یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 15/‏12 ص.‏ 13-‏18
  • محبت کے ساتھ خدا کے گلّہ‌کی گلّہ‌بانی کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • محبت کے ساتھ خدا کے گلّہ‌کی گلّہ‌بانی کرنا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اچھے چرواہے کا نمونہ
  • اسرائیل میں ظالم چرواہے
  • مسیحی کلیسیا میں شفیق چرواہے
  • آزاد مرضی کے استعمال کا احترام کریں
  • بزرگ عظیم چرواہوں کی مثال پر عمل کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • اپنے چرواہوں کے فرمانبردار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ‏’‏خدا کے گلّے کی گلّہ‌بانی کرو‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • اپنے عظیم خالق کیساتھ گلہ‌بانی کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 15/‏12 ص.‏ 13-‏18

محبت کے ساتھ خدا کے گلّہ‌کی گلّہ‌بانی کرنا

‏”‏خدا کے اُس گلّہ کی گلّہ‌بانی کرو جو تم میں ہے۔“‏—‏۱-‏پطرس ۵:‏۲‏۔‏

۱، ۲.‏ یہوؔواہ کی نمایاں خوبی کیا ہے، اور یہ خود کو کیسے ظاہر کرتی ہے؟‏

پاک صحائف میں ہر جگہ یہ بات بالکل واضح کر دی گئی ہے کہ محبت خدا کی نمایاں خوبی ہے۔ ۱-‏یوحنا ۴:‏۸ بیان کرتی ہے کہ ”‏خدا محبت ہے۔“‏ چونکہ اسکی محبت کو عملی طور پر ظاہر کِیا گیا ہے، اس لئے ۱-‏پطرس ۵:‏۷ کہتی ہے کہ خدا کو ”‏تمہاری فکر ہے۔“‏ جس طریقے سے یہوؔواہ اپنے لوگوں کی فکر کرتا ہے بائبل میں اُسے اس طریقے سے تشبِیہ دی گئی ہے جس سے ایک شفیق چرواہا شفقت سے اپنی بھیڑوں کی نگہداشت کرتا ہے:‏ ”‏دیکھو خداوند خدا .‏ .‏ .‏ اپنا گلّہ چرائیگا۔ وہ برّوں کو اپنے بازوؤں میں جمع کریگا اور اپنی بغل میں لیکر چلیگا اور ان کو جو دودھ پلاتی ہیں آہستہ آہستہ لے جائیگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۰:‏۱۰، ۱۱‏)‏ یہ کہنے کے قابل ہو کر داؔؤد کو کتنی تسلی ملی تھی:‏ ”‏خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی“‏!‏—‏زبور ۲۳:‏۱‏۔‏

۲ یہ بالکل موزوں ہے کہ بائبل ان لوگوں کو بھیڑوں سے تشبِیہ دیتی ہے جنہیں خدا پسند کرتا ہے کیونکہ بھیڑیں امن‌پسند، اطاعت‌شعار، اپنے پرواہ کرنے والے چرواہے کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ شفیق چرواہے کے طور پر، یہوؔواہ اپنے بھیڑخصلت لوگوں کی گہری فکر رکھتا ہے۔ وہ اُنکے لئے مادی اور روحانی طور پر فراہم کرنے اور اس شریر دنیا کے کٹھن ”‏آخری ایام“‏ کے دوران اپنی آئندہ راست نئی دنیا کی جانب انکی راہنمائی کرنے سے اسکا مظاہرہ کرتا ہے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳‏، این‌ڈبلیو؛ متی ۶:‏۳۱-‏۳۴؛‏ ۱۰:‏۲۸-‏۳۱؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

۳.‏ جس طرح یہوؔواہ اپنی بھیڑوں کی نگہداشت کرتا ہے زبورنویس نے اسے کیسے بیان کِیا؟‏

۳ اپنی بھیڑوں کیلئے یہوؔواہ کی پُرمحبت فکر پر غور کریں:‏ ”‏خداوند کی نگاہ صادقوں پر ہے اور اسکے کان انکی فریاد پر لگے رہتے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ صادق چلّائے اور خداوند نے سنا اور ان کو انکے سب دکھوں سے چھڑایا۔ خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔ صادق کی مصیبتیں بہت ہیں لیکن خداوند اس کو ان سب سے رہائی بخشتا ہے۔“‏ (‏زبور ۳۴:‏۱۵-‏۱۹‏)‏ عالمگیر چرواہا اپنے بھیڑخصلت لوگوں کیلئے کیسی بڑی تسلی فراہم کرتا ہے!‏

اچھے چرواہے کا نمونہ

۴.‏ خدا کے گلّہ کی نگہداشت کرنے میں یسوؔع کا کیا کردار ہے؟‏

۴ خدا کے بیٹے، یسوؔع نے، اپنے باپ سے اچھی طرح سیکھا، کیونکہ بائبل یسوؔع کو ”‏اچھا چرواہا“‏ کہتی ہے۔ (‏یوحنا ۱۰:‏۱۱-‏۱۶‏)‏ خدا کے گلّہ کیلئے اسکی نہایت اہم خدمت مکاشفہ ۷ باب میں بیان کی گئی ہے۔ ۹ آیت میں ہمارے زمانے کے خدا کے خادموں کو ”‏ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِ‌زبان کی .‏ .‏ .‏ بڑی بھیڑ“‏ کہا گیا ہے۔ اسکے بعد ۱۷ آیت بیان کرتی ہے:‏ ”‏کیونکہ برّہ [‏یسوؔع]‏ .‏ .‏ .‏ انکی گلّہ‌بانی کریگا اور انہیں آبِ‌حیات کے چشموں کے پاس لے جائیگا اور خدا انکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔“‏ یسوؔع خدا کی بھیڑوں کی راہنمائی سچائی کے پانیوں کی جانب کرتا ہے جو کہ ہمیشہ کی زندگی کا باعث بنتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ غور کریں کہ یسوؔع کے خدا کیلئے تابعداری کا اعلیٰ نمونہ ہونے کی وجہ سے، اسے ”‏برّہ“‏ کہا گیا ہے جو اسکی اپنی بھیڑخصلت خوبیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔‏

۵.‏ یسوؔع نے لوگوں کی بابت کیسا محسوس کِیا؟‏

۵ زمین پر یسوؔع لوگوں کے درمیان رہا اور انکی دردناک حالت کو دیکھا۔ اس نے انکی قابلِ‌رحم حالت کیلئے کیسا ردِعمل دکھایا؟ ”‏اس کو لوگوں پر ترس آیا کیونکہ وہ ان بھیڑوں کی مانند جن کا چرواہا نہ ہو خستہ‌حال اور پراگندہ تھے۔“‏ (‏متی ۹:‏۳۶‏)‏ چرواہے کے بغیر بھیڑیں غارت‌گروں کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں بالکل ان بھیڑوں کی مانند جن کے چرواہے لاپرواہ ہوتے ہیں۔ لیکن یسوؔع نے بہت زیادہ فکر کی، کیونکہ اس نے کہا:‏ ”‏اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تم کو آرام دونگا۔ میرا جوأ اپنے اُوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔ کیونکہ میرا جوأ ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔“‏—‏متی ۱۱:‏۲۸-‏۳۰‏۔‏

۶.‏ یسوؔع نے مظلوموں کیلئے کیا فکرمندی دکھائی؟‏

۶ بائبل پیشینگوئی نے پہلے سے بتایا کہ یسوؔع لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیگا:‏ ”‏خداوند نے مجھے مسح کِیا .‏ .‏ .‏ کہ شکستہ‌دلوں کو تسلی .‏ .‏ .‏ سب غمگینوں کو دلاسا دوں۔“‏ (‏یسعیاہ ۶۱:‏۱، ۲؛‏ لوقا ۴:‏۱۷-‏۲۱‏)‏ یسوؔع نے غریب اور نامُراد لوگوں کو کبھی حقیر نہ جانا۔ بلکہ اس نے یسعیاہ ۴۲:‏۳ کو پورا کِیا:‏ ”‏وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑیگا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائیگا۔“‏ (‏مقابلہ کریں متی ۱۲:‏۱۷-‏۲۱‏۔)‏ مصیبت‌زدہ لوگ مسلے ہوئے سرکنڈے کی طرح، ایسی بتی کی مانند تھے جو ایندھن کی کمی کے باعث جلد بُجھنے کو تھی۔ انکی قابلِ‌رحم حالت کو محسوس کرتے ہوئے، یسوؔع نے ان پر ترس کھایا اور انہیں روحانی اور جسمانی طور پر شفا بخشتے ہوئے، ان میں قوت اور اُمید کی روح پھونکی۔—‏متی ۴:‏۲۳‏۔‏

۷.‏ جو لوگ اُس سے متاثر ہوئے یسوؔع نے انکی راہنمائی کس طرف کی؟‏

۷ بھیڑخصلت لوگوں کی ایک بڑی تعداد یسوؔع سے متاثر ہوئی۔ اسکی تعلیم اس قدر دلکش تھی کہ جو پیادے اسے گرفتار کرنے کیلئے بھیجے گئے تھے انہوں نے بیان کِیا:‏ ”‏انسان نے کبھی ایسا کلام نہیں کِیا۔“‏ (‏یوحنا ۷:‏۴۶‏)‏ ریاکار مذہبی پیشواؤں نے شکایت کی:‏ ”‏جہان اسکا پیرو ہو چلا۔“‏ (‏یوحنا ۱۲:‏۱۹‏)‏ لیکن یسوؔع اپنے لئے عزت اور جلال نہیں چاہتا تھا۔ اس نے لوگوں کی توجہ اپنے باپ کی طرف مبذول کرائی۔ اس نے انہیں سکھایا کہ یہوؔواہ کی قابلِ‌ستائش خوبیوں کیلئے محبت سے تحریک پا کر اسکی خدمت کریں:‏ ”‏خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔“‏—‏لوقا ۱۰:‏۲۷، ۲۸‏۔‏

۸.‏ خدا کے لوگ اس کیلئے جس طرح کی اطاعت‌شعاری دکھاتے ہیں وہ اس سے کیسے مختلف ہے جو دوسرے لوگ دنیاوی حکمرانوں کیلئے دکھاتے ہیں؟‏

۸ یہوؔواہ اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ اسکی عالمگیر حاکمیت کو اس کیلئے انکی محبت پر مبنی، اسکے بھیڑخصلت لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ اسکی پسندیدہ خوبیوں کی بابت اپنے علم کے باعث وہ رضامندی سے اسکی خدمت کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس دنیا کے راہنماؤں سے کسقدر مختلف جن کی رعایا محض خوف، یا بیدلی، یا کسی درپردہ مقصد کی وجہ سے انکی فرمانبرداری کرتی ہے!‏ یہوؔواہ اور یسوؔع کی بابت یہ کبھی نہیں کہا جا سکتا جو کہ ایک رومن کیتھولک چرچ کے پوپ کی بابت کہا گیا تھا:‏ ”‏بہتیرے اسکی تعریف کرتے تھے، سب اس سے ڈرتے تھے، لیکن کوئی بھی اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔“‏—‏وکرز آف کرائسٹ—‏دی ڈارک سائڈ آف دی پاپاسی، از پیٹرؔ ڈی روسے۔‏

اسرائیل میں ظالم چرواہے

۹، ۱۰.‏ قدیم اسرائیل اور پہلی صدی کے پیشواؤں کی بابت بیان کریں۔‏

۹ یسوؔع کے برعکس، اسکے زمانے میں اسرائیل کے مذہبی پیشوا بھیڑوں کیلئے کوئی محبت نہیں رکھتے تھے۔ وہ اسرائیل کے ان ابتدائی حکمرانوں کی مانند تھے جن کی بابت یہوؔواہ نے کہا تھا:‏ ”‏اسرائیل کے چرواہوں پر افسوس جو اپنا ہی پیٹ بھرتے ہیں۔ کیا چرواہوں کو مناسب نہیں کہ بھیڑوں کو چرائیں؟ .‏ .‏ .‏ تم نے کمزوروں کو توانائی اور بیماروں کو شفا نہیں دی اور ٹوٹے ہوئے کو نہیں باندھا اور وہ جو نکال دیئے گئے ان کو واپس نہیں لائے اور گم‌شُدہ کی تلاش نہیں کی بلکہ زبردستی اور سختی سے ان پر حکومت کی۔“‏—‏حزقی‌ایل ۳۴:‏۲-‏۴۔‏

۱۰ اُن سیاسی چرواہوں کی مانند، پہلی صدی کے یہودی مذہبی پیشوا بھی سنگدل تھے۔ (‏لوقا ۱۱:‏۴۷-‏۵۲‏)‏ اس بات کو سمجھانے کیلئے، یسوؔع نے ایک یہودی کی بابت بتایا جسے لُوٹا گیا، مارا گیا اور ادھمؤا کرکے راہ کے کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی کاہن اسی راہ سے گزرا، لیکن اس یہودی کو دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔ ایک لاوی نے بھی ایسا ہی کِیا۔ اسکے بعد ایک غیریہودی، ایک ادنیٰ سامری، کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے اس ستم‌رسیدہ شخص پر ترس کھایا۔ اس نے اُسکے زخموں کو باندھا، اسے ایک جانور پر سوار کر کے سرائے میں لے گیا اور اسکی خبرگیری کی۔ اس نے سرائے کے مالک کو پیسے دیئے اور کہا کہ کوئی بھی مزید اخراجات وہ پھر واپس آ کر ادا کر دیگا۔—‏لوقا ۱۰:‏۳۰-‏۳۷‏۔‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏ یسوؔع کے دنوں میں مذہبی پیشواؤں کی شرارت کیسے انتہا کو پہنچ گئی؟ (‏ب)‏ انجام‌کار رومیوں نے مذہبی پیشواؤں کیساتھ کیا کِیا؟‏

۱۱ یسوؔع کے زمانے کے مذہبی پیشوا اتنے خراب تھے کہ جب یسوؔع نے لعزؔر کو مُردوں میں سے زندہ کِیا تو سردار کاہن اور فریسیوں نے صدرِعدالت کے لوگوں کو جمع کِیا اور کہا:‏ ”‏ہم کیا کرتے ہیں؟ یہ آدمی [‏یسوؔع]‏ تو بہت معجزے دکھاتا ہے۔ اگر ہم اُسے یوں ہی چھوڑ دیں تو سب اس پر ایمان لے آئینگے اور رومی آ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لینگے۔“‏ (‏یوحنا ۱۱:‏۴۷، ۴۸‏)‏ جو نیکی یسوؔع نے اس مُردہ شخص کے حق میں کی اسکی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ اپنے مرتبوں کی بابت فکرمند تھے۔ پس ”‏وہ اسی روز سے [‏یسوؔع کو]‏ قتل کرنے کا مشورہ کرنے لگے۔“‏—‏یوحنا ۱۱:‏۵۳‏۔‏

۱۲ اپنی شرارت میں مزید اضافہ کرنے کیلئے، سردار کاہنوں نے اسکے بعد ”‏مشورہ کِیا کہ لعزؔر کو بھی مار ڈالیں کیونکہ اسکے باعث بہت سے یہودی چلے گئے اور یسوؔع پر ایمان لائے۔“‏ (‏یوحنا ۱۲:‏۱۰، ۱۱‏)‏ اپنے مرتبوں کو بچانے کیلئے انکی خودغرضانہ کوششیں بیکار تھیں کیونکہ یسوؔع انہیں بتا چکا تھا:‏ ”‏تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“‏ (‏متی ۲۳:‏۳۸‏)‏ ان الفاظ کی تکمیل میں، اسی نسل کے دوران رومی آئے اور ’‏انکی جگہ اور انکی قوم‘‏ اور انکی زندگیاں بھی لے لیں۔‏

مسیحی کلیسیا میں شفیق چرواہے

۱۳.‏ یہوؔواہ نے اپنے گلّہ کی گلّہ‌بانی کرنے کیلئے کس کو بھیجنے کا وعدہ کِیا؟‏

۱۳ ظالم اور خودغرض چرواہوں کی بجائے، اپنے گلّہ کی نگہداشت کیلئے، یہوؔواہ اچھے چرواہے یسوؔع کو مقرر کریگا۔ اس نے بھیڑوں کی نگہداشت کیلئے شفیق چرواہے مقرر کرنے کا بھی وعدہ کِیا:‏ ”‏مَیں ان پر ایسے چوپان مقرر کرونگا جو ان کو چرائینگے اور وہ پھر نہ ڈرینگے۔“‏ (‏یرمیاہ ۲۳:‏۴‏)‏ پس، جیسے کہ پہلی صدی کی مسیحی کلیسیاؤں میں تھا اسی طرح آجکل بھی، ”‏شہربہ‌شہر بزرگ مقرر“‏ کئے جاتے ہیں۔ (‏ططس ۱:‏۵‏)‏ ان روحانی طور پر بزرگ آدمیوں کو جو صحائف میں درج لیاقتوں پر پورا اُترتے ہیں ”‏خدا کے گلّہ کی گلّہ‌بانی“‏ کرنی ہے۔—‏۱-‏پطرس ۵:‏۲؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۷؛‏ ططس ۱:‏۷-‏۹‏۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏ شاگردوں نے کس رویے کو فروغ دینا مشکل پایا؟ (‏ب)‏ ان پر یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ بزرگوں کو فروتن خادم ہونا چاہئے یسوؔع نے کیا کِیا؟‏

۱۴ بھیڑوں کی نگہداشت کرنے میں، ایلڈروں کو ”‏سب سے بڑھ کر“‏ اُن کیلئے ”‏بڑی محبت“‏ رکھنی چاہئے۔ (‏۱-‏پطرس ۴:‏۸‏)‏ لیکن وقار اور مرتبے کی بابت بہت زیادہ فکرمند ہونے کے باعث یسوؔع کے شاگردوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لئے جب دو شاگردوں کی ماں نے یسوؔع سے کہا:‏ ”‏فرما کہ یہ میرے دونوں بیٹے تیری بادشاہی میں دہنی اور بائیں طرف بیٹھیں“‏ تو دیگر شاگرد اس بات سے خفا ہوئے۔ یسوؔع نے ان سے کہا:‏ ”‏غیرقوموں کے سردار ان پر حکم چلاتے اور امیر ان پر اختیار جتاتے ہیں۔ تم میں ایسا نہ ہوگا بلکہ جو تم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادم بنے۔ اور جو تم میں اوّل ہونا چاہے وہ تمہارا غلام بنے۔“‏—‏متی ۲۰:‏۲۰-‏۲۸‏۔‏

۱۵ ایک دوسرے موقع پر، شاگردوں کے ”‏ایک دوسرے سے یہ بحث“‏ کرنے کے بعد ”‏کہ بڑا کون ہے،“‏ یسوؔع نے ان سے کہا:‏ ”‏اگر کوئی اوّل ہونا چاہے تو وہ سب میں پچھلا اور سب کا خادم بنے۔“‏ (‏مرقس ۹:‏۳۴، ۳۵‏)‏ فروتنی اور خدمت کرنے کیلئے رضامندی کو انکی شخصیت کا حصہ ہونا تھا۔ تاہم شاگردوں کو ان خیالات کی بابت مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ یسوؔع کے مرنے سے پہلے اسی رات، اسکے شام کے آخری کھانے پر، اس مسئلے پر ”‏ان میں تکرار“‏ بھی ہوئی کہ ہم میں سے بڑا کون ہے!‏ یہ یسوؔع کے یہ ظاہر کرنے کے باوجود واقع ہوا کہ ایک بزرگ کو کیسے گلّہ کی خدمت کرنی چاہئے؛ اس نے خود کو فروتن کِیا تھا اور انکے پاؤں دھوئے تھے۔ اس نے کہا:‏ ”‏پس جب مجھ خداوند اور اُستاد نے تمہارے پاؤں دھوئے تو تم پر بھی فرض ہے کہ ایک دوسرے کے پاؤں دھویا کرو۔ کیونکہ مَیں نے تم کو ایک نمونہ دکھایا ہے کہ جیسا مَیں نے تمہارے ساتھ کِیا ہے تم بھی کِیا کرو۔“‏—‏لوقا ۲۲:‏۲۴؛‏ یوحنا ۱۳:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۱۶.‏ ۱۸۹۹ میں، مینارِنگہبانی (‏انگریزی)‏ نے بزرگوں کی اہم‌ترین خوبیوں کی بابت کیا تبصرہ کِیا؟‏

۱۶ یہوؔواہ کے گواہوں نے ہمیشہ یہ تعلیم دی ہے کہ بزرگوں کو لازم ہے کہ ایسے ہی ہوں۔ تقریباً ایک صدی پہلے، یکم اپریل، ۱۸۹۹، کے مینارِنگہبانی (‏انگریزی)‏ نے ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱-‏۸ میں پولسؔ کے الفاظ کا ذکر کِیا اور اسکے بعد کہا:‏ ”‏رسول واضح طور پر اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ علم اور خوش‌کلامی نہایت اہم معیار نہیں ہیں، بلکہ دل کو معمور کرنے والی اور پوری طرزِزندگی پر اختیار رکھنے والی اور ہمارے فانی بدنوں پر اثرانداز ہونے اور انہیں رواں‌دواں رکھنے والی محبت، حقیقی معیار ہے—‏ہمارے الہٰی رشتے کا ایک حقیقی ثبوت۔ .‏ .‏ .‏ پاک کاموں میں خدمت کرنے کیلئے، کلیسیا کے ایک خادم کے طور پر قبول کئے جانے والے ہر شخص میں دیکھی جانے والی نمایاں خصوصیت سب سے پہلے محبت کا جذبہ ہونی چاہئے۔“‏ اس نے یہ بھی بیان کِیا کہ وہ آدمی جو محبت کے باعث فروتنی سے خدمت نہیں کرینگے وہ ”‏غیرمحفوظ استاد ہیں اور اغلب ہے کہ وہ فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچائیں۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۸:‏۱‏۔‏

۱۷.‏ بائبل ان خوبیوں پر کیسے زور دیتی ہے جو بزرگوں میں ہونی چاہئیں؟‏

۱۷ لہٰذا، بزرگوں کو چاہئے کہ بھیڑوں پر ’‏حکومت‘‏ نہ ’‏جتائیں۔‘‏ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۳‏)‏ اسکی بجائے، انہیں ”‏ایک دوسرے پر مہربان اور نرم دل“‏ ہونے میں پیشوائی کرنی ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۳۲‏)‏ پولسؔ نے تاکید کی:‏ ”‏دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔ .‏ .‏ .‏ اور ان سب کے اُوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“‏—‏کلسیوں ۳:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۱۸.‏ (‏ا)‏ بھیڑوں کیساتھ برتاؤ میں پولسؔ نے کونسا عمدہ نمونہ قائم کِیا؟ (‏ب)‏ کیوں بزرگوں کو بھیڑوں کی ضروریات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے؟‏

۱۸ پولسؔ نے ایسا کرنا سیکھا، یہ کہتے ہوئے:‏ ”‏جس طرح ماں اپنے بچوں کو پالتی ہے اُسی طرح ہم تمہارے درمیان نرمی کیساتھ رہے۔ اور اسی طرح ہم تمہارے بہت مشتاق ہو کر نہ فقط خدا کی خوشخبری بلکہ اپنی جان تک بھی تمہیں دے دینے کو راضی تھے۔ اس واسطے کہ تم ہمارے پیارے ہو گئے تھے۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۷، ۸‏)‏ اسکی مطابقت میں، اُس نے کہا:‏ ”‏کم ہمتوں کو دلاسا دو۔ کمزوروں کو سنبھالو۔ سب کیساتھ تحمل سے پیش آؤ۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۴‏)‏ اس سے قطع‌نظر کہ بھیڑ انکے پاس کس قسم کا مسئلہ لے کر آتی ہے، بزرگوں کو امثال ۲۱:‏۱۳ یاد رکھنی چاہئے:‏ ”‏جو مسکین کا نالہ سن کر اپنے کان بند کر لیتا ہے وہ آپ بھی نالہ کریگا اور کوئی نہ سنیگا۔“‏

۱۹.‏ پُرمحبت بزرگ ایک بخشش کیوں ہیں اور بھیڑیں ایسی محبت کیلئے کیسا جوابی‌عمل دکھاتی ہیں؟‏

۱۹ بزرگ جو پُرمحبت طور پر گلّہ کی گلّہ‌بانی کرتے ہیں وہ بھیڑوں کیلئے ایک بخشش ہیں۔ یسعیاہ ۳۲:‏۲ نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏[‏ہر]‏ ایک شخص آندھی سے پناہ‌گاہ کی مانند ہوگا اور طوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کے سایہ کی مانند ہوگا۔“‏ ہم یہ جان کر خوش ہیں کہ آجکل ہمارے بہتیرے بزرگ اس تازگی‌بخش خوبصورت بیان پر پورے اُترتے ہیں۔ انہوں نے درج‌ذیل اصول کا اطلاق کرنا سیکھ لیا ہے:‏ ”‏برادرانہ محبت سے آپس میں ایک دوسرے کو پیار کرو۔ عزت کے رُو سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھو۔“‏ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۰‏)‏ جب بزرگ اس قسم کی محبت اور فروتنی ظاہر کرتے ہیں تو بھیڑیں ”‏اُنکے کام کے سبب سے محبت کیساتھ انکی بڑی عزت“‏ کرنے سے جوابی‌عمل دکھاتی ہیں۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

آزاد مرضی کے استعمال کا احترام کریں

۲۰.‏ بزرگوں کو آزاد مرضی کا احترام کیوں کرنا چاہئے؟‏

۲۰ یہوؔواہ نے انسانوں کو آزاد مرضی کیساتھ خلق کِیا تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کریں۔ جبکہ بزرگوں کو مشورت دینی اور تنبیہ بھی کرنی ہے، انہیں کسی دوسرے کی زندگی یا ایمان پر قبضہ نہیں کرنا ہے۔ پولسؔ نے کہا:‏ ”‏یہ نہیں کہ ہم ایمان کے بارے میں تم پر حکومت جتاتے ہیں بلکہ خوشی میں تمہارے مددگار ہیں کیونکہ تم ایمان ہی سے قائم رہتے ہو۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۴‏)‏ جی‌ہاں، ”‏ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۵‏)‏ یہوؔواہ نے اپنے قوانین اور اصولوں کے دائرے کے اندر ہمیں بڑی آزادی دے رکھی ہے۔ لہٰذا جہاں صحیفائی اصولوں کی خلاف‌ورزی نہیں کی جاتی وہاں بزرگوں کو قوانین قائم کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ اور انہیں اپنی بے‌دلیل ذاتی آرا کو پیش کرنے سے یا اگر کوئی شخص ایسے خیالات کیساتھ متفق نہیں تو انہیں اپنی اَنا کو بیچ میں لانے کے ہر طرح کے رجحان کی مزاحمت کرنی چاہئے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۷؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۱۶‏۔‏

۲۱.‏ فلیموؔن کیلئے پولسؔ کے رویے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟‏

۲۱ غور کریں کہ پولسؔ، جبکہ وہ ابھی روم میں ہی قید تھا، ایشیائے کوچک میں کُلسّےؔ کے ایک غلام کے مسیحی مالک، فلیموؔن سے کس طرح پیش آیا۔ فلیموؔن کا اُنیسمسؔ نامی ایک غلام جو روم کو بھاگ گیا تھا، ایک مسیحی بن گیا اور پولسؔ کی مدد کر رہا تھا۔ پولسؔ نے فلیموؔن کو لکھا:‏ ”‏اس کو مَیں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ تیری طرف سے اس قید میں جو خوشخبری کے باعث ہے میری خدمت کرے۔ لیکن تیری مرضی کے بغیر مَیں نے کچھ نہ کرنا چاہا تاکہ تیرا نیک کام لاچاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو۔“‏ (‏فلیمون ۱۳، ۱۴‏)‏ پولسؔ نے فلیموؔن سے اس درخواست کیساتھ اُنیسمسؔ کو واپس بھیج دیا تاکہ اُسے ایک مسیحی بھائی سمجھ کر برتاؤ کرے۔ پولسؔ جانتا تھا کہ گلّہ اسکا نہیں تھا؛ یہ خدا کا تھا۔ وہ اسکا مالک نہیں بلکہ اسکا خادم تھا۔ پولسؔ نے فلیموؔن کو حکم نہیں دیا تھا، اس نے اسکی آزاد مرضی کا احترام کِیا تھا۔‏

۲۲.‏ (‏ا)‏ بزرگوں کو اپنے مرتبے کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟ (‏ب)‏ یہوؔواہ کس قسم کی تنظیم کی نشوونما کر رہا ہے؟‏

۲۲ جُوں جُوں خدا کی تنظیم بڑھتی ہے، زیادہ بزرگ مقرر کئے جاتے ہیں۔ انہیں اور اس کیساتھ ساتھ زیادہ تجربہ‌کار بزرگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ انکا مرتبہ فروتن خدمت والا ہے۔ اسطرح، جب خدا اپنی تنظیم کی راہنمائی نئی دنیا کی طرف کرتا ہے تو خوب منظم لیکن اثرآفرین ہونے کیلئے محبت اور رحم کو قربان نہ کرتے ہوئے—‏یہ اسی طرح سے بڑھنا جاری رکھے گی جیسے وہ چاہتا ہے۔ اسلئے، اسکی تنظیم ان بھیڑخصلت لوگوں کیلئے بہت زیادہ دلکش بن جائیگی جو اس میں اس بات کا ثبوت دیکھینگے کہ ”‏سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کیلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔“‏ اسی بات کی توقع ایک ایسی تنظیم سے کی جاتی ہے جسکی بنیاد محبت پر رکھی گئی ہے، کیونکہ ”‏محبت کو زوال نہیں۔“‏—‏رومیوں ۸:‏۲۸؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸‏۔‏

آپ کیسے جواب دینگے

▫ اپنے لوگوں کیلئے یہوؔواہ کی فکرمندی کو بائبل کیسے بیان کرتی ہے؟‏

▫ خدا کے گلّہ کی نگہداشت کرنے میں یسوؔع کیا کردار ادا کرتا ہے؟‏

▫ بزرگوں میں کونسی اہم خوبی ہونی چاہئے؟‏

▫ بزرگوں کو بھیڑوں کی آزاد مرضی کا کیوں لحاظ رکھنا چاہئے؟‏

‏[‏تصویر]‏

‏”‏اچھے چرواہے،“‏ یسؔوع نے دردمندی ظاہر کی

‏[‏تصویریں]‏

خراب مذہبی پیشواؤں نے یسؔوع کو قتل کر نے کی سازش کی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں