یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏5 ص.‏ 18-‏23
  • ‏”‏تیرے آنے .‏.‏.‏ کا نشان کیا ہوگا؟“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏تیرے آنے .‏.‏.‏ کا نشان کیا ہوگا؟“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • رسول جاننا چاہتے تھے
  • ‏”‏تب“‏ خاتمہ
  • جیسے کہ پیشینگوئی کی گئی، مزید کچھ ہونے والا تھا
  • کس تک لیجاتی ہے؟‏
  • ‏”‏ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہونگی؟“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ‏”‏ان باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • آخری زمانے کی نشانی
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • جب خدا کارروائی کرتا ہے تو کیا آپ بچ جائینگے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏5 ص.‏ 18-‏23

‏”‏تیرے آنے .‏.‏.‏ کا نشان کیا ہوگا؟“‏

‏”‏یہ باتیں کب ہونگی؟ اور تیرے آنے [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“‏—‏متی ۲۴:‏۳‏۔‏

۱، ۲.‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ لوگ مستقبل میں دلچسپی رکھتے ہیں؟‏

زیادہ‌تر لوگ مستقبل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کیا آپ رکھتے ہیں؟ اپنی کتاب مستقبل کا دھچکا (‏انگریزی)‏ میں پروفیسر ایلون ٹوفلر نے ”‏مستقبل کے مطالعہ کیلئے وقف تنظیموں کی اچانک تیز رفتار افزائش“‏ کو نوٹ کیا۔ اس نے مزید کہا:‏ ”‏ہم نے مستقبل سے لگاؤ رکھنے والے اداروں کی تخلیق کو، انگلینڈ، فرانس، اٹلی، جرمنی اور ریاستہائے متحدہ میں تکمیل‌در مستقبل پر یقین رکھنے والے جریدوں کی اشاعت کو، پیشینگوئی کرنے میں یونیورسٹی کے کورسوں کی وسعت کو دیکھ لیا ہے۔“‏ ٹوفلر نے نتیجہ اخذ کیا:‏ ”‏بلا‌شبہ کوئی بھی قطعی مفہوم میں مستقبل کو نہیں ”‏جان“‏ سکتا۔“‏

۲ کتاب آنے والی چیزوں کے نشانات (‏انگریزی)‏ کہتی ہے:‏ ”‏دست‌شناسی، شیشہ‌گری، علم‌نجوم، کارڈ پڑھنا، ای‌چنگ (‏غیب‌دانی کی ایک مشرقی کتاب کا نام)‏ یہ سب جو کچھ ہمارے مخصوص مستقبل میں ہو سکتا ہے اس کے بارے میں ہمیں کچھ تصور دینے کے کم‌وبیش پیچیدہ طریق‌کار ہیں۔“‏ لیکن ایسے انسانی طریقوں کی طرف رخ کرنے کی بجائے ہم آزمودہ ماخذ—‏یہوواہ کی طرف رجوع کرکے اچھا کرتے ہیں۔‏

۳.‏ یہ کیوں موزوں ہے کہ مستقبل کے علم کیلئے خدا کی طرف رجوع کیا جائے؟‏

۳ سچے خدا نے فرمایا:‏ ”‏یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ہے ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۱۴:‏۲۴،‏ ۲۷،‏ ۴۲:‏۹‏)‏ جی‌ہاں، مستقبل میں جو کچھ واقع ہوگا اسکی بابت انسانی نمائندوں کے ذریعے اکثر مشورہ دیتے ہوئے، یہوواہ نوع‌انسانی کو مشورہ دینے کے قابل رہا ہے۔ ان انبیاء میں سے ایک نے لکھا:‏ ”‏یقیناً خداوند خدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمتگزار نبیوں پر پہلے آشکارہ نہ کرے۔“‏—‏عاموس ۳:‏۷، ۸،‏ ۲-‏پطرس ۱:‏۲۰، ۲۱‏۔‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے یسوع کیونکر مددگار ہو سکتا ہے؟ (‏ب)‏ اس کے رسولوں نے کیا مرکب استفسار کیا؟‏

۴ یسوع مسیح خدا کا ممتاز نبی تھا۔ (‏عبرانیوں ۱:‏۱، ۲‏)‏ پس آئیے ہم یسوع کی کلیدی پیشینگوئیوں میں سے ایک پر توجہ مرکوز کریں جو ان باتوں کی پیش‌خبری دیتی ہے جو اب ہمارے چوگرد واقع ہو رہی ہیں۔ یہ پیشینگوئی ہمیں ان باتوں کی بھی بصیرت بخشتی ہے جو جلد وقوع میں آئینگی جب موجودہ شریر دستورالعمل ختم ہوگا اور خدا اس کی جگہ زمینی فردوس کو قائم کریگا۔‏

۵ یسوع نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک نبی تھا۔ (‏مرقس ۶:‏۴،‏ لوقا ۱۳:‏۳۳،‏ ۲۴:‏۱۹،‏ یوحنا ۴:‏۱۹،‏ ۶:‏۱۴،‏ ۹:‏۱۷‏)‏ پس، یہ قابل‌سمجھ بات ہے کہ کس وجہ سے اسکے رسول زیتون کے پہاڑ پر اسکے ساتھ بیٹھے ہوئے، اوپر سے یروشلیم کی طرف دیکھ کر، اس سے مستقبل کی بابت پوچھتے ہیں:‏ ”‏ہمکو بتا کہ یہ باتیں کب ہونگی اور تیرے آنے [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“‏—‏متی ۲۴:‏۳،‏ مرقس ۱۳:‏۴‏۔‏

۶.‏ متی ۲۴،‏ مرقس ۱۳‏، اور لوقا ۲۱‏، میں کیا تعلق ہے، اور کونسا سوال ہماری گہری دلچسپی کا باعث ہونا چاہئے؟‏

۶ آپ ان کے سوال اور یسوع کے جواب کو متی ۲۴ باب، مرقس ۱۳ باب، اور لوقا ۲۱ باب میں پائیں گے۔‏a کئی لحاظ سے یہ بیانات ایک دوسرے کے جزولازم ہیں مگر وہ ایک ہی جیسے نہیں۔ مثال کے طور پر، صرف لوقا ہی ”‏جا بجا مری“‏ کا ذکر کرتا ہے۔ (‏لوقا ۲۱:‏۱۰، ۱۱،‏ متی ۲۴:‏۷،‏ مرقس ۱۳:‏۸‏)‏ منطقی طور پر، ہمیں یہ پوچھنا چاہئے، کیا یسوع محض اپنے سامعین کی عمر کے دوران وقوع‌پذیر ہونے والے واقعات کی پیش‌خبری دے رہا تھا یا اس نے ہمارے زمانے کو اور جو کچھ مستقبل ہمارے لئے تھامے ہوئے ہے اس کو بھی شامل کیا تھا؟‏

رسول جاننا چاہتے تھے

۷.‏ رسولوں نے خاص طور پر کس چیز کی بابت پوچھا تھا، لیکن یسوع کے جواب کی وسعت کیا تھی؟‏

۷ اپنے قتل کئے جانے سے چند دن پیشتر یسوع نے اعلان کیا کہ خدا نے یہودی دارالحکومت، یروشلیم کو رد کر دیا ہے۔ شہر اور اسکی عظیم‌الشان ہیکل برباد کر دئے جائینگے۔ اسی لئے رسولوں میں سے بعض نے ”‏یسوع کی موجودگی اور دنیا کے آخر ہونے کے نشان“‏ کی بابت پوچھا تھا۔ (‏متی ۲۳:‏۳۷-‏۲۴:‏۳‏)‏ اس میں شک نہیں کہ اولین طور پر انکے ذہن میں یہودی دستورالعمل اور یروشلیم تھا کیونکہ جو کچھ مستقبل میں رکھا تھا انہوں نے اسکی وسعت کو نہیں سمجھا تھا۔ لیکن انہیں جواب دیتے وقت یسوع نے اس وقت تک اور بشمول ۷۰ س۔ع۔ میں رومیوں کے ہاتھوں یروشلم کی بربادی کے وقت تک جو کچھ واقع ہوا تھا اس سے بہت آگے تک نظر دوڑائی تھی۔—‏لوقا ۱۹:‏۱۱،‏ اعمال ۱:‏۶، ۷‏۔‏

۸.‏ بعض کونسے واقعات تھے جنکی یسوع نے پیشینگوئی کی؟‏

۸ جیسے کہ آپ تینوں اناجیل کے بیانات میں پڑھ سکتے ہیں، یسوع نے قوم پر قوم اور، سلطنت پر سلطنت کے چڑھائی کرنے، کال اور بھونچالوں، خوفزدہ کرنے والے مناظر، اور آسمانی نشانوں کا ذکر کیا۔ یسوع کے اس نشان کے دینے (‏۳۳ س۔ع۔)‏ اور یروشلیم کی بربادی (‏۶۶-‏۷۰ س۔ع۔)‏ کے درمیان کے سالوں میں، جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح بھی اٹھ کھڑے ہونگے۔ یہودی، ان مسیحیوں کو ستائینگے جو یسوع کے پیغام کی منادی کر رہے ہونگے۔‏

۹.‏ پہلی صدی س۔ع۔ میں یسوع کی پیشینگوئی کی تکمیل کیسے ہوئی؟‏

۹ نشان کے یہ نمایاں حصے حقیقت میں وقوع‌پذیر ہوئے جیسا کہ تاریخ‌نویس فلیویئس جوزیفس بھی تصدیق کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس سے پہلے کہ رومی کبھی حملہ کرتے، جھوٹے مسیحاؤں نے بغاوت کی ترغیب دی۔ یہودیہ اور دوسری جگہوں پر ہولناک بھونچال آئے۔ رومی سلطنت کے مختلف حصوں میں لڑائیاں چھڑ گئیں۔ کیا بڑے بڑے کال پڑے تھے؟ جی‌ہاں، واقعی۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۱۱:‏۲۷-‏۳۰‏)‏ بادشاہی کی منادی کے کام کی بابت کیا ہے؟ ۶۰ یا ۶۱ س۔ع۔ تک، جب کلسیوں کی کتاب لکھی گئی، خدا کی بادشاہی ”‏کی خوشخبری کی امید“‏ بہت دوردراز یعنی افریقہ، ایشیا اور یورپ تک سنی جا چکی تھی۔‏b‏—‏کلسیوں ۱:‏۲۳‏۔‏

‏”‏تب“‏ خاتمہ

۱۰.‏ ہمیں کیوں یونانی لفظ توتے پر غور کرنا چاہئے، اور اس کا کیا خاص مفہوم ہے؟‏

۱۰ اپنی پیشینگوئی کے بعض حصوں میں یسوع نے وقوع ہونے والے واقعات کو ترتیب‌وار پیش کیا۔ اس نے کہا:‏ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری منادی .‏.‏.‏ ہوگی .‏.‏.‏ تب خاتمہ ہوگا۔“‏ اردو بائبلیں لفظ ”‏تب“‏ کو اکثر ”‏اسوقت“‏ یا ”‏تو“‏ یا ”‏پھر“‏ کے سادہ معنی کیساتھ استعمال کرتی ہیں۔ (‏مرقس ۴:‏۱۵،‏ ۱۷،‏ ۱۳:‏۲۳‏)‏ تاہم، متی ۲۴‏:۱۴ میں، ”‏تب“‏ یونانی کے متعلق فعل توتے کا مفہوم دیتا ہے۔‏c یونانی ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ توتے ”‏وقت کا ایک اشارتی متعلق فعل ہے“‏ جو ”‏بعد کے وقت میں آنے والے کو متعارف کرانے کیلئے“‏ یا ”‏کسی بعد کے واقعہ کو پیش“‏ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پس یسوع نے پیشینگوئی کی کہ بادشاہی کی منادی ہوگی اور تب (‏یا ”‏اس کے بعد“‏ یا ”‏بعدازاں“‏)‏ ”‏خاتمہ“‏ ہوگا۔ کونسا خاتمہ؟‏

۱۱.‏ کیسے یسوع نے ان واقعات پر توجہ مرکوز کرائی جو براہ‌راست یروشلیم کی بربادی سے تعلق رکھتے تھے؟‏

۱۱ یسوع کی پیشینگوئی کی ایک تکمیل یہودی دستور کے خاتمے تک لے جانے والے واقعات میں مل سکتی ہے۔ جنگیں، بھونچال، کال اور دیگر باتیں جنکی یسوع نے پیشینگوئی کی تھی تین دہوں کے دوران وقوع‌پذیر ہوئیں۔ تاہم، متی ۲۴:‏۱۵،‏ مرقس ۱۳:‏۱۴‏، اور لوقا ۲۱:‏۲۰ سے شروع کرکے ہم ان واقعات کی بابت پڑھتے ہیں جو سر پر کھڑی بربادی کے ساتھ براہ‌راست تعلق رکھتے تھے، جب خاتمہ بالکل قریب تھا۔—‏چارٹ پر نقطوں کی اکہری لکیر پر غور کریں۔‏

۱۲.‏ رومی فوجیں متی ۲۴:‏۱۵ کی تکمیل میں کیسے شامل تھیں؟‏

۱۲ ۶۶ س۔ع۔ میں یہودی بغاوت کے جواب میں، سیسٹیئس گیلس کی کمان میں رومی یروشلیم کے مقابل چڑھ آئے اور اس شہر کا محاصرہ کر لیا جسے یہودی مقدس خیال کرتے تھے۔ (‏متی ۵:‏۳۵‏)‏ یہودیوں کے جوابی حملوں کے باوجود، رومی شہر میں گھس آئے۔ اسطرح سے متی ۲۴:‏۱۵ اور مرقس ۱۳:‏۱۴ میں یسوع کی پیشینگوئی کی صداقت میں انہوں نے ”‏مقدس مقام میں کھڑا ہونا“‏ شروع کر دیا۔ تب ایک حیرت‌انگیز صورت‌حال پیدا ہو گئی۔ اگرچہ انہوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا تھا، رومی اچانک واپس چلے گئے۔ مسیحیوں نے فوراً یسوع کی پیشینگوئی کی تکمیل کو پہچان لیا، اور فوجوں کی اس واپسی نے انہیں یہودیہ سے نکل کر یردن کے پار پہاڑوں پر بھاگ جانے کا موقع دے دیا۔ تاریخ کہتی ہے کہ انہوں نے یقیناً ایسا کیا تھا۔‏

۱۳.‏ کیوں مسیحی بھاگ جانے سے متعلق یسوع کی آگاہی پر دھیان دینے کے قابل ہوئے تھے؟‏

۱۳ لیکن اگر رومی یروشلیم کے چوگرد سے واپس چلے گئے تھے تو پھر کسی کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی؟ یسوع کے الفاظ نے ظاہر کیا کہ جو کچھ واقع ہو چکا تھا اس سے ثابت ہو گیا کہ ”‏یروشلیم کا اجڑ جانا نزدیک تھا۔“‏ (‏لوقا ۲۱:‏۲۰‏)‏ جی‌ہاں، اجڑ جانا۔ اس نے ایک ”‏بڑی مصیبت“‏ کی پیشینگوئی کی جو ”‏شروع سے اب تک نہ ہوئی تھی اور نہ کبھی ہوگی۔“‏ تقریباً ساڑھے تین سال بعد، ۷۰ س۔ع۔ میں، جرنل ٹائیٹس کی کمان میں رومی فوجوں کے ہاتھوں یروشلیم کو واقعی ”‏بڑی مصیبت“‏ کا تجربہ ہوا۔ (‏متی ۲۴:‏۲۱،‏ مرقس ۱۳:‏۱۹‏)‏ مگر یسوع کیوں اسکو کسی بھی ایسی مصیبت سے بڑی کے طور پر بیان کرے گا جو اس سے پہلے یا اس وقت سے لیکر ہوئی ہے؟‏

۱۴.‏ ہم کیوں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۷۰ س۔ع۔ میں جو کچھ یروشلیم کیساتھ ہوا وہ ایسی ”‏بڑی مصیبت“‏ تھی جو نہ اس سے پہلے کبھی واقع ہوئی تھی اور نہ ہی اس وقت سے لیکر ابھی تک واقع ہوئی ہے؟‏

۱۴ یروشلیم ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ میں بابلیوں کے ذریعہ تباہ‌وبرباد کر دیا گیا، اور اس شہر نے ہماری اس موجودہ صدی کے دوران بھی ہولناک لڑائیاں دیکھی ہیں۔ پھر بھی ۷۰ س۔ع۔ میں جو کچھ واقع ہوا وہ بے‌مثل طور پر ایک بڑی مصیبت تھا۔ تقریباً ۵ ماہ کی مہم میں ٹائیٹس کے جنگی سپاہیوں نے یہودیوں کو شکست دے دی۔ انہوں نے کوئی ۱۱،۰۰،۰۰۰ کو قتل کر دیا، اور تقریباً ۱،۰۰،۰۰۰ کو اسیر کر لیا۔ اس کے علاوہ، رومیوں نے یروشلیم کو مسمار کر دیا۔ اس چیز نے یہ ثابت کر دیا کہ سابقہ پرستش کا منظورشدہ یہودی نظام جس کا مرکز ہیکل تھی وہ مستقل طور پر ختم ہو گیا تھا۔ (‏عبرانیوں ۱:‏۲‏)‏ جی‌ہاں، ۷۰ س۔ع۔ کے واقعات کو بجا طور پر ”‏ایسی مصیبت“‏ کے طور پر خیال کیا جا سکتا ہے ”‏جو [‏اس شہر، قوم اور نظام پر]‏ دنیا کے شروع سے نہ ابتک ہوئی ہے نہ ہی پھر کبھی ہوگی۔“‏—‏متی ۲۴:‏۲۱‏۔‏d

جیسے کہ پیشینگوئی کی گئی، مزید کچھ ہونے والا تھا

۱۵.‏ (‏ا)‏ یسوع نے یروشلیم پر مصیبت کے بعد کس طرح کے واقعات کے برپا ہونے کی پیشینگوئی کی؟ (‏ب)‏ متی ۲۴:‏۲۳-‏۲۸ کے پیش‌نظر، ہمیں یسوع کی پیشینگوئی کی تکمیل کی بابت کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہئے؟‏

۱۵ تاہم، یسوع نے اپنی پیشینگوئی کو پہلی صدی کی اس مصیبت تک ہی محدود نہیں رکھا تھا۔ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ اس مصیبت کے بعد بہت کچھ ہونے والا تھا جیسا کہ متی ۲۴:‏۲۳ اور مرقس ۱۳:‏۲۱ میں توتے یا ”‏اس وقت“‏ [‏”‏تب،“‏ این‌ڈبلیو۔]‏ کے استعمال سے ظاہر کیا گیا ہے۔ ۷۰ س۔ع۔ کے بعد کے وقت میں کیا کچھ ہوگا؟ یہودی نظام پر اس مصیبت کے بعد اور جھوٹے مسیح اور نبی اٹھ کھڑے ہونے تھے۔ (‏مرقس ۱۳:‏۶ کا ۱۳:‏۲۱-‏۲۳ کیساتھ مقابلہ کریں۔)‏ تاریخ تصدیق کرتی ہے کہ ۷۰ س۔ع۔ میں یروشلیم کی بربادی سے لیکر صدیوں کے دوران بہتیرے ایسے اشخاص اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اگرچہ وہ ان لوگوں کو گمراہ نہ کر پائے جو واضح روحانی بصیرت رکھتے اور جو مسیح کی ”‏موجودگی“‏ کے منتظر رہے ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۲۷، ۲۸‏)‏ تاہم، ۷۰ س۔ع۔ کی بڑی مصیبت کے بعد کے یہ انکشافات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یسوع اس مصیبت سے کہیں آگے تک نظر دوڑا رہا تھا، جو کہ محض ایک ابتدائی تکمیل تھی۔‏

۱۶.‏ لوقا ۲۱:‏۲۴ یسوع کی پیشینگوئی میں کس پہلو کا اضافہ کرتی ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟‏

۱۶ اگر ہم متی ۲۴:‏۱۵-‏۲۸ اور مرقس ۱۳:‏۱۴-‏۲۳ کا لوقا ۲۱:‏۲۰-‏۲۴ کیساتھ مقابلہ کریں تو ہمیں دوسرا اشارہ ملتا ہے کہ یسوع کی پیشینگوئی یروشلیم کی بربادی سے بہت آگے تک جاتی تھی۔ یاد کریں کہ صرف لوقا نے ہی مری کا ذکر کیا تھا۔ اسی طرح صرف اسی نے اس حصے کو یسوع کے ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا:‏ ”‏جب تک غیرقوموں کی میعاد پوری نہ ہو یروشلیم غیرقوموں سے پامال ہوتا رہیگا۔“‏e (‏لوقا ۲۱:‏۲۴‏)‏ بابلیوں نے یہودیوں کے آخری بادشاہ کو ۶۰۷ ق۔س۔ع میں معزول کیا اور اس کے بعد، خدا کی بادشاہی کی علامت، یروشلیم پامال ہوتا رہا تھا۔ (‏۲-‏سلاطین ۲۵:‏۱-‏۲۶،‏ ۱-‏تواریخ ۲۹:‏۲۳،‏ حزقی‌ایل ۲۱:‏۲۵-‏۲۷)‏ لوقا ۲۱:‏۲۴ میں یسوع نے ظاہر کیا کہ یہ صورتحال مستقبل میں اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ خدا کیلئے پھر سے ایک بادشاہی قائم کرنے کا وقت نہیں آ جاتا۔‏

۱۷.‏ ہمارے پاس اسکا کونسا تیسرا اشارہ ہے کہ یسوع کی پیشینگوئی کو بہت دور مستقبل میں رسائی کرنا تھی؟‏

۱۷ ایک اور تیسرا اشارہ بھی ہے کہ یسوع بہت دور کی تکمیل کی طرف اشارہ کر رہا تھا:‏ صحیفوں کے مطابق مسیحا کو مرنا اور مردوں سے جی اٹھنا تھا، جس کے بعد وہ خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھیگا جب تک کہ باپ اسے حکمرانی کرنے کو نہ بھیجے۔ (‏زبور ۱۱۰:‏۱، ۲‏)‏ یسوع نے اپنے باپ کے دہنے ہاتھ بیٹھنے کا اشارہ دیا۔ (‏مرقس ۱۴:‏۶۲‏)‏ پولس رسول نے تصدیق کی کہ قیامت‌یافتہ یسوع، یہوواہ کے دہنے ہاتھ، بادشاہ اور خدا کی طرف سے سزا دینے والا بننے کے وقت کا انتظار کر رہا تھا۔—‏رومیوں ۸:‏۳۴،‏ کلسیوں ۳:‏۱،‏ عبرانیوں ۱۰:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ مکاشفہ ۶:‏۲-‏۸ کا اناجیل میں اس کے متوازی پیشینگوئی سے کیا تعلق ہے؟‏

۱۸ ایک چوتھے اور فیصلہ‌کن اشارے کیلئے کہ اس دستورالعمل کے خاتمہ کے بارے میں یسوع کی پیشینگوئی پہلی صدی سے آگے کے زمانہ پر عائد ہوتی ہے، ہم مکاشفہ ۶ باب کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ ۷۰ س۔ع۔ کی بربادی کے کئی دہوں بعد لکھتے ہوئے، یوحنا رسول سرگرم گھڑسواروں کے ایک زبردست منظر کو بیان کرتا ہے۔ (‏مکاشفہ ۶:‏۲-‏۸‏)‏ ”‏خداوند کے دن“‏ کا یہ نبوتی نظارہ—‏اس کی موجودگی کا دن—‏ہماری اس ۲۰ویں صدی کی جنگ (‏آیت ۴)‏، وسیع پیمانہ پر کال (‏۵ اور ۶ آیات)‏ اور ”‏وبا“‏ (‏۸ آیت)‏ کے ایک نمایاں وقت کے طور پر شناخت کراتا ہے۔ واضح طور پر یسوع نے جو کچھ اناجیل میں کہا یہ اسکے متوازی ہے اور ثابت کرتا ہے کہ اسکی پیشینگوئی کی ایک وسیع تکمیل اس ”‏خداوند کے دن“‏ میں ہوتی ہے۔—‏مکاشفہ ۱:‏۱۰‏۔‏

۱۹ باخبر لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ متی ۲۴:‏۷-‏۱۴ اور مکاشفہ ۶:‏۲-‏۸ میں بیان‌شدہ مرکب نشان ۱۹۱۴ میں عالمی جنگ کے چھڑ جانے کے وقت سے واضح رہا ہے۔ یہوواہ کے گواہوں نے پوری دنیا میں اعلان کیا ہے کہ یسوع کی پیشینگوئی اب اپنی دوسری اور بڑی تکمیل کو پہنچ رہی ہے جیسا کہ وحشیانہ جنگوں، تباہ‌کن بھونچالوں، ہولناک کالوں اور قابو سے باہر بیماریوں سے ظاہر ہے۔ اس آخری نقطے کی بابت، یو۔ایس۔ نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ (‏جولائی ۲۷، ۱۹۹۲)‏ نے کہا:‏ ”‏ایڈز کی وبا .‏.‏.‏لاکھوں متاثرین کو ان کی موت کی جانب بھیج رہی ہے اور شاید جلد ہی تاریخ کی نہایت گراں‌بار اور تباہ‌کن وبا بن جائے۔ ۱۴ویں صدی میں بلیک ڈیتھ (‏ایک خاص قسم کی مری)‏ نے تقریباً پچیس ملین متاثرہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ مگر ۲۰۰۰ کے سال تک ۳۰ ملین سے ۱۱۰ ملین لوگ ایچ‌آئی‌وی لئے ہونگے یعنی ایسا وائرس جو ایڈز کا باعث بنتا ہے، یہ آجکل کی تعداد سے تقریباً ۱۲ ملین زیادہ ہوگی۔ شفا کی عدم موجودگی میں، ان سب کو یقینی موت کا سامنا ہے۔“‏

۲۰.‏ متی ۲۴:‏۴-‏۲۲ کی پہلی تکمیل کہاں تک کا احاطہ کرتی ہے، لیکن کونسی دوسری تکمیل بالکل واضح ہے؟‏

۲۰ پس، رسولوں کے استفسار کا جسطرح یسوع نے جواب دیا اس سے ہم کیا نتیجہ نکالیں؟ اس کی پیشینگوئی نے صحیح طور پر یروشلیم کی بربادی اور بشمول اس بربادی تک پہنچانے والی باتوں کی پیش‌بینی کی، اور اس نے چند ایسی باتوں کا ذکر کیا جو ۷۰ س۔ع۔ کے بعد وقوع میں آئینگی۔ مگر اس میں سے زیادہ‌تر کی مستقبل میں دوسری اور وسیع تکمیل ہونی تھی جو کہ ایک بڑی مصیبت تک لیجائیگی جو موجودہ بدکار دستورالعمل کا خاتمہ کر دیگی۔ اسکا مطلب ہے کہ متی ۲۴:‏۴-‏۲۲ میں یسوع کی پیشینگوئی اور مرقس اور لوقا میں متوازی بیانات ۳۳ س۔ع۔ سے ۷۰ س۔ع۔ کی مصیبت تک پورے ہوئے۔ تاہم، ان آیات کی ایک دوسری تکمیل ہونی ہے جس میں مستقبل کی ایک زیادہ بڑی مصیبت شامل ہوگی۔ یہ تکمیل اب ہمارے سامنے ہے، ہم روزانہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔‏f

کس تک لیجاتی ہے؟‏

۲۱، ۲۲.‏ ہمیں کہاں اسکا نبوتی اشارہ ملتا ہے کہ مزید واقعات ابھی برپا ہونے تھے؟‏

۲۱ یسوع نے اپنی پیشینگوئی کو ان جھوٹے نبیوں کے ذکر کیساتھ ہی ختم نہیں کر دیا تھا جو ”‏غیرقوموں کی میعاد پوری ہو جانے“‏ سے پہلے کے طویل عرصہ میں گمراہ کرنے والے نشانات دکھاتے ہونگے۔ (‏لوقا ۲۱:‏۲۴ متی ۲۴:‏۲۳-‏۲۶،‏ مرقس ۱۳:‏۲۱-‏۲۳‏)‏ اس نے وقوع ہونے والی دیگر حواس‌باختہ باتوں، عالمگیر پیمانے پر دیکھی جانے والی باتوں کی بابت بتایا۔ یہ ابن‌آدم کے قدرت اور جلال کے ساتھ آنے سے متعلق ہونگی۔ مرقس ۱۳:‏۲۴-‏۲۷ اسکی مسلسل پیشینگوئی کی نظیر ہے:‏

۲۲ ”‏مگر ان دنوں میں اس مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔ اور آسمان سے ستارے گرنے لگیں گے اور جو قوتیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائیں گی۔ اور اس وقت لوگ ابن‌آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔ اس وقت وہ فرشتوں کو بھیجکر اپنے برگزیدوں کو زمین کی انتہا سے آسمان کی انتہا تک چاروں طرف سے جمع کرے گا۔“‏

۲۳.‏ ہم کیوں پہلی صدی س۔ع۔ کے بہت بعد تک متی ۲۴:‏۲۹-‏۳۱ کی تکمیل کے منتظر رہ سکتے ہیں؟‏

۲۳ ابن‌آدم، قیامت‌یافتہ یسوع مسیح، ۷۰ س۔ع۔ میں یہودی دستور کے تباہ‌کن خاتمہ کے بعد کسی قابل‌دید طریقہ سے نہیں آیا۔ یقیناً زمین کی تمام قوموں نے اسے نہیں پہچانا تھا، جیسے کہ متی ۲۴:‏۳۰ بیان کرتی ہے، نہ ہی اس وقت آسمانی فرشتوں نے ساری زمین پر سے ممسوح مسیحیوں کو جمع کیا۔ پس یسوع کی عظیم‌الشان پیشینگوئی کا یہ اضافی حصہ کب تکمیل کو پہنچے گا؟ کیا وہ اب ہمارے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے اس میں تکمیل پا رہا ہے، یا کیا وہ اس کی بجائے، ہمیں مستقبل‌قریب میں متوقع باتوں کی بابت الہی بصیرت عطا کرتا ہے؟ یقیناً ہمیں یہ جاننے کی خواہش رکھنی چاہئے کیونکہ لوقا یسوع کی اس ہدایت کو قلمبند کرتا ہے:‏ ”‏جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اوپر اٹھانا کیونکہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔“‏—‏لوقا ۲۱:‏۲۸‏۔ (‏۱۰ ۲/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ان ابواب کے حصے ۱۴ اور ۱۵ صفحات کے چارٹ پر مل سکتے ہیں، نقطوں کی لکیریں متوازی حصوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔‏

b ان واقعات کے تاریخی حوالہ‌جات کیلئے جنوری ۱۵، ۱۹۷۰ کے مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏ کے صفحات ۴۳-‏۴۵ کو دیکھیں۔‏

c توتے متی میں ۸۰ سے زائد مرتبہ (‏۹ مرتبہ ۲۴ باب میں)‏ اور لوقا کی کتاب میں ۱۵ مرتبہ نظر آتا ہے۔ مرقس نے صرف چھ مرتبہ توتے استعمال کیا، لیکن ان میں سے چار ”‏نشان“‏ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔‏

d برطانوی مصنف میتھیو ہنری نے تبصرہ کیا:‏ ”‏کسدیوں کے ذریعے یروشلیم کی بربادی بہت ہولناک تھی، لیکن یہ اس سے بھی بڑی تھی۔ اس نے تمام یہودیوں کے .‏.‏.‏ ہمہ‌گیر قتل‌عام کا خطرہ پیدا کر دیا۔“‏

e بہتیرے لوقا کے بیان میں لوقا ۲۱:‏۲۴ کے بعد ایک تبدیلی کو دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر لیون مورس لکھتے ہیں:‏ ”‏یسوع غیرقوموں کی میعاد کی بابت مزید بات کرتا ہے۔ .‏.‏.‏ زیادہ‌تر عالموں کی رائے میں اب ابن‌آدم کے آنے کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔“‏ پروفیسر آر۔ گنز لکھتے ہیں:‏ ”‏ابن‌آدم کی آمد—‏(‏متی ۲۴:‏۲۹-‏۳۱،‏ مرقس ۱۳:‏۲۴-‏۲۷‏)‏۔ ”‏غیرقوموں کی میعاد“‏ کا تذکرہ اس عنوان کیلئے ایک تعارف مہیا کرتا ہے، [‏لوقا کا]‏ پس منظر اب یروشلیم کی بربادی سے بعید مستقبل میں لے جاتا ہے۔“‏

f پروفیسر والٹر ایل۔ لیفلٹ لکھتے ہیں:‏ ”‏یقیناً یہ فرض کر لینا ممکن ہے کہ یسوع کی پیشینگوئیوں میں دو دور شامل تھے:‏ (‏۱)‏ ۷۰ عیسوی کے واقعات جن میں ہیکل بھی شامل تھی اور (‏۲)‏ دور مستقبل کے واقعات، جو زیادہ‌تر مکاشفے کی اصطلا‌حات میں بیان کئے گئے ہیں۔“‏ جے۔ آر۔ ڈملو کی تدوین‌کردہ تفسیر کہتی ہے:‏ ”‏اس عظیم وعظ کی بہت سی اہم مشکلات میں سے بہتیری اس وقت ختم ہو جاتی ہیں جب یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ہمارے خداوند نے اس میں صرف ایک واقعہ کا نہیں بلکہ دو کا حوالہ دیا تھا، اور یہ کہ پہلا دوسرے کی مثال تھا۔ .‏.‏.‏ [‏لوقا]‏ ۲۱:‏۲۴ جو کہ بالخصوص، ”‏غیرقوموں کی میعاد“‏ کا ذکر کرتی ہے،“‏ .‏.‏.‏ یروشلیم کی بربادی اور اس دنیا کے خاتمہ کے بیچ غیرمحدود وقفہ ڈال دیتی ہے۔“‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ متی ۲۴:‏۳ کے سوال کیلئے یسوع کے جواب کو ۷۰ س۔ع۔ تک لیجانے والی کونسی تکمیل حاصل ہوئی تھی؟‏

▫ لفظ توتے کا استعمال ہمیں یسوع کی پیشینگوئی کو سمجھنے میں کیسے مدد دیتا ہے؟‏

▫ کس مفہوم میں پہلی صدی کی ”‏بڑی مصیبت“‏ ایسی تھی جو اس سے پہلے کبھی واقع نہیں ہوئی تھی؟‏

▫ لوقا یسوع کی پیشینگوئی کے کن دو منفرد پہلوؤں کا حوالہ دیتا ہے جس میں آجکل ہم شامل ہیں؟‏

▫ کونسے اشارے متی ۲۴:‏۴-‏۲۲ میں درج پیشینگوئی کی ایک دوسری اور بڑی تکمیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۲۴ اور ۲۵ کا چارٹ]‏

متی ۲۴

۴ ”‏یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار!‏ کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔ ۵ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئینگے اور کہینگے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرینگے۔ ۶ اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار!‏ گھبرا نہ جانا!‏ کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔‏

۷ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے۔ ۸ لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہونگی۔‏

۹ اس وقت (‏پھر)‏ لوگ تم کو ایذا دینے کیلئے پکڑوائینگے اور تمکو قتل کرینگے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھینگی۔ ۱۰ اور اس وقت (‏پھر)‏ بہتیرے ٹھوکر کھائینگے اور ایک دوسرے کو پکڑوائینگے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھینگے۔ ۱۱ اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہونگے اور بہتیروں کو گمراہ کرینگے۔ ۱۲ اور بے‌دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائیگی۔ ۱۳ مگر جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا۔ ۱۴ اور بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔ تب (‏پھر)‏ خاتمہ ہوگا۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

۱۵ پس جب تم اس اجاڑنے والی مکروہ چیز کو جس کا ذکر دانی‌ایل نبی کی معرفت ہوا۔ مقدس مقام میں کھڑا ہوا دیکھو (‏پڑھنے والا سمجھ لے)‏۔ ۱۶ تو (‏پھر)‏ جو یہودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔ ۱۷ جو کوٹھے پر ہو وہ اپنے گھر کا اسباب لینے کو نیچے نہ اترے۔ ۱۸ اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پیچھے نہ لوٹے۔ ۱۹ مگر افسوس ان پر جو ان دنوں میں حاملہ ہوں اور جو دودھ پلاتی ہوں!‏ ۲۰ پس دعا کرو کہ تمکو جاڑوں میں یا سبت کے دن بھاگنا نہ پڑے۔ ۲۱ کیونکہ اس وقت (‏پھر)‏ ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ ۲۲ اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائینگے۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

۲۳ اس وقت (‏پھر)‏ اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ ۲۴ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہونگے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائینگے کہ اگر ممکن تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ ۲۵ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔ ۲۶ پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا یا دیکھو وہ کوٹھریوں میں ہے تو یقین نہ کرنا۔ ۲۷ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن‌آدم کا آنا ہوگا۔ ۲۸ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائینگے۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

۲۹ اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دیگا اور ستارے آسمان سے گرینگے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائینگی۔ ۳۰ اور اس وقت (‏پھر)‏ ابن‌آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دیگا۔ اور اس وقت (‏پھر)‏ زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹینگی اور ابن‌آدم کو بڑی قدرت اور جلال کیساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھینگی۔ ۳۱ اور وہ نرسنگے کی بڑی آواز کیساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجیگا اور وہ اسکے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اس کنارے سے اس کنارے تک جمع کرینگے۔‏

مرقس ۱۳

۵ یسوع نے ان سے کہنا شروع کیا کہ خبردار کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔ ۶ بہتیرے میرے نام سے آئینگے اور کہینگے کہ وہ میں ہی ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرینگے۔ ۷ اور جب تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں سنو تو گھبرا نہ جانا۔ ان کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔‏

۸ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی۔ جگہ جگہ بھونچال آئینگے اور کال پڑینگے۔ یہ باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہونگی۔‏

۹ لیکن تم خبردار رہو کیونکہ لوگ تمکو عدالتوں کے حوالہ کرینگے اور تم عبادتخانوں میں پیٹے جاؤ گے اور حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے میری خاطر حاضر کئے جاؤ گے تاکہ انکے لئے گواہی ہو۔ ۱۰ اور ضرور ہے کہ پہلے سب قوموں میں انجیل کی منادی کی جائے۔ ۱۱ لیکن جب تمہیں لیجا کر حوالہ کریں تو پہلے سے فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کہیں بلکہ جو کچھ اس گھڑی تمہیں بتایا جائے وہی کہنا کیونکہ کہنے والے تم نہیں ہو بلکہ روح‌القدس ہے۔ ۱۲ اور بھائی کو بھائی اور بیٹے کو باپ قتل کیلئے حوالہ کریگا اور بیٹے ماں باپ کے برخلاف کھڑے ہو کر انہیں مروا ڈالینگے۔ ۱۳ اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تم سے عداوت رکھینگے مگر جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

۱۴ پس جب تم اس اجاڑنے والی مکروہ چیز کو اس جگہ کھڑی ہوئی دیکھو جہاں اس کا کھڑا ہونا روا نہیں (‏پڑھنے والا سمجھ لے)‏ اس وقت (‏پھر)‏ جو یہودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔ ۱۵ جو کوٹھے پر ہو وہ اپنے گھر سے کچھ لینے کو نہ نیچے اترے نہ اندر جائے۔ ۱۶ اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پیچھے نہ لوٹے۔ ۱۷ مگر ان پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ ہوں اور جو دودھ پلاتی ہوں!‏ ۱۸ اور دعا کرو کہ یہ جاڑوں میں نہ ہو۔ ۱۹ کیونکہ وہ دن ایسی مصیبت کے ہونگے کہ خلقت کے شروع سے جسے خدا نے خلق کیا نہ اب تک ہوئی ہے نہ کبھی ہوگی۔ ۲۰ اور اگر خداوند ان دنوں کو نہ گھٹاتا تو کوئی بشر نہ بچتا مگر برگزیدوں کی خاطر جنکو اس نے چنا ہے ان دنوں کو گھٹایا۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

۲۱ اور اس وقت (‏پھر)‏ اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا دیکھو وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ ۲۲ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہونگے اور نشان اور عجیب کام دکھائینگے تاکہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر دیں۔ ۲۳ لیکن تم خبردار رہو۔ دیکھو میں نے تم سے سب کچھ پہلے ہی کہہ دیا ہے۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

۲۴ مگر ان دنوں میں اس مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دیگا۔ ۲۵ اور آسمان سے ستارے گرنے لگیں گے اور جو قوتیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائینگی۔ ۲۶ اور اس وقت (‏پھر)‏ لوگ ابن‌آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھینگے۔ ۲۷ اس وقت (‏پھر)‏ وہ فرشتوں کو بھیج کر اپنے برگزیدوں کو زمین کی انتہا سے آسمان کی انتہا تک چاروں طرف سے جمع کریگا۔‏

لوقا ۲۱

۸ اس نے کہا خبردار!‏ گمراہ نہ ہونا کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئینگے اور کہینگے کہ وہ میں ہی ہوں اور یہ بھی کہ وقت نزدیک آ پہنچا ہے۔ تم انکے پیچھے نہ چلے جانا۔ ۹ اور جب لڑائیوں اور فسادوں کی افواہیں سنو تو گھبرا نہ جانا کیونکہ انکا پہلے واقع ہونا ضرور ہے لیکن اس وقت فوراً خاتمہ نہ ہوگا۔‏

۱۰ پھر اس نے ان سے کہا کہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی۔ ۱۱ اور بڑے بڑے بھونچال آئینگے اور جابجا کال اور مری پڑیگی اور آسمان پر بڑی بڑی دہشتناک باتیں اور نشانیاں ظاہر ہونگی۔‏

۱۲ لیکن ان سب باتوں سے پہلے وہ میرے نام کے سبب سے تمہیں پکڑینگے اور ستائینگے اور عبادتخانوں کی عدالت کے حوالہ کرینگے اور قیدخانوں میں ڈلوائینگے اور بادشاہوں اور حاکموں کے سامنے حاضر کرینگے۔ ۱۳ اور یہ تمہارا گواہی دینے کا موقع ہوگا۔ ۱۴ پس اپنے دل میں ٹھان رکھو کہ ہم پہلے سے فکر نہ کرینگے کہ کیا جواب دیں۔ ۱۵ کیونکہ میں تمہیں ایسی زبان اور حکمت دونگا کہ تمہارے کسی مخالف کو سامنا کرنے یا خلاف کہنے کا مقدور نہ ہوگا۔ ۱۶ اور تمہیں ماں باپ اور بھائی اور رشتہ‌دار اور دوست بھی پکڑوائینگے بلکہ وہ تم میں سے بعض کو مروا ڈالینگے۔ ۱۷ اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تم سے عداوت رکھینگے۔ ۱۸ لیکن تمہارے سر کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوگا۔ ۱۹ اپنے صبر سے تم اپنی جانیں بچائے رکھو گے۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

۲۰ پھر جب تم یروشلیم کو فوجوں سے گھرا ہوا دیکھو تو (‏پھر)‏ جان لینا کہ اسکا اجڑ جانا نزدیک ہے۔ ۲۱ اس وقت (‏پھر)‏ جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یروشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔ ۲۲ کیونکہ یہ انتقام کے دن ہونگے جن میں سب باتیں جو لکھی ہیں پوری ہو جائینگی۔ ۲۳ ان پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ ہوں اور جو دودھ پلاتی ہوں!‏ کیونکہ ملک میں بڑی مصیبت اور اس قوم پر غضب ہوگا۔ ۲۴ اور وہ تلوار کا لقمہ ہو جائینگے اور اسیر ہو کر سب قوموں میں پہنچائے جائینگے

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

اور جب تک غیرقوموں کی معیاد پوری نہ ہو یروشلیم غیرقوموں سے پامال ہوتا رہیگا۔‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

‏- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -‏

۲۵ اور سورج اور چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہونگے اور زمین پر قوموں کو تکلیف ہوگی کیونکہ وہ سمندر اور اسکی لہروں کے شور سے گھبرا جائینگی۔ ۲۶ اور ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلا‌ؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہیگی اسلئے کہ آسمان کی قوتیں ہلائی جائینگی۔ ۲۷ اس وقت (‏پھر)‏ لوگ ابن‌آدم کو قدرت اور بڑے جلال کیساتھ بادل میں آتے دیکھینگے۔ ۲۸ اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اوپر اٹھانا اسلئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔‏

‏[‏تصویر]‏

۷۰ س۔ع۔ کی مصیبت ایسی بڑی تھی کہ یروشلیم اور یہودی نظام کو پہلے کبھی اس کا تجربہ نہ ہوا تھا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں