یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 15/‏12 ص.‏ 8-‏12
  • خدا کے خادم—‏ایک منظم اور مبارک اُمت

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کے خادم—‏ایک منظم اور مبارک اُمت
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جدید زمانے کے خادم بھی منظم کئے گئے
  • منظم اور خوش بھی
  • محبت خوشی پیدا کرتی ہے
  • اب نسبتی خوشی
  • یہوواہ کی خدمت کرنے میں حقیقی خوشی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • یہوواہ خدا منظم طریقے سے کام کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • کیا شادی ہی خوشی کی واحد کنجی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • حقیقی خوشی کُنجی کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 15/‏12 ص.‏ 8-‏12

خدا کے خادم—‏ایک منظم اور مبارک اُمت

‏”‏مبارک ہے وہ اُمت جس کا خدا یہوؔواہ ہے!‏“‏—‏زبور ۱۴۴:‏۱۵‏، این‌ڈبلیو۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ کیوں یہوؔواہ اپنے خادموں کے لئے معیار قائم کرنے کا حق رکھتا ہے؟ (‏ب)‏ یہوؔواہ کی کونسی دو ایسی خصوصیات ہیں جن کی ہمیں خاص طور پر نقل کرنی چاہئے؟‏

یہوؔواہ‌کائنات کا حاکمِ‌اعلیٰ، قادرِمطلق خدا، اور خالق ہے۔ (‏پیدایش ۱:‏۱؛‏ زبور ۱۰۰:‏۳‏)‏ یوں، وہ یہ جانتے ہوئے کہ اُس کے خادموں کے لئے کیا بہتر ہے، بجا طور پر اُن کے لئے طرزِعمل کے معیار قائم کرتا ہے۔ (‏زبور ۱۴۳:‏۸‏)‏ اور وہ اُن کا اوّلین نمونہ ہے جس کی خوبیوں کی انہیں نقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک رسول نے لکھا:‏ ”‏عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔“‏—‏افسیوں ۵:‏۱‏۔‏

۲ خدا کی ایک خصوصیت جس کی ہمیں نقل کرنے کی ضرورت ہے وہ منظم ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ ’‏ابتری کا خدا نہیں‘‏ ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۳‏)‏ جو کچھ خدا نے خلق کِیا ہے جب ہم اس کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ کائنات میں سب سے زیادہ منظم شخصیت ہے۔ تاہم، خدا کی ایک اور خصوصیت جس کی وہ چاہتا ہے کہ اُس کے خادم نقل کریں خوشی ہے، کیونکہ وہ ”‏خدایِ‌مبارک“‏ ہے۔ (‏۱-تیمتھیس ۱:‏۱۱)‏ لہٰذا، اس کی منظم ہونے کی لیاقت خوشی کے ساتھ متوازن ہے۔ ایک کو دوسری کا نقصان کرکے اہمیت نہیں دی جاتی۔‏

۳.‏ ستاروں بھرے آسمان کیسے یہوؔواہ کی منظم کرنے کی قابلیت کو ظاہر کرتے ہیں؟‏

۳ چھوٹے سے لیکر بڑے تک، وہ سب کچھ جو یہوؔواہ نے بنایا ہے، اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ وہ منظم خدا ہے۔ مثال کے طور پر، دیدنی کائنات پر غور کریں۔ اس میں اربوں ستارے ہیں۔ لیکن یہ بِلامقصد اِدھراُدھر بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ آسٹروفیزسٹ (‏فلکی طبیعات کے ماہر)‏ جاؔرج گرینسٹائن نے مشاہدہ کِیا کہ ”‏ستاروں کی تنظیم میں ایک خاص ترتیب ہے۔“‏ وہ گروہوں کی شکل میں منظم ہیں جو کہ کہکشائیں کہلاتے ہیں، بعض میں اربوں ستارے ہیں۔ اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ کروڑوں کہکشائیں ہیں!‏ کہکشائیں بھی منظم ہیں، ان میں سے کئی (‏چند ایک سے لیکر کئی ہزار تک)‏ کہکشاؤں کے ایک جھرمٹ میں اکٹھی ہوتی ہیں۔ اور کہکشاؤں کے جھرمٹوں کی بابت یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ یہ اس سے بھی بڑی اکائیوں میں منظم ہوتے ہیں جنہیں فائق جھرمٹ (‏سُپر کلسٹرز)‏ کہا جاتا ہے۔—‏زبور ۱۹:‏۱؛‏ یسعیاہ ۴۰:‏۲۵، ۲۶‏۔‏

۴، ۵.‏ زمین پر جاندار چیزوں کے درمیان منظم ہونے کی مثالیں دیں۔‏

۴ خدا کی مخلوقات کی نہایت ہی شاندار تنظیم ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، نہ صرف دیدنی آسمانوں میں بلکہ زمین پر اس کی لاکھوں جاندار چیزوں کے اندر بھی۔ اس سب کے متعلق طبیعات کے پروفیسر، پالؔ ڈیویز نے لکھا کہ ”‏طبیعی دنیا کی پُروقار اور پیچیدہ تنظیم“‏ سے مشاہدین ”‏حیرت‌زدہ“‏ ہیں۔—‏زبور ۱۰۴:‏۲۴‏۔‏

۵ ”‏پیچیدہ تنظیم“‏ جو کہ جاندار چیزوں میں پائی جاتی ہے اس کی چند مثالوں پر غور کریں۔ نیوروسرجن جوؔزف ایوانز نے انسانی دماغ اور حرام‌مغز (‏سپائینل کورڈ)‏ کی بابت کہا:‏ ”‏اعلیٰ ترتیب کی حقیقت تقریباً ناقابلِ‌بیان ہے۔“‏ خوردبینی زندہ خلیوں کی بابت، ماہرِ جرثومیات ایچ.‏ جے.‏ شاؔؤنیسے نے بیان کِیا:‏ ”‏خوردبینی حیاتیاتی دنیا کی پیچیدگی اور خوبصورت ترتیب اسقدر حیرت‌انگیز طور پر تعمیر کی گئی ہے کہ یہ الہٰی طور پر مقررکردہ نظام کا ایک حصہ دکھائی دیتی ہے۔“‏ اور سالمی ماہرِحیاتیات مائیکلؔ ڈنٹن نے ایک خلیے کے اندر توارثی ضابطے (‏ڈی‌این‌اے)‏ کی بابت کہا:‏ ”‏یہ اسقدر اثرآفرین ہوتا ہے کہ تمام‌تر معلومات کو .‏ .‏ .‏ جو کہ کسی بھی وقت سیارے پر موجود نامیاتی اجسام کی تمام اقسام کے نقش‌ونگار کی تفصیل بیان کرنے کے لئے ضروری ہیں .‏ .‏ .‏ چائے کے ایک چمچ میں رکھی جا سکتی ہیں اور پھر بھی کبھی لکھی جانے والی ہر کتاب کی تمام معلومات کے لئے جگہ بچ جائیگی۔“‏—‏دیکھیں زبور ۱۳۹:‏۱۶‏۔‏

۶، ۷.‏ روحانی مخلوق کے درمیان کیسا نظم‌وضبط دکھائی دیتا ہے، اور وہ اپنے صانع کے لئے قدردانی کا اظہار کیسے کرتے ہیں؟‏

۶ یہوؔواہ نہ صرف اپنی مادی مخلوقات کو ہی منظم کرتا ہے بلکہ وہ آسمان میں اپنی روحانی مخلوقات کو بھی منظم کرتا ہے۔ دانی‌ایل ۷:‏۱۰ ہمیں بتاتی ہے کہ ’‏ہزاروں ہزار‘‏ کی تعداد میں فرشتے ’‏یہوؔواہ کی خدمت میں حاضر تھے۔‘‏ لاکھوں لاکھ طاقتور روحانی مخلوقات اس کے حضور کھڑے تھے، ہر ایک کو اس کا خاص کام تفویض کِیا گیا تھا!‏ ایسی بڑی تعداد کو منظم کرنے کے لئے جس قدر مہارت درکار ہوگی اس کی بابت سوچنا بھی بوکھلا دیتا ہے۔ موزوں طور پر بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏اے خداوند کے فرشتو!‏ اُس کو مبارک کہو۔ تم جو زور میں بڑھ کر ہو اور اس کے کلام کی آواز سن کر اُس پر عمل کرتے ہو۔ اے خداوند کے [‏ملکوتی]‏ لشکرو!‏ سب اس کو مبارک کہو۔ تم جو اس کے خادم ہو اور اس کی مرضی بجا لاتے ہو۔“‏—‏زبور ۱۰۳:‏۲۰، ۲۱؛‏ مکاشفہ ۵:‏۱۱‏۔‏

۷ خالق کے کام کسقدر شاندار طریقے سے منظم اور اثرآفرین ہیں!‏ اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ آسمانی قلمرو میں طاقتور روحانی مخلوقات نہایت مہیب اور اطاعت‌شعار انداز میں اعلان کرتی ہیں:‏ ”‏اے ہمارے خداوند اور خدا تُو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“‏—‏مکاشفہ ۴:‏۱۱‏۔‏

۸.‏ کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہوؔواہ زمین پر اپنے خادموں کو منظم کرتا ہے؟‏

۸ یہوؔواہ زمین پر اپنے خادموں کو بھی منظم کرتا ہے۔ جب وہ ۲۳۷۰ ق.‏س.‏ع.‏ میں، نوؔح کے زمانے کا طوفانِ‌باراں لایا تو نوؔح اور سات دوسرے ایک خاندانی تنظیم کے طور پر سیلاب سے بچ گئے۔ ۱۵۱۳ ق.‏س.‏ع.‏ کے خروج میں، یہوؔواہ اپنے کئی ملین لوگوں کو مصرؔ کی غلامی سے نکال لایا اور ان کے روزمرہ کے کاموں اور پرستش کو منظم کرنے کے لئے انہیں قوانین کا ایک مفصل ضابطہ دیا۔ اور بعدازاں، موعودہ مُلک میں، اُن میں سے ہزاروں ہزار لوگوں کو ہیکل میں خاص خدمت کرنے کے لئے منظم کِیا گیا تھا۔ (‏۱-‏تواریخ ۲۳:‏۴، ۵‏)‏ پہلی صدی میں، الہٰی ہدایت کے تحت مسیحی کلیسیاؤں کو منظم کِیا گیا تھا:‏ ”‏اُسی نے بعض کو رسول اور بعض کو نبی اور بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دیا۔ تاکہ مُقدس لوگ کامل بنیں اور خدمتگزاری کا کام کِیا جائے۔“‏—‏افسیوں ۴:‏۱۱، ۱۲‏۔‏

جدید زمانے کے خادم بھی منظم کئے گئے

۹، ۱۰.‏ ہمارے زمانے میں یہوؔواہ نے اپنے لوگوں کو کیسے منظم کِیا ہے؟‏

۹ اسی طرح، یہوؔواہ نے اپنے جدید زمانے کے خادموں کو بھی منظم کِیا ہے تاکہ وہ ہمارے زمانے کے لئے اس کا کام—‏اس کے اس موجودہ بے‌دین نظام کا خاتمہ لانے سے پہلے اُس کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی—‏کر سکیں۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ غور کریں کہ اس عالمگیر کام میں کیا کچھ شامل ہے اور اچھی تنظیم کسقدر اہم ہے۔ دوسروں کو بائبل سچائیاں سکھانے کے لئے لاکھوں مردوں، عورتوں اور بچوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ اس تربیت میں مدد دینے کے لئے بڑی تعداد میں بائبلیں اور بائبل پر مبنی مطبوعات شائع کی جاتی ہیں۔ اب مینارِنگہبانی کے ہر شمارے کی اشاعت ۱۱۸ زبانوں میں ۱۶ ملین سے زیادہ ہے اور جاگو!‏ ۷۳ زبانوں میں تقریباً ۱۳ ملین ہے۔ تقریباً تمام شمارے بیک وقت شائع ہوتے ہیں تاکہ عملی طور پر یہوؔواہ کے تمام خادم ایک ہی وقت پر ایک جیسی معلومات حاصل کریں۔‏

۱۰ اس کے علاوہ، پوری دنیا میں یہوؔواہ کے گواہوں کی ۷۳،۰۰۰ سے زائد کلیسیائیں بائبل ہدایت کے لئے باقاعدگی سے جمع ہونے کے لئے منظم ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ اس کے علاوہ ہر سال ہزاروں بڑے اجتماعات—‏سرکٹ اسمبلیاں اور ڈسٹرکٹ کنونشنیں—‏بھی ہوتے ہیں۔ وسیع پیمانے پر نئے یا بہتر بنائے گئے کنگڈم ہالوں، اسمبلی ہالوں، بیت‌ایل ہومز اور بائبل لٹریچر شائع کرنے کے لئے جگہوں کی عالمگیر تعمیر بھی ہو رہی ہے۔ بائبل معلّموں کی اعلیٰ تربیت کے لئے سکول بھی موجود ہیں، جیسے کہ مشنریوں کے لئے واچ‌ٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ اور پوری دنیا میں مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے پائنیر سروس سکول۔‏

۱۱.‏ اب اچھے نظم‌وضبط کی بابت سیکھنے سے مستقبل میں کیا فوائد حاصل ہوں گے؟‏

۱۱ یہوؔواہ نے زمین پر اپنے خدمتگزار فرشتوں کی مدد سے، اپنے لوگوں کو ’‏اُن کی خدمتگزاری کو پوری طرح انجام دینے کے لئے‘‏ کس عمدگی سے منظم کِیا ہے!‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵؛‏ عبرانیوں ۱:‏۱۳، ۱۴؛‏ مکاشفہ ۱۴:‏۶‏)‏ اب اپنے خادموں کو اچھی تنظیم کے ضوابط کی بابت ہدایت دیتے ہوئے، خدا کچھ اَور بھی سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے خادم اچھی طرح تیار کئے جا رہے ہیں تاکہ جب وہ اس نظام کے خاتمے سے بچ جاتے ہیں تو وہ نئی دنیا میں زندگی کا آغاز کرنے کے لئے پہلے ہی سے منظم ہوں گے۔ پھر، وہ یہوؔواہ کے زیرِہدایت ایک منظم طریقے سے، عالمگیر فردوس کو تعمیر کرنا شروع کریں گے۔ وہ اُن کروڑوں لوگوں کو بھی زندگی کے لئے خدا کے مفصل تقاضے سکھانے کے لئے اچھی طرح تیار ہوں گے جو مُردوں میں سے زندہ کئے جائیں گے۔—‏یسعیاہ ۱۱:‏۹؛‏ ۵۴:‏۱۳؛‏ اعمال ۲۴:‏۱۵؛‏ مکاشفہ ۲۰:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

منظم اور خوش بھی

۱۲، ۱۳.‏ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوؔواہ چاہتا ہے کہ اس کے لوگ خوش ہوں؟‏

۱۲ جبکہ یہوؔواہ حیرت‌انگیز کام کرنے والا اور نہایت شاندار منتظم ہے، وہ بے‌حس، سخت، یا مشینی چیز نہیں ہے۔ اس کی بجائے، وہ نہایت پُرجوش، خوش شخصیت ہے جو ہماری خوشی کی بابت فکرمند ہے۔ ۱-‏پطرس ۵:‏۷ بیان کرتی ہے، ”‏اُس کو تمہاری فکر ہے۔“‏ جو کچھ اس نے انسانوں کے لئے بنایا ہے اس سے ہم اپنے خادموں کو خوش‌وخرم دیکھنے کی اس کی فکر اور خواہش کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب خدا نے کامل آدمی اور عورت کو خلق کِیا تو اُس نے انہیں ایک خوشنما باغ میں رکھا۔ (‏پیدایش ۱:‏۲۶-‏۳۱؛‏ ۲:‏۸، ۹‏)‏ انہیں بیحد خوش رکھنے کے لئے اُس نے انہیں وہ سب کچھ دیا جس کی انہیں ضرورت تھی۔ لیکن انہوں نے بغاوت کے ذریعے وہ سب کچھ کھو دیا۔ ان کے گناہ کے نتیجے میں ہم نے ناکاملیت اور موت کا ورثہ پایا۔—‏رومیوں ۳:‏۲۳؛‏ ۵:‏۱۲‏۔‏

۱۳ اب ناکامل ہونے کے باوجود، ہم انسان ابھی تک جو کچھ خدا نے بنایا ہے اس سے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہمیں لطف‌اندوز کرتی ہیں—‏پُرشکوہ پہاڑ؛ خوبصورت جھیلیں، دریا، بڑے بڑے سمندر اور ساحل؛ رنگین، خوشبودار پھول اور دیگر اَن‌گنت اقسام کی نباتات؛ لذیذ کھانوں کی افراط؛ دلکش غروبِ‌آفتاب جسے دیکھ دیکھ کر ہم کبھی نہیں تھکتے؛ ستاروں بھرے آسمان جن پر ہم رات کو غور کرنے سے لطف اٹھاتے ہیں؛ اپنی بیشمار انواع کے ساتھ حیوانی مخلوق اور اپنی زندہ‌دل مضحکہ‌خیز حرکات والے دلکش بچے؛ پُرجوش موسیقی؛ دلچسپ اور کارآمد کام؛ اچھے دوست۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ جس نے ایسی چیزوں کا بندوبست کِیا ہے وہ ایک مسرور شخص ہے جو دوسروں کو خوش کرنے سے محظوظ ہوتا ہے۔‏

۱۴.‏ اپنی تقلید کرانے میں یہوؔواہ ہم سے کس توازن کا تقاضا کرتا ہے؟‏

۱۴ پس، یہوؔواہ محض منظم کارگزاری ہی نہیں چاہتا۔ وہ اپنے خادموں کو بھی اسی طرح خوش دیکھنا چاہتا ہے، جیسے وہ خوش ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنی خوشی کو نقصان پہنچا کر چیزوں کو دیوانہ‌وار منظم کریں۔ ضرور ہے کہ خدا کے خادم تنظیمی مہارتوں کو خوشی کے ساتھ متوازن رکھیں، جیسے کہ وہ رکھتا ہے، کیونکہ جہاں اس کی طاقتور پاک روح ہے وہاں خوشی ہے۔ بِلاشُبہ، گلتیوں ۵:‏۲۲ ظاہر کرتی ہے کہ خدا کے لوگوں کے درمیان سرگرمِ‌عمل اس کی پاک روح کا دوسرا پھل ”‏خوشی“‏ ہے۔‏

محبت خوشی پیدا کرتی ہے

۱۵.‏ ہماری خوشی کے لئے محبت اسقدر اہم کیوں ہے؟‏

۱۵ اس پر غور کرنا نہایت دلچسپی کی بات ہے کہ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏خدا محبت ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۸،‏ ۱۶‏)‏ یہ کبھی نہیں کہتی:‏ ”‏خدا منظم ہے۔“‏ محبت خدا کی بڑی خوبی ہے اور اس کے خادموں کو ضرور اس کی نقل کرنی چاہئے۔ اسی لئے گلتیوں ۵:‏۲۲ میں درج خدا کی روح کے پھلوں میں سے پہلا ”‏محبت“‏ ہے، اس کے بعد ”‏خوشی۔“‏ محبت خوشی پیدا کرتی ہے۔ جب ہم دوسروں کے ساتھ اپنے برتاؤ میں یہوؔواہ کی محبت کی نقل کرتے ہیں تو بدلے میں خوشی ملتی ہے کیونکہ پُرمحبت لوگ مبارک لوگ ہوتے ہیں۔‏

۱۶.‏ یسوؔع نے محبت کی اہمیت کا مظاہرہ کیسے کِیا؟‏

۱۶ خدائی محبت کی نقل کرنے کی اہمیت کو یسوؔع مسیح کی تعلیمات میں نمایاں کِیا گیا ہے۔ اُس نے کہا:‏ ”‏جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اُسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔“‏ (‏یوحنا ۸:‏۲۸‏)‏ یسوؔع کو بالخصوص کیا سکھایا گیا تھا جو اس نے بعد میں دوسروں کو سکھایا؟ وہ تھے دو بڑے حکم خدا سے محبت رکھنا اور اپنے پڑوسی سے محبت رکھنا۔ (‏متی ۲۲:‏۳۶-‏۳۹‏)‏ یسوؔع نے ایسی محبت کا عملی طور پر مظاہرہ کِیا۔ اس نے کہا:‏ ”‏مَیں باپ سے محبت رکھتا ہوں،“‏ اور جان دینے تک خدا کی مرضی پوری کرنے سے اس نے اِسے ثابت کر دیا۔ اور اس نے لوگوں کے لئے اپنی محبت کا اظہار اُن کے لئے مرنے سے کِیا۔ پولسؔ رسول نے افسسؔ میں مسیحیوں کو بتایا:‏ ’‏مسیح نے تم سے محبت کی اور ہمارے واسطے اپنے آپ کو .‏ .‏ .‏ قربان کِیا۔‘‏ (‏یوحنا ۱۴:‏۳۱؛‏ افسیوں ۵:‏۲‏)‏ پس، یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کو بتایا:‏ ”‏میرا حکم یہ ہے کہ جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“‏—‏یوحنا ۱۵:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

۱۷.‏ پولسؔ نے کیسے ظاہر کِیا کہ دوسروں کے لئے محبت دکھانا نہایت اہم ہے؟‏

۱۷ پولسؔ نے یہ کہتے ہوئے ظاہر کِیا کہ یہ خدائی محبت کسقدر اہم ہے:‏ ”‏اگر مَیں آدمیوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو مَیں ٹھنٹھناتا پیتل یا جھنجھناتی جھانجھ ہوں۔ اور اگر مجھے نبوّت ملے اور سب بھیدوں اور کُل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹا دوں اور محبت نہ رکھوں تو مَیں کچھ بھی نہیں۔ اور اگر اپنا سارا مال غریبوں کو کھلا دوں یا اپنا بدن جلانے کو دے دوں اور محبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں۔ .‏ .‏ .‏ غرض ایمان اُمید محبت یہ تینوں دائمی ہیں مگر افضل ان میں محبت ہے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱-‏۳،‏ ۱۳‏۔‏

۱۸.‏ ہم یہوؔواہ سے کس چیز کی توقع کر سکتے ہیں جو کہ ہماری خوشی میں اضافہ کرتی ہے؟‏

۱۸ جب ہم یہوؔواہ کی محبت کی تقلید کرتے ہیں تو ہم اپنے لئے اس کی محبت کا یقین رکھ سکتے ہیں، اس وقت بھی جب ہم غلطیاں کرتے ہیں، کیونکہ وہ ”‏خدایِ‌رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی ہے۔“‏ (‏خروج ۳۴:‏۶)‏ جب ہم غلطیاں کرتے ہیں اس وقت اگر ہم خلوصدلی سے توبہ کر لیتے ہیں تو خدا انکا حساب نہیں رکھتا بلکہ پُرمحبت طور پر ہمیں معاف کرتا ہے۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۱-‏۳‏)‏ جی‌ہاں، ”‏یہوؔواہ نہایت شفیق اور رحمدل ہے۔“‏ (‏یعقوب ۵:‏۱۱‏، این‌ڈبلیو)‏ اس بات کو جاننا ہماری خوشی میں اضافہ کرتا ہے۔‏

اب نسبتی خوشی

۱۹، ۲۰.‏ (‏ا)‏ مکمل خوشی اب کیوں ممکن نہیں ہے؟ (‏ب)‏ بائبل کیسے ظاہر کرتی ہے کہ ہم اس وقت میں نسبتی خوشی حاصل کر سکتے ہیں؟‏

۱۹ تاہم، جبکہ ہم شیطان کے زیرِاثر جُرم سے بھری ہوئی، متشدّد، بداخلاق دنیا کے آخری ایام میں رہتے ہیں، جہاں ہمیں بیماری اور موت کا سامنا ہے تو کیا ہمارے لئے آجکل خوش رہنا ممکن ہے؟ یقیناً، ہم اب اس قدر خوشی کی توقع نہیں کر سکتے جو خدا کی نئی دنیا میں پائی جائیگی، جیسے کہ اس کا کلام پیشینگوئی کرتا ہے:‏ ”‏دیکھو مَیں نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہوگا اور وہ خیال میں نہ آئینگی۔ بلکہ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو۔“‏—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

۲۰ جو چیز خدا کے خادم اب حاصل کر سکتے ہیں وہ نسبتی خوشی ہے کیونکہ وہ اس کی مرضی سے واقف ہیں اور اُس کی فردوسی نئی دنیا میں جلد آنے والی شاندار برکات کی بابت صحیح علم رکھتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۴‏)‏ اسی لئے بائبل کہہ سکتی ہے:‏ ”‏اے لشکروں کے خداوند!‏ مبارک ہے وہ آدمی جسکا توکل تجھ پر ہے،“‏ ”‏مبارک ہے ہر ایک جو خداوند سے ڈرتا اور اس کی راہوں پر چلتا ہے،“‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔“‏ (‏زبور ۸۴:‏۱۲؛‏ ۱۲۸:‏۱؛‏ متی ۵:‏۵‏)‏ اسلئے، موجودہ مشکل حالات کے باوجود جن کا ہمیں مقابلہ کرنا پڑتا ہے ہم کافی حد تک خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس وقت بھی جب ہمارے ساتھ بُرے واقعات پیش آتے ہیں، ہم ان کی طرح افسردہ نہیں ہو جاتے جو یہوؔواہ کو نہیں جانتے اور جن کے پاس ابدی زندگی کی اُمید نہیں ہے۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۱۳۴۔‏

۲۱.‏ کیسے اپنے آپ کو وقف کر دینا یہوؔواہ کے خادموں کی خوشی میں اضافہ کرتا ہے؟‏

۲۱ یہوؔواہ کے خادموں کو اسلئے بھی خوشی حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ دوسروں کو بائبل سچائیاں سکھانے کے لئے وقت، توانائی اور وسائل صرف کرتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو شیطان کی دنیا میں کئے جانے والے ’‏نفرتی کاموں کے سبب سے آہیں مار رہے اور رو رہے ہیں۔‘‏ (‏حزقی‌ایل ۹:‏۴)‏ بائبل کہتی ہے:‏ ”‏مبارک ہے وہ جو غریب کا خیال رکھتا ہے۔ خداوند مصیبت کے دن اُسے چھڑائے گا۔ خداوند اسے محفوظ اور جیتا رکھیگا اور وہ زمین پر مبارک ہوگا۔“‏ (‏زبور ۴۱:‏۱، ۲‏)‏ جیسے کہ یسوؔع نے کہا، ”‏دینا لینے سے مبارک ہے۔“‏—‏اعمال ۲۰:‏۳۵‏۔‏

۲۲.‏ (‏ا)‏ جہاں تک خوشی کا تعلق ہے، خدا کے خادموں کا موازنہ اُن کے ساتھ کریں جو اُس کی خدمت نہیں کرتے۔ (‏ب)‏ کس خاص وجہ سے ہمیں خوش ہونے کی توقع کرنی چاہئے؟‏

۲۲ پس جبکہ خدا کے خادم اس موجودہ وقت میں بہت زیادہ خوشی کی توقع نہیں کر سکتے، وہ ایسی خوشی حاصل کر سکتے ہیں جس سے کہ وہ لوگ لطف‌اندوز نہیں ہو سکتے جو خدا کی خدمت نہیں کرتے۔ یہوؔواہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏دیکھو میرے بندے دل کی خوشی سے گائیں گے پر تم دلگیری کے باعث نالان ہوگے اور جانکاہی سے واویلا کرو گے۔“‏ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۴‏)‏ نیز، وہ جو خدا کی خدمت کرتے ہیں ان کے پاس اب خوش ہونے کی ایک بہت خاص وجہ ہے—‏ان کے پاس خدا کی پاک روح ہے جسے ”‏خدا نے انہیں بخشا ہے جو اس کا حکم مانتے ہیں۔“‏ (‏اعمال ۵:‏۳۲‏)‏ اور یاد رکھیں، جہاں خدا کا روح ہے وہاں خوشی ہے۔—‏گلتیوں ۵:‏۲۲‏۔‏

۲۳.‏ اپنے اگلے مطالعے میں ہم کس چیز پر غور کریں گے؟‏

۲۳ آجکل خدا کے خادموں کی تنظیم میں، ”‏بزرگوں“‏ یعنی ایلڈروں کے ذریعے ایک نمایاں کردار ادا کِیا جا رہا ہے، جو یہوؔواہ کے لوگوں کی خوشی میں اضافہ کرتے ہوئے، کلیسیاؤں میں پیشوائی کرتے ہیں۔ (‏ططس ۱:‏۵‏)‏ ان اشخاص کو اپنی ذمہ‌داریوں اور اپنے روحانی بھائی بہنوں کے ساتھ اپنے رشتے کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟ ہمارا اگلا مضمون اس پر بات‌چیت کرے گا۔‏

آپ کیسے جواب دیں گے‏؟‏

▫ کیسے مخلوقات یہوؔواہ کے منظم ہونے کی شہادت دیتی ہے؟‏

▫ ماضی اور حال میں یہوؔواہ نے اپنے خادموں کو کیسے منظم کِیا ہے؟‏

▫ یہوؔواہ ہم سے کس توازن کا تقاضا کرتا ہے؟‏

▫ ہماری خوشی کے لئے محبت کسقدر اہم ہے؟‏

▫ ہم اپنے دَور میں کس قسم کی خوشی کی توقع کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏,Top: Courtesy of ROE/Anglo-Australian Observatory

photograph by David Malin

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں