یہوواہ کی پناہ میں آ جائیں
”اے یہوواہ! میں تیری پناہ میں آ گیا ہوں۔“—زبور ۳۱:۱، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔
۱. زبور ۳۱ پناہ مہیا کرنے کیلئے یہوواہ کی لیاقت پر اعتماد کا اظہار کیسے کرتا ہے؟
ایک ایک سریلی آواز اس آدمی کے متعلق گاتی ہے جو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکے ہونے کے باوجود خود کو یہوواہ کے سہارے چھوڑ دیتا ہے۔ اس مقدس گیت کے اشعار بیان کرتے ہیں کہ ایمان فتح پاتا ہے۔ یہ آدمی ایذارسانی کے درپے لوگوں سے، قادرمطلق کے منتظر بازوں میں تحفظ پاتا ہے۔ ”اے یہوواہ! میں تیری پناہ میں آ گیا ہوں،“ (این ڈبلیو) اسکا مزمور جاری رہتا ہے۔ ”مجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دے۔ اپنی صداقت کی خاطر مجھے رہائی دے۔“—زبور ۳۱:۱۔
۲. (ا) ہم کن دو ستونوں پر قائم اپنے محکمقلعہ کے طور پر یہوواہ پر توکل کر سکتے ہیں؟ (ب) یہوواہ کس قسم کا خدا ہے؟
۲ زبورنویس ایک پناہگاہ رکھتا ہے—نہایت ہی بہترین! دوسری چیزوں کی بابت شک کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت قائم رہتی ہے: یہوواہ اسکا محکمقلعہ، اسکا حصار ہے۔ اسکا اعتماد دو یقینی ستونوں پر قائم رہتا ہے۔ اول اسکا ایمان، جسے یہوواہ شرمندہ نہیں ہونے دیگا، اور دوئم، یہوواہ کی صداقت، جسکا مطلب ہے کہ وہ اپنے خادموں کو مستقل طور پر کبھی ترک نہ کریگا۔ یہوواہ ایسا خدا نہیں جو اپنے وفادار خادموں کو شرمندہ ہونے دے، وہ وعدہخلافی کرنے والا نہیں ہے۔ اسکی بجائے، وہ سچائی کا خدا ہے اور ان کو اجر دینے والا ہے جو واقعی اس پر توکل کرتے ہیں۔ انجامکار، ایمان بااجر ٹھہریگا! رہائی حاصل ہوگی!—زبور ۳۱:۵، ۶۔
۳. زبورنویس کس طرح یہوواہ کی بڑائی کرتا ہے؟
۳ اپنی موسیقی کی دھنوں کو ترتیب دیتے ہوئے جو غم اور اداسی کی گہرائیوں سے اعتماد کی بلندیوں کو چھوتی ہیں زبورنویس اندرونی تقویت پاتا ہے۔ وہ یہوواہ کی وفادار محبت کیلئے اسکی بڑائی کرتا ہے۔ ”خداوند مبارک ہو،“ وہ گیت گاتا ہے، ”کیونکہ اس نے مجھکو محکم شہر میں اپنی عجیب شفقت دکھائی۔“—زبور ۳۱:۲۱۔
بادشاہتی منادوں کا زورآور طائفہ
۴، ۵. (ا) کونسا زورآور طائفہ آجکل یہوواہ کی حمد کر رہا ہے، اور انہوں نے اس کام کو گزشتہ خدمتی سال میں کیسے کیا ہے؟ (مینارنگہبانی (انگریزی) ۱/۱ ۱۹۹۴، ۱۲-۱۵ صفحات کے چارٹ کو دیکھیں۔) (ب) میموریل کی حاضری کس طریقے سے ظاہر کرتی ہے کہ مزید اشخاص بادشاہتی منادوں کے طائفے میں شامل ہونے کیلئے رضامند ہیں؟ مینارنگہبانی (انگریزی) ۱/۱، ۱۹۹۴ کے صفحات ۱۲-۱۵ کے چارٹ کو دیکھیں۔) (پ) آپکی کلیسیا میں کونسا گروہ اس طائفے میں شامل ہونے کی حالت میں ہو سکتا ہے؟
۴ آجکل، اس زبور کے الفاظ نے اضافی معنی حاصل کر لئے ہیں۔ یہوواہ کیلئے حمد کے گیت کسی بدکار مخالف کے ذریعے، کسی قدرتی آفت کے ذریعے، یا کسی معاشی مصیبت کے ذریعے بند نہیں کئے جا سکتے، یہوواہ کی شفقت اسکے لوگوں کیلئے واقعی شاندار ثابت ہوئی ہے۔ گزشتہ خدمتی سال میں پوری دنیا کے اندر ۲۳۱ ممالک میں ۴،۷۰۹،۸۸۹ کی انتہائی تعداد کو پہنچنے والے، ایک زورآور طائفے، نے خدا کی بادشاہت کے پیغام کا گیت گایا۔ مسیح یسوع کے ذریعے یہوواہ کی آسمانی حکومت ایک پناہگاہ ہے جو انہیں مایوس نہیں کریگی۔ گزشتہ سال، ۷۳،۰۷۰ کلیسیاؤں سے ان بادشاہتی منادوں نے بشارتی کام میں کل ۱،۰۵۷،۳۴۱،۹۷۲ گھنٹے صرف کئے۔ یہ ۲۹۶،۰۰۴ اشخاص کی طرف سے خدا کیلئے اپنی مخصوصیت کی علامت میں پانی کے ذریعے بپتسمے پر منتج ہوا ہے۔ اور اس گزشتہ اگست میں کیایو، یوکراین میں منعقد ہونے والی الہی تعلیم انٹرنیشنل کنونشن پر تمام حاضرین کسقدر شاندار حیرت سے لطفاندوز ہوئے تھے۔ سچے مسیحیوں کے نہایت ہی بڑے ہجوم کے بپتسمے پر حاضر ہو کر انہوں نے تاریخ کے انتہائی اہم واقعے کو دیکھا! جیسے یسعیاہ ۵۴:۲، ۳ میں پیشینگوئی کی گئی ہے، خدا کے لوگوں میں بےمثال تعداد کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔
۵ تاہم، خدا کی بادشاہی کی مزید رضامند رعایا طائفے میں شامل ہونے کیلئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ گزشتہ سال، یسوع کی موت کی یادگار پر کل ۱۱،۸۶۵،۷۶۵ لوگوں کی حیرانکن تعداد حاضر تھی۔ امید ہے کہ ان میں سے بہتیرے اس خدمتی سال کے دوران گھرباگھر بادشاہتی گیت گانے کے لائق ٹھہرینگے۔ یہ امکان سچائی کے دشمن، شیطان ابلیس، کو کسقدر قہرآلودہ کریگا!—مکاشفہ ۱۲:۱۲، ۱۷۔
۶، ۷. واضح کریں کہ ایک آدمی نے بدروح کی طرف سے ستائے جانے پر یہوواہ کی مدد سے کیسے قابو پایا۔
۶ شیطان دوسروں کو اس زورآور طائفے میں اپنی آوازوں کو ملانے سے روکنے کی کوشش کریگا۔ مثال کے طور پر، تھائیلینڈ میں پبلشروں کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد بدروحوں سے پریشانی میں مبتلا ملتی ہے۔ تاہم، یہوواہ کی مدد سے بہتیرے پرخلوص اشخاص نے رہائی پائی ہے۔ ایک آدمی محض تجسس کی خاطر، ایک جادوگر سے ملنے کے بعد، دس سال سے بدروحوں کے قبضہ میں تھا۔ اس نے ایک پادری کی مدد سے انکے قبضے سے آزاد ہونے کی کوشش کی، لیکن اسے کوئی خاص افاقہ نہ ہوا۔ یہوواہ کے گواہوں کے ایک کلوقتی خادم نے اس آدمی کے ساتھ بائبل مطالعہ شروع کیا اور اسے بائبل سے بدروح کے قبضہ سے آزادی حاصل کرنے کا واحد طریقہ سکھایا یعنی سچائی کا صحیح علم حاصل کرے، یہوواہ خدا پر ایمان رکھے، اور دعا میں اس سے التجا کرے۔—۱-کرنتھیوں ۲:۵، فلپیوں ۴:۶، ۷، ۱-تیمتھیس ۲:۳، ۴۔
