پر کام پر آنے جانے کیلئے سفر کرنے والے) کی مدد کرتی ہیں کہ سفر کے وقت سے اچھی طرح فائدہ اُٹھائیں اور بعض گواہ انہیں گھریلو کامکاج کی دیکھبھال کرتے وقت سنتے ہیں۔ وہ پروگرام جو یورپ، افریقہ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، اور مشرق میں مختلف گواہوں کیلئے کارگر ہوا ہے صفحات ۱۷ اور ۱۸ پر مضمون ”جس وقت وہ اِسے پڑھتے اور جس طرح وہ فائدہ اُٹھاتے ہیں“ میں ظاہر کیا گیا ہے۔
۱۱. اگرچہ دستیاب وقت محدود بھی ہو تو بھی بائبل کی روزانہ پڑھائی کیسے کی جا سکتی ہے؟
۱۱ جو بات نہایت اہم ہے وہ کسی ایک موقع پر آپکی بائبل پڑھائی کیلئے وقفکردہ وقت کی مقدار نہیں ہے بلکہ وہ باقاعدگی ہے جس کیساتھ اسے کیا جاتا ہے۔ آپ نے یہ شاید ایک میقات پر اضافی تحقیق کرنے اور مواد میں مکمل طور پر منہمک ہوتے ہوئے ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ کیلئے پڑھنے کو بااجر پایا ہو۔ لیکن کیا آپکا جدوَل باقاعدہ بنیاد پر اسکی اجازت دیتا ہے؟ کچھ بھی بائبل پڑھائی کئے بغیر دنوں کو گزرنے کی اجازت دینے کی بجائے کیا ہر روز ۱۵ منٹ یا حتیٰکہ ۵ منٹ کیلئے پڑھنا بہتر نہ ہوگا؟ روزانہ بائبل پڑھائی کرنے کو اپنا عزم بنا لیں۔ پھر جب ممکن ہو اس پڑھائی میں گہری تحقیق کا اضافہ کر لیں۔
بائبل پڑھائی کیلئے مختلف رسائیاں
۱۲. بیتؔایل خاندان کے نئے ممبر اور گلئیڈ طالبعلم بائبل پڑھائی کا کونسا پروگرام رکھتے ہیں؟
۱۲ ایسے بہت سے طریقے ہیں جن کیساتھ بائبل کو پڑھا جا سکتا ہے۔ پیدایش تا مکاشفہ تک اس کی پڑھائی کرنا مفید ہے۔ عالمگیر بیتؔایل خاندان کے ان تمام ممبروں سے جو عالمی ہیڈکواٹر یا سوسائٹی کی برانچوں میں خدمت کرتے ہیں ان کی بیتؔایل خدمت کے پہلے سال کے دوران ان سے ساری بائبل پڑھنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ (اس میں عام طور پر تین تا پانچ ابواب، ان کی لمبائی پر انحصار کرتے ہوئے، یا فیدن چار یا پانچ صفحات شامل ہوتے ہیں۔) واچٹاور بائبل اسکول آف گلئیڈ کے طالبعلموں کو بھی فارغالتحصیل ہونے سے پیشتر پوری بائبل کو پڑھنا لازم ہوتا ہے۔ یہ اُمید کی جاتی ہے کہ اس سے انہیں مدد ملے گی کہ روزانہ بائبل پڑھائی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔
۱۳. نئے بپتسمہیافتہ گواہوں کیلئے کس نصبالعین کی سفارش کی جاتی ہے؟
۱۳ نئے بپتسمہیافتہ گواہوں کے لئے ساری بائبل کی پڑھائی کرنے کا نصبالعین قائم کرنا فائدہمند ہے۔ ۱۹۷۵ میں جب فرانس میں ایک جوان آدمی اپنے بپتسمے کے لئے تیاری کر رہا تھا تو ایک بزرگ نے اس سے پوچھا کہ آیا وہ بائبل پڑھائی کا ایک قطعی پروگرام رکھتا تھا۔ اس وقت سے لیکر اس نے عام طور پر کام پر جانے سے پیشتر اپنی پڑھائی کرتے ہوئے ہر سال ساری بائبل پڑھی ہے۔ نتائج کے سلسلے میں وہ کہتا ہے: ”مَیں نے یہوؔواہ کے ساتھ بہتر واقفیت پیدا کر لی ہے۔ مَیں دیکھ سکتا ہوں کہ ہر کام جو وہ کرتا ہے وہ اس کے مقصد سے کس طرح تعلق رکھتا ہے اور جب مشکلات کھڑی ہو جائیں تو وہ کس طرح جوابیعمل دکھاتا ہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ یہوؔواہ اسی دوران اپنے تمام کاموں میں راست اور بھلا ہے۔“
۱۴. (۱) ذاتی بائبل پڑھائی کے مسلسل جاری رہنے والے پروگرام کو شروع کرنے کیلئے کونسی چیز ضروری ہے؟ (ب) جب ہم بائبل کی ہر کتاب کو پڑھتے ہیں تو اسکے عمومی خاکے کو ذہن پر نقش کرنے میں کونسی چیز ہماری مدد کرے گی؟
۱۴ کیا آپ نے کبھی پوری بائبل کو پڑھا ہے؟ اگر نہیں تو آغاز کرنے کا یہ اچھا وقت ہے۔ ایک قطعی پروگرام کا خاکہ بنائیں، اور اس پر کاربند رہیں۔ اس بات کا تعیّن کریں کہ آپ ہر روز کتنے صفحات اور کتنے ابواب پڑھیں گے یا سادگی سے اس بات کا تعیّن کریں کہ آپ کتنا وقت صرف کرینگے اور کب کرینگے۔ ہر کوئی تو ایک سال میں بائبل کو مکمل نہیں کر لے گا، لیکن اہم بات خدا کے کلام کو باقاعدگی سے پڑھنا ہے، اگر ممکن ہو تو روزانہ ایسا کر تے ہو ئے۔ جُوں جُوں آپ بائبل پڑھیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ مواد کے عمومی خاکہ کو اپنے ذہن پر نقش کرنے میں مخصوص حوالہجاتی کتب کے استعمال کو مفید پائیں۔ اگر انسائٹ آن دی سکرپچرز آپکی زبان میں دستیاب ہے تو اس سے پہلے کہ آپ ایک مخصوص بائبل کتاب کی پڑھائی شروع کریں اسکے اہم نکات کے مختصر خاکے کا اعادہ کریں جیسے کہ انسائٹ میں مہیا کیا گیا ہے۔* خاص طور پر خاکے میں جلی حروف والی سُرخیوں کو نوٹ کریں۔ یا ”آل سکرپچر از انسپائرڈ آف گاڈ اینڈ بینیفیشئل“ کتاب میں مہیا کئے گئے وسیع خلاصے کا ایسا ہی استعمال کریں۔a
۱۵. (۱) صفحات ۱۴ اور ۱۵ پر کونسی تجاویز پیش کی گئی ہیں جو آپکی بائبل پڑھائی کو بہتر کرنے میں مدد کر سکتی ہیں؟ (ب) مخصوص صفحات کی تعداد کی پڑھائی کو رسم بنا لینے کی بجائے ہمیں کس نہایت اہم معاملے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے؟
۱۵ سلسلہوار بائبل پڑھائی فائدہمند ہے، لیکن محض رسمی قاری مت بن جائیں۔ ہر روز مخصوص صفحات کی تعداد نہ پڑھیں گویا آپ کہہ سکیں کہ آپ نے ہر سال بائبل پڑھ لی ہے۔ جیسے کہ بکس ”آپکی بائبل پڑھائی کو بہتر بنانے کیلئے تجاویز“ (صفحات ۱۴ اور ۱۵) میں ظاہر کیا گیا ہے، ایسے بہت سے طریقے ہیں کہ آپ بائبل پڑھ سکتے اور اس سے لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ آپ جو بھی طریقۂکار استعمال کریں اس سے قطعنظر اس بات کا یقین کر لیں کہ آپ اپنے ذہن اور اپنے دل کو خوراک دے رہے ہیں۔
جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسکے مطلب کو سمجھیں
۱۶. جو کچھ ہم پڑھتے ہیں اس پر غوروخوض کرنے کیلئے وقت نکالنا کیوں اہم ہے؟
۱۶ اپنے شاگردوں کو سکھاتے وقت یسوؔع نے جو کچھ کہا تھا اسکی سمجھ پر اس نے زور دیا۔ جو چیز نہایت اہم تھی وہ محض ذہنی سمجھ نہ تھی بلکہ ان کا ”دل سے سمجھنا“ تھا تاکہ وہ اپنی زندگیوں پر اسکا اطلاق کر سکیں۔ (متی ۱۳:۱۴، ۱۵، ۱۹، ۲۳) ایک شخص حقیقت میں جو باطن میں ہے خدا کے نزدیک اسی کی اہمیت ہے، اور اسی کی نمائندگی دل سے کی گئی ہے۔ (۱-سموئیل ۱۶:۷؛ امثال ۴:۲۳) لہٰذا، اس بات کا یقین کرنے میں کہ بائبل اقتباسات جو کچھ کہتے ہیں ہم انہیں سمجھتے ہیں، اپنی ذاتی زندگیوں پر انکے نتائج پر غور کرتے ہوئے ہمیں ان پر سوچبچار کرنے کی ضرورت ہے۔—زبور ۴۸:۹؛ ۱-تیمتھیس ۴:۱۵۔
۱۷. بعض ایسے کونسے زاویے ہیں جن سے ہم جو کچھ ہم صحائف میں پڑھتے ہیں اس پر غوروخوض کر سکیں؟
۱۷ بائبل بیانات میں بنیادی اصولوں کی شناخت کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ ان کا اطلاق جن صورتِحالات کا آپ سامنا کرتے ہیں ان پر کر سکیں۔ (مقابلہ کریں متی ۹:۱۳؛ ۱۹:۳-۶۔) جب آپ یہوؔواہ کی حیرتانگیز خوبیوں کی بابت پڑھتے اور ان پر غوروخوض کرتے ہیں تو اس موقع کو اُس کے ساتھ اپنے ذاتی رشتے کو مضبوط بنانے یعنی اپنے اندر خدائی عقیدت کا ایک مضبوط احساس پیدا کرنے کیلئے استعمال کریں۔ جب آپ یہوؔواہ کے مقصد کی بابت بیانات پڑھتے ہیں تو غور کریں کہ آپ ان کی مطابقت میں کام کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں۔ جب آپ براہِراست مشورہ پڑھیں تو محض خود سے یہ کہنے کی بجائے کہ ’مجھے اس کا علم ہے‘ پوچھیں کہ ’جو کچھ یہ کہتا ہے کیا مَیں وہ کر رہا ہوں؟‘ اگر ایسا ہے تو خود سے پوچھیں کہ ’مَیں کن طریقوں سے اسے ”اور زیادہ بھرپور طور پر“ کر سکتا ہوں؟‘ (۱-تھسلنیکیوں ۴:۱، اینڈبلیو) جُوں جُوں آپ خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھتے ہیں تو ان اشخاص کی حقیقی زندگیوں کی مثالوں پر بھی غور کریں جنہوں نے ان تقاضوں کی مطابقت میں زندگی گزاری ہے اور جنہوں نے نہیں گزاری۔ غور کریں کہ انہوں نے جو روش اختیار کی وہ کیوں کی اور اسکا کیا نتیجہ نکلا تھا۔ (رومیوں ۱۵:۴؛ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱) جب آپ یسوؔع کی زندگی کی بابت پڑھیں تو یاد رکھیں کہ یسوؔع ہی وہ شخص ہے جسے یہوؔواہ نے تمام زمین پر بادشاہی سونپی ہے؛ اس موقع کو خدا کی نئی دنیا کیلئے اپنے اندر کی آرزو کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کریں۔ نیز، ان طریقوں کا تجزیہ کریں جن میں آپ خدا کے بیٹے کی اور زیادہ تقلید کر سکتے ہیں۔—۱-پطرس ۲؛۲۱۔
۱۸. ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ کے ذریعے مہیاکردہ مطالعے کے مواد کے ہمارے استعمال کیساتھ ہم بائبل پڑھائی کو کیسے متوازن کر سکتے ہیں؟
۱۸ بیشک، بائبل پڑھائی کو آپکے شاندار مطالعے کے مواد کے استعمال کی جگہ نہیں لینی چاہئے جسے ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ کے ذریعے ممکنالحصول بنایا گیا ہے۔ یہ بھی یہوؔواہ کی فراہمیوں کا حصہ ہے—نہایت ہی گراںبہا۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) اس بات کا یقین کر لیں کہ خدا کے کلام کی باقاعدہ پڑھائی بذاتِخود ہماری زندگیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، ”خدا کے کلام مُقدس بائبل کو روزانہ پڑھیں۔“ (۱۳ ۵/۰۱ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔
آپ کس طرح جواب دیں گے؟
▫ ہر روز کچھ نہ کچھ بائبل پڑھائی کرنا کیوں فائدہمند ہے؟
▫ ہمیں بار بار بائبل پڑھنے کی کیوں ضرورت ہے؟
▫ آپکے اپنے جدوَل میں روزانہ بائبل پڑھائی کا کونسا اچھا وقت ہے؟
▫ جب آپ بائبل کو بار بار پڑھتے ہیں تو کونسی چیز آپکے پروگرام میں تنوع کا اضافہ کر سکتی ہے؟
▫ جو کچھ ہم پڑھتے ہیں اس پر غوروخوض کرنا کیوں نہایت اہم ہے؟
[بکس]
آپکی بائبل پڑھائی کو بہتر بنانے کیلئے تجاویز
(۱) بہتیرے لوگ بائبل کتب کو اُسی ترتیب میں پڑھتے ہیں جس میں وہ رسمی طور پر چھاپی گئی ہیں یعنی پیدایش سے مکاشفہ تک۔ آپ اُنکو اُس ترتیب سے بھی پڑھ سکتے ہیں جس میں وہ شروع میں لکھی گئی تھیں۔ یاد رکھیں کہ بائبل ۶۶ الہامی کتب کا مجموعہ ہے، ایک الہٰی لائبریری۔ محض صفحاتی ترتیب پر چلنے کی بجائے، تنوع کیلئے، آپ شاید اُن کتب میں سے پڑھنا چاہیں جو تاریخ کو نمایاں کرتی ہیں، پھر کچھ وہ جو زیادہتر نبوّتی ہیں، بعد میں کچھ وہ جو مشورت کے خطوط ہیں۔ جو کچھ آپ پڑھ چکے ہیں اُس کا حساب رکھیں اور پوری بائبل پڑھنے کا یقین کر لیں۔
(۲) اپنے صحائف کا ایک حصہ پڑھ لینے کے بعد، خود سے پوچھیں کہ یہ یہوؔواہ، اُسکے مقصد، کام کرنے کے اُسکے طریقے کی بابت کیا آشکارا کرتا ہے؛ اِسے آپ کی اپنی زندگی کو کسطرح متاثر کرنا چاہئے؛ آپ اِسے کسی دوسرے کی مدد کرنے کیلئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔
(۳) انسائٹ آن دی سکرپچرز میں (نیز ”آل سکرپچر از انسپائرڈ آف گاڈ اینڈ بینیفشئل“ میں) ذیلی سرخی ”یسوؔع مسیح“ کے تحت شائعکردہ چارٹ ”یسوؔع کی زمینی زندگی کے اہم واقعات“ کو بطور رہبر استعمال کرتے ہوئے، اناجیل کے ہر حصے کے متوازی بیان کو ایک ایک کرکے پڑھیں۔ دی گریٹسٹ مین ہو ایور لِوڈ کتاب میں سے متوازی حصوں کو دیکھ کر اِسے مکمل کریں۔
(۴) جب آپ رسولوں کے اعمال سے پولسؔ کی زندگی اور خدمتگزاری کے بیان کو پڑھتے ہیں تو متعلقہ الہامی خطوط کو بھی پڑھیں۔ لہٰذا، جب اُن مختلف شہروں یا علاقوں کا ذکر کِیا جاتا ہے جہاں پولسؔ نے منادی کی تو رُکیں اور اُن خطوط کو پڑھیں جو اُس نے اُن مقامات میں ساتھی مسیحیوں کو بعد میں لکھے۔ نقشے پر اُسکے سفروں کو دیکھنا بھی مفید ہے، جیسے کہ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے پیچھے آخری صفحے پر دیا گیا نقشہ۔
(۵) خروج سے استثنا تک اپنی پڑھائی کے ساتھ، بہت سے نبوّتی نمونوں کی وضاحت حاصل کرنے کیلئے عبرانیوں کے نام خط کو پڑھیں۔ انسائٹ آن دی سکرپچرز میں، ”شریعت“ کے تحت چارٹ ”شریعتی عہد کی چند خصوصیات“ کو دیکھیں۔
(۶) نبوّتی کتب کو پڑھتے وقت، بائبل میں متعلقہ تاریخی پسمنظر پر نظرثانی کرنے کیلئے وقت نکالیں۔ مثلاً، یسعیاؔہ کی کتاب پڑھتے ہوئے، جائزہ لیں کہ بادشاہ عزؔیاہ، یوؔتام، آؔخز اور حزؔقیاہ کی بات کو کسی دوسری جگہ پر کیا کہا گیا ہے جنکا ذکر یسعیاؔہ ۱:۱ میں کِیا گیا ہے۔ (۲-سلاطین، ۱۵-۲۰ ابواب؛ ۲-تواریخ، ۲۶-۳۲ ابواب) یا حجیؔ اور زکرؔیاہ کو پڑھتے ہوئے، جو کچھ عزؔرا کی کتاب میں ملتا ہے اُس پر نظرثانی کرنے کیلئے وقت نکالیں۔
