کیا جنگیں ناگزیر ہیں؟
جنگ خبروں کا ایک افسردہ کرنے والا عنصر ہے۔ سفاکی کے ایسے خبرنامے بلاشبہ آپکو پریشان کرتے ہونگے۔ لیکن شاید وہ آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کریں کہ کیوں بہتیرے جھگڑوں کا تصفیہ اسلحہ ہی کے ذریعے کیا جانا چاہئے۔ کیا انسان کبھی بھی امن سے رہنا نہیں سیکھینگے؟
جنگ کی مہلکوبا کا تدارک ایڈز کے علاج سے بھی زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ۲۰ویں صدی کے دوران پوری کی پوری قومیں جنگ کیلئے حرکت میں آ چکی ہیں، کئی ملین آدمی جنگ میں جھونک دئے گئے ہیں اور سینکڑوں شہر تباہوبرباد کر دئے گئے ہیں۔ اس شدید خونریزی کا خاتمہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسلحے کی نفعبخش تجارت یقین دلاتی ہے کہ دنیا کی فوجیں—اور گوریلے—بہت زیادہ مؤثر رہیں گے۔
جب سے جنگی ہتھیار زیادہ مہلک ہو گئے ہیں، جنگی زخمیوں کا شمار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں لڑنے والے ۶۵ ملین فوجی سپاہیوں میں سے نصف سے زیادہ قتل ہوئے یا زخمی ہو گئے۔ کوئی ۳۰ سال بعد، صرف دو ایٹم بموں نے ۱۵۰،۰۰۰ سے زائد جاپانی شہریوں کی زندگیاں چھین لیں۔ دوسری عالمی جنگ سے لیکر، جھگڑے زیادہتر محدود ہو گئے ہیں۔ تاہم، وہ بالخصوص شہریوں کیلئے مہلک ہیں، جو کہ اب جنگی زخمیوں کے ۸۰ فیصد کو تشکیل دیتے ہیں۔
ستمظریفی تو یہ ہے کہ یہ وسیع خونریزی ایک ہی دور میں واقع ہوئی ہے جس نے قوموں کے مابین جھگڑوں کو مٹانے کیلئے ایک طریقے کے طور پر جنگ کو غیرقانونی قرار دینے کی بےمثال کوششوں کو دیکھا ہے۔ سردجنگ کے حالیہ خاتمہ کیساتھ، اس چیز کی بہت زیادہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایک نیا، پرامن عالمی نظام آئیگا۔ تاہم، عالمگیر امن ہمیشہ کی طرح وہمی بات ہی ہے۔ کیوں؟
ایک حیاتیاتی ضرورت؟
بعض تاریخدان اور ماہربشریات دعوی کرتے ہیں کہ جنگیں ناگزیر ہیں—بلکہ ضروری ہیں—محض اسلئے کہ وہ بقا کیلئے ارتقائی جدوجہد کا ایک حصہ ہیں۔ ایسی سوچ سے متاثر ہو کر، فوجی تجزیہنگار فریڈرک وان برنہارڈی نے ۱۹۱۴ میں دلیل پیش کی کہ جنگ ”حیاتیاتی، معاشرتی اور اخلاقی ترقی کے مفاد میں“ لڑی جاتی ہے۔ نظریہ یہ تھا کہ جنگ سب سے زیادہ زورآور کو بچاتے ہوئے کمزور افراد یا قوموں کو نکال باہر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
اس طرح کی دلیل جنگ سے متاثرہ لاکھوں بیواؤں اور یتیموں کیلئے بمشکل تسلی کا باعث ہوگی۔ اخلاقی طور پر ناگوار ہونے کے علاوہ، یہ سوچ جدید جنگ کے بھیانک حقائق کو بھی نظرانداز کرتی ہے۔ مشینگن سب سے زیادہ زورآور کو بچانے کا کوئی لحاظ نہیں رکھتی اور بم کمزور کیساتھ ساتھ طاقتور کو بھی نابود کر دیتا ہے۔
پہلی عالمی جنگ سے حاصل ہونے والے سنجیدہ اسباق کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے، ایڈولف ہٹلر نے فوجی فتح کے ذریعے جبراً اعلیتریننسل کو قائم کرنے کا خواب دیکھا۔ اپنی کتاب مائن کامپف (میری جدوجہد) میں اس نے لکھا: ”نسلانسانی نے ابدی کشمکش کی وجہ سے عظمت حاصل کی ہے اور ابدی امن کی وجہ سے ہی فنا ہوئی ہے۔ ...زورآور کو حکومت کرنی چاہئے اور کمزور کیساتھ ملنا نہیں چاہئے۔“ تاہم، نوعانسانی کا وقار بلند کرنے کی بجائے، ہٹلر نے کئی ملین زندگیاں قربان کر دیں اور ایک پورے براعظم کو ویران کر دیا۔
تاہم، اگر جنگ حیاتیاتی ضرورت نہیں ہے تو پھر کیا چیز انسانوں کو خود اپنی ہی بربادی کی طرف دھکیلتی ہے؟ کونسی قوتیں قوموں کو اس ”سفاکوں کے کاروبار“ میں اندھادھند دھکیلتی ہیں؟a ذیل میں چند ایسے بنیادی عناصر کی فہرست ہے جو امن قائم کرانے والوں کی کمال کوششوں کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔
جنگ کے اسباب
قومپرستی۔ اکثر سیاستدانوں اور جرنیلوں کی اپیل کے باعث، قومپرستی جنگ کو فروغ دینے والی نہایت پرزور قوتوں میں سے ایک ہے۔ بہتیری جنگیں ”قومی مفادات“ کو بچانے یا ”قومی اعزاز“ کا دفاع کرنے کی خاطر لڑی گئی ہیں۔ جب میرے ملک کی صحیح یا غلط والی ذہنیت رواج پا جاتی ہے تو بطور انسدادی حملے کے صریح جارحیت کا بھی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
نسلیاتی دشمنی۔ بہتیری علاقائی جنگیں نسلوں، قبیلوں، اور نسلیاتی گروہوں کے بیچ پائی جانے والی پرانی نفرت کے باعث شروع کرائی جاتی اور پھر بھڑکائی جاتی ہیں۔ سابقہ یوگوسلاویہ میں، لائبیریا میں اور صومالیہ میں افسوسناک خانہجنگیاں بالکل تازہترین مثالیں ہیں۔
معاشی اور فوجی رقابت۔ پہلی عالمی جنگ سے قبل کے بظاہر پرامن دور میں، یورپی طاقتوں نے واقعی بڑی بڑی فوجیں بنا لی تھیں۔ جرمنی اور برطانیہکلاں بڑے جنگیجہاز بنانے کے مقابلے میں الجھے ہوئے تھے۔ چونکہ ہر بڑی قوم جو بالآخر شدید خونریزی میں ملوث ہوئی یہ یقین رکھتی تھی کہ جنگ اسکی طاقت میں اضافہ کریگی اور بکثرت معاشی فوائد کا باعث ہوگی، یوں لڑائی کیلئے حالات بالکل سازگار تھے۔
مذہبی فسادات۔ بالخصوص جب مذہبی اختلافات نسلی تفرقوں سے کمک پاتے ہیں تو یہ دھماکہخیز مواد پیدا کر سکتے ہیں۔ لبنان اور شمالی آئرلینڈ میں جھگڑے، اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگوں کی بنیاد مذہبی دشمنی ہی ہے۔
ایک اندیکھا جنگجو۔ بائبل آشکارہ کرتی ہے کہ ”اس جہان [کا] خدا،“ شیطان ابلیس، اب پہلے کی نسبت زیادہ سرگرم ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) بہت زیادہ طیش میں ہوتے ہوئے اور ”تھوڑا سا ہی وقت“ رکھتے ہوئے، وہ بشمول جنگوں کے جو کہ زمین کی افسوسناک حالت میں مزید اضافہ کرتی ہیں، حالات کو اشتعالانگیز بنا رہا ہے۔—مکاشفہ ۱۲:۱۲۔
جنگ کے ان بنیادی اسباب کو ختم کرنا آسان نہیں۔ ۲،۰۰۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے، افلاطون نے کہا کہ ”صرف مردوں نے ہی جنگ کا خاتمہ دیکھا ہے۔“ کیا اسکی مایوسکن رائے ایک تلخ حقیقت ہے جسے ہمیں قبول کرنا سیکھنا چاہئے؟ یا کیا ہمارے پاس یہ امید رکھنے کی کوئی وجہ ہے کہ ایک دن ضرور جنگ سے پاک دنیا قائم ہوگی۔ (۳ ۱/۱۵ w۹۴)
[فٹنوٹ]
a یہ نپولین ہی تھا جس نے جنگ کو بطور ”سفاکوں کے کاروبار“ کے بیان کیا۔ اپنی جواںعمری کے بیشتر حصے کو فوج میں گزارنے اور تقریباً ۲۰ سال اعلے سپہسالار رہنے سے، اس نے جنگ کی سفاکیوں کا براہراست تجربہ کیا تھا۔
[صفحہ 2 پر تصویر کا حوالہ]
,(detail) Gassed Cover: John Singer Sargent’s painting
Imperial War Museum, London
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
Instituto Municipal de Historia, Barcelona