۷ اس باتچیت کے بعد رات کو، اس آدمی نے ایک خواب دیکھا جس میں اس کے متوفی باپ نے اسے خود کو ارواحی بچولہ بننے کیلئے پیش نہ کرنے کی صورت میں ڈرایا دھمکایا۔ اسکے خاندان پر تکلیف آنا شروع ہو گئی۔ پھر سے زیراثر آنے کیلئے آمادہ نہ ہوتے ہوئے، اس آدمی نے اپنے بائبل مطالعے کو جاری رکھا اور اجلاس پر حاضر ہونا شروع کر دیا۔ ان مطالعوں میں سے ایک کے دوران، پائنیر نے وضاحت کی کہ بعض اوقات ارواحی رسومات میں استعمال ہونے والی اشیاء بدروحوں کیلئے لوگوں کو پریشان کرنے کی راہ کھول سکتی ہیں جو انکے قبضے سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس آدمی کو یاد آیا کہ اسکے پاس کچھ تیل پڑا تھا جسے اس نے ایک ٹوٹکے کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اسے اب احساس ہوا کہ اسے اسکو پھینک دینا ہوگا۔ اسکو ضائع کر دینے کے بعد سے، اسے بدروحوں نے دوبارہ تنگ نہیں کیا۔ (مقابلہ کریں افسیوں ۶:۱۳، یعقوب ۴:۷، ۸۔) وہ اور اسکی بیوی اپنے مطالعے میں خوب ترقی کر رہے ہیں اور بائبل تعلیم کیلئے باقاعدگی سے اجلاس پر حاضر ہوتے ہیں۔
۸، ۹. بعض بادشاہتی منادوں نے دیگر کن رکاوٹوں پر قابو پایا ہے؟
۸ دوسری رکاوٹیں بھی خوشخبری کی آواز کو دبا سکتی ہیں۔ گھانا میں سخت معاشی بدحالی کی وجہ سے کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا گیا۔ اخراجات زندگی بڑی تیزی سے بڑھ گئے ہیں، جو معمولی ضروریات زندگی حاصل کرنے کو بھی ایک حقیقی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ یہوواہ کے لوگ کیسے قابو پاتے رہے ہیں؟ اپنی ذات پر نہیں، بلکہ یہوواہ پر بھروسہ رکھنے سے۔ مثال کے طور پر، ایک دن ایک آدمی برانچ آفس میں استقبالیہ ڈیسک پر ایک بند لفافہ چھوڑ گیا۔ لفافے میں ۲۰۰ امریکی ڈالر کے برابر گھانا کی کرنسی یا کمسےکم تین ماہ کی اجرت تھی۔ لفافہ کسی گمنام شخص کی طرف سے تحفہ تھا، لیکن لپٹے ہوئے کاغذ پر یہ تحریر تھی: ”میری ملازمت چھوٹ گئی تھی، لیکن یہوواہ نے مجھے ایک اور دلوا دی ہے۔ میں اسکا اور اسکے بیٹے، مسیح یسوع کا شکرگزار ہوں۔ اس سے پیشتر کہ خاتمہ آئے بادشاہت کی خوشخبری کو پھیلانے میں مدد دینے کیلئے، میں ایک معمولی سا عطیہ ملفوف کر رہا ہوں۔“—مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۹:۱۱۔
۹ اجلاس پر حاضری انکی تربیت کرنے میں مدد کرتی ہے جو یہوواہ کی حمدوثنا کیلئے زورآور طائفے میں شامل ہوتے ہیں۔ (مقابلہ کریں زبور ۲۲:۲۲۔) یوں، ہنڈوراس کے جنوبی حصے میں، ایک چھوٹی سی کلیسیا ہے جسکا نام ایلحوردان ہے۔ اس چھوٹے سے گروپ کی بابت خاص بات کیا ہے؟ یہ اجلاس پر انکی وفادارانہ حاضری ہے۔ ۱۹ پبلشروں میں سے ۱۲ کو ہر ہفتے اجلاس پر حاضر ہونے کیلئے ایک چوڑے دریا کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ خشک موسم میں تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، اسلئے کہ وہ پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو گزرپتھروں کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دریا کو عبور کر سکتے ہیں۔ تاہم، برساتی موسم میں، حالتیں بدل جاتی ہیں۔ جو پہلے پانی کا بےخطر پھیلاؤ تھا اب اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جانے والا دھارا بن جاتا ہے۔ اس رکاوٹ پر قابو پانے کیلئے، بھائیوں اور بہنوں کو اچھے تیراک ہونے کی ضرورت ہے۔ عبور کرنے سے پہلے، وہ اجلاس کیلئے اپنے کپڑوں کو ایک ٹینا (آہنی ٹب) میں ڈالتے ہیں اور اسکے بعد پلاسٹک کے ایک بیگ میں لپیٹ کر اسے محفوظ کر لیتے ہیں۔ طاقتور تیراک ٹینا کو تیراؤ ٹیوب کے طور پر استعمال کرتا ہے اور گروپ کو عبور کرانے میں رہنمائی کرتا ہے۔ بحفاظت دوسرے کنارے پر پہنچکر، وہ خود کو خشک کرتے، کپڑے پہنکر تیار ہو جاتے ہیں، اور خوشباش اور خوب صافستھرے ہو کر کنگڈم ہال آتے ہیں!—زبور ۴۰:۹۔
ایک قلعہ جہاں ہم رہ سکتے ہیں
۱۰. ہم مشکل اوقات میں یہوواہ کی طرف کیونکر رجوع کر سکتے ہیں؟
۱۰ خواہ آپ براہراست بدروحوں کے حملے کے تحت ہیں یا دوسرے ذرائع سے دباؤ محسوس کرتے ہیں، یہوواہ آپکا محکمقلعہ ہو سکتا ہے۔ دعا میں اسے پکاریں۔ وہ اپنے لوگوں کی ہلکی سی آہوں کو بھی توجہ سے سنتا ہے۔ زبورنویس نے اسے سچ پایا اور لکھا: ”اپنا کان میری طرف جھکا۔ جلد مجھے چھڑا۔ تو میرے لئے مضبوط چٹان میرے بچانے کو پناہگاہ ہو۔ کیونکہ تو ہی میری چٹان اور میرا قلعہ ہے۔ اسلئے اپنے نام کی خاطر میری رہبری اور رہنمائی کر۔ مجھے اس جال سے نکال لے جو انہوں نے چھپکر میرے لئے بچھایا ہے کیونکہ تو ہی میرا محکم قلعہ ہے۔“—زبور ۳۱:۲-۴۔
۱۱. واضح کریں کہ یہوواہ کا قلعہ کوئی عارضی جگہ کیوں نہیں ہے۔
۱۱ یہوواہ محض ایک عارضی پناہ فراہم نہیں کرتا بلکہ ایک ناقابلیلغار قلعہ بھی ہے جہاں ہم تحفظ سے رہ سکتے ہیں۔ اسکی رہبری اور راہنمائی نے اسکے لوگوں کو مایوس نہیں کیا ہے۔ الہی قوت، شیطان اور اس کے لشکر کے تمام عیارانہ کاموں کو ناکارہ بنا دیگی۔ (افسیوں ۶:۱۰، ۱۱) جب ہم پورے دل سے یہوواہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ ہمیں شیطان کے پھندوں سے دور ہٹا لیگا۔ (۲-پطرس ۲:۹) گزشتہ چار سالوں کے دوران، ۳۵ ممالک میں یہوواہ کے گواہوں کا منادی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ دنیا کے ایسے علاقوں میں بھی جہاں معاشرتی، معاشی، یا سیاسی حالتیں خوشخبری کی منادی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، بعض بھیڑخصلت لوگ ایسی جگہوں پر منتقل ہوگئے ہیں جہاں پر ان تک آسانی سے رسائی ہو سکتی ہے۔ جاپان ان میں سے ایک ہے۔
۱۲. جاپان میں ایک پائنیر نے یہوواہ کو اپنا محکمقلعہ کیسے بنایا؟
۱۲ جاپان میں سمندرپار سے غیرملکی مزدور امڈ کر آ گئے ہیں، اور بہتیری غیرملکی زبانوں والی کلیسیائیں قائم ہو گئی ہیں۔ ایک جاپانی کلیسیا سے ایک بھائی کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ یہ غیرملکی زبان والا میدان کسقدر پھلدار ہے۔ وہ ایسی جگہ جا کر خدمت کرنا چاہتا تھا جہاں زیادہ ضرورت تھی۔ تاہم، جہاں پر وہ تھا وہ پہلے ہی دس بائبل مطالعے کروا رہا تھا۔ اسکے دوستوں میں سے ایک نے مذاقاً کہا: ”اگر آپ ایک ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں زیادہ ضرورت ہے تو وہاں آپکو ۲۰ بائبل مطالعے کرانے پڑینگے!“ اسے ایک تفویض ملی اور وہ ہیروشیما چلا گیا۔ تاہم، چار ماہ بعد بھی، اسکے پاس صرف ایک بائبل مطالعہ تھا۔ ایک دن وہ برازیل کے ایک آدمی سے ملا جو صرف پرتگالی بولتا تھا۔ چونکہ وہ بھائی اس آدمی کے ساتھ باتچیت نہیں کر سکا تھا، اسلئے اس نے پرتگالی کی ایک درسی کتاب خریدی۔ گفتگو کے بعض سادہ اظہارات سیکھنے کے بعد، وہ پھر اس آدمی کے پاس گیا۔ جب بھائی نے اسے پرتگالی زبان میں سلام کیا، تو وہ آدمی حیران ہو گیا اور، پھر خوب مسکراتے ہوئے، اس نے دروازہ کھولا اور اسے اندر بلایا۔ ایک بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔ تھوڑے عرصہ بعد ہی بھائی کل ۲۲ مطالعے کروا رہا تھا، ۱۴ پرتگالی میں، ۶ ہسپانوی میں، اور ۲ جاپانی میں!
اعتماد کیساتھ منادی کرنا
۱۳. یہوواہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے کسی کو ہمیں شرمندہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرنی چاہئے؟
۱۳ یہوواہ کے لوگ پراعتماد ہو کر پورے ایمان کے ساتھ بادشاہتی گیت گاتے ہیں کہ یہوواہ انکی پناہگاہ ہے۔ (زبور ۳۱:۱۴) وہ شرمندہ نہ ہونگے—یہوواہ انہیں نیچا نہیں دکھائیگا، کیونکہ وہ اپنے قول کو پورا کریگا۔ (زبور ۳۱:۱۷) ابلیس اور اسکی شیطانی جماعت شرمندہ ہوگی۔ چونکہ یہوواہ کے لوگوں کو ایک پیغام کی منادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو شرمندگی سے مبرا ہے، اس لئے وہ منادی میں دوسرے لوگوں سے شرمندہ نہیں ہوتے۔ یہوواہ اور اسکے بیٹے نے اس طریقے سے لوگوں کو اسکی پرستش کرنے کی ترغیب نہیں دی۔ جب لوگوں کے دل یہوواہ کی نیکی اور شفقت کیلئے قدر اور ایمان سے معمور ہوتے ہیں، تو یہ انکے دلوں کی اچھی حالت ہے جو انہیں کلام کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ (لوقا ۶:۴۵) پس، جتنا وقت بھی ہم خدمت میں ہر ماہ صرف کرتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ وقت اس بہترین کام کی علامت ہے جو ہم انجام دے سکتے ہیں، تو وہ شرمندہ کرنے والا نہیں، بلکہ اچھا ہے۔ کیا بیوہ کی دمڑیوں کی یسوع اور اسکے باپ نے پوری قدر نہیں کی تھی؟—لوقا ۲۱:۱-۴۔
۱۴. پائنیر کام کی بابت آپ کیا تبصرہ کر سکتے ہیں؟ مینارنگہبانی (انگریزی) ۱/۱، ۱۹۹۴ کے صفحات ۱۲-۱۵ کے چارٹ کو دیکھیں۔)
۱۴ پبلشروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے پورے دلوجان سے پرستش کرنے میں پائنیروں کے طور پر خدمت کرنا شامل ہے—گزشتہ سال کی انتہائی تعداد ۸۹۰،۲۳۱ تھی! اگر گزشتہ سال کی ترقی کو برقرار رکھا جائے تو اغلب ہے کہ یہ گنتی ۱،۰۰۰،۰۰۰ سے بڑھ جائیگی۔ درجذیل تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ کیسے نائجیریا میں ایک بہن پائنیر صفوں میں داخل ہوئی۔ وہ لکھتی ہے: ”جب میرا سیکنڈری سکول ختم ہونے کو تھا، تو میں ان لوگوں کیلئے کھانا پکانے میں مدد دینے کیلئے گئی جو یہوواہ کے گواہوں کے پائنیر سکول میں حاضر تھے۔ وہاں پر میں دو بہنوں سے ملی جو میری نانی سے بھی بڑی عمر کی تھیں۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سکول میں حاضر ہونے والی پائنیر تھیں، تو میں نے اپنے دل میں سوچا، ”اگر وہ دونوں پائنیر خدمت کر سکتی ہیں، تو میں کیوں نہیں کر سکتی؟“ پس سکول ختم کرنے کے بعد، میں بھی ایک ریگولر پائنیر بن گئی۔“
۱۵. غیر رسمی گواہی دوسروں کیلئے یہوواہ میں پناہ حاصل کرنے کو کس طریقے سے ممکن بناتی ہے؟
۱۵ سب پائنیر خدمت تو نہیں کر سکتے، لیکن وہ گواہی دے سکتے ہیں۔ بلجیئم میں ۸۲ برس کی عمر کی ایک بہن گوشت خریدنے کیلئے گئی۔ اس نے غور کیا کہ قصائی کی بیوی حالیہ سیاسی انقلابات کی وجہ سے کافی پریشان تھی۔ لہذا اس بہن نے جب بل ادا کیا تو پیسوں کے ساتھ ٹریکٹ یہوواہ کے گواہ کیا مانتے ہیں؟ آگے بڑھا دیا۔ جب بہن دکان پر واپس گئی، تو قصائی کی بیوی نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوچھا کہ بائبل تیسری عالمی جنگ کے امکان کی بابت کیا کہتی ہے؟ بہن اس کے لئے ٹرو پیس اینڈ سیکورٹی—ہاؤ کین یو فائنڈ اٹ بک لائی۔ چند دنوں کے بعد، جب بڑی عمر والی بہن دکان میں داخل ہوئی تو قصائی کی بیوی کے پاس اس کیلئے اور زیادہ سوال تھے۔ اس بہن نے اس عورت کیلئے ہمدردی محسوس کی، اسے محض اس خاتون کو ایک بائبل مطالعہ کی پیشکش کرنے کی ضرورت تھی، جسے قبول کر لیا گیا تھا۔ اب، قصائی کی بیوی بپتسمہ لینا چاہتی ہے۔ قصائی کی بابت کیا ہے؟ اس نے ٹریکٹ کو پڑھا اور وہ بھی اب بائبل مطالعہ کر رہا ہے۔
”نیکی کا ایک خزانہ“
۱۶. یہوواہ نے اپنے لوگوں کیلئے نیکی کا خزانہ کیسے رکھ چھوڑا ہے؟
۱۶ ان پرمصیبت ایام میں، کیا یہوواہ نے ان کیلئے ”عجیب شفقت [نہیں] دکھائی“ جو اس کی پناہ میں آ گئے تھے؟ ایک پرمحبت، محافظ باپ کی طرح، یہوواہ نے اپنے زمینی بچوں کیلئے نیکی کے خزانے رکھ چھوڑے ہیں۔ وہ سب آس لگانے والوں کے سامنے ان پر خوشی کی برسات کرتا رہا ہے، جیسے زبورنویس کہتا ہے: ”آہ! تو نے اپنے ڈرنے والوں کیلئے کیسی بڑی نعمت [”نیکی،“ اینڈبلیو] رکھ چھوڑی ہے۔ جسے تو نے بنیآدم کے سامنے اپنے توکل کرنے والوں کیلئے تیار کیا۔—زبور ۳۱:۱۹، ۲۱۔
۱۷-۱۹. گھانا میں ایک بوڑھے آدمی کی طرف سے اپنی شادی کو قانونی طور پر جائز بنانے سے کیا اچھا نتیجہ نکلا؟
۱۷ اسلئے، دنیاوی لوگ ان کی دیانتداری کے عینیشاہد بن جاتے ہیں جو یہوواہ کی پرستش کر رہے ہیں، اور وہ سخت حیران ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گھانا میں ایک ۹۶ سال کا آدمی شادی کے رجسٹرار کے دفتر میں گیا اور درخواست کی کہ اسکی ۷۰ سالہ بےنکاح شادی کو اب رجسٹر کیا جائے۔ میرج آفیسر بڑا سخت حیران ہوا اور پوچھنے لگا: ”کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اپنی اس عمر میں؟“
۱۸ اس آدمی نے وضاحت کی: ”میں یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک بننا چاہتا ہوں اور دنیا کے خاتمے سے پہلے ایک نہایت ہی اہم کام میں حصہ لینا چاہتا ہوں—خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کا کام۔ یہ کام ابدی زندگی کا سبب بنتا ہے۔ یہوواہ کے گواہ سرکاری قانون، بشمول شادی کی رجسٹریشن کے قانون کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اسلئے مہربانی سے میرے لئے اسکی رجسٹریشن کریں۔“ وہ افسر ہکابکا ہو گیا تھا۔ اس نے رجسٹریشن کر دی، اور عمررسیدہ آدمی خوشی خوشی چلا گیا اس لئے کہ اس کی شادی اب قانونی طور پر جائز تھی۔—مقابلہ کریں رومیوں ۱۲:۲۔
۱۹ اسکے بعد، شادی کے رجسٹرار نے ان باتوں پر غور کیا جنہیں وہ سن چکا تھا۔ ”یہوواہ کے گواہ ... نہایت ہی اہم کام ... دنیا کا خاتمہ ... خدا کی بادشاہت ... ابدی زندگی۔“ اس الجھن میں کہ ایک ۹۶ سالہ بوڑھے آدمی کی زندگی میں اس سب کا کیا مطلب تھا، اس نے معاملے کی مزید تحقیق کرنے کیلئے گواہوں کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ایک گھریلو بائبل مطالعہ قبول کر لیا اور تیزی سے ترقی کی۔ آجکل، یہ شادی رجسٹرار ایک بپتسمہیافتہ گواہ ہے۔ پس، جب ہم ان معاملات میں بھی یہوواہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں جنہیں دوسرے شاید معمولی سمجھیں، تو یہ ہمارے لئے اور انکے لئے بےحد نیکی پر منتج ہو سکتی ہے جو ہمارے چالچلن کے عینیگواہ ہیں۔—مقابلہ کریں ۱-پطرس ۲:۱۲۔
۲۰. میانمار میں، ایک نوجوان بہن کی دیانتداری کیسے ایک اچھی گواہی کا سبب بنی؟
۲۰ عمررسیدہ اشخاص جنہوں نے سچائی کو اجازت دی ہے کہ انہیں دیانتدار لوگوں میں ڈھال دے وہ اس بددیانت دنیا میں نوجوان لوگوں کیلئے ایک اچھا نمونہ قائم کرتے ہیں۔ میانمار میں اس طرح کی ایک نوجوان بہن رہتی ہے۔ وہ دس بچوں والے غریب اور ادنی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ والد جو کہ ایک پنشنر ہے، ایک ریگولر پائنیر ہے۔ ایک دن سکول میں، بہن کو ایک ہیرے کی انگوٹھی ملی، جسے وہ بلاتاخیر اپنی استانی کے پاس لے گئی۔ جب دوسرے دن جماعت جمع ہوئی، تو استانی نے جماعت کو بتایا کہ انگوٹھی کیسے ملی اور مالکن کو واپس لوٹانے کیلئے اسکے سپرد کی گئی تھی۔ اسکے بعد اس نے جوان بہن سے ساری جماعت کے سامنے کھڑے ہونے اور وضاحت کرنے کیلئے کہا کہ اس نے ایسے کیوں کیا تھا یہ جانتے ہوئے کہ دوسرے بچوں نے شاید اسے اپنے پاس رکھنے کو پسند کیا ہوتا۔ بہن نے وضاحت کی کہ وہ یہوواہ کی ایک گواہ تھی اور یہ کہ اس کا خدا چوری اور کسی قسم کی بددیانتی کو پسند نہیں کرتا۔ ہماری نوجوان بہن کو اساتذہ اور طلباء کو یکساں طور پر گواہی دینے کا ایک اچھا موقع دیتے ہوئے، پورے سکول میں اس بات کو سنا گیا۔
۲۱. جب نوجوان لوگ یہوواہ پر توکل کرتے ہیں، تو انکا چالچلن اس کی نیکنامی کا موجب کیسے بنتا ہے؟
۲۱ بلجیئم میں ایک استاد نے جماعت کے اندر یہوواہ کے گواہوں کی بابت ایک دلچسپ بات کہی۔ وہ اپنے شاگردوں میں سے ایک کے چالچلن کو دیکھ چکا تھا، وہ بھی ایک نوجوان بہن تھی، اور کہنے لگا: ”اب یہوواہ کے گواہوں کی بابت میری رائے مختلف ہے۔ تعصب میرے لئے یہ سوچنے کا سبب بنا تھا کہ وہ نہایت ہی کم متحملمزاج لوگ ہوں گے۔ حالانکہ وہ اپنے اصولوں پر مصالحت نہ کرتے ہوئے نہایت ہی متحملمزاج لوگ ہیں۔“ ہر سال اساتذہ کی طرف سے انکے بہترین شاگردوں کو ایک ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ دوسرے ایوارڈوں میں سے ایک اخلاقیات کے نصاب کیلئے ایوارڈ ہے۔ مسلسل تین سالوں تک، اس استاد کی طرف سے تین بڑی جماعتوں کیلئے ایوارڈ یہوواہ کے گواہوں کے بچوں کو دئے گئے تھے۔ پس یہ اکثر ان کیساتھ واقع ہوتا ہے جنکا وفادار بھروسہ یہوواہ پر ہے۔—زبور ۳۱:۲۳
۲۲. زبور ۳۱ کا فاتحانہ اختتام کیا ہے، اور یہ اس نظام کے آخری ایام کے دوران ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟
۲۲ زبور ۳۱ ایک فاتحانہ اختتام کے ساتھ گونجتا ہے: ”اے خداوند پر آس رکھنے والو! سب مضبوط ہو اور تمہارا دل قوی رہے۔“ (زبور ۳۱:۲۴) پس، جب ہم شیطان کے شریر نظام کے اختتامی ایام کا سامنا کرتے ہیں، تو ہمیں چھوڑنے کی بجائے، یہوواہ ہمارے بہت قریب آئیگا اور ہمیں اپنی قوت دے گا۔ یہوواہ وفادار ہے اور ناکام نہیں ہوتا۔ وہ ہماری پناہگاہ، اور ہمارا برج ہے۔—امثال ۱۸:۱۰۔ (۱۰ ۱/۱ W۹۴)
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ ہم پراعتماد طور پر یہوواہ کو اپنی پناہگاہ کیسے بنا سکتے ہیں؟
▫ اس بات کی کیا شہادت ہے کہ ایک زورآور طائفہ دلیری کیساتھ بادشاہتی حمد کے گیت گا رہا ہے؟
▫ ہم یہ اعتماد کیوں رکھ سکتے ہیں کہ شیطان کا جال یہوواہ کے لوگوں کو نہیں پھنسائے گا؟
▫ یہوواہ نے ان کیلئے کونسا خزانہ رکھ چھوڑا ہے جو اس میں پناہ حاصل کرتے ہیں؟
[تصویریں]
وہ جو یہوواہ کی پناہ میں آجاتے ہیں—۴،۷۰۹،۸۸۹ بادشاہتی منادوں کے ایک زورآور طائفے کو مضبوط کرتے ہیں
۱۔ سینگال
۲۔ برازیل
۳۔ چلی
۴۔ بولیویا