وہ اپنی طاقت کہاں سے حاصل کرتی ہیں؟
اگر آپ اس تصویر میں تِتلی پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اسکے چار پروں میں سے ایک بالکل ناکارہ ہے۔ پھربھی، تِتلی کھانا پینا اور اُڑنا جاری رکھتی ہے۔ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔ تِتلیوں کو اپنے پروں کی سطوح کے ۷۰ فیصد نقصان کیساتھ اپنے روزمرّہ کے کام کو سرانجام دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح، بہتیرے لوگ ایک باعزم جذبے کا اظہار کرتے ہیں۔ شدید جسمانی یا جذباتی مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود، وہ ہمت نہیں ہارتے۔—مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۴:۱۶۔
پولسؔ رسول نے ذاتی طور پر اپنے مشنری دَوروں کے دوران بڑی سختیاں برداشت کیں۔ اُسے کوڑے لگائے گئے، ماراپیٹا گیا، سنگسار کِیا گیا، اور قید میں ڈالا گیا۔ اسکے علاوہ، اُسے ایک طرح کی معذوری بھی برداشت کرنا پڑی، شاید اُسکی آنکھوں کا کوئی مسئلہ تھا، جو اُس کیلئے مسلسل ”جسم میں کانٹا تھا۔“—۲-کرنتھیوں ۱۲:۷-۹؛ گلتیوں ۴:۱۵۔
ڈؔیوڈ نامی ایک مسیحی بزرگ، جو کئی سالوں سے افسردگی کے شدید حملوں سے نبردآزما تھا، یہ ایمان رکھتا ہے کہ یہوؔواہ کی طاقت میری صحتیابی کیلئے نہایت اہم تھی۔ ”بار بار، مشکل سے حاصل ہونے والی کامیابی، ہاتھ سے نکلتی ہوئی معلوم ہوتی تھی،“ وہ وضاحت کرتا ہے۔ ”ایسی بےدلی کی حالت میں، مَیں نے یہوؔواہ پر مکمل بھروسہ کِیا، اور اُس نے واقعی مجھے سنبھالا۔ ایسے مواقع بھی تھے جب مَیں نے ایک ہی وقت میں گھنٹوں دُعا کی۔ جب مَیں یہوؔواہ سے باتچیت کرتا تو میرے تنہائی اور ناکارہ ہونے کے احساسات ختم ہو جاتے تھے۔ مَیں نے بڑی کمزوری کے اوقات میں جدوجہد کی ہے، لیکن یہوؔواہ کا شکر ہے کہ اس کمزوری سے طاقت نکل آئی ہے—حتیٰکہ دوسروں کی مدد کرنے کی طاقت۔“
یہوؔواہ خدا نے پولسؔ کو تقویت بخشی۔ اسلئے، وہ کہہ سکتا تھا: ”جب مَیں کمزور ہوتا ہوں اُسی وقت زورآور ہوتا ہوں۔“ (۲-کرنتھیوں ۱۲:۱۰) جیہاں، پولسؔ کی کمزوریوں نے اُسے خداداد طاقت پر بھروسہ کرنا سکھایا۔ ”جو مجھے طاقت بخشتا ہےاُس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں،“ رسول نے کہا۔ (فلپیوں ۴:۱۳) یہوؔواہ یقیناًاپنے خادموں کو زور بخشتا ہے۔