قدرتی آفات—کیا خدا ذمہدار ہے؟
”خدایا، تو نے ہمارے ساتھ کیا کر دیا ہے؟“
یہ زندہ بچ نکلنے والے اس شخص کا بیانکردہ تاثر تھا جس نے نومبر ۱۳، ۱۹۸۵ کو کولمبیا میں برفپوش پہاڑ نیوا دو دل رویز کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا تھا۔ گرنے والے برفانی تودے نے آرمیرو کے پورے شہر کو دفن کر دیا اور ایک ہی رات میں ۲۰،۰۰۰ سے زائد لوگوں کو ہلاک کر دیا۔
یہ قابلسمجھ بات ہے کہ زندہ بچنے والا اس قسم کا ردعمل ظاہر کرے۔ دہشتناک طبعی قوتوں کے سامنے بےبس ہوتے ہوئے، ابتدائی زمانوں سے لے کر لوگوں نے اس طرح کے تباہکن واقعات کو خدا سے منسوب کیا ہے۔ قدیمی لوگوں نے سمندر، آسمان، زمین، پہاڑ، آتشفشاں پہاڑ، اور خطرے کے دیگر ذرائع کے اپنے دیوتاؤں کے غضب کو کم کرنے کیلئے قربانیاں، یہاں تک کہ انسانی قربانیاں بھی گزرانیں۔ حتیکہ آجکل بھی، بعض لوگ تباہکن قدرتی واقعات کے نتائج کو قسمت یا پھر خدا کا کام جان کر آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔
کیا واقعی خدا ان تمام آفات کا ذمہدار ہے جو ساری دنیا میں اسقدر انسانی تکلیف اور نقصان کا باعث بنتی ہیں؟ کیا اس کو الزام دیا جا سکتا ہے؟ جوابات تلاش کرنے کیلئے، ہمیں اس طرح کی آفات میں جو کچھ شامل ہے اسکا قریبی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت، ہمیں بعض معلوم حقائق کا پھر سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔
”قدرتی آفت“ کیا ہوتی ہے؟
جب ایک زلزلے نے تینگشان، چین کو لپیٹ میں لے لیا اور سرکاری چینی رپورٹوں کے مطابق اس نے ۲۴۲،۰۰۰ لوگوں کو ہلاک کر دیا، اور جب ہریکین اینڈریو نے ریاستہائے متحدہ میں جنوبی فلوریڈا اور لوایزیآنا میں، زور مارا اور کروڑوں ڈالر کے نقصان کا باعث بنا تو ایسی قدرتی آفات بینالاقوامی ذرائعابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ تاہم، اگر اس زلزلے نے تینگشان سے ۱۱۰۰ کلومیٹر شمال مغرب میں غیرآباد صحرائےگوبی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوتا، یا اگر ہریکین اینڈریو نے مختلف راہ اختیار کی ہوتی اور خشکی کو یکسر چھوڑ کر خودبخود سمندر میں ختم ہو گیا ہوتا، تو کیا ہوتا؟ بمشکل ہی انہیں اب یاد رکھا گیا ہوتا۔
پس، صاف ظاہر ہے کہ جب ہم قدرتی آفات کی بات کرتے ہیں تو ہم محض طبعی قوتوں کی ڈرامائی کارکردگی کی بابت ہی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ ہر سال ہزاروں چھوٹے بڑے زلزلے، اور درجنوں طوفان، طوفانیگردباد، طوفانبادوباراں، طوفانی سمندری ہوائیں، آتشفشاں پہاڑوں کا پھٹنا اور دیگر ایسے متشدد واقعات رونما ہوتے ہیں جن کو محض شماریات کے طور پر ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔ تاہم، جب ایسے واقعات شدید جانی اور مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں اور زندگی کے معمول کو درہم برہم کر دیتے ہیں تو وہ آفات بن جاتے ہیں۔
اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ تباہی اور اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان ہمیشہ اس سے متعلق قدرتی قوتوں کے متناسب نہیں ہوتا۔ بڑی آفت ضروری طور پر طبعی قوتوں کے نہایت پرزور مظاہرے کی وجہ سے نہیں آتی۔ مثال کے طور پر، ۱۹۷۱ میں ایک زلزے نے جس کی شدت ریکٹر سکیل پر ۶.۶ تھی، ریاستہائے متحدہ میں سانفرننڈو، کیلیفورنیا، کو نقصان پہنچایا اور ۶۵ لوگ مارے گئے۔ ایک سال بعد، مناگوا، نکاراگوا، میں ۶.۲ کی شدت کے ایک زلزے نے ۵،۰۰۰ لوگوں کی جانیں لے لیں!