(۷) بائبل کی ایک کتاب کو منتخب کریں، اِسکا ایک حصہ پڑھیں (شاید ایک باب)، پھر واچٹاور پبلیکیشن انڈیکس یا اگر آپکی زبان میں دستیاب ہو تو کمپیوٹرائزڈ واچٹاور لائبریری کو استعمال کرتے ہوئے تحقیق کریں۔ اپنی ذاتی زندگی میں مواد کا اطلاق کریں۔ تقاریر میں اور میدانی خدمتگزاری میں اِسے استعمال کریں۔ اسکے بعد دوسرے حصے پر چلے جائیں۔
(۸) اگر واچٹاور کی کوئی ایسی اشاعت ہے جو بائبل کی کسی کتاب یا اِسکے حصے پر تبصرہ پیش کرتی ہے تو جبتک آپ بائبل کا وہ حصہ پڑھ رہے ہیں بار بار اِسکی طرف رجوع کریں۔ (مثال کے طور پر: غزلالغزلات پر، مینارِنگہبانی (انگریزی)، دسمبر ۱، ۱۹۵۷، صفحات ۷۲۰-۷۳۴؛ حزقیایل پر، ”دی نیشنز شیل نو دیٹ آئی ایم جیہووا“—ہاؤ؟؛ دانیایل پر، ”یور وِل بی ڈن آن ارتھ“ یا آور اِنکمنگ ورلڈ گورنمنٹ—گاڈز کنگڈم؛ حجی اور زکریاہ پر، پیراڈائز ریسٹورڈ ٹو مینکائینڈ—بائے تھیوکریسی!؛ مکاشفہ پر، ریویلیشن—اِٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ!)
(۹) جب آپ پڑھتے ہیں تو کچھ باہمی حوالہجات تلاش کریں۔ غور کریں کہ عبرانی صحائف میں سے ۳۲۰ اقتباسات کو مسیحی یونانی صحائف میں براہِراست پیش کِیا گیا ہے اور سینکڑوں دیگر اقتباسات ہیں جنکا حوالہ دیا گیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اطلاق بھی دیا گیا ہے۔ باہمی حوالہجات بائبل میں درج پیشینگوئی، سیرتنگاری اور جغرافیائی تفصیلات، اور اُن متوازی خیالات کی تکمیلوں کو اُجاگر کرتے ہیں جنہیں سمجھنا شاید آپ کو مشکل لگے۔
(۱۰) اگر آپکی زبان میں دستیاب ہو تو نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے ریفرنس ایڈیشن کو استعمال کرتے ہوئے، جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں اُس سے متعلقہ فٹنوٹس اور اپینڈیکس کے مضامین کا جائزہ لیں۔ یہ استعمال کئے جانیوالے ترجموں اور دیگر طریقوں کیلئے بنیاد کو ظاہر کرتا ہے جن میں اہم اصطلاحات کا ترجمہ کِیا جا سکتا ہے۔ آپ شاید مخصوص آیات کے ترجمے کا دیگر بائبل ترجموں کیساتھ موازنہ بھی کرنا چاہیں۔
(۱۱) آپکے ہر باب کو پڑھ لینے کے بعد، اُس باب کے مرکزی خیال کا نہایت مختصر سا خلاصہ لکھیں۔ اِسے بعد کے اعادے اور غوروخوض کیلئے بنیاد کے طور پر استعمال کریں۔
(۱۲)جب آپ بائبل پڑھتے ہیں تو اُن منتخبشُدہ آیات پر نشان لگائیں جو آپ بالخصوص یاد رکھنا چاہتے ہیں، یا اُنہیں کارڈوں پر نقل کر لیں اور اُنہیں ایسی جگہ رکھیں جہاں پر آپ اُنہیں ہر روز دیکھیں گے۔ اُنہیں زبانی یاد کریں؛ اُن پر غوروخوض کریں؛ اُنکو استعمال کریں۔ فوراً بہت ساری آیات یاد کرنے کی کوشش نہ کریں، شاید ہر ہفتے صرف ایک یا دو؛ پھر اگلی مرتبہ جب آپ بائبل پڑھتے ہیں تو مزید آیات کا انتخاب کریں۔