یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏4 ص.‏ 2-‏4
  • قدرتی آفات—‏زمانوں کا ایک نشان؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قدرتی آفات—‏زمانوں کا ایک نشان؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ملتا جلتا مواد
  • پاک کلام میں قدرتی آفتوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • قدرتی آفات—‏کیا خدا ذمہ‌دار ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • کیا خدا ہم پر اپنا غضب نازل کر رہا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ایک مشکل سوال
    جاگو!‏—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏4 ص.‏ 2-‏4

قدرتی آفات‏—‏زمانوں کا ایک نشان؟‏

‏”‏قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے۔ لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہونگی۔“‏ ان الفاظ کیساتھ ۱۹ صدیاں پہلے یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں پر یہ واضح کیا کہ ایسے تباہ‌کن واقعات، بیدینی کے اضافے اور خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی عالمگیر منادی سمیت، ”‏دنیا کے آخر“‏ کی نشاندہی کرنے والے ایک مرکب نشان کو متعارف کرائینگے۔—‏متی ۲۴:‏۳-‏۱۴‏۔‏

مذکورہ‌بالا بات کے پیش‌نظر، ہمیں یہ پوچھنا چاہئے، کیا ہم ماضی کی نسلوں کی نسبت زیادہ تباہ‌کن بھونچالوں، طوفان‌بادوباراں، سیلاب، خشک‌سالی، اور کال دیکھ رہے ہیں؟ اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود، نتیجتاً، کیا موزوں تناسب کے مطابق زیادہ لوگ تکالیف اٹھا رہے ہیں؟‏

بہتیرے اس کا جواب ہاں میں دینگے۔ مثال کے طور پر، رسالہ نیو سائنٹسٹ خبردار کرتا ہے کہ ”‏دنیا ۱۹۹۰ کے دہے میں ماضی کے دہوں کی نسبت زیادہ آفات کی توقع کر سکتی ہے۔“‏ اسی طرح، جون ۱۹۹۱ کے یواین کرونیکل میں، عالمی موسمیاتی تنظیم کے ڈائریکٹر نے بیان کیا:‏ ”‏رجحان بالکل واضح ہے۔ ۱۹۶۰ کے دہے سے لیکر ۱۹۸۰ کے دہے تک .‏.‏.‏، بڑی بڑی قدرتی آفات کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے، اور کل معاشی خساروں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔“‏ اس موضوع پر ماحول کے متعلق کچھ بیان کرتے ہوئے، یواین ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رسالے، ورلڈ ہیلتھ نے بیان کیا:‏ ”‏قدرتی آفات اور انکے تباہ‌کن اثرات کی مثالیں پوری تاریخ میں مل سکتی ہیں۔ تاہم، جوں جوں ۲۱ویں صدی قریب آتی ہے، ہمیں شماریات آبادی، ماحولیاتی اور تکنیکی حالتوں میں ملی‌جلی تبدیلی کا سامنا ہے جو بہتیری آبادیوں کو قدرتی اور انسان‌ساختہ دونوں طرح کی تباہ‌کاریوں کیلئے غیرمحفوظ بنا دیتی ہیں۔“‏

کوئی بھی جو حالیہ واقعات پر توجہ دیتا ہے وہ ایسے بیانات سے حیران نہیں ہوتا۔ ذرائع‌ابلا‌غ کے پاس سنسنی‌خیز کہانیوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی، خواہ یہ فلپائن میں ایک آتش‌فشاں کے پھٹنے، کیلیفورنیا میں ایک زلزلے، بنگلہ‌دیش میں سیلاب، صومالیہ میں قحط، ہوائی میں ایک طوفان بادوباراں، یا نکاراگوا میں زلزے سمیت ایک بہت بڑی لہر کے متعلق ہی ہو۔ شاید ہی کوئی مہینہ خالی گیا ہو جب دنیا کے کسی نہ کسی حصے سے کسی سانحے کی رپورٹ موصول نہ ہوئی ہو۔‏

بعض لوگ اسے غیراہم بات سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ بحث کرتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں آفات میں بظاہر اضافہ محض بہتر رپورٹ دینے یا ریکارڈ رکھنے کے بہتر انتظام کی وجہ سے ہے۔ وہ یہ بھی بحث کرتے ہیں کہ آجکل زیادہ لوگ محض اس وجہ سے آفات کا شکار ہوتے ہیں کہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ کیا یہی دلائل پوری کہانی ہے؟‏

اوپر حوالہ‌شدہ نیو سائنٹسٹ کے مضمون میں جو کچھ کہا گیا ہے اس پر غور کریں۔ ”‏۱۹۶۰ کے دہے میں ۵۲۳ اور ۱۹۷۰ کے دہے میں ۷۶۷ آفات کی رپورٹ کی گئی تھی۔ ۱۹۸۰ کے دہے تک انکی تعداد ۱۳۸۷ کو پہنچ چکی تھی۔“‏ وہ بیان کو جاری رکھتا ہے کہ ”‏گزشتہ دہے کے دوران اضافے کی ایک وجہ تو یہ بھی تسلیم کی جا سکتی ہے کہ چین اور سوویت‌یونین میں آنے والی آفات کی بہت واضح رپورٹ پیش کی گئی ہے۔“‏ اسکے بعد وہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏تاہم ہر لحاظ سے آفات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔“‏ آفات کی تعداد میں بے‌قابو اضافے کی اہمیت کو محض انکی بہتر رپورٹ کرنے یا بہتر ریکارڈ رکھنے کے انتظام کا نام دیکر کم نہیں کیا جا سکتا۔‏

مزیدبرآں، مارچ ۱۹۹۲ کا یواین کرونیکل رپورٹ دیتا ہے:‏ ”‏گزشتہ دو دہوں کے دوران، تقریباً ۳ ملین لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں اور مزید ۸۰۰ ملین قدرتی آفات سے لائی جانے والی ”‏بربادی، مشکلات اور تکالیف“‏ سے متاثر ہوئے ہیں۔“‏ اسکا مطلب یہ ہے کہ زمین پر رہنے والا ہر ۷ میں سے ۱ آدمی کسی نہ کسی قسم کی آفت یا المیہ سے متاثر ہوا ہے۔ یہ واقعی بوکھلا دینے والی بات ہے اور اس میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ ہمارا زمانہ بہت زیادہ شورش اور بے‌سکونی کا دور ہے۔‏

جبکہ بائبل پہلے ہی سے بڑی مصیبت کے اس دور کا ذکر کرتی ہے، تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ آفات اور ان سے پیدا ہونے والی تکالیف کا ذمہ‌دار خدا ہے؟ بہتیرے لوگ ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ لیکن حقائق کیا روشن کرتے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بائبل کیا روشن کرتی ہے؟ (‏۳ ۱۲/۱ w۹۳)‏

‏[‏صفحہ 2 پر تصویر کا حوالہ]‏

Cover: W. Faidley/Weatherstock

‏[‏صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]‏

Middle photo: Mark Peters/Sipa Press

WHO/League of Red Cross

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں