یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 15/‏12 ص.‏ 4-‏7
  • مُردوں کی حالت کیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مُردوں کی حالت کیا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • موت نوعِ‌انسان کا مقدر نہیں تھی
  • کونسا وعدہ؟‏
  • عالمِارواح کی طرف سے رابطے
  • یہوؔواہ، سچائی اور محبت کا خدا
  • کیا آپ میں غیرفانی رُوح ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • کیا مُردے زندہ ہوں گے؟‏
    خدا کی طرف سے خوشخبری
  • مُتوَفّی عزیزوں کے لئے کیا اُمید ہے؟‏
    مُتوَفّی عزیزوں کے لئے کیا اُمید ہے؟‏
  • مرنے کے بعد اِنسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 15/‏12 ص.‏ 4-‏7

مُردوں کی حالت کیا ہے؟‏

مُردوں کا خوف ایک مفروضے پر مبنی ہے کہ مُردے ایسی جان یا روح رکھتے ہیں جو کہ موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ اگر بائبل واضح طور پر یہ تعلیم دیتی ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے تو پھر یہ سوال کہ آیا مُردے آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ پس، پھر بائبل کیا کہتی ہے؟‏

مُردوں کی حالت کی بابت خدا کا کلام کہتا ہے:‏ ”‏کیونکہ زندہ جانتے ہیں کہ وہ مریں گے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے اور اُن کے لئے اَور کچھ اجر نہیں کیونکہ اُن کی یاد جاتی رہی ہے۔ اب اُن کی محبت‌وحسد سب نیست ہو گئے اور تاابد اُن سب کاموں میں جو دنیا میں کئے جاتے ہیں اُنکا کوئی حصہ بخرہ نہیں۔“‏—‏واعظ ۹:‏۵، ۶‏۔‏

اسکے پیشِ‌نظر، کیا مُردے آپکی مدد کر سکتے یا آپکو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ صحائف کہتے ہیں کہ نہیں۔ مُردے بے‌خبر اور خاموش ہیں۔ وہ زندہ لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے یا کسی جذبے—‏محبت یا نفرت—‏کا اظہار کرنے یا کوئی کام انجام دینے کے قابل نہیں ہیں۔ آپکو اُن سے کسی بھی طرح سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔‏

بعض شاید کہیں کہ ’‏جی‌ہاں، اگر آپ جسمانی بدن کی بات کرتے ہیں تو یہ سچ ہو سکتا ہے۔ لیکن طبیعی موت زندگی کا خاتمہ تو نہیں؛ یہ تو محض روح کو بدن سے آزاد کرتی ہے۔ وہ روح زندہ لوگوں کی مدد کر سکتی یا انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘‏ پوری دنیا میں لاکھوں لوگ ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔‏

مثال کے طور پر، مڈغاؔسکر میں زندگی کو محض ایک تبدیلی خیال کِیا جاتا ہے، لہٰذا، ایک جنازے اور ایک لاش کو زمین سے کھود کر باہر نکالنے کو ایک شادی سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ وہ شخص اپنے آباؤاجداد میں سے آیا تھا اور موت واقع ہونے پر واپس اُن کے پاس چلا جاتا ہے۔ اسلئے، زندہ لوگوں کے گھر لکڑی اور کچی اینٹوں سے بنائے جاتے ہیں، ایسی چیزیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، جبکہ مقبرے، مُردوں کے ”‏گھر،“‏ عموماً زیادہ محنت اور کوشش سے بنائے جاتے ہیں اور پائیدار ہوتے ہیں۔ لاش کو کھود کر نکالتے وقت، خاندان اور دوست یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ثواب ملے گا اور عورتیں یہ یقین رکھتی ہیں کہ اگر وہ مُردہ رشتے‌دار کی ہڈیوں کو چھو لیتی ہیں تو اُن کی گود ہری ہو جائے گی۔ لیکن، پھر، خدا کا کلام کیا کہتا ہے؟‏

موت نوعِ‌انسان کا مقدر نہیں تھی

یہ جاننا دلچسپی کی بات ہے کہ یہوؔواہ خدا نے انسان کو زندہ رہنے کے لئے خلق کِیا اور اُس نے موت کا ذکر صرف نافرمانی کے نتیجے کے طور پر کِیا۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷‏)‏ افسوس کی بات ہے کہ پہلے آدمی اور عورت نے گناہ کِیا اور نتیجے کے طور پر گناہ، جان لیوا ورثے کے طور پر تمام نوعِ‌انسانی میں پھیل گیا۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ لہٰذا آپ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انسانی جوڑے کی نافرمانی کے وقت سے لیکر موت زندگی کی ایک حقیقت بن گئی ہے، جی‌ہاں، زندگی کی ایک دردناک حقیقت۔ ہم زندہ رہنے کے لئے خلق کئے گئے تھے، جو کہ کسی حد تک اس بات کی وضاحت کر دیتا ہے کہ کیوں بیشمار لاکھوں لوگوں کے لئے موت کو انجام سمجھ لینا اسقدر مشکل ہے۔‏

بائبل کے بیان کے مطابق، شیطان نے خدا کی اس آگاہی کی تردید کرتے ہوئے کہ نافرمانی موت کا باعث بنے گی پہلے انسانی جوڑے کو موت کی بابت دھوکا دینے کی کوشش کی۔ (‏پیدایش ۳:‏۴‏)‏ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ انسان اُسی طرح مرتے ہیں جیسے خدا نے کہا تھا کہ وہ مریں گے۔ لہٰذا، صدیوں کے دوران شیطان نے ایک اور جھوٹ کے ساتھ جوابی کارروائی کی کہ بدن کے مرنے کے بعد انسان کا کوئی روحانی حصہ زندہ رہتا ہے۔ ایسا دھوکا شیطان ابلیس کے لئے موزوں ہے، جسے یسوؔع نے ”‏جھوٹ [‏کے]‏ باپ“‏ کے طور پر بیان کِیا۔ (‏یوحنا ۸:‏۴۴‏)‏ اس کے برعکس، موت کے لئے خدا کا حل ایک حوصلہ‌افزا وعدہ ہے۔‏

کونسا وعدہ؟‏

یہ بہتیروں کے لئے قیامت کا وعدہ ہے۔ یونانی لفظ جسکا ترجمہ ”‏قیامت“‏ کِیا گیا ہے وہ ایناستاسِس ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے ”‏دوبارہ کھڑے ہونا،“‏ اور یہ موت سے زندہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جی‌ہاں، انسان موت کی نیند سو جاتا ہے لیکن خدا اپنی قدرت سے اس شخص کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ انسان زندگی کھو بیٹھتا ہے لیکن خدا اُسے دوبارہ زندگی دے سکتا ہے۔ خدا کے بیٹے، یسوؔع مسیح نے کہا:‏ ”‏کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اُس کی آواز سن کر نکلینگے۔“‏ (‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ پولسؔ رسول نے ”‏خدا سے اسی بات کی“‏ اپنی ”‏اُمید“‏ کا اظہار کِیا ”‏کہ راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“‏ (‏اعمال ۲۴:‏۱۵‏)‏ مسیحی دَور سے قبل خدا کے ایک وفادار خادم اؔیوب، نے بھی قیامت پر اپنی اُمید کا اظہار کِیا:‏ ”‏اگر آدمی مر جائے تو کیا پھر جئے گا؟ مَیں اپنی جنگ کے کُل ایام میں منتظر رہتا جب تک میرا چھٹکارا نہ ہوتا۔ تُو [‏خدا]‏ مجھے پکارتا اور مَیں تجھے جواب دیتا۔“‏—‏ایوب ۱۴:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

کیا قیامت کا واضح وعدہ اس بات کو جھوٹا ثابت نہیں کر دیتا کہ مُردے روحانی شکل میں زندہ ہیں؟ اگر مُردے زندہ ہیں اور آسمان یا روحوں کے کسی عالم میں ہونے سے لطف‌اندوز ہو رہے ہیں تو پھر قیامت کا کیا مقصد ہوگا؟ کیا انہوں نے پہلے ہی اپنا اجر اور منزل حاصل نہ کر لی ہوگی؟ خدا کے کلام کا مطالعہ آشکارا کرتا ہے کہ مُردے ہمارے شفیق باپ یہوؔواہ کی موعودہ نئی دنیا—‏ایک فردوس—‏میں قیامت کے ذریعے عظیم بیداری تک واقعی مُردہ، بے‌خبر، سوئے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر موت کا مطلب بدن اور روح کی علیٰحدگی نہیں اور اگر روح مسلسل زندہ نہیں رہتی تو پھر بظاہر روحوں کے عالم کی طرف سے رابطوں کے معاملات کی بابت کیا ہے؟‏

عالمِارواح کی طرف سے رابطے

عالمِ‌ارواح کی طرف سے مبیّنہ طور پر رابطے قائم ہونے کے بے‌شمار واقعات سننے میں آئے ہیں۔ درحقیقت ان کا ماخذ کیا ہے؟ بائبل ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ”‏شیطان بھی اپنے آپ کو نورانی فرشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے۔ پس اگر اس کے خادم بھی راستبازی کے خادموں کے ہمشکل بن جائیں تو کچھ بڑی بات نہیں۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۱۴، ۱۵‏)‏ جی‌ہاں، لوگوں کو زیادہ آسانی سے دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کیلئے، شیاطین (‏باغی فرشتوں)‏ نے بعض‌اوقات مددگار ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہوئے زندہ لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کِیا ہے۔‏

پولسؔ رسول دھوکے کی اس مہم کے خلاف مزید آگاہی دیتا ہے:‏ ”‏بعض لوگ گمراہ کرنے والے الہامی اظہارات اور شیاطین کی تعلیمات کیطرف متوجہ ہو کر ایمان سے برگشتہ ہو جائیں گے۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱‏، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن)‏ اسلئے کسی بھی قسم کا جوابی عمل جسے مُردے سے منسوب کِیا جاتا ہے ممکن ہے کہ وہ اُن شیاطین کی طرف سے ہو جو ”‏راستبازی کے خادموں کے“‏ ہمشکل بن جاتے ہیں اور ایک مذہبی جھوٹ کو فروغ دیتے ہیں جس سے لوگوں کو ایسی توہمات کے غلام بنا دیتے ہیں جو کہ انہیں خدا کے کلام کی سچائی سے دُور لے جاتے ہیں۔‏

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ مُردے کوئی بات کہنے، کوئی کام کرنے یا کچھ محسوس کرنے کے قابل نہیں ہوتے، زبور ۱۴۶:‏۳، ۴ بیان کرتی ہیں:‏ ”‏نہ اُمرا پر بھروسا کرو نہ آدم‌زاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔ اُس کا دم [‏”‏روح،“‏ این‌ڈبلیو]‏ نکل جاتا ہے تو وہ مٹی میں مِل جاتا ہے۔ اُسی دن اُس کے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔“‏ یہ کونسی روح ہے جو کہ ”‏نکل [‏جاتی]‏“‏ ہے؟ یہ اُس شخص کی قوتِ‌حیات ہے جِسے سانس لینے سے زندہ رکھا جاتا ہے۔ اسلئے، جب مُتوَفّی نے سانس لینا بند کِیا تو اس کے حواس نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ وہ مکمل بے‌خبری کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ پس اُس کے لئے زندہ لوگوں پر اختیار رکھنا ناممکن ہے۔‏

اسی لئے بائبل یہ بیان کرتے ہوئے انسان کی موت کا موازنہ ایک حیوان کی موت کے ساتھ کرتی ہے کہ موت کے وقت دونوں بے‌خبری کی حالت کو پہنچ جاتے ہیں اور مٹی میں مِل جاتے ہیں جس سے وہ نکالے گئے تھے۔ واعظ ۳:‏۱۹، ۲۰ کہتی ہے:‏ ”‏جو کچھ بنی‌آدم پر گزرتا ہے وہی کچھ حیوان پر گزرتا ہے۔ ایک ہی حادثہ دونوں پر گزرتا ہے جس طرح یہ مرتا ہے اُسی طرح وہ مرتا ہے۔ ہاں سب میں ایک ہی سانس ہے اور انسان کو حیوان پر کچھ فوقیت نہیں کیونکہ سب بطلان ہے۔ سب کے سب ایک ہی جگہ جاتے ہیں۔ سب کے سب خاک سے ہیں اور سب کے سب پھر خاک سے جا ملتے ہیں۔“‏

یہ جانتے ہوئے کہ شیاطین لوگوں کو یہ سوچنے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مُردوں کے ساتھ رابطہ رکھ سکتے اور ان سے متاثر ہو سکتے ہیں، یہوؔواہ خدا نے اپنے لوگوں، قدیم اسرائیلیوں کو آگاہ کِیا:‏ ”‏تجھ میں ہرگز کوئی ایسا نہ ہو جو .‏ .‏ .‏ فالگیر یا شگون نکالنے والا یا افسون‌گر یا جادوگر یا منتری یا جنات کا آشنا یا رمال یا ساحر ہو۔ کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خداوند کی نظر میں مکروہ ہیں۔“‏—‏استثنا ۱۸:‏۱۰-‏۱۲۔‏

واضح طور پر، یہ نظریہ کہ مُردے ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ وہ سچائی کا خدا ہے۔ (‏زبور ۳۱:‏۵؛‏ یوحنا ۱۷:‏۱۷‏)‏ اور اس کے پاس سچائی سے محبت رکھنے والوں کے لئے جو اس کی پرستش ”‏روح اور سچائی“‏ سے کرتے ہیں شاندار مستقبل رکھا ہے۔—‏یوحنا ۴:‏۲۳، ۲۴‏۔‏

یہوؔواہ، سچائی اور محبت کا خدا

ہمارے شفیق آسمانی باپ نے، ”‏جو جھوٹ نہیں بول سکتا،“‏ وعدہ کِیا ہے:‏ لاکھوں لاکھ جو مر چکے ہیں اور قبروں میں دفن کر دیئے گئے ہیں راستباز نئی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی کے امکان کے ساتھ زندہ کئے جائیں گے!‏ (‏ططس ۱:‏۱، ۲؛‏ یوحنا ۵:‏۲۸‏)‏ قیامت کا یہ پُرمحبت وعدہ آشکارا کرتا ہے کہ یہوؔواہ اپنی انسانی مخلوق کی بہبود میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور موت، غم اور تکلیف کو ختم کرنے کی دلی خواہش رکھتا ہے۔ اس لئے مُردوں سے خوفزدہ ہونے یا ان کی بظاہر کامیابی کی بابت حد سے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ (‏یسعیاہ ۲۵:‏۸، ۹؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏)‏ ہمارا شفیق اور منصف خدا، یہوؔواہ، موت کی تکلیف کو ختم کرتے ہوئے، انہیں زندہ کر سکتا ہے اور ضرور کرے گا۔‏

خدا کا کلام، بائبل، ایسے بیانات سے بھرا ہوا ہے کہ راستبازی والی اس موعودہ نئی دنیا میں اس زمین پر حالتیں کیسی ہوں گی۔ (‏زبور ۳۷:‏۲۹؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ یہ تمام ساتھی انسانوں کے لئے امن اور خوشی اور محبت کا دَور ہوگا۔ (‏زبور ۷۲:‏۷؛‏ یسعیاہ ۹:‏۷؛‏ ۱۱:‏۶-‏۹؛‏ میکاہ ۴:‏۳، ۴)‏ سب کے پاس محفوظ، خوبصورت گھر اور اس کے ساتھ ساتھ پُرلطف کام ہوگا۔ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۲۱-‏۲۳‏)‏ سب کے پاس کھانے کے لئے اچھی چیزیں افراط سے ہوں گی۔ (‏زبور ۶۷:‏۶؛‏ ۷۲:‏۱۶‏)‏ سب اچھی صحت سے لطف‌اندوز ہوں گے۔ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۴؛‏ ۳۵:‏۵، ۶‏)‏ جبکہ رسول اور ایک اضافی محدود تعداد یسوؔع کے ساتھ آسمان میں حکمرانی کریں گے، بائبل موت کے بعد دوسروں کی روحوں کا آسمان میں بابرکت حالتوں سے لطف‌اندوز ہونے کا کوئی ذکر نہیں کرتی۔ (‏مکاشفہ ۵:‏۹، ۱۰؛‏ ۲۰:‏۶‏)‏ اگر کروڑوں لوگ جو مر چکے ہیں موت کے بعد زندہ رہتے ہیں تو یہ عجیب بات ہوگی۔‏

لیکن جب ہم بائبل کی واضح تعلیم کو جان لیتے ہیں تو یہ عجیب بات نہیں ہوتی:‏ مُردے زندہ جانوں کے طور پر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وہ جو قبروں میں ہیں بے‌خبری کی حالت میں، خدا کے مقررہ وقت میں قیامت پانے تک محض آرام کر رہے ہیں۔ (‏واعظ ۹:‏۱۰؛‏ یوحنا ۱۱:‏۱۱-‏۱۴،‏ ۳۸-‏۴۴‏)‏ تو پھر، ہماری اُمیدیں اور آرزوئیں خدا پر منحصر ہیں۔ ”‏ہم اُس کی نجات سے خوش‌وخرم ہوں گے۔“‏—‏یسعیاہ ۲۵:‏۹‏۔‏

‏[‏تصویر]‏

جیسے کہ خدا کا کلام صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مُردے قیامت تک بالکل بے‌حرکت ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں