یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏5 ص.‏ 5-‏6
  • عنقریب—‏جنگ سے پاک دنیا!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عنقریب—‏جنگ سے پاک دنیا!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ذہن میں امن کو ترقی دینا
  • جس طرح خدا امن لائیگا
  • مذہبی رکاوٹوں کو ہٹانا
  • حقیقی اَمن—‏کس ماخذ سے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • حقیقی اَمن کے طالب ہو اور اُسکی کوشش میں رہو!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • جنگ کا خاتمہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • عنقریب ”‏صلح کا ایک وقت“‏!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏5 ص.‏ 5-‏6

عنقریب—‏جنگ سے پاک دنیا!‏

دسمبر ۲۴، ۱۹۱۴ کو، جم پرنس نام کا ایک جوان برطانوی فوجی سپاہی ارض‌فاصل کو پار کرتا ہوا ایک جرمن فوجی پیادے سے بات‌چیت کرنے کو گیا۔ جرمن نے اس سے پوچھا:‏ ”‏میں ایک سیکسن ہوں۔ تم ایک اینگلو-‏سیکسن ہو۔ تو پھر ہم لڑتے کیوں ہیں؟“‏ سالوں بعد، پرنس نے اعتراف کیا:‏ ”‏میں ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں جانتا۔“‏

۱۹۱۴ میں ایک غیرمعمولی ہفتے کیلئے، برطانوی اور جرمن فوج کے سپاہیوں نے آپس میں دوستی کر لی، فٹ‌بال کھیلا اور یہانتک کے کرسمس کے تحائف کا تبادلہ بھی کیا۔ یقیناً، وہ عارضی صلح، غیرسرکاری تھی۔ جرنیل یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے فوجی دستوں کو معلوم ہو کہ ان کا ”‏دشمن“‏ کینہ‌پرور عفریت نہیں تھا جس کی تصویرکشی جنگی پروپیگنڈے نے کی تھی۔ برطانوی فوجی سپاہی البرٹ مورن نے بعد میں یاد کیا:‏ ”‏اگر جنگ‌بندی مزید ایک ہفتے تک رہ گئی ہوتی تو جنگ کو پھر سے شروع کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔“‏

وہ بیساختہ جنگ‌بندی ظاہر کرتی ہے کہ بہتیرے تربیت‌یافتہ فوجی بھی جنگ کی بجائے امن کے آرزومند ہوتے ہیں۔ زیادہ‌تر فوجی جو جنگ کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی دہشت کو جان گئے ہیں وہ اس ہسپانوی ضرب‌المثل کی تصدیق کرینگے:‏ ”‏اسے جنگ میں جانے دو جو یہ نہیں جانتا کہ جنگ کیا ہے۔“‏ یقیناً، لوگوں کی اکثریت سے حاصل‌کردہ ایک عالمی رائے‌عامہ آشکارہ کر دیگی کہ حد سے زیادہ اکثریت امن کو جنگ پر ترجیح دیتی ہے۔ لیکن امن کیلئے اس عالمگیر خواہش کی ترجمانی جنگ سے خالی دنیا میں کیسے کی جا سکتی ہے؟‏

اس سے پہلے کہ جنگ کو یکسر ختم کیا جا سکے، رویوں کو تبدیل ہونا چاہئے۔ یواین کی تعلیمی، سائنسی، اور ثقافتی تنظیم کا آئین بیان کرتا ہے:‏ ”‏چونکہ جنگیں انسانوں کے ذہنوں میں جنم لیتی ہیں، اسلئے یہ انسانوں کے ذہن ہی ہیں جہاں امن کے تحفظ کی تعمیر ہونی چاہئے۔“‏ تاہم، موجودہ معاشرہ، جہاں بے‌اعتمادی اور نفرت قابو سے باہر ہیں، زیادہ پرامن ہونے کی بجائے، اور زیادہ پرتشدد ہوتا جا رہا ہے۔‏

تاہم، خدا نے خود یہ وعدہ کیا ہے کہ ایک دن راستبازی کی طرف مائل لوگوں کے ذہنوں پر امن نقش ہو جائیگا۔ اپنے نبی یسعیاہ کی معرفت، اس نے کہا:‏ ”‏وہ [‏خدا]‏ قوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی امتوں کو ڈانٹیگا اور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوئے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“‏—‏یسعیاہ ۲:‏۴‏۔‏

ذہن میں امن کو ترقی دینا

کیا سوچ میں ایسی غیرمعمولی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے؟ کیا لوگ کبھی جنگ کی بڑائی کرنے کی بجائے امن کی حفاظت کرنا سیکھیں گے؟ وولفگینگ کسیرو کی مثال پر غور کریں۔ ۱۹۴۲ میں نازیوں نے اس ۲۰ سالہ جرمن کا سر قلم کر دیا کیونکہ اس نے ”‏جنگ کرنا نہ سیکھا۔“‏ اس نے مرنے کا انتخاب کیوں کیا؟ ایک تحریری بیان میں اس نے اسطرح کے صحیفائی اصولوں کا حوالہ دیا جیسے، ”‏[‏تو]‏ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ“‏ اور، ”‏جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔“‏ (‏متی ۲۲:‏۳۹،‏ ۲۶:‏۵۲‏)‏ پھر اس نے برمحل سوال پوچھا:‏ ”‏کیا ہمارے خالق نے یہ سب کچھ درختوں کیلئے لکھوایا تھا؟“‏

بائبل میں درج‌شدہ خدا کا کلام، ”‏مؤثر“‏ ہے اور اس نے یہوواہ کے اس نوجوان گواہ کو نتائج سے قطع‌نظر، امن کی تلاش پر آمادہ کیا۔ (‏عبرانیوں ۴:‏۱۲،‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۱۱‏)‏ لیکن صرف وولفگینگ کسیرو ہی نہ تھا جس نے اسطرح سے امن کی تلاش کی۔ کتاب دی نازی پرسیکیوشن آف دی چرچز ۱۹۳۳-‏۱۹۴۵ (‏نازیوں کی طرف سے چرچوں کو اذیت)‏ میں جے۔ ایس۔ کونوے سرکاری نازی تاریخی دستاویزات کا حوالہ دیتا ہے جو کہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ بطور ایک گروہ کے یہوواہ کے گواہوں نے ہتھیار اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ جیسے کہ کونوے نے واضح کیا، ایسے جراتمندانہ موقف کا مطلب درحقیقت خود اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنا تھا۔‏

اپنی نسل یا قومیت سے قطع‌نظر، یہوواہ کے گواہ آجکل بھی امن کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ انہوں نے بائبل سے سیکھ لیا ہے کہ خدا کے سچے خادموں کو اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں بنانا ہے۔ آلاخاندرو، ارجنٹینا کا ایک جوان آدمی جو ۱۹۸۷ میں اسرائیل میں آبادکاری کی غرض سے آیا، وہ بذات‌خود اس حقیقت کی تصدیق کر سکتا ہے۔‏

تین سالوں تک آلاخاندرو اجتماعی سکونت‌گاہ میں رہا جبکہ وہ ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتا رہا اور مختلف ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کام کرتا رہا۔ اس عرصہ میں، اس نے بائبل کو پڑھنا شروع کر دیا اور وہ زندگی کے مقصد کی تلاش کر رہا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک ایسی دنیا دیکھنے کی آرزو رکھتا تھا جہاں لوگ امن اور انصاف سے لطف اٹھا سکتے ہوں۔ آلاخاندرو—‏ایک یہودی—‏یہودیوں اور عربوں کیساتھ کام کرتا تھا لیکن وہ کسی کی بھی حمایت نہ کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔‏

۱۹۹۰ میں اس کے ایک دوست نے جو یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ کر رہا تھا آلاخاندرو کو حیفہ میں ایک روزہ اسمبلی پر مدعو کیا۔ اسمبلی پر ۶۰۰ یہودیوں اور عربوں کو خوشی سے ایکدوسرے سے ملتے جلتے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا، اس نے خود سے کہا، ”‏لوگوں کے رہن سہن کا یہ درست طریقہ ہے۔“‏ چھ ماہ کے اندر اندر، وہ خود ایک گواہ بن گیا اور اب اپنے وقت کا بیشتر حصہ امن کی بابت بائبل کے پیغام کی منادی کرنے میں وقف کرتا ہے۔‏

جس طرح خدا امن لائیگا

اس طرح کی دل کو متاثر کرنے والی مثالیں آج کی دنیا میں بہت عام ہونے کی بجائے غیرمعمولی ہیں۔ اگرچہ موجودہ نظام امن کی بابت صرف زبانی جمع خرچ کرتا ہے، تاہم یہ جنگ کے بیجوں کو سینچتا ہے۔ کیا آپ ایسی جگہ پر رہنا چاہینگے جہاں کے باشندے اپنی کمائی کا ۷ سے ۱۶ فیصد اسلحے اور گھروں کو محفوظ رکھنے والے آلات کی نذر کر دیتے ہیں؟ عملاً، حالیہ برسوں میں قومیں فوجی اخراجات کے ذریعے یہی کچھ کرتی رہی ہیں۔ تو پھر اسمیں کوئی حیرانی نہیں کہ یسعیاہ کی پیشینگوئی یہ آشکارہ کرتی ہے کہ جب تک خدا ”‏امتوں کو“‏ نہیں ”‏ڈانٹیگا“‏ تمام نسل‌انسانی کبھی بھی اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں نہیں بنائیگی۔ وہ یہ کیسے کریگا؟‏

معاملات کو درست کرنے کا خاص ذریعہ یہوواہ خدا کی بادشاہت ہے۔ دانی‌ایل نبی نے پیشینگوئی کی کہ ”‏آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی۔“‏ یہ بادشاہی، وہ مزید کہتا ہے، ”‏ان تمام مملکتوں [‏دنیاوی حکومتوں]‏ کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“‏ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏)‏ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ خدا کی بادشاہی ساری زمین پر اپنا تسلط قائم کریگی۔ قومی حدود کو ختم کرتے ہوئے، بادشاہی رقابتوں کا نام‌ونشان مٹا دیگی۔ علاوہ‌ازیں، چونکہ اسکی رعایا ”‏خداوند سے تعلیم“‏ پائے ہوئے لوگ ہونگے، اسلئے انکی سلامتی بھی ”‏کامل ہوگی۔“‏ (‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۳‏)‏ تعجب نہیں کہ اسی لئے یسوع نے ہمیں خدا سے دعا کرنا سکھایا:‏ ”‏تیری بادشاہی آئے“‏!‏—‏متی ۶:‏۱۰‏۔‏

مذہبی رکاوٹوں کو ہٹانا

خدا امن کی راہ میں حائل مذہبی رکاوٹوں کو بھی ہٹا دیگا۔ تاریخ میں طویل‌ترین مسلح جھگڑوں کو مذہب کی پشت‌پناہی حاصل تھی—‏جیسے کہ صلیبی جنگیں، یا ”‏مقدس جنگیں،“‏ جنہیں پوپ اربن دوئم نے ۱۰۹۵ س۔ع۔ میں شروع کرایا۔‏a ہماری صدی میں بھی پادری‌طبقہ جنگوں کی ترغیب دینے اور عوامی حمایت حاصل کرنے میں پیش پیش رہا ہے، یہانتک کہ ان جنگوں میں بھی جو بالکل غیرمذہبی نوعیت کی تھیں۔‏

پہلی عالمی جنگ کے دوران نام نہاد مسیحی گرجا گھروں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے، تاریخ‌دان پال جانسن نے لکھا:‏ ”‏پادری‌طبقہ قوم‌پرستی کی جگہ مسیحی ایمان کو اولیت دینے کے ناقابل بلکہ زیادہ‌تر حالتوں میں اسکے لئے تیار ہی نہیں تھا۔ زیادہ‌تر نے آسان راستے کا انتخاب کیا اور مسیحیت کو حب‌الوطنی کے برابر درجہ دے دیا۔ تمام فرقوں کے مسیحی فوجیوں کو یہ نصیحت کی جاتی تھی کہ وہ اپنے نجات‌دہندہ کے نام کی خاطر ایک دوسرے کو ماریں۔“‏

مذہب نے امن کو فروغ دینے کی بجائے جنگ کو بھڑکانے کیلئے زیادہ کام کیا ہے۔ درحقیقت، بائبل جھوٹے مذہب کو بطور ”‏کسبی“‏ کے بیان کرتی ہے جو کہ دنیا کے بادشاہوں کی ناپاک خواہشات کی تسکین کا انتظام کرتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱، ۲‏)‏ خدا اسے زمین پر قتل کئے جانے والوں کا خون بہانے کیلئے بڑا مجرم ٹھہراتا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۸:‏۲۴‏)‏ انجام‌کار، یہوواہ خدا امن کی راہ میں حائل اس رکاوٹ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیگا۔—‏مکاشفہ ۱۸:‏۴، ۵،‏ ۸‏۔‏

سیاست اور جھوٹے مذہب جیسے منقسم عناصر کی عدم موجودگی کے باوجود بھی، سب سے عظیم جنگجو—‏شیطان ابلیس کے خاتمے کے بغیر امن کبھی بھی یقینی نہیں ہوگا۔ یہ سب سے حتمی کام ہوگا جسکی ذمہ‌داری خدا کی بادشاہی زمین پر مکمل امن لانے کے اپنے پروگرام کے تحت اٹھائیگی۔ بائبل میں مکاشفہ کی کتاب بیان کرتی ہے کہ شیطان کو ”‏پکڑ کر“‏ اور ”‏باندھا“‏ اور ”‏اتھاہ گڑھے میں ڈال کر بند کر دیا“‏ جائیگا تاکہ ”‏وہ قوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔“‏ اسکے بعد اسے مکمل طور پر نابود کر دیا جائیگا۔—‏مکاشفہ ۲۰:‏۲، ۳،‏ ۱۰‏۔‏

جنگ کے خاتمے کی بابت بائبل کا وعدہ محض ایک بے‌بنیاد خواب نہیں ہے۔ امن کیلئے یہوواہ خدا کے انتظام کو پہلے ہی حرکت میں لایا جا چکا ہے۔ اسکی بادشاہی آسمانوں میں قائم ہو چکی ہے اور عالمی امن کی یقین‌دہانی کیلئے مزید اقدام اٹھانے کو بالکل تیار ہے۔ اس دوران میں، لاکھوں یہوواہ کے گواہوں نے، جو اس آسمانی حکومت کی حمایت میں ہیں، امن کیساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔‏

تو پھر، واضح طور پر، ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی قابل‌اعتماد وجوہات ہیں کہ جنگیں ناگزیر نہیں ہیں۔ تاہم یہ اچھی بات ہے کہ ہم مستقبل قریب میں اس دن کا انتظار کر سکتے ہیں جب خدا جنگ کو ہمیشہ کیلئے موقوف کرا دیگا۔ (‏زبور ۴۶:‏۹‏)‏ وہ یقین کرلیگا کہ عنقریب جنگ سے پاک دنیا قائم ہوگی۔ (‏۵ ۱/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض اوقات مذہبی راہنما خود جنگی سپاہی بن گئے۔ ہیسٹنگز کی لڑائی (‏۱۰۶۶)‏ میں، کیتھولک بشپ اوڈو نے تلوار کے بجائے عصائے حکومت چلانے سے اپنی سرگرم شمولیت کا جواز پیش کیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اگر خون نہیں بہایا گیا تو خدا کا خادم جائز طور پر قتل کر سکتا تھا۔ پانچ صدیوں بعد، کارڈینل خیمنیس نے ذاتی طور پر شمالی افریقہ پر ہسپانوی حملے کی راہنمائی کی۔‏

‏[‏تصویر]‏

آپ جنگ سے پاک نئی دنیا میں رہ سکتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں