کیا خدا ہم پر اپنا غضب نازل کر رہا ہے؟
مارچ ۲۰۱۱ء میں ایک شدید زلزلے اور سونامی نے جاپان میں تباہی مچا دی۔ اِس تباہی کے سلسلے میں جاپان کے ایک سیاستدان نے کہا: ”میرے خیال میں تو لوگوں پر عذابِالہٰی نازل ہوا ہے لیکن پھر بھی مجھے متاثرین پر بڑا ترس آتا ہے۔“
جنوری ۲۰۱۰ء میں ہیٹی میں ایک شدید زلزلہ آیا جس میں ۲ لاکھ ۲۰ ہزار سے زیادہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک پادری جو ٹیوی پر ایک مذہبی پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ یہ آفت اِس لئے آئی ہے کیونکہ ”لوگوں نے شیطان کے ساتھ معاہدہ کِیا ہے“ اور ”اُنہیں خدا کی طرف رُجوع کرنے کی ضرورت ہے۔“
جب فلپائن کے شہر منیلا میں ایک اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچ گئی تو ۷۹ لوگ پیروں تلے کچلے گئے۔ ایک کیتھولک پادری نے اِس ہولناک واقعے کے متعلق کہا: ”خدا ہمارے بےحس اور مُردہ ضمیر کو جگانا چاہتا ہے۔“ فلپائن کے ایک اخبار میں لکھا تھا کہ ”۲۱ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ خدا اِس ملک پر اپنا غضب نازل کرنے کے لئے ایک کے بعد ایک آفت لا رہا ہے۔“
لوگ قدیم زمانے سے ہی یہ مانتے آ رہے ہیں کہ خدا قدرتی آفتوں کے ذریعے بُرے لوگوں کو سزا دیتا ہے۔ سن ۱۷۵۵ء میں پُرتگال کے شہر لزبن میں زلزلہ آنے، آگ لگنے اور سونامی کی وجہ سے ۶۰ ہزار لوگ جاںبحق ہوئے۔ اِس المیے کے سلسلے میں اُس زمانے کے مشہور فلاسفر والٹیر نے یہ سوال اُٹھایا: ”کیا لزبن، پیرس سے گیا گزرا ہے جہاں ہر طرف بےحیائی ہی بےحیائی ہے؟“ والٹیر کی طرح لاکھوں لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اُٹھا ہے کہ ”کیا خدا قدرتی آفتوں کے ذریعے اپنا عذاب نازل کرتا ہے؟“ کچھ ملکوں میں یہ خیال اِتنا عام ہے کہ قدرتی آفتوں کو ”خدا کی مار“ کہا جاتا ہے۔
اِن باتوں کے پیشِنظر ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ ”کیا خدا واقعی قدرتی آفتوں کے ذریعے لوگوں کو سزا دیتا ہے؟ کیا یہ خدا کے غضب کی نشانی ہے کہ ایک کے بعد ایک آفت آ رہی ہے؟“
جو لوگ اِن آفتوں کا الزام خدا پر لگاتے ہیں، وہ پاک صحیفوں کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”ماضی میں بھی تو خدا نے قدرتی آفتوں کے ذریعے اپنا عذاب نازل کِیا تھا۔“ (پیدایش ۷:۱۷-۲۲؛ ۱۸:۲۰؛ ۱۹:۲۴، ۲۵؛ گنتی ۱۶:۳۱-۳۵) لیکن پاک صحیفوں کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جب خدا نے قدرتی آفتوں کے ذریعے اپنا عذاب نازل کِیا تو یہ عام قدرتی آفتوں سے تین لحاظ سے فرق تھا۔ پہلے تو یہ کہ خدا نے اپنا غضب نازل کرنے سے پہلے اپنے نبیوں کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کِیا۔ دوسرا یہ کہ خدا نے صرف ایسے لوگوں پر اپنا غضب نازل کِیا جو بُرے تھے یا جنہوں نے نبیوں کی بات کو نظرانداز کِیا تھا۔ تیسرا یہ کہ خدا نے بُرے لوگوں پر عذاب نازل کرتے وقت اپنے بندوں کو بچا لیا جبکہ آجکل قدرتی آفتوں میں اچھے اور بُرے لوگ دونوں مارے جاتے ہیں۔—پیدایش ۷:۱، ۲۳؛ ۱۹:۱۵-۱۷؛ گنتی ۱۶:۲۳-۲۷۔
لہٰذا اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ آجکل ہونے والی قدرتی آفتوں کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب قدرتی آفتوں کا نامونشان تک نہ رہے گا؟ اِس سوال کا جواب اگلے مضمون میں دیا گیا ہے۔