پس جب قدرتی آفات کی وجہ سے بڑھتی ہوئی تباہی کی بات آتی ہے تو ہمیں یہ پوچھنا چاہئے، کیا قدرتی عناصر زیادہ پرتشدد ہو گئے ہیں؟ یا کیا انسانی عناصر اس مسئلے کا سبب بنے ہیں؟
ذمہدار کون ہے؟
بائبل یہوواہ خدا کی تمام چیزوں کے عظیم خالق کے طور پر شناخت کراتی ہے۔ جن میں اس زمین کی طبعی قوتیں بھی شامل ہیں۔ (پیدایش ۱:۱، نحمیاہ ۹:۶، عبرانیوں ۳:۴، مکاشفہ ۴:۱۱) اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ وہ ہوا کے ہر جھونکے یا بارش کی ہر بوچھاڑ کا سبب بنتا ہے۔ بلکہ یہ کہ اس نے چند ایسے قوانین وضع کر دئے ہیں جو کہ زمین اور اسکے گردوپیش پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، واعظ ۱:۵-۷ میں ہم تین بنیادی عوامل کی بابت پڑھتے ہیں جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتے ہیں—سورج کا روزانہ طلوع ہونا اور غروب ہونا، ہواؤں کا لاتبدیل عمل، اور آبیچکر۔ خواہ نسلانسانی ان سے باخبر ہے یا نہیں، یہ قدرتی نظام اور اسی طرح کے دیگر نظام، جو زمین کی آبوہوا، ارضیات، اور ماحولیات کو متاثر کرتے ہیں ہزاروں سالوں سے کارفرما ہیں۔ درحقیقت، واعظ کا لکھنے والا تخلیق کے ابدی اور لاتبدیل طریقوں اور انسانی زندگی کی ناپائدار اور عارضی حالت کے مابین بڑے فرق کی طرف توجہ مبذول کروا رہا تھا۔
یہوواہ نہ صرف طبعی قوتوں کا خالق ہی ہے بلکہ وہ انہیں قابو میں رکھنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ پوری بائبل میں ہمیں ایسے بیانات ملتے ہیں جہاں اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے یہوواہ نے ایسی قوتوں کو قابو میں رکھا یا سبکدستی سے استعمال کیا ہے۔ اس میں موسی کے دنوں میں بحرقلزم کے دو ٹکڑے کر دینا اور یشوع کے دنوں میں سورج اور چاند کو انکے آسمانی مقاموں پر ساکن کر دینا شامل ہے۔ (خروج ۱۴:۲۱-۲۸، یشوع ۱۰:۱۲، ۱۳) خدا کے بیٹے اور موعودہ مسیحا، یسوع مسیح نے بھی طبعی قوتوں پر اپنے اختیار کا مظاہرہ کیا، مثال کے طور پر، جب اس نے گلیل کی جھیل میں طوفان کو ساکت کر دیا۔ (مرقس ۴:۳۷-۳۹) اس طرح کے بیانات شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ یہوواہ خدا اور اسکا بیٹا یسوع مسیح ان تمام چیزوں کو پوری طرح سے قابو میں رکھ سکتے ہیں جو یہاں زمین پر زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔—۲-تواریخ ۲۰:۶، یرمیاہ ۳۲:۱۷، متی ۱۹:۲۶۔
جب معاملہ اس طرح ہے تو کیا ہم اس بڑھتی ہوئی تباہی اور بربادی کیلئے خدا کو ذمہدار ٹھہرا سکتے ہیں جو حالیہ وقتوں میں قدرتی آفات کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے، ہمیں سب سے پہلے تو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا اس کا کوئی ثبوت ہے کہ حالیہ وقتوں میں طبعیقوتیں ڈرامائی طور پر زیادہ پرتشدد ہو گئی ہیں، یہانتک کہ شاید بےقابو ہو گئی ہیں۔
اس سلسلے میں، کتاب قدرتی آفات—خدا کے کام یا انسان کے کام؟ (انگریزی) کتاب جو کچھ کہتی ہے اس پر غور کریں: ”اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ خشکسالی، سیلابوں، اور طوفانیگردباد سے متعلق موسمیاتی طریقکار تبدیل ہو رہے ہیں۔ اور کوئی بھی ماہرارضیات اس کا دعوی نہیں کرتا کہ زلزلوں، آتشفشاں پہاڑوں کے پھٹنے، اور تسونامی (زلزلوں کی لہروں) سے متعلق زمین کی حرکات شدت اختیار کر رہی ہیں۔“ اسی طرح زمینی صدمہ (انگریزی) کتاب مشاہدہ کرتی ہے: ”ہر براعظم کی چٹانیں بیشمار بڑے اور چھوٹے ارضیاتی واقعات کا ریکارڈ رکھتی ہیں، جن میں سے ہر ایک اگر آج وقوعپزیر ہو جائے تو بنینوعانسان کیلئے ایک تباہکن آفت ثابت ہوگا—اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ بات یقینی ہے کہ ایسے واقعات مستقبل میں بار بار وقوعپذیر ہونگے۔“ باالفاظ دیگر، زمین اور اسکی متحرک قوتیں عرصہدراز سے کموبیش ایک سی رہی ہیں۔ لہذا، بعض اعدادوشمار چاہے کسی قسم کی ارضیاتی یا دیگر کسی طرح کی کارگزاری میں اضافے کی نشاندہی کریں یا نہ کریں، حالیہ وقتوں میں زمین ناقابلکنٹرول حد تک بےقابو نہیں ہوئی ہے۔
تو پھر، کیا چیز ان قدرتی آفات کی شدت اور تباہی میں اضافے کا سبب بنتی ہے جنکی بابت ہم پڑھتے ہیں؟ اگر طبعی قوتوں پر الزام نہیں دیا جا سکتا تو پھر انسانوں پر الزام لگایا جا سکتا ہے۔ اور بلاشبہ، حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی کارگزاریوں نے ہمارے ماحول کو قدرتیآفات کی طرف زیادہ مائل کر دیا ہے اور اپنے واسطے زیادہ غیرمحفوظ بنا دیا ہے۔ ترقیپزیر ملکوں میں، خوراک کی بڑھتی ہوئی ضرورت کسانوں کو مجبور کرتی ہے اس جگہ پر حد سے زیادہ کاشت کریں جو انکے پاس ہے یا نہایت اہم جنگلاتی علاقے کو خالی کرکے اس زمین کو قابلکاشت بنائیں۔ یہ زمین کے تشویشناک کٹاؤ کا باعث بنتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی بھی غیرمحفوظ علاقوں میں بےترتیب گندی تاریک گلیوں اور کچیآبادیوں میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتی ہے۔ مزید ترقییافتہ ممالک میں بھی، لوگ، جیسے کہ کیلیفورنیا میں ساناندریاسفالٹ کے ساتھ ساتھ رہنے والے لاکھوں لوگوں نے واضح آگاہیوں کے باوجود خود کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ ایسے حالات کے پیشنظر جب کوئی غیرمعمولی واقعہ—طوفان، سیلاب، یا کوئی زلزلہ—وقوع میں آتا ہے تو کیا اسکے تباہکن نتائج کو واقعی ”قدرتی“ کا نام دیا جا سکتا ہے؟
اس کی امتیازی مثال افریقی ساھیل کی خشکسالی ہے۔ عموماً ہم خشکسالی کو بارش یا پانی کی کمی کیساتھ منسوب کرتے ہیں جو قحط، بھکمری، اور موت کا باعث بنتی ہے۔ لیکن کیا اس علاقے میں یہ قحط اور بھکمری محض پانی کی کمی ہی کے باعث ہے؟ قدرت طیش میں (انگریزی) کتاب کہتی ہے: ”سائنسی اور امدادی ایجنسیوں کے ذریعے جمعکردہ ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ آجکل قحطسالی کی موجودگی اتنی زیادہ طویل حشکسالی کی وجہ سے نہیں جتنی کہ زمین اور آبی وسائل کے طویل غلط استعمال کی وجہ سے ہے۔ ... ساھیل کا مسلسل صحرا بنتے جانا زیادہتر انسانساختہ عمل ہے۔“ ایک جنوبی افریقی اخبار، دی نیٹل وٹنس، بیان کرتا ہے: ”قحط محض خوراک کی کمی ہی کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ خوراک تک رسائی کی کمی کی وجہ سے ہے۔ باالفاظدیگر، یہ غربت کی وجہ سے ہے۔“
دوسری آفات سے پیدا ہونے والی زیادہتر تباہی کی بابت بھی یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ تحقیقات نے ظاہر کیا ہے کہ زیادہ غریب ممالک غیرمتناسب طور پر دنیا کے زیادہ امیر ممالک کی نسبت زیادہ شرحاموات کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک تجزیے کے مطابق، ۱۹۶۰ سے لیکر ۱۹۸۱ تک جاپان میں ۴۳ زلزلے اور دیگر آفات رونما ہوئی تھیں اور ۲،۷۰۰ جانیں ضائع ہوئیں، جو کہ ایک آفت میں ۶۳ اموات کی اوسط تھی۔ اسی عرصہ میں، پیرو میں ۹۱،۰۰۰ اموات کیساتھ ۳۱ آفتیں آئیں یا ۲،۹۰۰ اموات فی آفت کے حساب سے واقع ہوئی تھیں۔ لیکن یہ فرق کیوں؟ طبعیقوتیں شاید قدرتیآفات کا باعث رہی ہوں، لیکن یہ انسانی کارکردگی—معاشرتی، معاشی، سیاسی—ہی ہے جسے رونما ہونے والے جانی اور مالی نقصان میں بہت بڑے فرق کا ذمہدار ٹھہرایا جانا چاہئے۔
حل کیا ہیں؟
سائنسدانوں اور ماہرین نے بہتیرے سالوں سے قدرتی آفات کیساتھ نپٹنے کیلئے ایسے طریقے ایجاد کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ زلزلوں اور آتشفشاؤں کے پھٹنے کے عمل کو سمجھنے کی جستجو میں زمین کی تہہ میں بہت نیچے تک جاتے ہیں۔ مصنوعی خلائیسیاروں کیساتھ وہ موسمی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تاکہ طوفانیگردباد اور طوفانبادوباراں کی سمت کا تعین کر سکیں یا پھر سیلابوں اور خشکسالی کی پیشینگوئی کر سکیں۔ اس تمام تحقیق نے انہیں اسقدر معلومات فراہم کی ہیں کہ انکی امید ہے کہ یہ انہیں طبعیقوتوں کے اثر کو کم کرنے کے قابل بنائینگی۔
کیا ایسی کوششوں سے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں؟ اس قسم کی قیمتی، اعلیتکنیک کے سلسلے میں قدرتی ماحول کو مانیٹر کرنے والی ایک تنظیم واچڈاگ آرگنائزیشن (تنظیم جو قدرتی ماحول کی معلومات رکھتی ہے) نے یہ مشاہدہ کیا: ”اعلیتکنیک کے ان قوانین کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ لیکن اگر وہ پیسے اور کوشش کے ایک غیرمتناسب حصے کو صرف کرتی ہیں—اگر وہ ان خطرات کو نظرانداز کرنے کیلئے ایک بہانے کا کام دیتی ہیں جو متاثرہ معاشروں میں جنم لیتے اور آفات کو مزید بدتر بناتے ہیں—تو پھر وہ فائدے کی بجائے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔“ مثال کے طور پر، جب یہ جاننا سودمند ہے کہ بنگلہدیش کے دریا کے دہانے کا ساحلی ڈیلٹا ہمیشہ سیلابوں اور بہت بڑی بڑی لہروں کے خطرے میں رہتا ہے تو یہ معلومات لاکھوں بنگلہدیشیوں کو اس علاقے میں مجبوراً رہنے سے روک نہیں سکتیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ بار بار آنے والی آفات لاکھوں جانوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہیں۔
واضح طور پر، تکنیکی معلومات کسی حد تک کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایک اور چیز جس کی ضرورت ہے وہ ہے ایسے دباؤ کو کم کرنے کی صلاحیت جو لوگوں کو ایسے علاقوں میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں جو کہ خطرناک ہیں یا ایسے طریقے سے رہنا جو ماحول کو تباہوبرباد کر دیتا ہے۔ باالفاظدیگر، ان عناصر سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کیلئے اس معاشرتی، معاشی، اور سیاسی نظام کو دوبارہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم رہتے ہیں۔ کون ایسا کام سرانجام دے سکتا ہے؟ صرف وہی جو ان قوتوں کو بھی قابو میں رکھ سکتا ہے جو قدرتیآفات کا باعث بنتی ہیں۔
خدا کے مستقبل کے کام
یہوواہ خدا نہ صرف علامات سے نپٹے گا بلکہ وہ انسانی تکلیف کی وجہ کی جڑ تک پہنچے گا۔ وہ لالچی اور ظالم سیاسی، تجارتی، اور مذہبی نظاموں کو ختم کریگا جو ”دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اوپر بلا [لائے ہیں]۔“ (واعظ ۸:۹) کوئی بھی جو بائبل سے واقف ہے وہ اس پر غور کرنے میں ناکام نہیں ہوگا کہ شروع سے لے کر آخر تک اس کے صفحات میں بیشمار پیشینگوئیاں ہیں جو اس وقت کی نشاندہی کرتی ہیں جب خدا زمین سے بدکاری اور تکلیف کا خاتمہ کرنے اور امن اور راستبازی والی ایک زمینی فردوس کو بحال کرنے کیلئے کارروائی کریگا۔—زبور ۳۷:۹-۱۱، ۲۹، یسعیاہ ۱۳:۹، ۶۵:۱۷، ۲۰-۲۵، یرمیاہ ۲۵:۳۱-۳۳، ۲-پطرس ۳:۷، مکاشفہ ۱۱:۱۸۔
درحقیقت، اسی کی بابت یسوع مسیح نے اپنے تمام پیروکاروں کو کچھ اسطرح سے دعا کرنا سکھایا، ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ (متی ۶:۱۰) مسیحائی بادشاہت تمام ناکامل انسانی حکمرانی کو ختم کریگی اور اسکی جگہ خود لے لے گی، جیسے دانیایل نبی نے پیشینگوئی کی: ”ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“—دانیایل ۲:۴۴۔
خدا کی بادشاہی کونسا ایسا کام سرانجام دیگی جو آجکل کی قومیں نہیں دے سکتیں؟ بائبل آنے والے وقت کی ایک دلکش جھلک پیش کرتی ہے۔ ان صفحات پر بیانکردہ قحط اور غربت جیسی حالتوں کی بجائے، ”زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی افراط ہوگی،“ اور ”میدان کے درخت اپنا میوہ دینگے اور زمین اپنا حاصل دیگی اور وہ سلامتی کیساتھ اپنے ملک میں بسینگے۔“ (زبور ۷۲:۱۶، حزقیایل ۳۴:۲۷) قدرتی ماحول کی بابت بائبل ہمیں بتاتی ہے: ”بیابان اور ویرانہ شادمان ہونگے اور دشت خوشی کریگا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہو گا۔ ... کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔ بلکہ سراب تالاب ہو جائیگا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائیگی۔“ (یسعیاہ ۳۵:۱، ۶، ۷) اور پھر کبھی جنگیں نہ ہونگی۔—زبور ۴۶:۹۔
یہوواہ خدا یہ سب کچھ کیسے انجام دیگا، اور وہ تمام طبعیقوتوں کیساتھ کیسے نپٹیگا تاکہ وہ پھر کبھی کسی طرح کے نقصان کا سبب نہ ہوں، بائبل اسکی بابت کچھ نہیں کہتی۔ تاہم، جو بات یقینی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس راست حکومت کے تحت رہینگے ”انکی محنت بےسود نہ ہوگی اور انکی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہوگی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوند کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۳۔
اس رسالے کے صفحات میں، اور اسکے ساتھ ساتھ واچ ٹاور سوسائٹی کی دیگر اشاعتوں میں، یہوواہ کے گواہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ۱۹۱۴ کے سال میں خدا کی بادشاہت آسمان میں قائم ہو گئی تھی۔ اس بادشاہی کی زیرہدایت، ۸۰ سالوں سے عالمگیر گواہی دی جا رہی ہے، اور آج ہم اس موعودہ ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کے بالکل آغاز پر کھڑے ہیں۔ بنینوعانسان نہ صرف قدرتی آفات کی تباہکاریوں سے آزاد ہو جائینگے بلکہ اس تمام درد اور دکھ سے بھی جس نے گزشتہ چھ ہزار سالوں سے انسانیت کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اس وقت کی بابت یہ واقعی کہا جا سکتا ہے: ”پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—۲-پطرس ۳:۱۳، مکاشفہ ۲۱:۴۔ (۹۳ ۴ ۱۲/۱ w)
[تصویریں]
انسانی سرگرمیوں نے ہمارے ماحول کو قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہونے والا بنا دیا ہے
[تصویروں کے حوالہجات]
Laif/Sipa Press
Chamussy/Sipa Press
Wesley Bocxe/Sipa Press
Jose Nicolas/Sipa Press