یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏11 ص.‏ 5-‏7
  • حقیقی خوشی کُنجی کیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • حقیقی خوشی کُنجی کیا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • روحانیت خوشی پر منتج ہوتی ہے
  • انتخاب کرنے کی ہماری صلاحیت
  • خدائی حکمت اور فرمانبرداری‏—‏ایک کُنجی
  • یہوواہ کی خدمت کرنے میں حقیقی خوشی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • اِنسانوں کے لیے خدا کا مقصد ضرور پورا ہوگا!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • آپ کو سچی خوشی مل سکتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ہم پہلے انسانی جوڑے سے سبق سیکھ سکتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏11 ص.‏ 5-‏7

حقیقی خوشی کُنجی کیا ہے؟‏

انسان کو خوش رہنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ ہم اس بات کا یقین کیوں کر سکتے ہیں؟ اس کیلئے انسان کے آغاز پر غور کریں۔‏

یہوواہ خدا نے پہلے انسانی جوڑے کو خوشی سے لطف‌اندوز ہونے کی صلاحیت کے ساتھ خلق کِیا۔ آدم اور حوا کو ایک فردوس میں رکھا گیا تھا، ایک پُرمسرت باغ جسے عدن کہا گیا۔ خالق نے اُنہیں زندگی کیلئے تمام ضروری مادی اشیاء فراہم کیں۔ باغ کا ”‏ہر درخت .‏ .‏ .‏ دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھا تھا۔“‏ (‏پیدایش ۲:‏۹‏)‏ آدم اور حوا صحتمند، توانا اور خوبصورت تھے—‏وہ کامل اور واقعی خوش تھے۔‏

تاہم، اُنکی خوشی کی کُنجی کیا تھی؟ کیا اُنکا فردوسی گھر یا شاید اُنکی جسمانی کاملیت تھی؟ خدا کی طرف سے یہ بخششیں اُن کیلئے زندگی سے لطف اُٹھانے کا سبب بنیں۔ تاہم اُنکی خوشی کا دارومدار اِن ظاہری چیزوں پر نہیں تھا۔ باغِ‌عدن ایک خوبصورت باغیچے سے بڑھ کر تھا۔ وہ ایک مقدِس، خدا کی عبادت کی جگہ تھا۔ اُن کی ابدی خوشی کی کُنجی اپنے خالق کے ساتھ ایک پُرمحبت رشتہ قائم کرنے اور اُسے بحال رکھنے کی اُنکی صلاحیت تھی۔ خوش رہنے کیلئے اُنہیں پہلے روحانی بننا تھا۔—‏مقابلہ کریں متی ۵:‏۳‏۔‏

روحانیت خوشی پر منتج ہوتی ہے

ابتدا میں آدم خدا کے ساتھ ایک روحانی رشتہ رکھتا تھا۔ وہ ایک پُرمحبت، پُرشفقت رشتہ تھا جیساکہ باپ اور بیٹے کے درمیان ہوتا ہے۔ (‏لوقا ۳:‏۳۸‏)‏ باغِ‌عدن میں، آدم اور حوا کے حالات مثالی تھے جنکی بدولت وہ اپنی پرستش کرنے کی خواہش کی تسکین کر سکتے تھے۔ اپنی رضامندی سے، یہوواہ کی پُرمحبت فرمانبرداری کی بدولت، وہ حیواناتی تخلیق سے کہیں بڑھ کر، یہوواہ خدا کے لئے جلال اور تعظیم کا باعث بنتے۔ وہ فہم‌وفراست سے خدا کی شاندار خوبیوں کی تعریف اور اُسکی حاکمیت کی حمایت کر سکتے تھے۔ وہ یہوواہ کی پُرمحبت اور پُرشفقت فکرمندی سے بھی مسلسل استفادہ کر سکتے تھے۔‏

خالق کیساتھ یہ رفاقت اور اُسکے قوانین کی فرمانبرداری ہمارے پہلے والدین کیلئے حقیقی خوشی پر منتج ہوئی۔ (‏لوقا ۱۱:‏۲۸‏)‏ آدم اور حوا سے خوشی کی کُنجی دریافت کرنے سے قبل مختلف طریقوں کو آزمانے کی توقع نہیں کی گئی تھی۔ وہ اپنی تخلیق کے وقت ہی سے خوش تھے۔ خدا کیساتھ میل‌ملاپ اور اُسکے اختیار کیلئے اطاعت نے اُنہیں خوش رکھا۔‏

تاہم، یہ خوشی اُس وقت ختم ہو گئی جب اُنہوں نے خدا کی نافرمانی کی۔ آدم اور حوا نے بغاوت کرنے سے، یہوواہ کے ساتھ اپنا روحانی رشتہ ختم کر لیا۔ اب وہ خدا کے دوست نہیں رہے تھے۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ ایسا لگتا ہے کہ جس دن اُنہیں باغ سے نکالا گیا اُسی دن یہوواہ نے اُن کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا۔ وہ اپنی کاملیت، ہمیشہ زندہ رہنے کا امکان اور اپنا باغ‌نما گھر کھو بیٹھے۔ (‏پیدایش ۳:‏۲۳‏)‏ مگر سب سے بڑھ کر چونکہ وہ خدا کے ساتھ اپنا رشتہ کھو بیٹھے لہٰذا اُنہوں نے خوشی کی کُنجی بھی کھو دی۔‏

انتخاب کرنے کی ہماری صلاحیت

مرنے سے پہلے، آدم اور حوا نے اپنے بچوں میں اپنے انسانی خصائل، پیدائشی ضمیر اور روحانیت کی صلاحیت منتقل کی۔ انسانی خاندان کو جانوروں کے درجے تک پست نہیں کِیا گیا تھا۔ ہم خالق سے صلح کر سکتے ہیں۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۸‏)‏ ذی‌فہم مخلوق کے طور پر، انسانوں کے پاس خدا کی فرمانبرداری کرنے یا نہ کرنے کا انتخاب رہا ہے۔ اِس بات کو کئی صدیوں بعد سمجھایا گیا تھا جب یہوواہ نے نئی تشکیل‌شُدہ اسرائیلی قوم کے سامنے زندگی اور موت کا انتخاب رکھا۔ اپنے نمائندے موسیٰ کے ذریعے، خدا نے فرمایا:‏ ”‏مَیں نے آج کے دن زندگی اور بھلائی کو اور موت اور بُرائی کو تیرے آگے رکھا ہے۔“‏—‏استثنا ۳۰:‏۱۵-‏۱۸۔‏

اب بھی، اصلی فردوس کے کھو جانے کے ہزاروں سالوں بعد، ہم انسان درست انتخاب کرنے کے قابل ہیں۔ ہم ایک فعال ضمیر اور خدا کے قوانین کی فرمانبرداری کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بائبل ”‏ہماری پوشیدہ شخصیت“‏ اور ”‏باطنی“‏ انسانیت کی بابت بیان کرتی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۶‏، این‌ڈبلیو؛ رومیوں ۷:‏۲۲‏، این‌ڈبلیو)‏ اِن اصطلا‌حات کا تعلق خدا کی شخصیت کو منعکس کرنے، اُسکی مانند سوچنے، روحانی بننے سے ہے۔‏

ہماری اخلاقی فطرت اور ضمیر کی بابت، پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏جب وہ قومیں جو شریعت نہیں رکھتیں اپنی طبیعت سے شریعت کے کام کرتی ہیں تو باوجود شریعت نہ رکھنے کے وہ اپنے لئے خود ایک شریعت ہیں۔ چنانچہ وہ شریعت کی باتیں اپنے دِلوں پر لکھی ہوئی دکھاتی ہیں اور اُنکا دِل بھی اُن باتوں کی گواہی دیتا ہے اور اُنکے باہمی خیالات یا تو اُن پر الزام لگا تے ہیں یا اُنکو معذور رکھتے ہیں۔“‏—‏رومیوں ۲:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

خدائی حکمت اور فرمانبرداری‏—‏ایک کُنجی

تاہم، کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ’‏اگر ہم سب خدا کی پرستش کرنے کا فطرتی رُجحان رکھتے ہیں جو حقیقی خوشی سے لطف اُٹھانے پر منتج ہوتا ہے توپھر ناخوشی اسقدر عام کیوں ہے؟‘‏ اِس کی وجہ تو یہ ہے کہ خوش رہنے کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو روحانی طور پر ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم بنیادی طور پر خدا کی شبِیہ پر خلق کئے جانے کے باوجود، انسان اپنے خالق سے منحرف ہو گیا ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۱۷، ۱۸‏)‏ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک کو خدا کیساتھ روحانی رشتہ قائم کرنے اور اُسے بحال رکھنے کیلئے ضروری اقدام کرنے چاہئیں۔ یہ رشتہ ازخود ترقی نہیں کریگا۔‏

یسوع نے روحانی ترقی کیلئے دو اہم اُصول بیان کئے۔ ایک خدا کے متعلق درست علم حاصل کرنا اور دوسرا فرمانبرداری سے اُسکی مرضی کی اطاعت کرنا ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ خدا کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے، یسوع نے بیان کِیا:‏ ”‏لکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہیگا بلکہ ہر بات سے جو خدا [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“‏ (‏متی ۴:‏۴‏)‏ ایک اَور موقع پر، یسوع نے بیان کِیا:‏ ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُسکا کام پورا کروں۔“‏ (‏یوحنا ۴:‏۳۴‏)‏ ہمیں خوشی کی تلاش میں بہت سے دہے تجربات میں صرف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تجربہ خوشی کی کُنجی نہیں ہے۔ بلکہ صرف خدائی حکمت اور اپنے خالق کی فرمانبرداری ہی زندگی میں حقیقی شادمانی پر منتج ہو سکتی ہے۔—‏زبور ۱۹:‏۷، ۸؛‏ واعظ ۱۲:‏۱۳‏۔‏

بِلاشُبہ جو خوشی خدائی حکمت کو عمل میں لانے اور خدا کے سامنے ایک راست حیثیت رکھنے سے حاصل ہوتی ہے وہ ہماری دسترس سے باہر نہیں ہے۔ (‏اعمال ۱۷:‏۲۶، ۲۷‏)‏ یہوواہ اور اُسکے مقصد کی بابت علم ہر ایک کیلئے دستیاب ہے۔ جیساکہ مختلف زبانوں میں بائبل کی کئی بلین کاپیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل ابھی تک دُنیا کی سب سے زیادہ تقسیم ہونے والی کتاب ہے۔ بائبل خدا کا دوست بننے اور حقیقی خوشی سے لطف اُٹھانے کیلئے آپکی مدد کر سکتی ہے اِسلئے کہ صحائف ہمیں بتاتے ہیں کہ ”‏مبارک ہے وہ قوم جسکا خدا خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہے۔“‏—‏زبور ۱۴۴:‏۱۵‏۔‏

‏[‏صفحہ 6 پر بکس]‏

خوشی حاصل کرنے کیلئے اقدام

۱.‏روحانیت کو سمجھیں اور اِسے ترقی دیں۔ یسوع نے کہا:‏ ”‏مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔“‏‏—‏لوقا ۱۱:‏۲۸‏۔

۲.‏یہ سمجھ لیں کہ دولت اور آسائشوں کی نسبت خدا کی پسندیدگی زیادہ اہم ہے۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏ہاں دینداری [‏”‏خدائی عقیدت،“‏ این‌ڈبلیو]‏ قناعت کے ساتھ بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔ .‏ .‏ .‏ ہمارے پاس کھانے پہننے کو ہے تو اُسی پر قناعت کریں۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۶-‏۸‏۔‏

۳.‏بائبل سے تربیت‌یافتہ ضمیر کو ترقی دینے اور اُس سے اثرپذیر ہونے کیلئے کوشاں رہیں۔—‏رومیوں ۲:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۴.‏یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کرنے کا عزمِ‌مُصمم کریں یوں اُس کے لوگوں میں شامل ہونے کے لائق ٹھہریں۔ قدیم زمانے کے داؤد نے لکھا:‏ ”‏مبارک ہے وہ قوم جسکا خدا خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہے۔“‏—‏زبور ۱۴۴:‏۱۵‏۔

‏[‏صفحہ 7 پر تصویر]‏

‏”‏مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔“‏—‏متی ۵:‏۳

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں