الہٰی تعلیم کے فوائد کا تجربہ کریں
”میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۸:۱۷۔
۱. اگر ہم اپنی زندگیوں میں الہی تعلیم کا اطلاق کرتے ہیں تو ہم کسطرح کامیاب ہونگے؟
یہوواہ خدا سب سے بہتر جانتا ہے۔ کوئی بھی شخص سوچ، کلام، یا عمل میں اس پر فوقیت نہیں رکھتا۔ ہمارے خالق کے طور پر، وہ ہماری ضروریات سے باخبر ہے اور افراط سے یہ ضروریات بہم پہنچاتا ہے۔ یقیناً وہ جانتا ہے کہ ہمیں کیسے تعلیم دے۔ اور اگر ہم الہی تعلیم کا اطلاق کرتے ہیں تو ہم خود کو فائدہ پہنچاتے اور حقیقی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں۔
۲، ۳. (ا) اگر خدا کے قدیم لوگوں نے اسکے احکام کو مانا ہوتا تو انہوں نے خود کو کیسے فائدہ پہنچایا ہوتا؟ (ب) اگر آجکل ہم اپنی زندگیوں میں الہی تعلیم کا اطلاق کریں گے تو کیا واقع ہوگا؟
۲ الہی تعلیم خدا کی اس سنجیدہ خواہش کو عیاں کرتی ہے کہ اسکے خادم اسکے قوانین اور اصولوں کی تعمیل کرنے سے تباہی سے بچیں اور زندگی سے لطف اٹھائیں۔ اگر یہوواہ کے قدیم لوگ اسکے شنوا ہوئے ہوتے تو انہوں نے کثیر برکات کا تجربہ کیا ہوتا، کیونکہ اس نے انہیں بتا دیا تھا: ”میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔ کاش کہ تو میرے احکام کا شنوا ہوتا اور تیری سلامتی نہر کی مانند اور تیری صداقت سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی۔“—یسعیاہ ۴۸:۱۷، ۱۸۔
۳ خدا کے قدیم لوگوں نے خود کو فائدہ پہنچایا ہوتا اگر انہوں نے اسکے احکام اور ہدایات پر توجہ کی ہوتی۔ بابلیوں کے ہاتھوں مصیبت میں پڑنے کی بجائے انہوں نے ایک موجزن، گہرے، اور سدا بہنے والے دریا کی مانند سلامتی اور خوشحالی کا تجربہ کیا ہوتا۔ اسکے علاوہ، انکے راستی کے کام سمندر کی لہروں کی مانند بےشمار ہوتے۔ اسی طرح، اگر ہم اپنی زندگیوں میں الہی تعلیم کا اطلاق کریں تو ہم اسکے بہت سے فوائد کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض کیا ہیں؟
یہ زندگیاں بدل ڈالتی ہے
۴. الہی تعلیم بہتیرے لوگوں کی زندگیوں کو کسطرح متاثر کرتی رہی ہے؟
۴ الہی تعلیم بھلائی کی خاطر بہتیرے لوگوں کی زندگیاں بدل ڈالنے سے انکو فائدہ پہنچاتی رہی ہے۔ وہ جو یہوواہ کی ہدایت کا اطلاق کرتے ہیں وہ ”جسم کے کام،“ جیسے کہ شہوتپرستی، بتپرستی، جادوگری، جھگڑا، اور حسد کو ترک کر دیتے ہیں۔ اسکی بجائے، وہ روح کے پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم، اور پرہیزگاری کو ظاہر کرتے ہیں۔ (گلتیوں ۵:۱۹-۲۳) وہ افسیوں ۴:۱۷-۲۴ کی مشورت پر بھی دھیان دیتے ہیں، جہاں پولس ساتھی ایمانداروں کو تاکید کرتا ہے کہ غیرقوموں کی مانند انکے بیہودہ خیالات اور عقل کی تاریکی میں نہ چلیں جو خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔ دلوں کی سختی سے مجبور نہ ہو کر، مسیح کی طرح کے اشخاص ”اگلے چالچلن کی پرانی انسانیت کو اتار ڈالتے ہیں اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاتے ہیں۔“ وہ ”نئی انسانیت کو پہن لیتے ہیں جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔“
۵. لوگ جسطرح زندگی گزارتے ہیں الہی تعلیم اس پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے؟
۵ الہی تعلیم کے اطلاق کا ایک عمدہ فائدہ یہ ہے کہ یہ ہم پر واضح کرتی ہے کہ کیسے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں۔ اگر ہم یہوواہ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، جیسے کہ نوح چلا تھا، تو ہم اپنے عظیم معلم کی بیانکردہ زندگی کی روش کی پیروی کرتے ہیں۔ (پیدایش ۶:۹، یسعیاہ ۳۰:۲۰، ۲۱) جیسے کہ رسول پولس نے کہا، غیرقوموں کے لوگ ”اپنے بیہودہ خیالات کے موافق [چلتے] ہیں۔“ اور ان خیالات کی بعض تحریریں کسقدر بیہودہ ہو سکتی ہیں؟ پومپے میں ایک دیوار پر دوسروں کی کندہ کی ہوئی بیہودہ تحریروں کو دیکھ کر ایک مشاہدہ کرنے والے نے خود لکھا: ”تعجب ہے، اے دیوار، تو ابھی تک اسقدر بیہودہ تحریر کے بوجھ تلے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ نہیں ہوئی۔“ لیکن ”خداوند کی تعلیم“ اور بادشاہتی منادی کے کام میں جسے یہ ممکن بناتی ہے کوئی بیہودگی نہیں۔ (اعمال ۱۳:۱۲) اس کام کی بدولت، سچائی سے محبت رکھنے والے لوگوں کو ہوش میں لایا گیا ہے۔ انہیں سکھایا گیا ہے کہ خدا کے مقاصد سے لاعلمی میں، اپنی گنہگارانہ روش میں چلنا کیسے بند کریں۔ اب انکی عقل تاریکی نہیں رہی، نہ ہی وہ بیہودہ نشانوں کے متلاشی دلوں کی سختی سے تحریک پاتے ہیں۔
۶. یہوواہ کی تعلیم کیلئے ہماری فرمانبرداری اور ہماری خوشحالی کے درمیان کیا تعلق ہے؟
۶ الہی تعلیم اس طریقے سے بھی ہمیں فائدہ پہنچاتی ہے کہ یہ ہمیں یہوواہ اور اسکے حسنسلوک سے واقف کراتی ہے۔ ایسا علم ہمیں خدا کے قریبتر لے جاتا ہے، اسکے لئے ہماری محبت کو زیادہ کرتا ہے، اور اسکا حکم ماننے کی ہماری خواہش کو بڑھاتا ہے۔ ۱-یوحنا ۵:۳ کہتی ہے: ”خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اسکے حکموں پر عمل کریں اور اسکے حکم سخت نہیں۔“ ہم یسوع کے احکام کی تعمیل بھی کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسکی تعلیم خدا کی طرف سے ہے۔ (یوحنا ۷:۱۶-۱۸) ایسی فرمانبرداری ہمیں روحانی نقصان سے محفوظ رکھتی ہے اور ہماری خوشی کو فروغ دیتی ہے۔
زندگی میں ایک حقیقی مقصد
۷، ۸. (ا) ہمیں زبور ۹۰:۱۲ کو کیسے سمجھنا چاہئے؟ (ب) ہم کیسے دانا دل حاصل کر سکتے ہیں؟
۷ یہوواہ کی تعلیم ہم پر یہ ظاہر کرنے میں بھی مفید ہے کہ کیسے اپنی زندگی کو ایک بامقصد انداز میں استعمال کریں۔ دراصل، الہی تعلیم ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ اپنے ایام کو ایک خاص طریقے سے کسطرح گنیں۔ ۷۰ سالوں کی متوقع عمر کوئی ۲۵،۵۵۰ دنوں کی ضمانت دیتی ہے۔ ۵۰ سال کا ایک شخص پہلے ہی ان میں سے ۱۸،۲۵۰ دن گذار چکا ہے، اور اسکے باقی ۷،۳۰۰ متوقع دن واقعی تھوڑے دکھائی دیتے ہیں۔ بالخصوص یہی وقت ہے جب وہ پورے طور پر اس بات کی قدر کر سکتا ہے کہ کیوں موسی نبی نے زبور ۹۰:۱۲ میں خدا سے یہ دعا کی: ”ہمکو اپنے دن گننا سکھا۔ ایسا کہ ہم دانا دل حاصل کریں۔“ لیکن اس سے موسی کا کیا مطلب تھا؟
۸ موسی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ خدا دنوں کی بالکل صحیح تعداد کو واضح کر دے جو ہر اسرائیلی کے عرصۂزندگی میں ہونگے۔ زبور ۹۰ کی ۹ اور ۱۰ آیات کے مطابق، اس عبرانی نبی نے جان لیا تھا کہ عرصہحیات صرف ۷۰ یا ۸۰ سالوں کا ہو سکتا ہے—بےشک بہت ہی مختصر۔ لہذا زبور ۹۰:۱۲ کے الفاظ نے بظاہر موسی کی دعائیہ خواہش کو ظاہر کیا کہ یہوواہ اسے اور اسکی قوم کو ”اپنے برسوں کے دنوں“ کی قدر کرنے میں اور انہیں خدا کے پسندیدہ طریقے سے استعمال کرنے میں حکمت سے کام لینا دکھائے یا سکھائے۔ تو پھر ہماری بابت کیا ہے؟ کیا ہم ہر بیشقیمت دن کی قدر کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے عظیم معلم، یہوواہ خدا، کے جلال کیلئے ہر دن کو مفید طور پر صرف کرنے کے طالب ہونے سے دانا دل حاصل کر رہے ہیں؟ الہی تعلیم ایسا ہی کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔
۹. اگر ہم یہوواہ کے جلال کی خاطر اپنے دنوں کو گننا سیکھتے ہیں تو کس چیز کی توقع کی جا سکتی ہے؟
۹ اگر ہم یہوواہ کے جلال کی خاطر اپنے ایام گننا سیکھتے ہیں تو ہم بغیر رکے انکو گنتے رہنے کے قابل ہو سکتے ہیں، کیونکہ الہی تعلیم ابدی زندگی کیلئے علم فراہم کرتی ہے۔ ”ہمیشہ کی زندگی یہ ہے،“ یسوع نے کہا، ”کہ وہ تجھ خدای واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں۔“ (یوحنا ۱۷:۳) بےشک، اگر ہم تمام دستیاب دنیاوی علم حاصل کر بھی لیں تو بھی یہ ہمیں ہمیشہ کی زندگی نہیں دیگا۔ لیکن ہمیشہ کی زندگی ہماری ہو سکتی ہے اگر ہم کائنات میں دو نہایت اہم ہستیوں کی بابت صحیح علم حاصل کریں اور اسکا اطلاق کریں اور واقعی ایمان کا مظاہرہ کریں۔
۱۰. تعلیم کی بابت ایک انسائیکلوپیڈیا کیا کہتا ہے، اور الہی تعلیم کے فوائد کیساتھ اسکا موازنہ کیسے کیا جاتا ہے؟
۱۰ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم پہلے ہی کتنی زندگی بسر کر چکے ہیں، آئیے ہم الہی تعلیم کے اس افضل فائدے کو یاد رکھیں: یہ اسکا اطلاق کرنے والوں کو زندگی میں ایک حقیقی مقصد عطا کرتی ہے۔ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتی ہے: ”معاشرے کے کارآمد رکن بننے کیلئے تعلیم کو لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔ اپنے ثقافتی ورثے کی قدردانی کو بڑھانے کیلئے اور زیادہ آسودہحال زندگیاں بسر کرنے کیلئے بھی اسے انکی مدد کرنی چاہئے۔“ الہی تعلیم آسودہحال زندگیاں گذارنے کیلئے ہماری مدد کرنے میں مفید ہے۔ یہ بطور خدا کے لوگوں کے ہمارے اندر ہمارے روحانی ورثے کیلئے گہری قدرشناسی کو ترقی دیتی ہے۔ اور یہ یقیناً ہمیں معاشرے کے کارآمد رکن بناتی ہے، کیونکہ یہ ہمیں پوری دنیا کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ایسا کیوں کہا جا سکتا ہے؟
عالمگیر تعلیمی پروگرام
۱۱. مناسب تعلیم کی ضرورت کو تھامس جیفرسن نے کیسے اجاگر کیا؟
۱۱ تعلیموتربیت کے کسی بھی دوسرے پروگرام سے مختلف ہوتے ہوئے صرف الہی تعلیم ہی لوگوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ لوگوں کو تعلیم دینے کی ضرورت کو تھامس جیفرسن نے قلمبند کیا جو ریاستہائے متحدہ کا تیسرا صدر بنا۔ ایک دوست اور منشورآزادی پر دستخط کرنے والے ساتھی، جارج ود کو اگست ۱۳، ۱۷۸۶ کے ایک خط میں جیفرسن نے لکھا: ”میرا خیال ہے کہ ہمارے پورے آئین میں سب سے زیادہ اہم قانون لوگوں کے درمیان علم کا پھیلایا جانا ہے۔ آزادی اور خوشحالی کے تحفظ کیلئے کسی اور یقینی بنیاد کی تدبیر نہیں کی جا سکتی۔ ... میری سرکار، جہالت کے خلاف جہاد کا اعلان کریں، عام لوگوں کو تعلیم دینے کیلئے قانون بنائیں اور ان میں بہتری پیدا کریں۔ ہمارے ہموطن جان لیں ... کہ جو ٹیکس [تعلیموتربیت] کے مقصد کیلئے دیا جائیگا وہ اس ٹیکس کے ہزارویں حصے سے بھی زیادہ نہ ہوگا جو ہمیں عوام کو جہالت میں چھوڑ دینے پر ان بادشاہوں، مذہبی پیشواؤں، اور امرا کو ادا کرنا پڑیگا جو ہمارے درمیان اٹھ کھڑے ہونگے۔“
۱۲. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ عالمگیر تعلیم کیلئے الہی تعلیم ہی سب سے زیادہ کامیاب اور مفید پروگرام ہے؟
۱۲ راستبازی کی طرف مائل لوگوں کو جہالت میں چھوڑ دینے سے کہیں بعید، یہوواہ کی تعلیم انکے مفاد کی خاطر عالمگیر تعلیموتربیت کا بہترین پروگرام فراہم کرتی ہے۔ ۵۰ سال قبل جبکہ دوسری عالمی جنگ ابھی زوروں پر تھی، تعلیم کو ازسرنو تشکیل دینے والی یو۔ایس۔ کمیٹی نے ”عالمگیر تعلیموتربیت“ کی فوری ضرورت کو محسوس کیا۔ وہی ضرورت اب بھی موجود ہے، لیکن عالمگیر تعلیموتربیت کیلئے صرف الہی تعلیم ہی کامیاب پروگرام ہے۔ یہ سب سے زیادہ فائدہمند بھی ہے کیونکہ یہ لوگوں کو مایوسی کے عالم سے نکالتا ہے، انہیں اخلاقی اور روحانی طور پر بلند کرتا ہے، انہیں دنیا کے گھمنڈ اور تعصب سے بچاتا ہے، اور ابدی زندگی کیلئے علم مہیا کرتا ہے۔ سب سے بڑھکر، یہ پروگرام انہیں یہوواہ خدا کی خدمت کرنا سکھا کر ہر جگہ لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔
۱۳. آجکل یسعیاہ ۲:۲-۴ کی تکمیل کیسے ہو رہی ہے؟
۱۳ الہی تعلیم کے فوائد سے ان لاکھوں لوگوں نے لطف اٹھایا ہے جو اب یہوواہ کے خادم بن رہے ہیں۔ وہ اپنی روحانی ضرورت سے باخبر ہیں اور اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ یہوواہ کا دن نزدیک ہے۔ (متی ۵:۳، ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱-۶) اب، ”آخری دنوں میں،“ تمام قوموں کے یہ لوگ یہوواہ کے پہاڑ، اسکی سچی پرستش، کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ مضبوطی سے قائم کی گئی ہے اور ہر اس عبادت سے بلند کی گئی ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔ (یسعیاہ ۲:۲-۴) اگر آپ یہوواہ کے ایک مخصوصشدہ گواہ ہیں تو کیا آپ اسکی پرستش کرنے والوں اور الہی تعلیم سے فیضیاب ہونے والوں کے ہمہوقت بڑھتے ہوئے ہجوم میں شامل ہونے سے خوش نہیں ہیں؟ ان لوگوں کے درمیان ہونا کسقدر شاندار ہے جو خوشی سے للکارتے ہیں: ”اے لوگو، یاہ کی حمد کرو!“—زبور ۱۵۰:۶، اینڈبلیو۔
ہماری روح پر مفید اثر
۱۴. ۱-کرنتھیوں ۱۴:۲۰ میں پولس کی مشورت پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
۱۴ الہی تعلیم کے بیشتر فوائد کے درمیان ایک وہ عمدہ اثر ہے جو یہ ہماری سوچ اور روح پر رکھ سکتی ہے۔ یہ ہمیں راست، پاکیزہ، نیک، اور قابلتعریف باتوں کی بابت سوچنے کی تحریک دیتی ہے۔ (فلپیوں ۴:۸) یہوواہ کی تعلیم ہمیں پولس کی مشورت پر عمل کرنے کیلئے مدد دیتی ہے: ”بدی میں تو بچے رہو مگر سمجھ میں جوان بنو۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۴:۲۰) اگر ہم اس فہمائش کا اطلاق کرتے ہیں تو ہم بدکاری کے علم کی تلاش نہیں کرینگے۔ پولس نے یہ بھی لکھا: ”ہر طرح کی تلخمزاجی اور قہر اور غصہ اور شوروغل اور بدگوئی ہر قسم کی بدخواہی [”بدی،“ اینڈبلیو] سمیت تم سے دور کی جائیں۔“ (افسیوں ۴:۳۱) ایسی مشورت پر دھیان دینا بداخلاقی اور دیگر سنگین گناہوں سے گریز کرنے کیلئے ہماری مدد کریگا۔ جبکہ یہ جسمانی اور ذہنی طور پر فائدہمند ہو سکتا ہے، یہ بالخصوص ہمارے لئے اس بات سے واقف ہونے کی خوشی لائے گا کہ ہم خدا کو شاد کر رہے ہیں۔
۱۵. سوچ میں نیک رہنے کیلئے کونسی چیز ہماری مدد کر سکتی ہے؟
۱۵ اگر ہمیں سوچ میں نیک رہنا ہے تو ایک مدد ”بری صحبتوں“ سے بچنا ہے ”جو اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) بطور مسیحیوں کے، ہم حرامکاروں، زانیوں، اور دیگر خطاکاروں کیساتھ رفاقت نہیں رکھینگے۔ پھر، منطقی طور پر، ہمیں شہوانی تسکین کی خاطر انکی بابت پڑھنے سے یا ٹیلیوژن پر یا فلموں میں انہیں دیکھنے سے ایسے اشخاص کیساتھ صحبت نہیں رکھنی چاہئے۔ دل حیلہباز ہے، آسانی سے برے کاموں کیلئے خواہش کر سکتا ہے، اور انکو کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔ (یرمیاہ ۱۷:۹) اسلئے آئیں ہم الہی تعلیم کیساتھ وابستہ رہ کر ایسی آزمائشوں سے بچیں۔ یہ ”خداوند سے محبت رکھنے والوں“ کی سوچ کو ایسی مفید حد تک متاثر کر سکتی ہے کہ وہ ”بدی سے نفرت“ کرنے لگتے ہیں۔—زبور ۹۷:۱۰۔
۱۶. خدا کی تعلیم اس روح کو کسطرح متاثر کر سکتی ہے جسکا ہم اظہار کرتے ہیں؟
۱۶ پولس نے اپنے ہمخدمت تیمتھیس کو بتایا: ”خداوند تیری روح کے ساتھ رہے۔ تم پر فضل ہوتا رہے۔“ (۲-تیمتھیس ۴:۲۲) رسول نے خواہش کی کہ خدا، خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے، تیمتھیس اور دوسرے مسیحیوں کو ترغیب دینے والی قوتمتحرکہ کو پسند فرمائے۔ خدا کی تعلیم ہمیں ایک شفیق، مہربان، حلیم جذبے کا اظہار کرنے کیلئے مدد دیتی ہے۔ (کلسیوں ۳:۹-۱۴) اور یہ ان آخری ایام میں موجود بہتیرے لوگوں سے کسقدر مختلف ہے! وہ مغرور، ناشکر، طبعی محبت سے خالی، سنگدل، ڈھیٹھ، عیشوعشرت کو دوست رکھنے والے، اور سچی خدائی عقیدت سے عاری ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) تاہم، جب ہم اپنی زندگیوں میں الہی تعلیم کے فوائد کو لاگو کرنا جاری رکھتے ہیں تو ہم ایسی روح ظاہر کرتے ہیں جو ہمیں خدا اور ساتھی انسانوں کا پیارا بنا دیتی ہے۔
انسانی تعلقات میں مفید
۱۷. منکسر تعاون اتنا اہم کیوں ہے؟
۱۷ یہوواہ کی تعلیم ساتھی پرستاروں کے ساتھ منکسر تعاون کے فوائد پر نظر کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ (زبور ۱۳۸:۶) آجکل کے بہتیرے لوگوں سے مختلف، ہم راست اصولوں کی خلافورزی نہیں کرتے بلکہ اتفاقرائے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بہت اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں کیونکہ مقررشدہ نگہبان بزرگوں کے اجلاسوں کے دوران اتفاقرائے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ گویا جذبات کو سوچ پر غالب آنے یا نااتفاقی پیدا کرنے کی اجازت نہ دینے سے، یہ آدمی سچائی کے مفاد میں ٹھنڈے دل کیساتھ گفتگو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم سب الہی تعلیم کا اطلاق کرنا جاری رکھیں تو ہمارے تجربے میں آنے والی اتحاد کی روح سے کلیسیا کے تمام ممبر مستفید ہونگے۔—زبور ۱۳۳:۱-۳۔
۱۸. ساتھی ایمانداروں کی بابت کونسا نظریہ رکھنے کیلئے الہی تعلیم ہماری مدد کرتی ہے؟
۱۸ الہی تعلیم ساتھی ایمانداروں کی بابت صحیح نظریہ رکھنے کیلئے ہماری مدد کرنے میں بھی فائدہمند ہے۔ یسوع نے کہا: ”کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اسے کھینچ نہ لے۔“ (یوحنا ۶:۴۴) خاص کر ۱۹۱۹ سے، یہوواہ نے اپنے خادموں سے اپنے عدالتی فیصلوں کی منادی کرائی ہے، اور اس عالمگیر آگاہی سے شیطان کا عالمی نظام پاش پاش ہو گیا ہے اور ہلنے لگا ہے۔ اسی اثنا میں، خدا نے خداترس انسانوں—”مرغوب [چیزوں]“—کو قوموں سے انہیں جدا کرنے کیلئے اور یہوواہ کی پرستش کے گھر کو جلال کیساتھ معمور کرنے میں ممسوح مسیحیوں کیساتھ شریک ہونے کیلئے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ (حجی ۲:۷) یقیناً، ہمیں ایسے مرغوب اشخاص کو عزیز رفیقوں کے طور پر سمجھنا چاہئے جنکو خدا نے کھینچ لیا ہے۔
۱۹. ساتھی مسیحیوں کیساتھ ذاتی مسائل کو نپٹانے کی بابت خدا کی تعلیم کیا آشکارہ کرتی ہے؟
۱۹ چونکہ ہم سب ناکامل ہیں اسلئے قدرتی بات ہے کہ زندگی ہمیشہ مشکلات سے آزاد نہیں ہوگی۔ جب پولس اپنے دوسرے مشنری دورے پر روانہ ہونے والا تھا تو برنباس مرقس کو ساتھ لے جانے پر بضد تھا۔ پولس اس سے متفق نہیں تھا کیونکہ مرقس ”پمفیلیہ میں کنارہ کرکے اس کام کے لئے انکے ساتھ نہ گیا تھا۔“ اس پر، بعدازاں ”سخت تکرار“ ہوئی۔ برنباس مرقس کو اپنے ساتھ کپرس لے گیا، جبکہ پولس سیلاس کو اپنے ہمراہ لے کر سوریہ اور کلکیہ سے گذرا۔ (اعمال ۱۵:۳۶-۴۱) بعد میں، واضح طور پر اس جھگڑے پر قابو پا لیا گیا تھا، کیونکہ مرقس روم میں پولس کیساتھ تھا، اور رسول نے اسکی تعریف کی تھی۔ (کلسیوں ۴:۱۰) الہی تعلیم کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ ایسی مشورت کی پیروی کرنے سے جو یسوع نے متی ۵:۲۳، ۲۴ اور متی ۱۸:۱۵-۱۷ میں دی مسیحیوں کے درمیان ذاتی مسائل کو کیسے نپٹایا جا سکتا ہے۔
سدا مفید اور فاتح
۲۰، ۲۱. الہی تعلیم کے متعلق ہمارے غوروخوض کو ہمیں کیا کرنے کی تحریک دینی چاہئے؟
۲۰ گویا کہ الہی تعلیم کے بعض فوائد اور کامرانیوں کے متعلق ہمارے مختصر غوروخوض سے، یقیناً ہم سب اپنی زندگیوں میں اسکا اطلاق کرنے میں مستقلمزاج ہونے کی ضرورت کو دیکھ سکتے ہیں۔ تو پھر، آئیں دعائیہ جذبے کیساتھ اپنے عظیم معلم سے سیکھنا جاری رکھیں۔ بہت جلد، الہی تعلیم ایسی شاندار فتح حاصل کریگی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ اس وقت فتحمند ہوگی جب اس دنیا کے دانشور اپنی آخری سانس لے چکے ہونگے۔ (مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۱:۱۹۔) علاوہازیں، جب مزید لاکھوں لوگ خدا کی مرضی کو سیکھیں گے اور اسے بجا لائیں گے تو جیسے سمندر پانی سے بھرا ہے ویسے ہی یہوواہ کا عرفان زمین کو معمور کر دیگا۔ (یسعیاہ ۱۱:۹) یہ کسقدر شاندار طریقے سے فرمانبردار نوعانسانی کو فائدہ پہنچائے گا اور کائنات کے حاکماعلی کے طور پر یہوواہ کو سچا ٹھہرائے گا!
۲۱ یہوواہ کی تعلیم ہمیشہ کیلئے مفید اور فاتح ہوگی۔ کیا آپ خدا کی عظیم درسیکتاب کے ایک مستعد طالبعلم کے طور پر اس سے مستفید ہونا جاری رکھیں گے؟ کیا آپ بائبل کی مطابقت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور دوسروں کو اسکی سچائیوں میں شریک کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ ہمارے عظیم معلم، حاکم خداوند یہوواہ، کے جلال کیلئے الہی تعلیم کی کامل فتح کو دیکھنے کی امید کر سکتے ہیں۔ (۱۳ ۲/۱ w۹۴)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
▫ الہی تعلیم ہماری زندگیوں پر کیا اثر ڈال سکتی ہے؟
▫ تعلیمی ضروریات کو یہوواہ کی تعلیم کیسے پورا کر رہی ہے؟
▫ الہی تعلیم ہماری سوچ اور رویے پر کونسا مفید اثر چھوڑ سکتی ہے؟
▫ انسانی تعلقات کے سلسلے میں خدا کی تعلیم کیسے فائدہمند ثابت ہوتی ہے؟
[تصویر]
الہی تعلیم ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ کیسے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں، جیسے کہ نوح چلا تھا
[تصویر]
تمام قوموں کے لوگ یہوواہ کے پہاڑ کیطرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں